قرض سے نجات کے مصطفوی  ﷺ نسخے
محمد افتخار الحسن

میں روحانی اَمراض و مَسائل پر لکھنے سے قصداً گریز کرتا ہوں، اس کی ایک واضح وجہ ہے۔ جب بھی اس موضوع پر لکھوں تو پیغامات کا ایک سیلاب آ جاتا ہے۔ میں آن لائن علاج کا نہ تو قائل ہوں اور اگر کسی کو کچھ بتا بھی دوں تو میرے مسلسل اَسفار کے باعث مَیں ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتا۔ جواب نہ مِلنے پر لوگ پریشان ہوتے ہیں اور یوں ایک نیکی کا کام بسا اوقات طعنے میں بدل جاتا ہے۔ اسی سبب میں اِس موضوع سے احتراز کرتا ہوں۔

آج ایک نہایت اہم پریشانی  پر بات کرنا مقصود ہے، یعنی لین دین میں اسلامی طرزِ عمل۔ جب کسی مسلمان کے ساتھ آپ کا کوئی معاملہ ہو، بالخصوص مالی لین دین، تو معاملات کی اِصلاح کے لیے ہرگز پریشر، دھمکی یا دباؤ کی کوشش نہ کریں۔ یاد رکھیں، یہ اِسلامی تعلیمات کے بنیادی آداب کے خلاف ہے۔

مَثلاً، اگر آپ نے کسی کو قرض دیا ہے اور وہ واپسی میں تاخیر کر رہا ہے، تو سب سے پہلے ربِ ذوالجلال سے دعا کریں کہ وہ اس شخص کو ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ ہو سکتا ہے وہ قرض کی واپسی کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہو، لیکن اس کے گھر کے حالات، ذمہ داریاں اور مالی اُلجھنیں ایسی ہوں کہ وہ اس وقت قرض لوٹا نہ پا رہا ہو۔ ایسی حالت میں، اس کے لیے صدقِ دل سے دعا کریں کہ اللہ اس کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔ اس کا رزق وسیع کرے اور اس کو اسباب و وسائل عطا کرے تاکہ وہ آپ کی رقم لوٹا سکے۔ نہ  کہ آپ اُسے بار بار بَلیک مَیل کریں، دھمکی دیں، ڈرائیں اور اس کا سکون بھی چھین لیں۔

دینِ متین نے ایسے لوگوں کے لیے سخت وعیدیں سنائی ہیں جو اِستطاعت کے باوجود قرض واپس نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

قرض کی ادائیگی پر قدرت کے باوجود وقت پر ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔” (رواہ بخاری و مسلم)
ایک اور مقام پر فرمایا؛
قرض کی ادائیگی پر قدرت کے باوجود قرض کی ادائیگی نہ کرنے والا  ظالم و فاسق  ہے۔ (فتح الباری)

تاہم، اگر کوئی مَومن بھرپور کوشش کے باوجود اپنا قرض ادا نہیں کر پا رہا تو وہ ہمارے احسان کا بہترین مستحق ہے۔ رَب رحمٰن کے حبیب، رَحیم و کریم ﷺ نے ایسے پریشان  اور تَنْگدَست افراد کے ساتھ نرمی برتنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے: فرمایا؛
جو شخص مُفلِس و تنگ دست کو مُہلت دے تو ادائیگی کا دن آنے تک اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے، اور پھر جب ادائیگی کا دن آئے اور وہ  پھر اسے مُہلت دے دے تو اس کو ہر دن کے بدلے اس کے قرض کی دُگنی مقدار  کے برابر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔
(رواہ احمد و ابن ماجہ)

ایسی صورتِ حال میں ضروری ہے کہ آپ مقروض فرد کو مانیٹر بھی کریں۔ اگر وہ محض سہل پسند، سستی و غفلت کا شکار ہے تو اسے شائستگی سے تنبیہ کریں اور اِسلامی حدود و قیود میں رہتے ہوئے قرض واپس لینے کی دُنیَوی کوشش کریں۔ لیکن اگر آپ کا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ کوشش کر رہا ہے، عاجز ہے تو آپ کو صبر کرنا چاہیے اور اُس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا اہم ہے۔ قرض واپس لینے یا مقروض ہونے کی صورت میں اسے لوٹانے کے لیے دنیوی اعتبار سے تمام وسائل اور اسباب بروئے کار لانا از حد ضروری ہے۔ محض جائے نماز پر بیٹھ کر دعائیں کرتے رہنے سے کام نہیں ہو گا۔ پہلے بھرپور کوشش کریں، ہمت اور محنت سے کام لیں، اس کے بعد دعا کریں، اور یقین رکھیں کہ پھر دعا کبھی ناکام نہیں ہو گی۔

آپ کو اپنی زندگی میں درج ذیل تین دعاؤں کو اتنا لازمی کر لینا چاہیے جتنا سانس لینے کے لیے آکسیجن اور پینے کے لیے پانی ضروری ہے۔ یہ تینوں دعائیں ہمارے آقا و مولا، سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زبان سے جاری ہوئیں، اور یہ پتھر پر لکیر ہیں۔ ان کے سریع الاثر ہونے میں کوئی شک نہیں۔

پہلی دعا: اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔ ترجمہ:”اے اللہ! اپنے حلال رِزق کے ذریعے مجھے حرام سے بے نیاز کر دے، اور اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنے سوا کسی کا محتاج نہ رہنے دے۔”
فجر اور عصر میں ۱۱ بار۔ اگر معاملہ شدید ہو تو ہر نماز کے بعد ۱۱ بار۔

دوسری دعا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ.
ترجمہ:”اے اللہ! میں غم اور پریشانی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں کمزوری اور سُستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں بزدلی اور بُخْلی (کنجوسی) سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غَلبے سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔”
فجر اور عصر کے بعد کم از کم تین بار۔ حسبِ ضرورت زیادہ کر لیں۔

تیسری دعا: اَللّٰهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا تُعْطِيْهِمَا مَنْ تَشَآءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَآءُ ارْحَمْنِيْ رَحْمَةً تُغْنِيْنِيْ بِهَاعَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ.

ترجمہ: “اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تُو جسے چاہے بادشاہی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔ تُو جسے چاہے عِزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذَلیل کر دیتا ہے۔ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بے شک تُو ہر چیز پر قُدرت رکھنے والا ہے۔ اے دنیا اور آخرت کے رحمٰن و رَحیم! تُو جسے چاہے دنیا و آخرت کی نعمتیں عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے روک لیتا ہے۔ (اے اللہ!) مجھ پر ایسی رحمت فرما دے جو مجھے تیری رحمت کے سِوا ہر دوسری چیز اور ہر دوسرے شخص سے بے نیاز کر دے۔”
صبح و شام تین بار۔ میرا ذاتی  مشاہدہ و عمل یہ ہے کہ فجر کے بعد اور رات سونے سے قبل دس بار پڑھا جائے، لیکن آپ کو جیسے مناسب لگے اسی طرح وِرد کر سکتے ہیں۔

ان دعاؤں کے ساتھ، اپنی زندگی میں یہ عَملی اِقدامات بھی شامل کر لیجیے:

قرض سے نجات کے لیے کبھی بھی تعویذ نہ لیں، کسی پیر، عامل، مولوی کو نذرانہ نہ دیں، یہ آپ کو مزید مقروض کر دیں گے۔
کم کھائیں، کم بولیں اور کم سوئیں۔
باوضو رہیں اور ہشاش بشاش، فعال و متحرک زندگی گزاریں۔

ان شاء اللہ، آپ کا قرض نہ صرف اُتر جائے گا بلکہ اللہ کے فضل سے آپ غَنی بن جائیں گے اور غنائے قلب بھی نصیب ہو گا۔
اپنی دعاؤں میں مجھ فقیر، میرے والدین و مشائخ کو بھی شامل رکھیں۔ جزاکم اللہ خیرا
محمد افتخار الحسن
14 نومبر 2025
#IHRizvi