أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا

تفسیر:

الانشراح : ٤ میں فرمایا : اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بلند کرنے کے متعلق امام ماتریدی، امام رازی اور علامہ قرطبی کی تقاریر امام ابومنصور محمد بن ما تریدی سمر قندی حنفی متوفی 333 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کی تین تقریریں ہیں :

(١) آپ کے ذکر کو بلند کرنے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر لازم کردیا ہے کہ وہ آپ کے اوپر ایمان لائے، حتیٰ کہ کسی شخص کا اللہ پر اور اس کی توحید پر ایمان لانا، اس وقت تک قبول نہیں ہوگا جب تک کہ وہ آپ کے اوپر ایمان نہ لائے اور نہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت مقبول ہوگی، جب تک کہ وہ آپ کی اطاعت نہ کرے، قرآن مجید میں ہے :

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (النسائ : ٨٠) جس نے رسول کی اطاعت کی پس بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

(النسائ : ٦٥) پس آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مئومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ یہ باہمی جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ نے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے خلاف اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو مکمل تسلیم کرلیں۔

(٢) آپ کے ذکر کو بلند کرنے کا معنی یہ ہے کہ جب بھی اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اذان میں اقامت میں، نماز میں، تشہد میں، غرض ہر مقام پر اپنے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر رکھا ہے۔

(٣) آپ کے ذکر کو بلند کرنے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کی اضافت آپ کے نام کی طرف کی ہے، جیسے رسول اللہ نبی اللہ اور بغیر رسالت اور نبوت کے آپ کا ذکر نہیں کیا، پس فرمایا :” محمد رسول اللہ “ (لفتح : ٢٩) اور فرمایا :” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک “ (المائدہ : ٦٧) اور فرمایا :” یایھا النبی لم یحرم ما احل اللہ لک “ (التحریم : ١) اور اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت کے وصف کے ساتھ صرف آپ کا ذکر کیا ہے اور انبیاء سابقین کا ذکر صرف ان کے اسماء کے ساتھ کیا ہے، جیسے فرمایا :” وتلک حجتنا اتینھا ابراہیم “ (الانعام : ٨٣) ” واسمعیل والیسع و یونس ولوطاً وکلاً فضلنا علی العلمین۔ (الانعام : ٨٦) اور آپ کے ذکر کو عظمت اور شرف کے ساتھ کرنا لازم کردیا، حتی کہ جس نے آپ کے نام کا تخفیف کے ساتھ ذکر کیا، اس کا ایمان جاتا رہا۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص 482 مئوسستہ الرسالتہ ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

