وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِؕ – سورۃ نمبر 97 القدرآیت نمبر 2
sulemansubhani نے Friday، 26 December 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِؕ ۞
ترجمہ:
اور آپ کیا سمجھے کہ شب قدر کیا ہے ؟
القدر : ٣-٢ میں فرمایا اور آپ کیا سمجھے کہ شب قدر کیا ہے ؟۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیلتہ القدر کی تعیین کا علم تھا یا نہیں ؟
امام بخاری فرماتے ہیں کہ امام ابن عینیہ نے کہا : قرآن مجید کی جس آیت میں کسی چیز کے متعلق فرمایا : ” وما ادرک “ اس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم دے دیا ہے اور جس کے متعلق فرمایا ہے :” وما یدریک “ اس کا علم آپ کو نہیں دیا۔ (صحیح البخاری ص 418، شرکتہ دارالارقم، بیروت، لبنان)
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے لیلتہ القدر کے متعقل سوال کیا، جو میرے دوست تھے، انہوں نے کہا : ہم نے رمضان کے متوسط عشرہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اعتکاف کیا، آپ بیس رمضان کی صبح کو باہر آئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور آپ نے فرمایا : مجھے لیلتہ القدر دکھائی گی تھی، پھر بھلا دی گئی، اب تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں، پس جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ لوٹ جائے، ہم لوٹ گئے اور ہم آسمان میں کوئی بادل نہیں دیکھتے تھے، پھر اچانک بادل آیا اور بارش ہوئی اور مسجد کی چھت ٹپکنے لگی اور اس کی چھت میں کھجور کی شاخیں تھیں، اور نماز کی اقامت کہی گئی، پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان دیکھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2016، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٨٢، سنن نسائی رقم الحدی :1356 السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٣٣٤٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٧٥)
حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں لیلتہ القدر کی خبر دینے کے لئے باہر آئے اس وقت دو مسلمان آپس میں لڑ پڑے، آپ نے فرمایا : میں تمہیں لیلتہ القدر کی خبر دینے کے لئے آیا تھا، پس فلاں اور فلاں آپس میں لڑ پڑے تو لیلتہ القدر کی تعیین اٹھا لی گی اور ہوسکتا ہے کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہ، پس تم اس کو انتیسویں شب، ستائیسویں شب اور پچیسویں شب میں تلاش کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2023)
شارحین نے کہا ہے کہ صرف اس سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیلتہ القدر کی تعیین کا علم اٹھا لیا گیا تھا اور دوسرے سال آپ کو پھر اس کا علم عطا کردیا گیا۔ (فتح الباری ج ٤ ص 778، عمدۃ القاری ج ١١ ص 197 فیضا لباری ج ٣ ص 183)
میں کہتا ہوں کہ اس سال شب قدر کی تعیین کے علم کو اٹھانے کی حکمت یہ تھی کہ آپ کے لئے لیلتہ القدر کی تعیین کو مخفی رکھنے کا عذر ہوجائے کیونکہ اگر آپ کو علم ہوتا اور آپ نہ بتاتے تو یہ آپ کی رحمت کے خلاف تھا اور اگر بتا دیتے تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ لیلتہ القدر کی تعیین کو مخفی رکھا جائے تاکہ اللہ کے بندے لیلتہ القدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرہ کی ہر طاق رات جاگ کر عبادت میں گزاریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کا عبادت میں جاگنا پسند ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی چیزوں کو مخفی رکھا ہے، مثلاً اللہ کے ولی کو مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ ہر شخص کے متعلق یہ گمان کر کے کہ ممکن ہے یہی اللہ کا ولی ہو، اس کی تعظیم اور تکریم کریں، جمعہ کی جس ساعت میں دعا قبول ہوتی ہے، اس کو مخفی رکھا تاکہ مسلمان جمعہ کی ہر ساعت میں دعا کرتے رہیں کہ ممکن ہے یہی قبولیت کی ساعت ہو، موت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ انسان ہر وقت نیک کاموں میں مشغول رہے اور برے کاموں سے مجتنب رہے تاکہ اس کو موت آئے تو نیک کام کرتے ہوئے آئے نہ کہ خدا نخواستہ برے کام کرتے ہوئے اس کو موت آئے، اسی طرح قیامت کے وقت کو بھی مخفی رکھا، تاکہ ہر لمحہ لوگ ڈرتے رہیں کہ کہیں اسی وقت قیامت نہ آجائے اور لیلتہ القدر کو بھی مخفی رکھا تاکہ کوئی عادی مجرم اس رات کو بھی گناہوں میں گزار دے تو اس کے نامہ اعمال میں یہ نہ لکھا جائے کہ اس نے اس عظیم رات کی دانستہ بےتوقیری کی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 97 القدرآیت نمبر 2