أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ‌ۚ مِّنۡ كُلِّ اَمۡرٍ ۞

ترجمہ:

اس رات میں فرشتے اور جبریل اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے نازل ہوتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس رات میں فرشتے اور جبریل اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے نازل ہوتے ہیں۔ یہ رات طلوع فجر ہونے تک سلامتی ہے۔ (القدر : ٥-٤)

فرشتوں کے نزول کی تفصیل

امام عبدالرحمان بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم رازی متوفی 327 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

کعب بیان کرتے ہیں کہ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان کے اس کنارے پر ہے، جو جنت کے قریب ہے، پس اس کے نیچے دنیا ہے اور اس کے اوپر جنت ہے اور جنت کسری کے نیچے ہے، اس میں فرشتے ہیں جن کی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور سدرہ کی ہر شاخ پر فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں اور جبریل (علیہ السلام) کا مقام اس کے وسط میں ہے، اللہ تعالیٰ ہر لیلتہ القدر میں حضرت جبریل کو ندا کرتا ہے کہ وہ سدرۃ المنتہی کے فرشتوں کے ساتھ زمین پر نازل ہوں اور ان میں سے ہر فرشتے کو مئومنین کے لئے شفقت اور رحمت دی جاتی ہے، پھر وہ غروب آفاتب کے وقت حضرت جبریل کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں، پھر زمین کے ہر حصہ پر فرشتے سجدہ اور قیام میں مئومنین اور مئومنات کے لئے دعا کرتے ہیں، سوا ان مقامات کے جہاں یہودیوں اور عیسائیوں کا معبد ہو یا آتش کدہ ہو یا بت خانہ ہو یا کچرا کنڈی ہو یا جس گھر میں کوئی نشہ کرنے والا ہو یا جس جبریل ہر مئومن سے مصافحہ کرتے ہیں اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت ہر مئومن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کا دل بہت نرم ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت حضرت جبریل اس سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص 3453 رقم الحدیث : 19428 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

لیلتہ القدر میں فرشتوں کا زمین پر نازل ہونا

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اس رات میں فرشتے نازل ہوتے ہیں، اس آیت کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ تمام فرشتے نازل ہوتے ہیں، بعض مفسرین نے کہا : وہ آسمان دنیا پر نازل ہوتے ہیں، لیکن اکثر مفسرین کا مختار یہ ہے کہ وہ زمین پر نازل ہوتے ہیں، کیونکہ بہت احادیث میں یہ وارد ہے کہ تمام ایام میں فرشتے مجالس ذکر میں حاضر ہوتے ہیں، پس جب عام ایام میں فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں تو اس عظیم الشان رات میں تو فرشتے بہ طریق اولیٰ زمین پر نازل ہوں گے پھر اس میں اختلاف ہے کہ فرشتے کس لئے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) بعض نے کہا : فرشتے اس لئے نازل ہوتے ہیں کہ بشر کی عبادت اور اطاعت میں اس کی کوشش کو دیکھیں۔

(٢) فرشتوں نے کہا تھا :

وما نتنزل الا بامر ربک (مریم : ٦٤) ہم صرف آپ کے رب کے کم سے نازل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس رات اللہ تعالیٰ ان کو زمین پر نازل ہونے کا حکم دیتا ہے۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ آخرت میں اہل جنت کے پاس فرشتے نازل ہوں گے :

یدخلون علیہم من کل باب۔ سلم علیکم (الرعد : ٢٤-٢٣) فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے آئیں گے۔ اور کہیں گے : تم پر سلام ہو۔

اللہ تعالیٰ نے لیلتہ القدر میں فرشتوں کو نازل ہونے کا حکم دے کر یہ ظاہر فرمایا کہ آخرت کی عزت افزائی تو الگ رہی، اگر تم دنیا میں بھی میری عبادت میں مشغول رہو گے تو یہاں بھی اس رات میں فرشتے تمہاری زیارت کے لئے آئیں گے۔ روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : فرشتے اس رات کو اس لئے نازل ہوتے ہیں کہ ہم پر سلام پڑھیں اور ہماری شفاعت کریں، سو جس کو ان کا سلام پہنچے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٣٣، داراحیائالتراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

روح کے مصداق میں اقوال مفسرین

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں، روح کے متعلق حسب ذیل اقوال امام رازی نے ذکر کئے ہیں :

(١) روح بہت بڑا فرشتہ ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ تمام آسمان اور زمینیں اس کے سامنے ایک لقمہ کی طرح ہیں۔

(٢) روح سے مراد مخصوص فرشتوں کی ایک جماعت ہے، جس کو عام فرشتے صرف لیلتہ القدر کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔

(٣) وہ اللہ کی ایک خاص مخلوق ہے جو نہ فرشتوں کی جنس سے ہے، نہ انسانوں کی جنس سے ہے، ہوسکتا ہے وہ اہل جنت کے خادم ہوں۔

(٤) اس سے مراد خاص رحمت ہے، کیونکہ رحمت کو بھی روح فرمایا ہے : قرآن مجید میں ہے :

