أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالدِّيۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

سو کون ہے جو اس کے بعد قیامت کے متعلق آپ کی تکذیب کرے۔

التین : ٧ میں فرمایا : سو کون ہے جو اس کے بعد قیامت کے متعلق آپ کی تکذیب کرے۔

یعنی ان دلائل کے ظاہر ہونے کے بعد اے رسول مکرم ! آپ کی کون تکیذب کرسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے پانی کی ایک بوند سے تدریجاً مکمل انسان بنادیا، پھر اس کو جوان مرد بنایا، پھر ادھیڑ عمر تک پہنچایا، پھر تدریجا اس کو کم زور کرتا رہا حتیٰ کہ اسے ناکارہ عمر تک پہنچا دیا اور اس جسمانی تغیر میں اس پر واضح دلیل ہے کہ وہ انسان کو مرنے کے بعد پھر زندہ کرنے اور میدان حشر میں جمع کرنے پر قادر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 95 التين آیت نمبر 7