حضرت معاویہ رضی اللہ اور اہلبیت سے انکے مراسم!

اس تحریر میں ہم بتائیں گے کہ اصل اہل بیت کا حضرت معاویہ و دیگر صحابہ کے بارے رویہ کیسا تھا؟
اور اہلبیت کے نام پر اپنا پیٹ پالنے والے کالوں یعنی کھٹملوں سے اہلبیت نے کس طرح لا تعلقی ظاہر کی۔

یہ بات متفقہ ہے کہ کوفییوں نے حضرت علی سے ‘غداری کی، پھر امام حسن سے اور پھر امام حسین سے جسکی سزا قیامت تک انکے لیے یہی ہے کہ یہ اپنی چھاتیاں پیٹتے رہینگے اور خود کو کو ڑے لگاتے رہینگے۔

سب سے ہہلے اہلبیت کی زبانی یہ بات ثابت یے کہ حسنین کریمین حضرت معاویہ رضی اللہ سے تحائف قبول فرماتے تھے۔  اور اہلبیت اس بات کو بطور مداح بیان کرتے تھے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت!

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں:
حدثنا زيد بن الحباب، عن حسين بن واقد قال: حدثني عبد الله بن بريدة، أن حسن بن علي دخل على معاوية فقال: «لأجيزنك بجائزة لم أجز بها أحدا قبلك ولا أجيز بها أحدا بعدك من العرب»، فأجازه بأربعمائة ألف، فقبلها
امام عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں:
کہ امام سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے!
تو حضرت معاویہ رضی اللہ نے ان سے فرمایا! آج میں آپؓ کو ایسا تحفہ عطا کرونگا جو آپ سے پہلے نہ کسی کو دیا ہے اور نہ ہی آپ کے بعد عرب میں کسی کو دونگا۔
پھر آپؓ نے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو چار لاکھ درہم بطور تحفہ پیش کیے اور آپؓ نے انکو قبول فرمایا
[مصنف ابن ابی شیبہ ، وسندہ حسن]

اور امام جعفر صادق علیہ رحمہ امام باقر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ بات خاص طور پر بیان کرتے تھے

جیسا کہ امام آجری روایت کرتے ہیں:
وأنبأنا ابن ناجية قال: حدثني محمد بن مسكين قال: حدثنا يحيى بن حسان قال: حدثنا سليمان بن بلال , عن جعفر بن محمد , عن أبيه , أن الحسن , والحسين , رضي الله عنهما , كانا يقبلان جوائز معاوية رحمه الله۔
امام جعفر صادق بیان کرتے ہیں امام باقر سے کہ امام حسن ؓ اور امام حسینؓ یہ  حضرت امیر معاویہؓ سے تحائف قبول کرتے تھے
[الشريعة، برقم: 1963وسندہ صحیح]

نیز حضرت معاویہ امام حضرت حسین کا استقبال کچھ یوں تھے جس سے انکی باہمی محبت کی دلیل ملتی ہے:
ﻭﺃﻧﺒﺄﻧﺎ اﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺧﺰﻡ اﻟﻄﺎﺋﻲ ﺃﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ اﻟﺴﺪﻭﺳﻲ ﻋﺎﺭﻡ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻣﻬﺪﻱ ﺑﻦ ﻣﻴﻤﻮﻥ , ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻳﻌﻘﻮﺏ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺇﺫا ﻟﻘﻲ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ , ﻗﺎﻝ: ﻣﺮﺣﺒﺎ ﺑﺎﺑﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ
امام محمد بن عبد اللہ بن ابی یعقوب فرماتے ہیں:
جب حضرت معاویہ رحمہ اللہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے ملاقات کرتے تو فرماتے: رسول اللہ ﷺ کے فرزند کو خوش آمدید!
[الشریعہ وسندہ صحیح الی محمد بن عبداللہ]
نوٹ:
امام محمد بن عبداللہ یہ امام حسن کے غلام ابن سعد کے تلامذہ میں سے ہیں یعنی حسنین کریمین کے قریبی لوگوں میں سے ہیں۔

جب ہم یہ روایات ہیش کریں تو منہاجی و تفضیلی یہ بہانہ مارتے ہیں کہ جی
“فقہ میں ظالم و فاسق لوگوں سے انعمات قبول کرنے کی گنجائش ہیں فلاں ڈھینگ”

تو انکا یہ گھٹیا بہانہ بھی ختم کر دیتے ہیں کیونکہ فاسق و ظالم سے انعام لینے کی گنجائش تو ہے لیکن فاسقوں سے احادیث رسول ﷺ لینے کی اجازت نہیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ سے آل مولا علی رضی اللہ کا روایت کرنا!

