اہلِ سنت کی ایک درویش صفت ہستی نے پرانے وقتوں کے حوالے سے چند الفاظ پر مشتمل ایک سادہ سے ٹوٹکے کا ذکر کیا کہ اگر درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر یہ کلمات دہرائے جائیں تو تکلیف میں افاقہ ہو جاتا ہے۔ بات محض اسی قدر تھی، مگر اسی کو بنیاد بنا کر تضحیک اور تنقید کا ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا گیا جو اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالانکہ انہوں نے کوئی نیا دعوٰی نہیں فرمایا تھا، بلکہ صرف ایک پرانی، آزمودہ اور سینہ بہ سینہ چلی آنے والی روایت کو بطورِ نقل بیان کیا تھا۔ ستم ظریفی تو دیکھیے کہ اس مردِ جلیل کی عمر بھر کی ۹۹.۹ فیصد بے لوث علمی، اصلاحی اور سماجی واخلاقی خدمات کو ایک لمحے میں پسِ پشت ڈال دیا گیا، اور محض ایک جملے کو بہانہ بنا کر کردار کشی کا بازار گرم کر دیا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے ان کلمات میں کوئی قباحت ہے، نہ عقلی سطح پر اس عمل میں کوئی خرابی۔ یہاں تک کہ جدید میڈیکل سائنس بھی ایسے طریقوں کو شفا کے سفر میں ایک مؤثر اضافی سہارے کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار کا ایک شخص تھا جسے لوگ خرید و فروخت میں دھوکہ دے جاتے تھے، اور اس کی زبان میں لکنت بھی تھی۔ اس نے نبی کریم ﷺ سے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کی شکایت کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم بیع کیا کرو تو یوں کہا کرو: لَا خِلَابَةَ یعنی: کوئی دھوکہ نہیں۔ چنانچہ وہ شخص جب بھی بیع کرتا، ان الفاظ کو دہرا لیتا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: واللّٰہ! آج بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اسے بیع کرتے ہوئے “لَا خِلَابَةَ” کہتے سن رہا ہوں، اور اس کی زبان ہکلا رہی ہے۔ (مسند احمد)

فقہاءِ کرام کے نزدیک ان کلمات سے نہ خیارِ شرط ثابت ہوتا ہے اور نہ خیارِ فسخ، لہٰذا یہ الفاظ ایک وظیفہ ہی کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کی تاثیر اور حلاوت ومعنویت کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خود “واللّٰہ” کہہ کر بیان فرمایا۔ علامہ توربشتی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے یہ کلمات اس لیے سکھائے تاکہ سامنے والے کو متنبہ کیا جا سکے کہ یہ شخص سادہ اور ناآشنا تاجر ہے، تاکہ وہ بھی اس کا لحاظ کرے۔ نیز یہ توجیہ بھی کی جا سکتی ہے کہ محض ان الفاظ کے کہہ دینے سے دھوکہ باز کا دل  نہیں بدل جانا تھا، بلکہ ان کلمات کے التزام کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ ان کے اپنے اندر اعتماد پیدا ہو، ان کا ذہن بیدار رہے اور ان کا ارادہ مضبوط ہو۔

بزرگوں کی حکمت اکثر نہایت سادہ الفاظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بظاہر یہ کلمات عجیب سی منظر کشی کرتے ہیں، لوگ صرف ظاہری معنی دیکھ کر مزاق بناتے ہیں، مگر ان کی جڑیں انسانی نفسیات میں گہری پیوست ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ نہیں کہ یہ ٹوٹکا نما کلمات فی نفسہٖ درد کو براہِ راست ختم کر دیتے ہیں، بلکہ دراصل ان کے ذریعے مریض کی توجہ درد سے ہٹا دی جاتی ہے، یا ان کے ذریعے اس کے اندر اعتماد یا قوت پیدا کی جاتی ہے۔ اسی اصول پر ڈاکٹر جب بچے کو انجیکشن لگاتا ہے تو فوراً کہتا ہے: “چڑیا اُڑی!” یہ جملہ درد سے توجہ ہٹانے کے لیے ہوتا ہے، اور میڈیکل سائنس کے مطابق اس سے واقعی درد کم محسوس ہوتا ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو ذیل میں وہ میڈیکل رپورٹ ملاحظہ کیجیے جو میں نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی مدد سے ڈیڑھ دو گھنٹے کی محنت سے مرتب کی ہے جس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:

