أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ يَنۡهٰىؕ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے

ابوجہل کی مذمت اور ادب کی وجہ سے مکروہ وقت میں نماز سے منع نہ کرنا۔

العلق :9-10 میں فرمایا : کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ ہمارے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے۔

امام ابوالحق علی بن احمد واحدی متوفی 468 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، حضرت حضرت ابوہریرہ (رض) بیان بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا : کیا میں تمہارے سامنے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منہ خاک آلود کروں ؟ لوگوں نے کہا : ہاں اس نے کہا : میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو میں ان کے گردن کو اپنے پیروں سے روندوں گا، اسے بتایا گیا کہ دیکھو وہ سامنے نماز پڑھ رہے ہیں، وہ آپ کی گردن کو روندنے کے لئے آگے بڑھا، پھر فوراً الٹے پائوں لوٹ آیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچائو کر رہا تھا، لوگوں نے اس سے پوچھا : اے ابوالحکم ! کیا ہوا، کیوں واپس آگ گئے ؟ اس نے کہا : میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق ہے اور اس میں ہولناک چیزیں ہیں، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ ذرا بھی میرے قریب آتا تو فرشتے اس پر جھپ پڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر یدتے۔

تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں : کیا آپ نے اس کو دیکھا جو منع کرتا ہے۔ ہمارے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے۔ (الوسیط ج ٤ ص 529 دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی مت وفی 606 ھ فرماتے ہیں : اس آیت میں ہر اس شخص کے لئے وعید ہے جو کسی کو نماز پڑھتے دیکھا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، حضرت علی سے کہا گیا کہ آپ نے ان کو منع کیوں نہیں کیا ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : میں ڈرتا تھا کہ میں اس آیت کی وعید میں داخل ہو جائوں گا، کیا آپ نے اس کو دیکھا جو ہمارے بندے کو منع کرتا ہے جب وہ نماز پڑھے، امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے بہت خوب صورت ادب کو مستنبط کیا، امام ابویوسف نے ان سے پوچھا : جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو یہ کہہ سکتا ہے :” اللھم اغفرلی ؟ “ ابوحینفہ نے کہا : وہ ” ربنا لک الحمد “ کہے اور سجدہ میں چلا جائے اور ” اللھم اغفرلی “ کہنے سے منع کیا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٢٢ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص طلوع آفتاب یا استواء آفتاب کے وقت نماز پڑھ رہا ہو، جب سجدہ کرنا جائز نہیں کی مسجد میں جمعہ نہیں ہوتا، لیکن ان کو صراحتہ جمعہ پھڑنے سے منع نہ کیا جائے بلکہ ان سے کہا جائے کہ آپ پر ظہر کی نماز فرض ہے اور اس کی جماعت واجب ہے اور ظہر با جماعت کو ترک کرنے سی آپ لوگ گنہ گار ہوں گے، اس لئے ظہر کی نماز با جماعت پڑھیں، مجھ سے ایک دفعہ ایک عالم نے پوچھا کہ جب طلوع آفتاب کے وقت سجدہ کرنا حرام ہے تو اس حرام کام سے منع کیا نہیں کیا جائے گا ؟ میں نے کہا : یہ قبیح لذاتہ اور حسن لغیرہ ہے، اس وقت نماز پڑھنا قبیح لذاتہ ہے، اس لئے حرام ہے اور نماز فی نفسہ حسن لغیرہ ہے، اس لئے اس سے منع نہیں کیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 96 العلق آیت نمبر 9