سب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا ہے اور آپ کے نام کی شہرت تمام آسمانوں اور زمینوں میں ہے، اور آپ کا نام عرق پر لکھا ہوا ہے اور کلمہ شہادت اور تشہد میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں میں آپ کا ذکر ہے اور تمام آفاق میں آپ کا ذکر پھیلا ہوا ہے، خطبوں میں اور اذان میں آپ کا ذکر کیا جاتا ہے، دینی کتب کے شروع اور آخر میں آپ کا ذکر ہوتا ہے، قرآن مجید میں بہت جگہ اللہ کے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر ہے، مثلاً :” واللہ و رسولہ احق ان یرضوہ “ (التوبہ : ٦٢) ” من یطع اللہ رورسولہ “ (النسائ : ١٠٣) اطیعوا اللہ وطایعوا الرسول “ (النور : ٥٤) اور اللہ تعالیٰ آپ کو رسول اور نبی کے عنوان سے ندا فرماتا ہے اور دیگر انبیاء کو ان کے ناموں سے ندا فرماتا ہے، مثلاً یا موسیٰ ، یا عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت رکھ دی ہے، آپ کے متبعین آپ کی نعمت پڑھتے ہیں اور آپ کے فضائل بیان کرتے ہیں آپ پر دردود پڑھتے ہیں اور آپ کی سنتوں کی حفاظت کرتے ہیں، بلکہ ہر فرض نماز کے ساتھ آپ کی سنت میں زائد نماز پڑھتے ہیں، وہ فرض میں اللہ کے حکم پر عمل کرتے اور سنت میں آپ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اور آپ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا ہے، ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ (النسائ : ٨٠) جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کرلی، اور آپ کی بیعت کو اللہ کی بیعت قرار دیا ہے “” ان الذین یبایسونک انما یبایعون اللہ “ (الفتح : ١٠) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کر رہے ہیں، بادشاہ آپ کی اطاعت کرنے میں عار نہیں سمجھتے، قراء آپ کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقہ کی حفاظت کرتے ہیں اور مفسرین آپ کی کتاب کی آیات کی تفسری کرتے ہیں، واعظین آپ کی احادیث کی تبلیغ کرتے ہیں، علماء اور سلاطین آپ کے روضہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر صلوۃ وسلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے روضہ کی خاک سے اپنے چہروں کو سجاتے ہیں اور آپ کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں، سو آپ کا شرف روز قیامت تک باقی رہے گا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 208 داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اذان، اقامت، تشہد اور جمعہ، عید الفطر، عید الاضحیٰ میں منبروں پر اور ایام تشریق، یوم عرفہ اور رمی جمار کے وقت اور صفا اور مروہ پر، اور خطبہ نکاح میں اور زمین کے مشارق اور مغارب میں جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اللہ عزوجل کی عبادت کرے اور جنت اور دوزخ اور تمام مغیبات کی تصدیق کرے اور یہ شہادت نہ دے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہیں تو اس کی عبادت سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور وہ کافر رہے گا۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا اور آپ سے پہلے نازل کی ہوئی کتابوں میں آپ کا ذکر کیا اور پہلے رسولوں کو آپ کی بشارت دینے کا حکم دیا اور ہر دین پر آپ کے دین کو غالب کردیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسمان کے فرشتوں میں آپ کے ذکر کو بنلد کیا اور زمین پر مئومنین میں آپ کے ذکر کو بلند کیا اور ہم آخرت میں آپ کے ذکر کو بلند ریں گے اور آپ کو مقام محمود اور بلند درجات عطا کریں گے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٩٤ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بلند کرنے کے متعلق احادیث اور آثار

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ نے اپنی سند کے ساتھ درج ذیل احادیث اور آثار کو روایت کیا ہے۔

مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا جب بھی ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا :” اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھدان محمدا رسول اللہ۔ “ (جامع البیان رقم الحدیث : ٦٥-٢٩ )

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، میرے پاس حضرت جبریل آئے اور کہا : میرا اور آپ کا رب فرماتا ہے : میں نے آپ کے ذکر کو یک سے بلند کیا ؟ میں نے کہا : اللہ ہی کو علم ہے، فرمایا : جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :29068)

امام عبدالرحمان بن محمد ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے :

حضرت عدی بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے ایک چیز کا سوال کیا، کاش ! میں نے وہ سوال نہ کیا ہوتا میں نے کہا : اے میرے رب ! آپ نے حضرت ابراہیم کو خلیل بنایا، حضرت موسیٰ کو کلیم بنایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ! کیا میں نے آپ کو یتیم نہیں پایا تو آپ کو ٹھکانا دیا اور آپ کو حب کبریاء میں سرشار پایا تو مخلوق کی طرف ہدایت دی اور آپ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا اور آپ کا سینہ کھول دیا اور آپ کا بوجھ اتار دیا اور آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا، پس جب بھی میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے سات ھآپ کا ذکر بھی کیا جائے گا اور آپ کو خلیل بنایا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص 3446 رقم الحدیث :19394 مکتبہ نزار مصطفیٰ بیروت، 1417 ھ)

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ لکھتے ہیں :

ابن عطاء نے کہا : اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ میں نے اپنے اوپر ایمان کی تکمیل آپ کے ذکر کے ساتھ کردی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ میں نے آسمان کے فرشتوں میں آپ کا ذکر بلند کردیا ہے، اور قیامت کے دن تمام مخلوق آپ کی پناہ میں آئے گی، کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کی کس قدر وجاہت اور قدر و منزلت ہے۔ (الکشف والبیان ج 10 ص 233 داراحیاء التراث العربی، بیروت 1422 ھ)

امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی 458 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا : پھر آپ ارواح انبیاء (علیہم السلام) کے پاس گئے، ان سب نے اپنے رب کی حمد وثناء کی۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے ابراہیم کو خلیل بنایا، اور مجھے ملک عظیم عطا فرمایا اور میری امت کو اللہ کے لئے قیام کرنے والا بنیا، جو میری اتباع کرتی ہے اور مجھے نمرود کی آگ سے نجات دی اور اس آگ کو مجھ پر ٹھنڈک اور سلامتی بنادیا۔ حضرت موسیٰ نے اپنے رب کی حمد وثناء کرتے ہوئے کہا : تمام تعریفیں اللہ سبحانہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے کلیم بنایا اور مجھے اپنی رسالت اور کلام کے لئے چن لیا، اور مجھے سرگوشی کرنے کے لئے قریب کیا اور مجھ پر تورات نازل کی، اور میرے ہاتھوں سے آل فرعون کو ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں نجات دی۔

پھر حضرت دائود نے اپنے رب کی حمد وثناء کی : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے مجھے ملک عطا کیا اور مجھ پر زبور نازل کی اور میرے لئے لوہا نرم کردیا، اور پرندوں اور پہاڑوں کو میرے لئے مسخر کردیا اور مجھے حکمت اور فصل خطاب عطا کیا۔

پھر حضرت سلیمان نے اپنے رب کی حمد وثناء کی اور کہا : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے میرے لئے ہوائوں کو جنات کو اور انسانوں کو مسخر کردیا اور سرکش جنات کو میرا تابع کردیا، جو میرے لئے قلعے اور مجسمے بناتے ہیں اور مجھے پرندوں کی بولی سکھائی اور میرے لئے تانبے کا چشمہ بہایا اور مجھے ایسا عظیم ملک عطا فرمایا جو میرے بعد اور کسی کے لائق نہیں ہے۔

پھر حضرت عیسیٰ نے اپنے رب کی حمد وثناء کی اور کہا، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں : جس نے مجھے تو رات اور انجیل کی تعلیم دی اور مجھے ایسا بنایا کہ میں مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کرتا ہوں اور کوڑھیوں کو تندرست کرتا ہوں اور اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور مجھے آسمان کے اوپر اٹھا لیا اور مجھے کفار سے پاک رکھا اور مجھے اور میری ماں کو شیطان رجیم سے پاک رکھا۔

پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کی حمد وثناء کی اور فرمایا : آپ سب نے اپنے رب کی حمد وثناء کی، اب میں اپنے رب کی حمد وثناء کرتا ہوں، سو آپ نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے رحمتہ للعلمین بنا کر مبعوث فرمایا اور رب کی حمد وثناء کرتا ہوں، سو آپ نے فرمایا، تم تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے مجھے رحمتہ للعلمین بنا کر مبعوث فرمایا اور رب کی حمد وثناء کرتا ہوں سو آپ نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے رحمتہ للعلمین بنا کر مبعوث فرمایا اور تمام لوگوں کے لئے بشیر اور نذیر بنایا، اور مجھ پر فرقان کو نازل کیا، جس میں (ہدایت سے متعلق) ہر چیز کا مفصل بیان ہے اور میری امت کو تمام امتوں سے افضل بنایا اور میری امت کو امت وسط (کامل) بنایا اور میری امت کو اول اور آخر بنایا اور میرا سینہ کھول دیا اور مجھ سے بوجھ اتار دیا اور میری خاطر میرا ذکر بلند کیا اور مجھ کو افتتاح کرنے والا اور نبوت کا اختتام کرنے والا بنایا۔

پھر حضرت ابراہیم نے فرمایا : انہی وجوہ سے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تم سب پر فضیلت دی ہے۔ (دلائل النبوۃ ج ٢ ص 400-401 دارالکتب العلمیہ بیروت 1423 ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء کی جماعت میں دیکھا، وہاں حضرت موسیٰ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ کا بیان کیا، پھر فرمایا کہ پس جب نماز کا وقت آیا تو میں نے ان سب کی امامت کی۔ (دلائل النبوۃ ج ٢ ص 387 دارالکتب العلمیہ، بیروت)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بلند کرنے کے متعلق مصنف کی تقریر

