لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ ۙ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍؕ – سورۃ نمبر 97 القدر آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Friday، 26 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ ۙ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍؕ ۞
ترجمہ:
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے
القدر : ٣-٢ میں فرمایا اور آپ کیا سمجھے کہ شب قدر کیا ہے ؟۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
لیلتہ القدر کے فضائل
امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے معتمد اہل علم سے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں تو آپ نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور یہ کہ وہ اتنے عمل نہیں کرسکیں گے جتنے لمبی عمر والے لوگ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیلتہ القدر عطا کی، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (موطاء امام مالک رقم الحدیث :721 باب الیلتہ القدر)
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا، جو اللہ کی راہ میں ایک ہزار سال ہتھیار پہنے رہا، مسلمانوں کو اس پر بہت تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :” انا انزلنہ فی لیلۃ القدر۔ وما ادرک مالیلتہ القدر۔ لیلۃ القدر خیر من الف شھر۔ “ (القدر : ٣-١) (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :19424، تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص 593)
علی بن عرروہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل کے چار شخصوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کی کہ پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی، اور ان کے نام بتائے، حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن العجوز اور حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو تعجب ہوا، تب آپ کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی امت کو اس پر تعجب ہے کہ ان لوگوں نے اسی سال عبادت کی اور پلک جھپکنے کی مقدار بھی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز نازل کی ہے، پھر آپ کے سامنے سورة القدر : ٣-١ آیات تلاوت کیں اور کہا : یہ اس سے افضل ہے جس پر آپ کو اور آپ کیا مت کو تعجب ہوا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب خوش ہوگئے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :19426 تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص 593)
امام ویلمی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کو لیلتہ القدر عطا کی ہے اور اس سے پہلی امتوں کو عطا نہیں کی۔ (الدرالمنثور ج ٨ ص ٥٢٢ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے روزے رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے لیلتہ القدر میں قیام کیا تو اللہ سبحانہ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 2014، سنن نسائی رقم الحدیث :2206 مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٣)
رمضان کی ستائیسویں شب کے لیلتہ القدر ہونے پر دلائل
زربن جیش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے کہا : اے ابوالمنذر ! ہمیں لیلتہ القدر کے متعلق بتایئے کیونکہ حضرت ابن معسود یہ کہتے ہیں کہ جو شخص پورا سال قیام کرے گا، وہ لیلتہ ال قدر کو پالے گا، حضرت ابی بن کعب نے کہا : اللہ ابوعبدالرحمان پر رحم فرمائے، ان کو خوب معلوم ہے کہ لیلتہ القدر رمضان میں ہے، لیکن انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ تم کو اس کی تعیین بتالئیں اور تم اس پر تکیہ کرلو، اور اس ذات کی قسم جس نے قرآن کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے، لیلتہ القدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے، ہم نے پوچھا : اے ابوالمنذر ! آپ کو اس کا کیسے علم ہوا ؟ انہوں نے کہا : اس علامت سے جس کی ہم کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی ہے، ہم نے اس کو یاد رکھا اور اس کا شمار کیا، ہم نے پوچھا : وہ کیا علامت ہے ؟ انہوں نے کہا : اس کی صبح کو سورج بغیر شعائوں کے طلوع ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٠ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢١٠١ صحیح ابن حبان رقم الحدیث :3689 سنن ابو دائود رقم الحدیث :1378 سنن ترمذیر قم الحدیب :793 سنن بیہقی ج ٤ ص 312)
حضرت ابی بن کعب، امام حمد بن حنبل اور جمہور علماء کا یہ نظریہ ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے اور امام ابوحنیفہ اور بعض شافعیہ سے بھی یہی روایت ہے۔ حضرت ابی بن کعب (رض) انشاء اللہ کہے بغیر قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ یہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔ حضرت عبدا للہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عدد طاق ہے اور طاق اعداد میں سات کا عدد زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سات زمینیں اور سات آسمان بنائے، سات اعضاء پر سجدہ مشروع کیا، طواف کے ساتھ پھیرے مقرر کئے اور ہفتہ کے ساتھ دن بنائے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ سات کا عدد زیادہ پسندیدہ ہے تو پھر یہ رات رمضان کے آخری عشرے کی ساتویں رات ہونی چاہیے۔ حافظ ابن حجر اور امام رازی نے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ استدلال بھی نقل کیا ہے کہ لیلتہ القدر کے حرف نو ہیں اور یہ لفظ قرآن مجید میں تین بار ذکر کیا گیا ہے، جن کا حاصل ضرب ستائیس ہے، اس لئے یہ رات ستائیسویں ہونی چاہیے۔ امام رازی نے یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ قرآن مجید کی اس سورة مبارکہ میں ” ھی حی مطلع الفجر “ (القدر : ٥) میں ” ھی ‘ ضمیر لیلتہ القدر کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہ اس سورت کا ستائیسواں کلمہ ہے، اس اشارے سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔
لیلتہ القدر میں عبادت کا طریقہ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ “ جس شخص نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اجر وثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ اس حدیث کی روشنی میں لیلتہ القدر کی اصل عبادت قیام نماز ہے، اس لئے اس رات زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھنے اور توبہ و استغفار میں کوشش کرنی چاہیے، بندہ خضوع و خشوع اور سوز گداز سے نماز پڑھے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلے میں اپنی کو تاہیوں، تقصیروں اور گناہوں کو یاد کر کے روئے اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور بار بار استغفار کرے۔
بعض صالحین نے اس رات کی عبادت کے مخصوص طریقے بتائیے ہیں۔ علامہ اسماعیل حقی (رح) لکھتے ہیں : بعض صالحین لیلتہ القدر میں لیلتہ القدر کے قیام کی نیت سے دس دو گانے پڑھتے تھے۔ بعض اکابر سے یہ بھی مقنلو ہے جس شخص نے ہر رات لیلتہ القدر کی نیت سے دس آیات تلاوت کیں، وہ لیلتہ القدر کی برکات سے محروم نہیں ہوگا۔ امام ابواللیث نے بیان کیا کہ لیلتہ القدر کی کم از کم نماز دو رکعت ہے اور زیادہ سے زیادہ ہزار رکعات ہیں اور متوسط سو رکعات ہیں اور ہر رکعت میں متوسط قرأت یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے بعد سو مرتیہ ” انا انزلنہ فی لیلۃ القدر ‘ کی سورت پڑھے، اس کے بعد تین بار ” قل ھو اللہ احد “ کی سورت پڑھے پھر دو رکعات کے بعد سلام پھیر دے اور درود شریف پڑھ کر دوسرے دو گانے کے لئے اٹھے، اس طرح جتنے نفل چاہے پڑھے، علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں کہ نوافل کی جماعت بلا کراہیت جائز ہے بشرطیکہ فرئاض کی طرح اذان اور اقامت نہ کریں۔ ” شرح نقایہ “ وغیرہ میں ” محیط “ کے حالے سے یہ عبارت ہے :” لیلۃ القدر صلوۃ الرغائب “ اور شعبان کی پندرہویں شب میں نوافل میں امام کی اقتداء کرنا مطلقاً مکروہ نہیں ہے کیونکہ جو چیز مومنوں کے نزدیک حسن ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی حسن ہوتی ہے، اس لئے اس پر اعتراض کرنے والے ان لوگوں کے قول کی طرف بالکل توجہ نہ کرو، جن کو عبادت کا ذوق ہے نہ دعائوں کا شوق ہے۔ (روح البیان ج ١٠ ص ٥٨١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
عامر بیان کرتے ہیں کہ لیلتہ القدر کا دن اس کی شب کی مثل ہے اور اس کی شب اس کے دن کی مثل ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٢٥٣ رقم الحدیث : ٨٦٩٣ دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٦ ھ)
ہمارے ملک میں جس تاریخ کو شب قدر ہوتی ہے، سعودی عرب میں اس سے ایک دن یا دو دن پہلے شب قدر ہوتی ہے، میرا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ملک کے رہنے والوں کو ان کے حساب سے شب قدر کی عبادت کا اجر عطا فرمائے گا۔ ابن المسیب نے کہا : جس شخص نے لیلتہ القدر میں مغرب اور عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، اس نے لیلتہ القدر سے اپنا حصہ پا لیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٨٦٩٤ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
ثواب میں اضافہ
شب قدر میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادتوں سے زیادہ دیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں یہ سوال کیا جاتا ہے : کیا اس ایک رات میں بعادت کرنے کے بعد انسان ایک ہزار ماہ کی عبادتوں سے آزاد ہوجاتا ہے ؟ اسی طرح ایک نماز کا ثواب دس نمازوں کے برابر ہے اور کعبہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے تو کیا کعبہ میں ایک نماز پڑھنے سے ایک کم ایک لاکھ نمازیں انسان سے ساقط ہوجاتی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شب قدر کی عبادت نفلی ہے اور ہزار ماہ میں جو فرائض اور واجبات ہیں، یہ نفلی عبادت ان کے قائم مقام نہیں ہوسکتی رہا یہ کہ ایک فرض کا ثواب اس فرض کی دس مثلوں کے برابر ہوتا ہے یا کعبہ کی ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے مساوی ہوتی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس فرض کے ادا کرنے کا مکلف ہے جو دس مثلوں کے یا ایک لاکھ مثلوں کے مساوی ہے، ان مثلوں میں سے کوئی ایک مثل اس فرض کے مساوی نہیں، جو دس یا ایک لاکھ مثلوں کے برابر ہے، لہٰذا ان مثلوں سے فرض کی تکلیف ساقط نہیں ہوسکتی اس لئے ایک نماز پڑھ کر انسان دس نمازوں سے بری ہوسکتا ہے، نہ شب قدر کی عبادت سے ہزار ماہ کی عبادتوں سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔
گناہ میں اضافہ
ایک بحث یہ بھی غور طلب ہے کہ جس طرح شب قدر میں عبادت کرنے سے ثواب بڑھ جاتا ہے، کیا اس طرح شب قدر میں گناہ کرنے سے سزا بھی زیادہ ہوتی ہے، اس کی تحقیق یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو قطعی طور پر شب قدر کا علم ہوجائے اور پھر وہ اس رات میں قصداً گناہ کرے تو یقینا اس کا یہ گناہ اور راتوں کے گناہوں سے بڑا گینا ہے اور وہ زیادہسزا کا مستحق ہے، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ قرآن مجید میں ہے کہ ” من جآء بالسیئۃ فلا یجزی الا مثلھا “ (الانعام : ١٦٠) جو شخص جتنی برائی کرے گا اسے اتنی برائی ہی کی سزا ملے ی، پھر اس رات میں قصداً گناہ کرنے والا کیوں زیادہ سزا کا مستحق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شب قدر میں گناہ کرنے والے کی دو زیادتیاں ہیں، ایک گناہ کی اور ایک شب قدر کے تقدس کو پامال کرنے کی، جس طرح گھر میں گناہ کی بہ نسبت حرم کعبہ میں وہ گناہ کرنا زیادہ بڑا ہے، اسلئے جو شخص شب قدر میں گناہ کرے گا، اس کو اسی گناہ کی سزا ملے گی لیکن ظاہر ہے کہ اس رات کا جرم اور اتوں کے جرم کی بہ نسبت زیادہ ہے۔
