أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ‏ ۞

ترجمہ:

تم کو زیادہ مال جمع کرنے کی حرص نے غافل کردیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم کو زیادہ مال جمع کرنے کی حرص نے غافل کردیا۔ حتیٰ کہ تم (مر کر) قبروں میں پہنچ گئے۔ یقینا تم عنقریب جان لو گے۔ پھر یقیناً تم عنقریب جان لو گے۔ (التکاثر : ٤-١)

مال میں کثرت کی طلب اس وقت ممنوع ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غفلت کی موجب ہو

مال اور اولاد کی کثرت پر فخر نے تم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے غافل کردیا حتیٰ کہ تم مر کر قبروں میں دفن ہوگئے، ” الھا “ کا مصدر ” الھائ “ ہے، اس کا معنی ہے، زیادہ ضروری چیز سے غافل ہونا، حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : تم مال اور اولاد کی کثرت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہوگئے، قتادہ نے کہا : تم قبیلوں کی کثرت کی وجہ سے اللہ سے غافل ہوگئے، ضحاک نے کہا، تم کو معاش اور تجارت نے غافل کردیا۔ ” الھا “ کا معنی ہے : مشغول کردیا، مقاتل نے کہا : یہ آیت یہود کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ کہتے تھے : ہم بنوں فلاں سے اکثر ہیں، (یہ قول مخدوش ہے کیونکہ یہود مدینہ میں تھے اور یہ سورت مکی ہے) ابن زید نے کہا : یہ آیت انصار کے ایک گروہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، صیہ قول بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے اور انصار مدینہ میں تھے) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت قریش کے دو قبیلوں کے متعلق نازل ہوئی ہے : بنو عبدمناف اور بنو سہم، وہ ایک دوسرے سے عداوت رکھتے تھے، وہ اپنی سیادت اور اپنے شرف سے ایک دور سے پر فخر کرتے تھے اور کہتے تھے : ہماری اکثریت ہے اور ہمارے سردار زیادہ ہیں، قتادہ نے کہ؁، وہ کہتے تھے : ہم بنو فلاں سے اکثر ہیں اور ہر دن ان میں سے ایک نہ ایک مر کر کم ہو رہا تھا حتیٰ کہ وہ سب فوت ہوگئے۔ (الجامع لاکام القرآن جز 20 ص 151، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

میں کہتا ہوں کہ یہ آیت کسی خاص گروہ کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کو شامل ہے، جو مال و دولت کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اس فکر میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے غافل ہوجاتے ہیں۔

مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ” الھکم التکاثر۔ “ کی تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : ابن آدم کہتا ہے : میرا مال میرا مال، اے ابن آدم ! تیرا مال تو صرف وہی ہے جس کو تو نے کھالیا اور جس کو فنا کردیا، یا تو نے جس کو پہن لیا پھر اس کو بوسیدہ کردیا، یا تو نے اس کا صدقہ کر کے اس کو ختم کردیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2958 (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٢، ترمذی کی روایت میں یہ اضافہ ہے، اس کے سوا جو بھی مال ہے تم اس کو لوگوں کے لئے چھوڑ کر (دنیا سے) جانے والے ہو)

حضرت انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کا منہ مٹی کے سوا ہرگز نہیں بھرے گا اور جو توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6439، صحیح مسلم رقم الحدیث :1048 (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٣٧ سنن ترمذی میں یہ الفاظ ہیں : اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کو طلب کرے گا)

اطاعت، عبادت اور حسن اخلاق میں کثرت کو طلب کرنا محمود اور مستحسن ہے

اس آیت میں کثرت طلب کرنے کی مذمت فرمائی ہے، لیکن مطلقاً کثرت کو طلب کرنا مذموم نہیں ہے، بلکہ اطاعات عبادات اور محاسن اخلاق میں کثرت کو طلب کرنا مطلوب ہے، اور مال میں کثرت اگر فسق و فجور کے لئے ہو تو مذموم ہے اور اگر اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے لئے مطلوب ہو تو یہ مستحسن ہے، حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا مستحسن ہے، ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ اس حق کے راستے میں خرچ کرے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور وہ اس علم کے مطاق فیصلہ کرے اور لوگوں کو تعلیم دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٣ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨١٦ مسند احمد ج ١ ص 385)

اسی طرح اولاد میں کثرت اگر صرف اپنی نسل بڑھانے کے لئے ہو تو یہ مستحسن نہیں ہے اور اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں اضافہ کے لئے مطلوب ہو تو یہ مستحسن ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عشخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے ایک ایسی عورت ملی ہے، جس کا خاندان بھی اچھا ہے اور وہ بہت خوبصورت بھی ہے اور اس کی اولاد نہیں ہوتی، کیا میں اس سے نکاح کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! ، وہ پھر دوسری بار آیا، آپ نے پھر منع فرمایا، وہ پھر تیسری بار آیا تو آپ نے فرمایا : اس عورت سے شادی کرو، جو محبت کرنے والی ہو اور زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٠٥٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٢٢٧ )

اس سے معلوم ہوا کہ مطلقاً تکاثر مذموم نہیں ہے بلکہ جو تکاثر مذموم ہے، وہ یہ ہے کہ فسق و فجور کے لئے مال و دولت میں کثرت کو طلب کیا جائے اور علم میں زیادتی اور اطاعت اور عبادت میں کر ثت اور اخلاق حمیدہ میں اضافہ محمود اور مستحسن ہے، لہٰذا ” التکاثر “ میں الف لام استغراق کے لئے نہیں ہے، بلکہ دنیا اور اس کی لذتوں میں ایسی زیادتی کو طلب کرنا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے مانع ہو اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کر دے، ایسا تکاثر ممنوع اور مذموم ہے اور ” التکاثر “ میں الف لام عہد کا ہے اور متھود اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والا تکاثر ہے۔ امام رازی نے فرمایا ہے : سعادات میں ’ دتفاخر “ غیر مذموم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ اپنے رب کی نعمت بیان کیجیے (الضحیٰ : ١١) (تفسیر کبیرج ١١ ص 270) لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی اپنے فضائل بیان فرمائے اس کے ساتھ فرمایا : مجھے اس پر فخر نہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 102 التكاثر آیت نمبر 1