(١) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر سب سے پہلے عالم ارواح میں بلند کیا گیا، قرآن مجید میں ہے :

(آل عمران : ٨٢-٨١) اور (اے رسول مکرم ! ) یاد کیجیے جب اللہ نے نبیوں سے ان کا عہد لیا کہ میں تم کو جو کتاب اور حکمت دوں، پھر تمہارے پاس وہ عظیم رسول آجائیں جو اس کی تصدیق کرنے والے ہوں، جو تمہارے ساتھ ہے تو تم ضرور بہ ضرور ان پر ایمان لانا اور ضرور بہ ضرور ان کی مدد کرنا، فرمایا : کیا تم نے اقرار کرلیا اور اس پر میرا بھائی عہد قبول کرلیا ؟ سب نے کہا : ہم نے اقرار کیا، فرمایا : پس تم گواہ رہنا اور میں خود تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ سو جو اس عہد کے بعد پھر گیا وہی لوگ نافرمان ہوں گے۔

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے جس نبی کو بھی بھیجا خواہ حضرت آدم ہوں یا ان کے عبد کا نبی ہو، اس سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق عہد لیا کہ اگر اس نبی کی زندگی میں آپ مبعوث ہوجائیں تو وہ ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لائے اور ضرور بہ ضرور آپ کی مدد کرے اور اپنی امت کو بھی یہ حکم دے گا کہ وہ آپ پر ایمان لائے۔ (جامع البیان جز ٣ ص 450 رقم الحدیث :5790 دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

سدی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور ان کے بعد جو نبی بھی بھیجا، اس سے یہ عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوگئے تو وہ ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لائے گا اور ضرور بہ ضرور آپ کی مدد کرے گا اور اگر اس نبی کی زندگی میں آپ مبعوث نہیں ہوئے تو وہ اپنی امت سے یہ عہد لے گا کہ اگر ان کی زندگی میں آپ مبعوث ہوجائیں تو وہ ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لائیں اور ضرور بہ ضرور آپ کی مدد کریں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :5792)

اس عہد کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بثعت کی دعا کی : ” ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم (البقرہ ١٢٩) اے ہمارے رب ! اہل مکہ میں ان ہی میں سے عظیم رسول مبعوث فرما اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :

(الصف : ٦) میں اس عظمی رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہوگا۔

(٢) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کو بلند کرنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ عزوجل خود اس کے سب فرشتے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

(الاحزاب : ٥٦) بیشک اللہ اور اس کے سب فرشتے اس نبی پر صلوۃ بھیجتے ہیں، اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر صلوۃ بھیجو اور خوب صلوۃ بھیجو۔

اس آیت میں بتایا ہے : اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ بھیجتا ہے، امام بخاری نے صلوۃ کا معنی بیان کیا :

ابوالعالیہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے صلوۃ بھیجنے کا معنی ہے : وہ فرشتوں کے سامنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ثناء اور مدح فرماتا ہے اور فرشتوں کی صلوۃ آپ کے لئے دعا ہے اور مئومنین کی صلوۃ کے متعلق یہ حدیث روایت کی :

حضرت ابو سعید الخدری (رض) بیان کرت یہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سلام تو معلوم ہے، ہم آپ پر صلوۃ کیسے پڑھیں ؟ تو آپ نے فرمایا : تم پڑھو :” اللھم صل علی محمد عبدک و رسولک کما صلیت علی آل ابراہیم وبارک علی محمد و علی آل محمد کمابارکت علی ابراہیم۔ “ (صحیح البخاری ص 1034-1035، رقم الحدیث :4798 شرکتہ دارالارقم بیروت)

