بیوی کے لئے رشتہ ڈھونڈرہا ہوں
*بیوی کے لئے رشتہ ڈھونڈرہا ہوں*
یہ پندرہ سالوں کے تجربے میں پہلی بار تھا کہ ایسا کیس میرے سامنے آیا — اور شاید اسی لیے یہ کہانی آج تک میرے دل پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔
وہ میاں بیوی رات کے وقت آفس آئے۔ پہلی ہی بات انہوں نے یہ کہی کہ وہ اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں، ہماری ٹیم کا کوئی رکن وہاں موجود نہ ہو۔ میں نے ان کی سنجیدگی محسوس کی تو بات مان لی۔
سامنے دو خوبصورت، باوقار میاں بیوی بیٹھے تھے۔ انداز ایسا تھا کہ کوئی بھی انہیں ایک خوش و خرم، کامیاب جوڑا کہتا۔ پہلے انہوں نے ہمارے کام کو سراہا، تعریف کی، پھر خاموشی چھا گئی۔
کچھ لمحوں بعد شوہر نے آہستہ آواز میں کہا:
“ہمیں آپ کی مدد چاہیے… یہ میری بیوی ہے، اور میں اس کے لیے رشتہ دیکھ رہا ہوں۔”
یہ سن کر میرے ہاتھ کانپ گئے۔ میں نے کپ میں موجود کافی سائیڈ پر رکھی۔ چند سیکنڈ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔ میں نے بے اختیار کہا:
“سر، یہ کیسا مذاق ہے؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”
تب انہوں نے جو کہانی سنائی، وہ سن کر شاید پتھر دل انسان بھی پگھل جائے۔
انہوں نے بتایا کہ سولہ سال پہلے انہوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ ان کی جوڑی خاندان اور دوستوں میں مثال سمجھی جاتی تھی۔ ہنسی، زندہ دلی، ایک دوسرے کا خیال — سب کچھ تھا۔ اللہ نے انہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا کیا۔ گھر ہنستا کھیلتا تھا۔
پھر ایک دن…
ایک معمولی سی غلط فہمی۔
ایک لمحاتی غصہ۔
اور جذبات میں آ کر شوہر کے منہ سے تین بار طلاق کے الفاظ نکل گئے۔
وہ لمحہ ان کی پوری زندگی بدل گیا۔
بیوی زمین پر بیٹھ کر روئی، گڑگڑائی، ہاتھ جوڑے — مگر الفاظ واپس نہیں آتے۔ اگلے دن جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو شوہر نے علماء سے رجوع کیا، دروازے کھٹکھٹائے، امید کی ہر کرن پکڑنے کی کوشش کی۔ مگر ہر جگہ یہی کہا گیا:
“اگر تین بار طلاق ہو گئی ہے تو اب رشتہ ختم ہو چکا ہے۔”
وہ ٹوٹ گئے۔
وہ گھر آیا، بیوی سے معافی مانگی، آنسوؤں کے ساتھ اسے گاڑی میں بٹھایا اور اس کی بہن کے گھر چھوڑ آیا۔ ایک ساتھ گزارے سولہ سال، ایک دن میں ختم ہو گئے۔
اب دو سال ہونے کو ہیں۔
بچوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔
کبھی ماں کو یاد کرتے ہیں، کبھی باپ کو۔
گھر تو ہیں، مگر گھر جیسا سکون نہیں۔
میاں بیوی دونوں ڈپریشن میں چلے گئے۔ نہ زندگی میں مزہ رہا، نہ جینے کی خواہش۔
کچھ لوگوں نے “حلالہ” کا مشورہ دیا — مگر یہ بات ان دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
ایک عورت کے لیے یہ کتنا بڑا صدمہ ہوتا ہے، اور ایک مرد کے لیے یہ کیسی بے بسی ہوتی ہے — یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو اس آگ سے گزرے۔
دو ماہ پہلے ان کی بیٹی کو ڈینگی ہو گیا۔ بخار میں تڑپتی ہوئی، کبھی “ماما” پکارتی، کبھی “بابا”۔
وہ لمحہ باپ برداشت نہ کر سکا۔
وہ بیٹی کو ماں کے پاس چھوڑ آیا۔
وہاں دوبارہ بات ہوئی۔
دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔
آخرکار انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر یہی سوچا کہ شاید “حلالہ” ہی آخری راستہ ہے۔
یہ سب سناتے ہوئے میاں بیوی دونوں رو رہے تھے۔ میں نے بھی پہلی بار خود کو بمشکل سنبھالا۔ میں نے بس اتنا کہا:
“اللہ بہت بڑا ہے، وہ بہتر راستہ نکالے گا۔”
بہت مشکل کے بعد انہوں نے اس کہانی کو شیئر کرنے کی اجازت دی — صرف اس لیے کہ لوگ غصے اور جذبات میں آ کر اپنے گھر برباد نہ کریں، خاص طور پر جب بچے آپ کے بغیر زندہ نہ رہ سکیں۔
یقین کریں، اس رات میں سو نہ سکی۔
جتنے لوگوں سے ملتی ہوں، ہر ایک کی اپنی الگ کہانی ہوتی ہے — مگر یہ کہانی ایسی تھی جس نے روح ہلا دی۔
اگر آپ بھی زندگی کے کسی ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو لگتا ہے کہ طلاق ہی آخری حل ہے — تو خدا کے لیے رُک جائیں۔
کچھ عرصے کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں، غصہ ٹھنڈا ہونے دیں، دل اور دماغ کو وقت دیں۔
کیونکہ جذبات میں لیا گیا ایک فیصلہ، پوری زندگی کی قیمت مانگ لیتا ہے — اور اس قیمت کا سب سے بڑا خمیازہ بچے بھگتتے ہیں۔منقول
“ ایک وقت میں تین طلاقیں ایک ساتھ دینا اشد حرام ہیں،
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسے مرد کو کوڑے لگائے جاتے تھے جو ایک وقت میں تین طلاق دیتا تھا ، لیکن اگر کسی نے ایک وقت میں تین طلاقیں دے دیں ، تو واقع ہوجائیں گی ، یہ مسئلہ غلط ہے کہ ایک وقت میں دی گئی تین طلاقیں ایک طلاق ہوتی ہے .