یوسف : ٨٧) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

(٥) اس سے مراد بہت بزرگ اور مکرم فرشتہ ہے۔

(٦) ابونحیج نے کہا : اس سے مراد کراماً کاتبین ہیں، جو مئومن کے نیک کام لکھتے ہیں اور برے کاموں کے ترک کرنے کو لکھتے ہیں۔

(٧) زیادہ صحیح یہ ہے کہ روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں، ان کی خصوصیت کی وجہ سے ان کو عام فرشتوں سے الگ ذکر کیا ہے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٣٤ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

القطب الربانی الشیخ عبدالقادر الجیلانی، ” غنیتہ الطالبین “ میں فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ لیلتہ القدر میں حضرت جبرائیل کو حکم دیتا ہے کہ وہ سدرۃ المنتہی سے ستر ہزار فرشتے لے کر زمین پر جائیں، ان کے ساتھ نور کے جھنڈے ہوتے ہیں، جب وہ زمین پر اترتے ہیں تو جبرائیل (علیہ السلام) اور بقای فرشتے چار جگہوں پر اپنے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں، کعبہ پر، سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ پر بیت المقدس کی مسجد پر اور طور سینا کی مسجد پر، پھر جربائیل (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ زمین پر پھیل جائو، پھر فرشتے تمام زمین پر پھیل جاتے ہیں اور جس مکان یا خیمے یا پتھر پر یا کشتی میں غرض جہاں بھی کوئی مسلمان مرد یا عورت ہو، وہاں فرشتے پہنچ جاتے ہیں۔ ہاں ! جس گھر میں کتا یا خنزیر یا شراب ہو یا تصویروں کے مجسمے ہوں یا کوئی شخص زنا کاری سے جنبی ہو، وہاں نہیں جاتے۔ وہاں پہنچ کر فرشتے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کی لیلتہ القدر تھی۔ آسمان دنیا کے فرشتے کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حاجات آسمان دنیا کے فرشتے تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حوامت محمدیہ کی مغفرت فرمائی ہے، اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ فرشتے دوسرے آسمان پر جاتے ہیں اور وہاں اسی طرح گفتگو ہوتی ہے، علی ہذا القیاس، سدرۃ المنتہی جنت الماوی جنت نعیم، جنت عدن اور جنت الفردوس سے ہوتے ہوئے وہ فرشتے عرش الٰہی پر پہنچیں گے، وہاں عرش الٰہی آپ کی امت کی مغفرت پر شکریہ ادا کرے گا اور کہے گا : اے اللہ ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ گزشتہ رات تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے صالحین کو بخش دیا اور گنہگاروں کے حق میں نیکو کاروں کی شفاعت قبول کرلی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے عرش ! تم نے سچ کہا، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لئے میرے پاس بڑی عزت اور کرامت ہے اور ایسی نعمتیں ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی کے دل میں ان نعمتوں کا کبھی خیال آیا۔ (روح المعانی جز ٣٠ ص 349-350، دارالفکر، بیروت)

فرشتوں کو زمین پر نازل کرنے کی حکمتیں

فرشتوں کے زمین پر نزول کے بارے میں مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ زمین پر انسانوں کی عبادات کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سورت میں فرماتا ہے : ” تنزل المئکۃ والروح فیھا باذن ربہم، فرشتے اور جبریل امین اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بشمول جبرائیل تمام فرشتے اللہ تعالیٰ سے زمین پر آنے کی پہلے اجازت طلب کرتے ہیں، پھر اس کے بعد زمین پر اترتے ہیں اور یہ چیز انتہائی محبت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ پہلے وہ ہماری طرف راغب اور مائل تھے اور ہم سے ملاقات کی تمنا کرتے تھے، لیکن اجازت کے منتظر تھے اور جب اللہ تعالیٰ سے اجازت مل گئی تو قطار درق طار صف باندھے زمین پر اتر آئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے اس قدر گناہوں کے باوجود فرشتے ہم سے ملاقات کی تمنا کیوں کرتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتوں کو ہمارے گناہوں کا پتا نہیں چلتا کیونکہ جب وہ لوح محفوظ کا مطالعہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کی عبادات کو تفصیل کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جب گناہوں کا پتا نہیں چلتا کیونکہ جب وہ لوح محفوظ کا مطالعہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کی عبادات کو تفصیل کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جب گناہوں پر پہنچتے ہیں تو لوح محفوظ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور اس وقت فرشتوں کی زبان سے بےاتخیار یہ کلمات نکلتے ہیں : سبحان ہے وہ ذات جس نے نیکیوں کو ظاہر کیا اور گناہوں کو چھپالیا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 234-235 دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اگر یہ کہا جائے کہ فرشتے خود عبادات سیم الا مال ہیں، تسبیح، تقدیسا ورت ہلیل کے تونگر ہیں، قیام، رکوع اور سجود کون سی عبادت ہے جو ان کی جھولی میں نہیں ہے، پھر انسانوں کی وہ کون سی عبادت ہے جسے دیکھنے کے شوق میں وہ انسانوں سے ملاقات کی تمنا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے زمین پر اترنے کی اجازت طلب کرتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی شخص خود بھوکا رہ کر اپنا کھانا کسی اور ضرورت مند کو کھلا دے، یہ وہ نادر عبادت ہے جو فرشتوں میں نہیں ہوتی، گناہوں پر توبہ اور ندامت کے آنسو بہانا اور گڑگڑانا، اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا، اپنی طبعی نیند چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی یاد کے لئے رات کے پچھلے پہر اٹھنا اور خوف خدا سے ہچیکاں لے لے کر رونا، یہ وہ عبادت ہے جس کا فرشتوں کے ہاں کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : گناہ گاروں کی سسکیوں اور ہچکیوں کی آواز اللہ تعالیٰ کو تسبیح اور تہلیل کی آوازوں سے زیادہ پسند ہے، اس لئے فرشتے یاد خدا میں آنسو جانے والی آنکھوں کے دیکھنے اور خوف خدا سے نکلنے والی آہوں کے سننے کے لئے زمین پر اترتے ہیں۔