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدح وثناء مخلوق کے ذمہ نہیں لگائی کیونکہ مخلوق محدود ہے تو آپ کی مدح وثناء بھی محدود ہوجاتی، نیز مخلوق کی ابتداء اور انتہا ہے تو آپ کی مدح وثناء بھی ابتداء اور انتہا میں مقید ہوجاتی، اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدح وثناء خد کی ہے کہ نہ اس کی کوئی حد ہے نہ آپ کی مدح وثناء کی کوئی حد ہوگی، نہ اس کی کوئی ابتداء ہے اور انتہا ہے، نہ آپ کی مدح وثناء کی کوئی ابتداء اور انتہا ہوگی، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا تو آپ کی مدح وثناء بھی ہمیشہ سے ہمیشہ تک ہوتی رہے گی، مئومنوں کو حکم دیا تم بھی آپ پر صلوۃ وسلام پڑھو تو ان کو کیا کمی ہوگی، جن پر فرشتے ہر وقت صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں، بعض لوگ اذان کے بعد اور جمعہ کے بعد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ اور سلام پڑھنے سے منع کرتے ہیں اور اس کو بدعت کہتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ ان کے منع کرنے سے کیا ہوتا ہے، آپ کی شان یہ ہے کہ آپ کی قبر انور پر صبح اور شام فرشتے صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں، حدیث میں ہے :

کعب نے بیان کیا کہ ہر روز ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اپنے پروں سے آپ کی قبر انور کا احاطہ کر لیت یہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے ہیں اور شام کو وہ اوپر چلے جاتے ہیں اور دوسرے ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں اور آپ پر صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں، یہ اسی طرح ہوتا ہر ہے گا حتیٰ کہ (قیامت کے دن) آپ کی قبر انور سے زمین پھٹ جائے گی اور آپ قبر مبارک سے نلکیں گے اور ستر ہزار فرشتے آپ کا احاطہ کئے ہوئے ہوں گے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٥ مشکوۃ رقم الحدیث : ٥٩٥٥ )

نیز میں کہتا ہوں کہ ان منکرین کے آپ پر سلام نہ پڑھنے سے آپ کو کیا کمی ہوگی، آپ کی شان یہ ہے کہ آپ تو شجر و حجر بھی سلام پڑھتے ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مکہ کے ایک پتھر کو ضرور پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھ پر سلام عرض کرتا تھا، میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2277 سنن ترمذی رقم الحدیث :3664 مسند احمد ج ٥ ص 89)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ میں تھا ہم مکہ کی کسی جانب گئے تو جو پہاڑ یا درخت آپ کے سامنے آتا وہ کہتا : السلام علیک یا رسول اللہ۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٢٦ )

سو یہ آپ کے ذکر کی بلندی ہے کہ شجر و حجر آپ پر سلام عرض کرتے ہیں، فرشتے آپ پر صلوۃ پڑھتے ہیں اور خود رب کائنات آپ کی مدح وثناء کرتا ہے۔

(٣) ورفعنالک ذکرک۔ (الانشراح : ٤) اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کی بلندی اپنے ذمہ رکھی، مخلوق کو اس کا مکلف نہیں کیا کہ وہ آپ کا ذکر بلند کرے کیونکہ اگر ملوق آپ کا ذکر بلند کرتی تو مخلوق کی ایک حد ہے، وہ اپنی حد تک آپ کا ذکر بلند کرتی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو خود بلند کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کی کوئی حد ہے اور نہ آپ کے ذکر کی بلند کی کوئی حد ہوگی، اللہ عزوجل لامحدود ہے تو آپ کے ذکر کی بلندی بھی لامحدود ہوگی، نیز مخلوق کی باتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے، اللہ تعالیٰ ازلی ابدی ہے، سو آپ کے ذکر کی بلندی بھی ازلی ابدی ہوگی، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذکر کی بلندی کا اندازہ اس حدیث سے کریں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے (اجتہادی) خطاء ہوگئی تو انہوں نے کہا : اے رب ! میں تجھ سے بہ حق (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے، اللہ عزوجل نے فرمایا : اے آدم ! تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے جانا، حالانکہ ابھی میں نے ان کو پیدا نہیں کیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : کیونکہ اے رب ! جب تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور نے مجھ میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ لکھا ہوا تھا۔ الحدیث (دلائل النبوۃ ج ٥ ص ٤٨٩ المعجم الصغیر ج ٢ ص 82-83 الفواء ص ٣ و مجموع الفتاویٰ لابن تیمیمہ، دارالجیل، ریاض)

