أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ  ۞

ترجمہ:

اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہوں  ؏

 

صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سوال کرنے میں رغت کی جائے

یعنی صرف اللہ سے اس کے فضل کا سوال کریں اور اسی پر اعتماد رکھیں اور اسی پر توکل کریں، ظاہر ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ سے ہی سوال کرتے تھے اور صرف اللہ پر ہی توکل کرتے تھے، تو آپ کو جو یہ حکم دیا گیا ہے وہ تقریر اور تاکید کے لئے ہے یعنی جس طرف آپ صرف اللہ کی طرف رغبت رکھتے ہیں، اسی طریقہ پر قائم رہیں اور اسی طریقہ کو ہمیشہ برقرار رکھے ہیں اور یا پھر اس آیت میں بہ ظاہر آپ کو حکم دیا ہے اور اس سے مراد آپ کی امت ہے۔

اور اس آیت میں آپ کی امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے اور یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنی ضروریات اور حاجات میں صرف اللہ عزوجل سے سوال کیا کریں اور صرف اس سے گڑ گڑا کر سوال کیا کریں، ہمارے زمانہ میں لوگ اللہ تعالیٰ سے اس قدر گڑا گڑا کر سوال نہیں کرتے تھے، جس قدر مخلوق سے گڑا گڑا کر اور رونگھی آواز بنا کر سوال کرتے ہیں، یا پیروں اور فقیروں کے پاس جا کر سوال کرتے ہیں یا مزارات پر جا کر سجدے کرتے ہیں اور منتیں اور مرادیں مانتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت نہیں کرتے، حالانکہ چاہیے یہ کہ لوگ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کریں، اسی سے اپنی حاجت طلب کریں، اس کے سامنے رو رو کر اور گڑ گڑا کر دعا کریں اور پاین دعائوں میں مقربین بارگاہ ناز کا وسیلہ پیش کریں، کیونکہ اللہ کے نیک بندوں کے وسیلہ سے جو دعا کی جائے اس کی قبولیت زیادہ متوقع ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 8