امام احمد ایک روایت نقل کرتے ہیں :
حدثني عمرو بن محمد الناقد، قال: حدثنا أبو أحمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن ابن عباس، عن معاوية، قال: ” قصرت عن رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم عند المروة
امام جعفر صادق رضی اللہ بیان کرتے ہیں  اپنے والد امام محمد باقر رضی اللہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ سے اور وہ حضرت معاویہ رضی اللہ سے :
“میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تراشے”
[مسند احمد ، برقم: 16885]

جبکہ امام احمد کی سند میں اس روایت میں ایک راوی حذف ہو گیا ہے ۔
اور وہ راوی امام علی بن حسین المعروف امام زین العابدین ہیں

جیسا کہ امام دارقطنی علیہ الرحمہ سے اس روایت کے تعلق سے فرماتے ہیں  :
فرواه ابن جريج، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن ابن عباس، عن معاوية.
وتابعه الثوري من رواية أبي أحمد الزبيري عنه، قال ذلك محمد بن علي بن محرز الكوفي، عن أبي أحمد.
وحديث ابن جريج أشبه بالصواب

ابن جریج نے امام جعفر بن محمد سے اور جعفر بن محمد نے اپنے والد(امام باقر) سے، اور پھر وہ علی بن حسین (امام زین العابدین) سے اور وہ حضرت ابن عباس، اور پھر حضرت معاویہ سے روایت کی۔
اسی طرح الثوری نے ابو احمد الزبیر سے روایت کی، اور محمد بن علی بن محرز نے بھی ابو احمد سے یہی روایت کی۔
ابن جریج کی روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
[العلل للدارقطنی، برقم:1203]

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ
حضرت معاویہ سے حضرت ابن عباس جو کہ اہل بیت ہیں
ان سے امام زین العابدین جو کہ اہل بیت ہیں
ان سے امام باقر جو کہ اہل بیت  ہیں
ان سے امام جعفر صادق جو کہ اہلبیت ہیں نے یہ روایت حضرت معاویہ کے طریق سے بیان کی ہے ۔ جس سے معلوم ہوا کہ انکے مابین بہت اچھا تعلق تھا۔
اور اہلبیت نہ ہی صرف حضرت معاویہ کے صحابی رسول ﷺ ہونے کے سبب مومن سمجھتے بلکہ امین بھی سمجھتے تھے تبھی تو ان سے روایت بیان کی۔

ایسے ہی ایک اور روایت
امام احمد روایت کرتے ہیں:
حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، قال: أخبرنا عبد الله بن محمد بن عقيل، عن محمد بن علي ابن الحنفية، عن معاوية بن أبي سفيان، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” العمرى جائزة لأهلها
امام عبداللہ بن محمدبن عقیل بن ابو طالب  روایت کرتے ہیں حضرت محمد بن علی بن حنفیہ  رضی اللہ سے اور وہ حضرت معاویہ رضی اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا:
عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے
(یعنی جسکو کہا جائے یہ فلاں چیز تم کو ساری زندگی یا تا حیات عطاء کی تو وہ اسکے وارثوں کی ہو جاتی ہے اسکے بعد)
[مسند احمد بن حنبل ، برقم: 16883 وسندہ حسن]

نوٹ: 
امام عبداللہ بن محمد بن عقیل  یہ حضرت عقیل بن ابو طالب کے پوتے ہیں اور انکی والدہ حضرت مولا علی کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ ہیں۔
اور مرکزی راوی حضرت امام  محمد بن علی بن حنفیہ ہیں جو مولا علی رضی اللہ کے بیٹے ہیں۔
یہ سند بھی آل مولا علی رضی اللہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ کے مابین اچھے مراسم کی دلیل بھی ہے۔

ان اسناد سے ثابت ہوتا ہے کہ تحائف لینے کا سلسلہ اچھے مراسم پر مبنی تھا کیونکہ احادیث رسول ﷺ  آل مولا علی نے حضرت معاویہ سے ہی قبول کی ہے۔

اور جو کالے کھٹملوں نے  جو باتیں گھڑھ کر   12 معصوم اماموں
والا مذہب بنایا ہوا ہے اسکا تعلق نہ ہی دین اسلام سے ہے نہ ہی تعلیمات اہلبیت سے ہے۔