اس کائنات میں سب سے بلند عرش عظیم ہے اور عرش عظیم پر آپ کا نام لکھا ہوا ہے اور یہ آپ کے ذکر کی بلندی کی واضح مثال ہے۔

(٤) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

(البقرہ : ٢٥٣) یہ رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام فرمایا اور ان میں سے بعض کو درجات میں بلندی عطا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے درجات بلندی عطا فرمائی، کیونکہ عالم عدد میں کوئی ایسا عدد نہیں ہے، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درجات کی تعیین کرسکے، سو آپ کے درجات غیر متناہی ہیں، امام بوصیری فرماتے ہیں :

فان فضل رسول اللہ لیس لہ حد فیعرب عنہ ناطق بفم

” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضل و کمال کی کوئی حد ہے ہی نہیں، جس کو کوئی بتانے والا بتاسکے “

اس آیت میں آپ کا نام نہیں لیا بلکہ فرمایا : ان میں سے بعض کو (غیر متناہی) درجات عطا فرمائے، اس میں یہ اشارہ ہے کہ غیر متناہی درجات کی بلندی کے ساتھ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے منفرد اور مخصوص ہیں کہ آپ کے سوا ذہن اور کسی کی طرف متوجہ ہو ہی نہیں سکتا۔ حدیث میں ہے۔

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم مئوذن سے اذان سنو تو وہی کلمات کہو، جو اس نے کہے ہیں، پھر مجھ پر صلوۃ (درود) پڑھو، بیشک جو مجھ پر ایک صلوۃ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس صلوت نازل فرماتا ہے، پھر اللہ سے میرے لئے وسیلہ کا سوال کرو کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک ایسا درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٨٤، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٨٣ سنن ترمذی رقم الحدیث، ٣٦١٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٦٧٨)

وسیلہ جنت کا عظیم ترین درجہ ہے، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ساتھ منفرد اور مخصوص ہیں، اسی طرح غیر متناہی درجات کی بلندی کے ساتھ بھی آپ منفرد اور مخصوص ہیں۔

(٥) دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی جگہ سورج غروب ہو رہا ہے اور جہاں سورج غروب ہو رہا ہے، وہاں مغرب کی ذان ہو رہی ہے، اور جہاں اذن ہو رہی ہے، وہاں ” اشھدان لا الہ الا اللہ “ کے ساتھ بلند آواز سے ” اشھدان محمدا رسول اللہ پڑھا جا رہا ہے، سو دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی جگہ آپ کا نام بلند کیا جا رہا ہے اور یہ بھی آپ کے ذکر کی بلندی ہے۔

(٦) پہلے مسلمان سال میں ایک مرتبہ یوم میلاد کو آپ پر صلوۃ وسلام پڑھتے تھے، مخالین نے اس کو بدعت کہا اور اس کی مخالفت کی تو اس کے ردعمل میں مسلمان سال میں متعدد بار محافل میلاد منعقد کرتے اور آپ پر صلوۃ سلام پڑھتے مخالفین نے پھر اس کو منع کیا تو مسلمان ہر جمعہ کی نماز کے بعد آپ پر صلوۃ وسلام پڑھنے لگے، اور جب اس سے بھی منع کیا گیا تو مسلمان ہر نماز کے بعد پڑھنے لگے :” الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ “ اور جب اس کی بھی مخالفت ہوئی تو مسلمان جمعہ اور مغرب کی اذان کے علاوہ ہر اذان کے بعد وقفہ کر کے پڑھنے لگے :” الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘ پھر جب اس کے خلاف آوازیں اٹھیں تو مسلمان اذان سے پہلے بھی وقفہ کر کے آپ پر صلوۃ وسلام پڑھنے لگے اور یوں یوماً فیوماً اللہ تعالیٰ آپ کے ذکر کو بڑھا رہا ہے اور بلند فرما رہا ہے، اسی لئے فرمایا :” ورفعنالک ذکرک۔ “ (الم نشرح : ٤)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 94 الشرح آیت نمبر 4