آخری حد تک کوشش کرنی چاہیئے کہ طلاق نہ ہو ۔ لیکن حالات اگر اس حد تک پہنچ جائیں کہ طلاق ناگزیر ہو تو پھر دو حیض کے درمیان پاکی کے دن جس میں شوہر نے بیوی سے صحبت نہ کی ہو ، تو ایک طلاق دے کہ یہ سب سے بہتر طلاق دینے کا طریقہ ہے اور اسے اصطلاح میں *طلاق احسن* کہتے ہیں .
حیض کے ایام میں طلاق دینا ناجائز و گناہ ہے ،
اگر کوئی شخص اس طریقہ سے طلاق دے گا تو اُسے سوچنے کا موقع ملے گا وہ جذبات میں فورا منہ سے لفظ نہیں نکالے گا ، اُسے ایام حیض گزرنے کا انتظار کرنا پڑے گا ، پاکی کے دنوں میں بیوی سے دور رہنا ہوگا کہ ہم انسان ہیں جانور نہیں ، کہ رات جس کے ساتھ بسر کی اور صبح اُٹھ کر اُسے ہی سینگھ مار دیا .
اگر تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں تو سورہ بقرہ کی آیت نمبر 230 کے تحت اب اُس کا پہلے شوہر سے تعلق ختم ہوگیا ہے رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،یہاں تک کہ وہ کسی اور سے شادی کرے اور دوسرا شوہر انتقال کرجائے یا اپنی مرضی سے اُسے طلاق دے تو اُس کے بعد وہ پہلے شوہر سے دوبارہ شادی کرسکتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور دوسری صورت نہیں ،
حلالہ کو آسان انداز سے یوں سمجھئیے کہ اسی معاملہ کو پہلے سے طے کرلیا جائے کہ دوسری شادی ہی اس نیت سے عورت کرے یا اُس کی کروائی جائے کہ دوسرا شوہر کچھ عرصہ رکھ کر اُسے طلاق دیگا تاکہ وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو ، اسی لفظ حلال کی وجہ سے اسے حلالہ کہتے ہیں کہ وہ عورت پہلے مرد کے لئے حلال ہوئی ، پہلے سے طے کرنا یعنی Pre planned یہ کام کرنا ناجائز ہے ، اس لئے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر حدیث میں لعنت کی گئی ہے .
لیکن اگر دوسرا شوہر حالات کو سمجھتے ہوئے کسی کے پریشر میں آئے بغیر خود اپنے ارادے سے چھوڑدے تو یہ جائز صورت ہے .
اس لئے یہ تمام مسائل ہر شادی شدہ جوڑے کے لئے سیکھنا نہایت ضروری ہیں تاکہ وہ شریعت کا پاس رکھتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں اور کسی حادثہ سے اپنے آپ کو اور اپنی فیملی کو بچائیں کہ بعد میں پچھتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا اور لوگ اپنی غلطیوں کو علماء کرام اور مفتیانِ دین پر ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ مولویوں نے دین مشکل بنادیا ہے “
محمد حسن رضا خان*
𝑩𝒆𝒔𝒕 𝑹𝒆𝒈𝒂𝒓𝒅𝒔,
𝑴𝒖𝒇𝒕𝒊 𝑯𝒂𝒔𝒂𝒏 𝑹𝒂𝒛𝒂 𝑲𝒉𝒂𝒏
𝑭𝒐𝒖𝒏𝒅𝒆𝒓 & 𝑫𝒊𝒓𝒆𝒄𝒕𝒐𝒓 : 𝑻𝒉𝒆 𝑪𝒆𝒏𝒕𝒆𝒓 𝑶𝒇 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎𝒊𝒄 𝑲𝒏𝒐𝒘𝒍𝒆𝒅𝒈𝒆