امام عمر بن علی بن حسین بن علی رض اور امام زین العابدین کے بیٹے کی گواہی کا فرمان!
یہ (روافض) ہمارے نام سے پیٹ پالنے والے ہیں!
:
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺷﺒﺎﺑﺔ ﺑﻦ ﺳﻮاﺭ ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻓﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺮﺯﻭﻕ ﻗﺎﻝﺳﺄﻟﺖ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻭﺣﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻋﻤﻲ ﺟﻌﻔﺮ. ﻗﻠﺖ: ﻫﻞ ﻓﻴﻜﻢ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻴﺖ ﺇﻧﺴﺎﻥ ﻣﻔﺘﺮﺿﺔ ﻃﺎﻋﺘﻪ ﺗﻌﺮﻓﻮﻥ ﻟﻪ ﺫﻟﻚ , ﻭﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﻌﺮﻑ ﻟﻪ ﺫﻟﻚ ﻓﻤﺎﺕ , ﻣﺎﺕ ﻣﻴﺘﺔ ﺟﺎﻫﻠﻴﺔ , ﻓﻘﺎﻻ: ﻻ ﻭاﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﻫﺬا ﻓﻴﻨﺎ. §ﻣﻦ ﻗﺎﻝ ﻫﺬا ﻓﻴﻨﺎ ﻓﻬﻮ ﻛﺬاﺏ. ﻗﺎﻝ: ﻓﻘﻠﺖ ﻟﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺭﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ. ﺇﻥ ﻫﺬﻩ ﻣﻨﺰﻟﺔ ﺗﺰﻋﻤﻮﻥ ﺃﻧﻬﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻋﻠﻲ ﺇﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻲﻫ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻭﺻﻰ ﺇﻟﻴﻪ ﺛﻢ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻠﺤﺴﻦ. ﺇﻥ ﻋﻠﻲا ﺃﻭﺻﻰ ﺇﻟﻴﻪ , ﺛﻢ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻞﺣﺴﻴﻦ. ﺇﻥ اﻟﺤﺴﻦ ﺃﻭﺻﻰ ﺇﻟﻴﻪ ﺛﻢ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻌﻠﻲ ﺑﻦ اﻝﺣﺴﻴﻦ. ﺇﻥ اﻝﺣﺴﻴﻦ ﺃﻭﺻﻰ ﺇﻟﻴﻪ , ﺛﻢ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻤﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ. ﺇﻥ ﻋﻠﻴﺎ ﺃﻭﺻﻰ ﺇﻟﻴﻪ , ﻓﻘﺎﻝ: ﻭاﻟﻠﻪ ﻟﻤﺎﺕ ﺃﺑﻲ ﻓﻤﺎ ﺃﻭﺻﻰ ﺑﺤﺮﻓﻴﻦ ﻗﺎﺗﻠﻬﻢ اﻟﻠﻪ , ﻭاﻟﻠﻪ ﺇﻥ ﻫﺆﻻء ﺇﻻ ﻣﺘﺄﻛﻠﻮﻥ ﺑﻦا. ﻫﺬا ﺧﻨﻴﺲ اﻟﺨﺮﺅ. ﻣﺎ ﺧﻨﻴﺲ اﻟﺨﺮﺅ؟ ﻗﺎﻝ: ﻗﻠﺖ: اﻟﻤﻌﻠﻰ ﺑﻦ ﺧﻨﻴﺲ. ﻗﺎﻝ: ﻧﻌﻢ , اﻟﻤﻌﻠﻰ ﺑﻦ ﺧﻨﻴﺲ , ﻭاﻟﻠﻪ ﻟﻔﻜﺮﺕ ﻋﻠﻰ ﻓﺮاﺷﻲ ﻃﻮﻳﻼ ﺃﺗﻌﺠﺐ ﻣﻦ ﻗﻮﻡ ﻟﺒﺲ اﻟﻠﻪ ﻋﻘﻮﻟﻬﻢ ﺣﻴﻦ ﺃﺿﻠﻬﻢ اﻟﻤﻌﻠﻰ ﺑﻦ ﺧﻨﻴﺲ

فضیل بن مرزوق وہ کہتے ہیں:
میں نے عمر بن علی اور حسین بن علی سے، یعنی امام  جعفر کے چچا (امام زین العابدین کے بیٹے) سے پوچھا۔ میں نے کہا:
کیا آپ اہلِ بیت میں کوئی ایسا شخص ہے جس کی اطاعت فرض ہو اور آپ اس کی فرضیتِ اطاعت کو جانتے ہوں، اور جو اسے نہ مانے اور مر جائے تو جاہلیت کی موت مرے؟
تو دونوں نے کہا:
نہیں، اللہ کی قسم! ہم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جو یہ کہے کہ یہ بات ہم میں ہے، وہ جھوٹا ہے۔

فضیل کہتے ہیں:
پھر میں نے عمر بن علی سے کہا:
اللہ آپ پر رحم کرے، یہ تو وہی منصب ہے جس کے بارے میں آپ لوگ گمان کرتے ہو کہ وہ علی کے لیے تھا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں وصیت کی تھی۔ پھر وہ حسن کے لیے ہو گیا کیونکہ علی نے ان کے لیے وصیت کی تھی۔ پھر وہ حسین کے لیے ہو گیا کیونکہ حسن نے ان کے لیے وصیت کی تھی۔ پھر وہ علی بن الحسین کے لیے ہو گیا کیونکہ حسین نے ان کے لیے وصیت کی تھی۔ پھر وہ محمد بن علی کے لیے ہو گیا کیونکہ علی بن الحسین نے ان کے لیے وصیت کی تھی۔