امام رازی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ آخرت میں فرشتے مسلمانوں کی زیارت کریں گے اور آ کر سلام عرض کریں گے ” الملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب سلام علیکم “ فرشتے (جنت کے) ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور آ کر سلام کریں گے اور لیلۃ القدر میں یہ ظاہر فرمایا کہ اگر تم میری عبادت میں مشغول ہو جائو تو آخرت تو الگ رہی دنیا میں بھی فرشتے تمہاری زیارت کو آئیں گے اور آ کر دنیا میں بھی تم کو سلام کریں گے۔ امام رازی نے دوسری وجہ یہ لکھی ہے کہ انسان کی عادت ہے کہ وہ علماء اور صالحین کے سامنے زیادہ اچھی اور زیادہ خضوع و خشوع سے عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس رات فرشتوں کو بھیجتا ہے کہ اے انسانوچ تم عبادت گزاروں کیم جلس میں زیادہ عبادت کرتے ہو، آئو ! اب ملائکہ کی مجلس میں خضوع اور خشوع سے عبادت کرو۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 235، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان کی پیدائش کے وقت فرشتوں نے اعتراض کی صورت میں کہا تھا کہ اسے پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے جو زمین میں فسق و فجور اور خون ریزی کرے گا ؟ اس رات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے ان کی امیدوں سے بڑھ کر اجر وثواب کا وعدہ کیا، اس رات کے عبادت گزاروں کو زبان رسالت سے مغفرت کی نوید سنائی، فرشتوں کی آمد اور ان کی زیارت اور سلام کرنے کی بشارت دی، تاکہ اس کے بندے یہ رات جاگ کر گزاریں، تھکاوٹ اور نیند کے باوجود اپنے آپ کو بستروں اور آرام سے دور رکھیں، تاکہ جب فرشتے آسمان سے اتریں تو ان سے کہا جاسکے : یہی وہ ابن آدم ہے، جس کی خونریزیوں کی تم نے خبر دی تھی، یہی وہ شر رخا کی ہے، جس کے فسق و فجور کا تم نے ذکر کیا تھا، اس کی طبیعت اور خلقت میں ہم نے رات کی نیند رکھی ہے، لیکن یہ اپنے طبعی اور خلقی تقاضوں کو چھوڑ کر ہماری رضا جوئی کے لئے یہ رات سجدوں اور قیام میں گزار رہا ہے، تم نے فسق و فجور اور خن ریزی دیکھی تھی، ہماری خاطر راتوں کو جاگ کر سجدہ کرنے والی جبینیں نہیں دیکھی تھیں، ہماری یاد کے سبب آنکھوں میں مچلنے والے آنسو نہیں دیکھے تھے، دیکھوچ اللہ تعالیٰ بڑے مان سے تمہاری عبادت دکھانے کے لئے آسمان سے فرشتے اتارتا ہے، کہیں تم یہ رات گناہوں میں گزار کر اس کا مان نہتوڑ دینا۔

فرشتوں کا سلام

مفسرین لکھتے ہیں کہ شب قدر میں عبادت کرنے والے انسان کو جس وقت روح الامین آ کر سلام کرتا ہے اور اس سے مصافحہ کرتا ہے تو اس پر خوف خدا کی ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے، یاد خدا سے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور خشیت الٰہی سے بدن کا رونگٹا رونگٹھا کھڑا ہوجاتا ہے، امام رازی فرماتے ہیں : فرشتوں کا سلام کرنا، سلامتی کا ضامن ہے۔ سات فرشتوں نے آ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا تھا تو ان پر نمرود کی جلائی ہوئی آگ سلامتی کا باغ بن گئی تھی۔ شب قدر کے عابدوں پر جب اس رات لاتعداد فرشتے آ کر سلام کرتے ہیں تو کیونکہ نہ یہ امید کی جائے کہ جہنم کی آگ ان پر سلامتی کا باغ بن جائے گی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 97 القدر آیت نمبر 4