شبِ معراج میں شب بیداری اور اہلِ مکہ و مدینہ کا معمول
*شبِ معراج میں شب بیداری اور اہلِ مکہ و مدینہ کا معمول*
ماہِ رجب کی ستائیسویں رات شبِ معراج کہلاتی ہے اور اس رات شب بیداری کرنا مستحب ہے۔ یہی روایت اہلِ مکہ اور اہلِ مدینہ میں صدیوں سے معمول رہا ہے، جو عبادت اور شکر باری تعالی کا ایک خاص موقع ہے۔
علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ (متوفی ۱۳۰۴ھ) فرماتے ہیں:قد اشتهر بين العوام أن ليلة السابع والعشرين من رجب هي ليلة المعراج النبوي، وموسمُ الرجبية متعارَفٌ في الحرمين الشريفين؛ *يأتي النَّاس في رجبٍ من بلاد نائية لزيارة القبر النبوي في المدينة، ويجتمعون في الليلة المذكورة.*۔۔۔۔۔ و قيل في رجب في ليلة السابعوالعشرين وقواه بعضهم…. *وعليه فيستحب إحياء ليلة السابع والعشرين من رجب*، وكذا سائر الليالي التي قيل إنها ليلة المعراج بالإكثار في العبادة؛ شكرًا لِمَا منّ الله علينا في تلك الليلة من فرضية الصلوات الخمس وجعلها في الثواب خمسين، ولِمَا أفاض الله على نبينا فيها مِن أصناف الفضيلة والرحمة وشرَّفه بالمواجهة والمكالمة والرؤية.”
(الآثار المرفوعة فی الأخبار الموضوعة، ص: ۷۷)
مفہوم: عوام کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ ماہِ رجب کی ستائیسویں رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کی رات ہے، اور حرمین شریفین میں رجب کے موسم کی ایک معروف روایت رہی ہے؛ چنانچہ لوگ دور دراز علاقوں سے ماہِ رجب میں مدینہ منورہ آتے ہیں تاکہ روضۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کریں، اور مذکورہ رات میں اجتماع کرتے ہیں۔۔۔۔نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعۂ معراج رجب کی ستائیسویں رات پیش آیا، اور بعض اہلِ علم نے اس قول کو تقویت دی ہے۔۔۔۔۔پس اس بنا پر ماہِ رجب کی ستائیسویں رات شب بیداری کرنا مستحب ہے، اور ان تمام راتوں میں بھی جن کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ شبِ معراج ہیں، کثرتِ عبادت کے ساتھ شب بیداری میں گزارنا مستحسن ہے؛ اس شکرانے کے طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے اسی رات ہم پر پانچ وقت کی نماز فرض فرمائی اور اجر کے اعتبار سے انہیں پچاس نمازوں کے برابر قرار دیا، اور اسی لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کی فضیلتیں اور رحمتیں نازل فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی قرب، ہم کلامی اور دیدار کے شرف سے نوازا۔
مشہور محدث اور فقیہ ملا علی قاری رحمہ اللہ (متوفی ۱۰۱۴ھ) فرماتے ہیں: *هذا مع توافقة الليلة، قيل: كان فيها معراج سيد الأنبياء إلى السماوات العلى، و دنوه إلى إلى مقام قاب قوسين او أدنى، *هذا وجه تخصيص أهل مكة للزيارة لشهر الأصم.* والله تعالى أعلم”
(الأدب في رجب، ص: ۵۲)
مفہوم: اس تخصیص کے ساتھ یہ بات بھی موافق ہے کہ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسی رات سیدُ الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی بلندیوں تک معراج نصیب ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ قابَ قوسینِ أو أدنى کے انتہائی قرب تک پہنچائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ مکہ ماہِ رجب — جسے شہرُ الأصم کہا جاتا ہے — میں زیارت کو خاص اہتمام کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر جاننے والا ہے۔
ان عبارات سے یہ بات واضح ہوئی کہ شبِ معراج پر شب بیداری کرنا امت کا معمول رہا ہے، اور بالخصوص حرمین شریفین میں یہ روایت قائم رہی ہے۔ یہ شب بیداری اور عبادات کرنا صدیوں سے رائج ہے اور کسی قسم کی بدعت نہیں بلکہ شرعی اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے، تاکہ مسلمان شبِ معراج کی برکات سے فیض یاب ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
ابو الحسن محمد شعیب خان
15 جنوری 2026