تو عمر بن علی نے کہا:
اللہ کی قسم! جب میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے دو حرف کی بھی وصیت نہیں کی۔ اللہ انہیں ہلاک کرے! اللہ کی قسم! یہ لوگ تو
” صرف ہمارے ذریعے پیٹ بھرنے والے ہیں۔”
یہ خنیسِ نےگند کیا ہے، یہ خنیسِ نے گند کیا ہے؟

راوی کہتا ہے: میں نے کہا:
مراد معلیٰ بن خنیس ہے۔

انہوں نے کہا:
ہاں، معلیٰ بن خنیس۔
اللہ کی قسم! میں اپنے بستر پر بہت دیر تک سوچتا رہا اور مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی رہی جن کی عقلیں اللہ نے چھین لیں، جب معلیٰ بن خنیس نے انہیں گمراہ کر دیا۔
[طبقات ابن سعد وسندہ حسن]

امام عمر بن علی نے یہ جو یہ فرمایا کہ یہ لوگ ہمارے نام پر بیٹ بھرنے والے ہیں پھر معلی بن خنیس کا نام لیا۔

اب شیعہ مکتب فکر میں یہ کذاب راوی وکیل امام جعفر صادق ہے۔
جیسا کہ تشیع میں اسکے حوالے سے یوں لکھا ہے:
معلی بن خنیس کوفی (متوفی 131 ھ)، امام جعفر صادق علیہ السلام کے راوی اور مالی وکلا میں سے تھے۔ شیعہ فقہا اور علمائے رجال میں سے شیخ طوسی، احمد بن محمد برقی اور علامہ حلی انہیں ثقہ مانتے ہیں۔ لیکن ابن غضائری اور نجاشی نے ان کی روایات کی تضعیف کی ہے۔ آیت اللہ خوئی کے مطابق، معلی نے 80 روایت نقل کی ہے۔ ان کی زیادہ تر روایات امام صادق (ع) سے بلا واسطہ نقل ہوئی ہیں اور اصحاب اجماع میں شمار عبد اللہ بن مسکان جیسے راوی نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ وہ نوروز کے سلسلہ میں ذکر ہونے والی احادیث کے راوی ہیں۔ انہیں 131 ھ میں مدینہ میں عباسیوں کے حکم سے قتل کیا گیا
[ویکی شیعہ]

جبکہ اہلسنت کے نزدیک یہ راوی بڑے روافض میں سے تھا 

یہ ہے حال روافض کا۔ یعنی بے نسب بڑے بڑے جھوٹے جو اہلبیت کے نام پر بیٹ پالنے والے پیدا ہوئے انہوں نے 12 اماموں والی کہانیاں چلائی اور کھٹمل  ان راویوں پر دین لے آئے۔
اور یہ فسانے دین کا حصہ بنا لیے۔ اسی لیے آج تک انکا امام حاضر غائب ہے
 

امام حسن مثنی کے صاحب زادے کا فرمان!   روافض*  نے ہمارے خلاف ایسے خروج کیا جس طرح حروریوں (خارجیوں) نے مولا علیؓ سے خروج کیا ”


امام الآجری اپنی مشہور تصنیف الشریعہ میں اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں :

حدثنا ابن عبد الحميد الواسطي قال: حدثنا فضل بن سهل الأعرج قال: حدثنا أبو أحمد الزبيري قال: حدثنا فضيل بن مرزوق قال: سمعت حسن بن حسن , رضي الله عنهما يقول لرجل من الرافضة: والله لئن  أمكن الله منكم لتقطعن أيديكم وأرجلكم ولا يقبل منكم توبة،
وقال: وسمعته يقول: مرقت علينا الرافضة كما مرقت الحرورية على علي رضي الله عنه

امام فضیل بن مرزوق بیان کرتے ہیں میں نے امام حسنؒ بن حسنؓ بن حسنؓ بن  علیؓ بن ابو طالب کو ایک  رافض*ی شخص سے یہ کہتے ہوئےسنا :”اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس چیز(اصحاب رسولﷺ پر طعن) پر بر قرار رکھا تو تمہارے ہاتھ اور پاوں کاٹ دئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول نہیں کریگا ۔
راوی (فضیل بن مرزوق) کہتے ہیں :  میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہے ”رافضیو*ں نے ہمارے (اہل بیت) کےخلاف اسی طرح خروج کیا ہے جس طرح  حروریوں (خوارج) نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کی تھی۔
[الشریعہ للآجری وسندہ صحیح برقم: 1861]

معلوم ہوا تبرائیوں کا اہلبیت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اسلام سے۔

تحریر اسد الطحاوی ✍️