حضرت معاویہؓ کی حضور اکرمﷺ سے سسرالی نسبت  :

امام خلال روایت کرتے ہیں
وأخبرني عبد الملك بن عبد الحميد الم‍يموني، قال: قلت لأحمد بن حنبل: أليس قال النبي صلى الله عليه وسلم: «كل صهر ونسب ينقطع إلا صهري ونسبي» ؟ قال: ” بلى، قلت: وهذه لمعاوية؟ قال: نعم، له صهر ونسب. قال: وسمعت ابن حنبل يقول: «ما لهم ولمعاوية، نسأل الله العافية»

•امام ميموني کہتے ہیں: میں نےامام  احمد بن حنبل سے کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا: (الحدیث) “ہر سسرالی اور نسبتی رشتہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے میرے سسرالی اور نسبتی رشتہ کے”؟
تو امام احمد بن حنبل نے کہا: “بے شک”۔ میں نے کہا: کیا یہ حضرت معاویہؓ کے بارے میں ہے؟
تو امام  احمد بن حنبل نے فرمایا: ہاں، ان کے پاس سسرالی اور نسبتی رشتہ ہے۔ (یعنی حضرت معاویہؓ اس فضیلت کو حاصل کرنے والے ہیں)
امام  ميموني نے کہا: اور میں نےامام احمد  بن حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا: ‘ان (اہل بدعت)لوگوں کا حضرت معاویہؓ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، ہم اللہ سے عافیت طلب کرتے ہیں۔
[السنة ابو بکر الخلال، برقم: 654، وسندہ صحیح]

نوٹ:
ان میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہوتے ہیں کیونکہ انکی ہمشیرہ ام المومنین تھیں یعنی نبی اکرمﷺ کی گھر والی تھیں۔
اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے سسر اور حضرت ہندہ نبی اکرمﷺ ساس تھیں۔

حضور کے اس فرمان کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ کا رشتہ مانگا تھا تاکہ انکا رشتہ بھی اہل بیت سے جڑ جائیں اور وہ نبی کریم کی اس نسبت کے حق دار بھی بن جائیں۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔

یہ فرمان امام باقر سے امام جعفر صادق نے بیان کر رکھا ہے۔

امام الآجری ایک روایت بیان کرتے ہیں اپنی سند صحیح مرسل سے :
أنبأنا ابن أبي داود قال: حدثنا إسحاق بن منصور الكوسج قال: حدثنا عبيد الله بن موسى , عن إسرائيل , عن عثمان بن المغيرة , عن محمد بن علي قال: خرج عمر رضي الله عنه إلى الناس فقال: رفئوني بابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم , قال: فكأنهم قالوا له , فقال: لقد كانت لي صحبتي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم , ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي»

امام محمد باقر فرماتے ہیں :
حضرت عمرؓ بن خطاب لوگوں کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرمﷺ کی صاحبزادی (یعنی نواسی اور حضرت مولا علی کی بیٹی ) سے شادی کے حوالے سے مجھے مبارکباد دیں ۔ لوگوں نے انہیں اس حوالے سے کچھ کہا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا :
میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ رہاہوں  میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے  قیامت کے دن ہر رشتہ و  نسب منطقع ہو جائے گا البتہ میرے رشتہ  اور میرے نسب  کا معاملہ مختلف ہوگا
[الشریعہ للآجری]

اس روایت کے سارے رجال ثقہ ہیں امام محمد باقر تک ۔ لیکن انہوں نے حضرت عمر کا دور نہیں پایا لیکن امام محمد باقر سے ثابت ہو گیا کہ وہ نسب اور نبی اکرم کے باقی رشتہ داوروں کے بھی فضیلیت کے قائل تھے

اس روایت  کو متصل اور صحیح سند سے امام طبرانی نے بیان کیا ہے جو  درج ذیل ہے :
حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا الحسن بن سهل الحناط، ثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر، قال: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول: ” سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ينقطع يوم القيامة كل سبب ونسب إلا سببي ونسبي»
[المعجم الكبير برقم: 2635]

اور امام ہیثمی اس روایت کے باے حکم لگاتے ہوئے کہتے ہیں :
رواه الطبراني في الأوسط والكبير باختصار، ورجالهما رجال الصحيح، غير الحسن بن سهل وهو ثقة.
[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، برقم: 15019]

اس سے معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ کے اہل بیت کی طرح  نبی اکرمﷺ کے رشتہ دار جو بنے انکو بھی فضیلت حاصل ہوگی خلیفہ دوم کے اس اجتہاد سے پتہ چلا حضور اکرمﷺ کے اہل بیت کے ساتھ وہ رشتہ دار جو نبی اکرمﷺ سے منسلک ہونگے یا نبی اکرمﷺ کے اہل بیت کے ساتھ منسلک ہونگے وہ بھی اس حدیث کے مصداق ہونگے۔

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی