أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور طور سینین کی

التین : ٢ میں فرمایا : اور طور سینین کی۔

” طور سینین “ کا مصداق

مجاہد نے کہا ” طور ‘ سے مراد پہاڑ ہے اور ” سینین “ سریانی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : مبارک، قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے : خوب صورت اور مبارک، نیز عکرمہ نے کہا : ’ دطور “ وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ سبحانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا کی تھی۔ مقاتل اور کلبی نے کہا :” سینین “ ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں پھل دار درخت ہوں، یہ اہل نبط کی لغت ہے، اللہ تعالیٰ نے طور کی قسم اس لئے کھائی ہے کہ یہ پہاڑ شام میں اور ارض مقدسہ میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس جگہ برکت دی ہے، قرآن مجید میں ہے :

المسجد الاقصا الذی برکنا حولہ (بنی اسرائیل : ١) وہ مسجد قاصیٰ جس کے اردگرد ہم نے برکت دی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 2