أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍؕ ۞

ترجمہ:

سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے، سو ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے.

 

التین : ٦ میں فرمایا : سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے، سو ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ یعنی ہر انسان کو ارذل عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے، ماسوا مئومنین صالحین کے ضخاک نے بیان کیا ہے کہ جب بندہ اپنی جوانی میں زیادہ نمازیں پڑھتا ہے اور زیادہ روزے رکھتا ہے اور زیادہ صدقات کرتا ہے، پھر جب وہ بوڑھا ہوجاتا ہے اور جوانی کی طرح نیک اعمال نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اس کو جوانی کے نیک اعمال کا اجر عطا فرماتا ہے۔

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ سفر کرتا ہے یا بیمارپڑ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی اقامت اور صحت کے ایام کے کئے ہوئے نیک اعمال کا اجر لکھ دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2996)

عکرمہ نے بیان کیا : جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہتا ہے، وہ ارذل عمر کی طرف نہیں لوٹے گا (تاہم یہ کلیہ نہیں ہے۔ )

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس کو مبارک ہو جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے نیک اعمال زیادہ ہوں۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث :6329، حلیتہ الاولیائ، ج ٦ ص ١١١، مسند احمد ج ٤ ص 188)

القرآن – سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 6