شب قدر کو مخفی رکھنے کی حکمتیں
اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں کو اپنی حکمت سے مخفی رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کس عبادت سے راضی ہوتا ہے، اس کو مخفی رکھا تاکہ بندہ تمام عبادات میں کوشش کرے، کس گناہ سے نارضا ہوتا ہے، اس کو مخفی رکھا تاہ بندہ ہر گناہ سے باز رہے۔ ولی کی کوئی ملامت مقرر نہیں کی اور اسے لوگوں کے درمیان مخفی رکھاتا کہ لوگ ولی کے شائبہ میں ہر انسان کی تعظیم کریں۔ قبولیت توبہ کو مخفی رکھا تاکہ بندے مسلسل توبہ کرتے رہیں۔ موت اور قیامت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ بندے ہر ساعت میں گناہوں سے باز رہیں اور نیکی کی جدوجہد میں مصروف رہیں۔ اسی طرح لیلتہ القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر سجھ کر اس کی تعظیم کریں اور اس کی ہر رات میں جاگ جاگ کر عبادت کریں۔
امام رازی تحریر فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ اس رات کو معین کر کے بتادیتا تو نیک لوگ تو اس رات میں جاگ کر عبادت کر کے ہزار ماہ کی عبادتوں کا اجر حاصل کرلیتے ہیں اور عادی گنہگار اگر شامت نفس اور اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس رات بھی کوئی گناہ کرلیتا تو وہ ہزار ماہ کے گناہوں کی سزا کا مستحق ہوتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاکہ اگر کوئی عادی گنہگار اس رات بھی کوئی گناہ کر بیٹھے تو لیلتہ القدر سے لاعلمی کی بناء پر اس کے ذمہ لیلتہ القدر کی احترام شکنی اور ہزار ماہ کے گناہ لازم آئیں، کیونکہ علم کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی سے گناہ کرنے کی بہ نسبت زیادہ شدید ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے، وہاں ایک شخص کو سوئے ہوئے دیکھا۔ آپ نے حضرت علی (رض) علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں ایک شخص کو سوئے ہوئے دیکھا آپ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا اسے وضو کے لئے اٹھا دو انہوں نے اٹھا دیا۔ بعد میں علی (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ تو نیکی کرنے میں خود پہل کرتے ہیں، آپ نے اس کو خود کیوں نہیں جگا دیا ؟ آپ نے فرمایا : اگر میرے اٹھانے پر یہ انکار کردیتا تو یہ کفر ہوتا اور تمہارے اٹھانے پر انکار کرنا کفر نہیں ہے تو میں نے تم کو اٹھانے کا اس لئے حکم دیا کہ یہ انکار کر دے تو اس کا قصور کم ہو، غور کرو ! جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گنہگاروں پر رحمت کا یہ حال ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا عالم ہوگا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ آسان ہے کہ نیکو کار لیلتہ القدر کی جستجو میں رمضان کی متعدد راتیں جاگ کر کھنگال ڈالیں، یہ بھی گوارا ہے کہ اس تلاش میں ان سے لیلتہ القدر چوک جائے لیکن یہ گوارا نہیں ہے کہ لیلتہ القدر بتلا دینے سے کوئی گنہگار بندہ اپنے گناہ کی ہزار گنا زیادہ سزا پائے، اللہ ! اللہ ! وہ اپنے بندوں کا کتنا خیال رکھتا ہے، پھر گنہگار بندوں کا !
تیسری وجہ یہ ہے کہ جب لیلتہ القدر کا علم نہیں ہوگا اور بندے رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر کے گمان میں جاگ کر گزاریں گے اور رمضان کی ہر رات میں عبادت کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : اسی ابن آدم کے متعلق تم نے کہا تھا کہ یہ زمین کو خونریزی اور گناہوں سے بھر دے گا، ابھی تو اس کو لیلتہ القدر کا قطعی علم نہیں ہے، پھر بھی عبادت میں اس قدر کوشش کر رہا ہے اگر اسے لیلتہ القدر کا علم قطعی ہوتا کہ کون سی رات ہے، پھر اس کی عبادتوں کا کیا عالم ہوتا !
القرآن – سورۃ نمبر 97 القدر آیت نمبر 3