فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Tuesday، 4 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ۞
ترجمہ:
پس بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ پس جب آپ (تبلیغ سے) فارغ ہوں تو عبادت پر کمر بستہ ہوں۔ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہوں۔ (الانشراح : ٨-٥)
ایک مشکل کے ساتھ دو آسانیاں :
الانشراح : ٥ اور الانشراح : ٦ میں لفظ ” العسر “ مکر رہے اور یہ معرفہ ہے اور لفظ ’ دیسر “ بھی مکرر رہے اور یہ نکرہ ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب معرفہ مکرر ہو تو ثانی اول کا عین ہوتا ہے اور جب نکرہ مکرر ہو تو ثانی اول کا غیر ہوتا ہے یعنی ” العسر “ ایک ہے اور ’ دیسر “ دو ہیں ” اور ” العسر ‘ کا منی ہے : مشکل اور ” یسر “ کا معنی ہے : آسانی، سو ایک مشکل کے ساتھ دو آسانیاں ہیں : پس جب کسی انسان کو اپنی مہم میں مشکلات درپیش ہوں تو اسے گھبرانا نہیں چاہیے اور ان آیتوں میں غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل کے ساتھ دو آسانیاں رکھی ہیں، حدیث میں ہے :
حضرت عمر بن الخاطب اور حضرت علی (رض) نے کہا کہ ایک مشکل کبھی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکے گی۔ حافظ ذہبی نیکہکا : یہ حدیث صحیح ہے۔
حسن بصری نے اس آیت کی تسیر میں یہ بیان کیا کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنستے ہوئے خوش خوش باہر آئے، آپ نے فرمایا : ایک مشکل دو آسانیوں پر کبھی غالب نہیں آسکتی، پھر آپ نے ان دو آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ (المستدرک ج ہ ص 528 طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث :395 المتکبتہ العریہ، کنزالعمال ج ٢ ص 14)
اس آیت میں دو آسانیوں سے مراد اسلام اور دین ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک آسانی سے مراد دنیا کی فتوحات ہوں اور دوسری آساین سیم راد جنت کی نعمتیں ہوں ے
کفار مکہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فقر کی وجہ سے آپ کو عار دلاتے تھے کہ آپ کا دین قبول کرنے سے ہمیں یہ چیز مانع ہے کہ آپ تنگ دست اور نادار ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ تنگ دستی کی یہ مشکل عنقریب زائل ہوجائے گی اور آپ کو فتوحات اور غنیمتوں کی آسانیاں حاصل ہوں گی۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 5
[…] تفسیر […]