“یہ میڈیکل سائنس کی ایک مسلّمہ تھیوری ہے (Gate Control Theory) جو 1965 میں میلزیک اور وال نے پیش کی تھی۔ اس کے مطابق انسانی جسم سے درد کے سگنل دماغ تک ایک ‘گیٹ’ کے ذریعے پہنچتے ہیں۔ اگر اس وقت دماغ کو کسی دوسری گہری سوچ، خاص تصویر (Visualization) یا کسی تال والے جملے (Rhythm) میں الجھا دیا جائے، تو وہ ‘درد کا گیٹ’ بند کر دیتا ہے۔ آج کل یورپ کے ہسپتالوں میں مریضوں کو درد کے دوران VR (ورچوئل رئیلٹی) گلاسز پہنائے جاتے ہیں جہاں وہ دوڑتے ہوئے گھوڑے یا خوبصورت مناظر دیکھتے ہیں۔ اسی طرح جرمن ماہرِ نفسیات جوہانس ہنری شلٹز کی ایجاد کردہ تکنیک ‘Autogenic Training’ آج بھی ہسپتالوں میں مستعمل ہے، جس میں مریض مخصوص جملوں کا ورد کرتا ہے، مثلاً: ‘میرا دایاں بازو گرم اور بھاری محسوس ہو رہا ہے’ یا ‘میرے دل کی دھڑکن پرسکون ہے’۔ یہ جملے دہرانے سے جسم کا Autonomic Nervous System سکون کی حالت میں آ جاتا ہے اور خون کی گردش بہتر ہونے سے درد میں کمی آتی ہے۔ جدید طب میں ‘Guided Imagery’ کے تحت کینسر یا شدید زخموں کے مریضوں کو یہ تصور کروایا جاتا ہے کہ ‘سفید روشنی’ یا ‘ایک طاقتور لہر’ ان کے درد کو بہا کر لے جا رہی ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق جب مریض مخصوص الفاظ کو یقین اور تال کے ساتھ دہراتا ہے، تو جسم میں تناؤ کا ہارمون (Cortisol) کم اور سکون کا مادہ (Dopamine) بڑھ جاتا ہے۔ اسے میڈیکل کی زبان میں ‘Psychoneuroimmunology’ کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ طریقہ کار سرجری یا انفیکشن کا متبادل نہیں، بلکہ درد کی شدت کو کم کرنے کا ایک نفسیاتی طریقہ ہے جسے دنیا ‘Complementary Medicine’ کہتی ہے۔”

آپ یہی رپورٹ کسی کے بھی سامنے پیش کیجیے، کوئی اس کا مذاق نہیں اڑائے گا بلکہ تائید و تحسین کرے گا۔ اس معاشرے کا المیہ دیکھیے کہ یہی بات اگر سوٹ بوٹ یا پینٹ ٹائی میں ملبوس کوئی شخص کرے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے، مگر یہی بات اگر داڑھی والا ایک مولانا کرے تو تمسخر، استہزاء اور میمز کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ شرعی اور عقلی اعتبار سے ٹوٹکوں کا مذاق اُڑانا ایک نہایت سطحی اور پست ذہنیت کی علامت ہے، جو کسی ذی عقل کو زیب نہیں دیتی۔ اور محض ایک روایت یا ٹوٹکا نقل کرنے پر کسی بزرگ ہستی کی تضحیک کرنا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ شرعاً سخت حرام اور ہلاکت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa
23/12/2025