أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کی تکذیب کرتا ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کی تکذیب کرتا ہے ؟۔ پس یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر کسی کو برانیگختہ نہیں کرتا۔ (الماعون : ٣-١)

الماعون کے مکی یا مدنی ہونے کا اختلاف اور پہلی تین آیتوں کے مکی ہونے پر دلائل

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

اس سورت کے نزول میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : یہ سورت مدنی ہے اور مقاتل اور مجاہد اور ایک جماعت نے کہا : یہ سورت مکی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سورت کا ابتدائی حصہ مکہ میں نازل ہوا ہو، کیونکہ اس کے شروع میں اس کا ذکر ہے جو دین کی تکذیب کرتا تھا اور وہ عاص بن وائل تھا اور دین کی تکذیب کرنے والے لوگ مکہ میں تھے اور اس سورت کا آخری حصہ مدینہ میں نازل ہوا کیونکہ اس سورت کے آخر میں منافقین کے اوصاف ذکر فرمائے ہیں، ان میں ذکر ہے کہ وہ ریاکاری اور دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں اور وہ استعمال کی معموی چیز دینے سے بھی منع کرتے ہیں۔

” ارائیت “ کا لفظ سوال اور استفہام کی جگہ پر ذکر کیا جاتا ہے اور جس چیز کے متعلق سوال کیا جائے، یہ اس کی تقریر اور تاکید کے لئے آتا ہے، گویا کہ یوں فرمایا : جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر کسی کو برانیگختہ نہیں کرتا، وہی شخص دین کی تکذیب کرتا ہے اور دین کی تکذیب سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے، حساب، میزا اور جزاء اور سزا کا انکار کرتا ہے اور یہ شخص وہی ہوسکتا ہے جو علانیہ دین اسلام کی مخالفت کرتا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ شخص منافقین میں سے تھا کیونکہ منافقین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور مئومنین کی موافقت کو ظاہر کرتے تھے۔

رئوسائے کفار دین کی تکذیب کرتے تھے اور اپنے پیروکاروں پر یہ ظاہر کرتے تھے کہ ان کا مئوقف برحق ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو پیغام سنا رہے ہیں وہ باطل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پس یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر کسی کو برانیگختہ نہیں کرتا، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے مئومنین سے یہ فرمایا : تم یتیم پر ظلم مت کرو اور اس کے حق سے منع نہ کرو اور یتیم کے ساتھ بدسلوکی نہ کرو، جیسے دین کی تکذیب کرنے والے کرتے ہیں اور تم مسکین کو کھانا کھلانے پر لوگوں کو برانیگختہ کرو، ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ یہ بتارہا ہے کہ یہ کفار کتنے بخیل تھے اور یتیم اور مسکین کی کس طرح توہین کرتے تھے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، پس مئومنین کو نصیحت فرما رہا ہے کہ تم ایسا نہ کرنا۔

چونکہ یتیم کا کوئی مددگار نہیں ہوتا اور کافر کو آخرت کا کوئی خوف نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا آخرت پر کوئی ایمان نہیں ہوتا اور کسی پر ظلم کرنے سے اس لئے باز رہتا ہے کہ یا تو اس کو آخرت میں جزاء کی طرف رغبت ہوتی ہے یا اس کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اگر اس نے کسی پر ظلم کیا تو دنیا میں اس پر بھی ظلم کیا جائے گا، اور مساکین کے دنیا میں ایسے حامی اور مددگار نہیں ہوتے کہ اگر ان پر ظلم کیا جائے تو وہ اس کا بدلہ لیں اور نہ یتیم کے حامی اور مددگار ہوتے ہیں، جو اس پر کئے جانے والے ظلم کا بدلہ لیں اور کافر کو آخرت کے ثواب میں کوئی رغبت نہیں ہوتی اور نہ اس کو آخرت کے عذاب کا کوئی خوف ہوتا ہے کیونکہ وہ آخرت کی تصدیق نہیں کرتا، اس لئے وہ یتیم اور مسکین پر بےدھڑک ظلم کرتا ہے۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ١٠ ص 622-624 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٦ ھ)

یتیم کی پرورش پر بشارت اور مسکین کو کھانا نہ کھلانے پر وعید اور الماعون : ١ کا شان نزول

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کی تکذیب کرتا ہے۔ علامہ ابو عبداللہ قرطی نے لکھا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ آیت کس کے متعلق نازل ہوئی ہے، ابو صالح نے حضرت ابن عباس ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے متعلق نازل ہوئی ہے، کلبی اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے اور ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ایک منافق کے متعلق نازل ہوئی ہے، سدی نے کہا : یہ آیت الولید بن المغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی ہے، ابن جریج نے کہا : یہ ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ ہر ہفتہ ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی ہے، ابن جریج نے کہا : یہ ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ ہر ہفتہ ایک اونٹ ذبح کیا کرتا تھا، ایک یتیم نے ا سے کچھ گوشت مانگا تو اس نے اس کو لاٹھی مار کر ڈرایا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 107 الماعون آیت نمبر 1