أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : اے کافرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : اے کافرو !۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم نے عبادت کی ہے۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔ (الکافرون : ٦-١)

” قل یایھا الکافرون “ کا شان نزول

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا کہ وہ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ کے امیر ترین شخص ہوجائیں گے اور آپ جس عورت سے شادی کرنا چاہیں گے، وہ اس سے آپ کی شادی کردیں گے، بس آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دیں اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آپ کے سامنے ایک اور پیشکش کرتے ہیں، آپ نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا، آپ ایک سال تک ہمارے معبودوں یعنی لات اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال تک ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے، آپ نے فرمایا : میں دیکھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا حکم نازل ہوتا ہے، پھر اس کے جواب میں سورة کافرون نازل ہوئی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البشیان رقم الحدیث : ٢٩٥٦٣، دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٥١٨)

آپ نے ان کی پیشکش کو از خودرد نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف مفوض کردیا کیونکہ آپ کو نور نبوت سے یہ معلوم تھا کہ کہ اس سلسلہ میں پوری سورت نازل ہونے والی ہے۔

ابوالجنتری کے غلام سعید بن مینا بیان کرتے ہیں کہ الولید بن مغیرہ، العاص بن وائل، الاسود بن المطلب اور امیہ بن خلف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے اور انہوں نے کہا : یا محمد ! آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں، ہم آپ کے معبودوں کی عبادت کریں اور ہم اور آپ تمام معاملات میں مشترک ہوجائیں، پھر اگر ہمارا مئوقف آپ کے مئوقف سے زیادہ صحیح ہو تو آپ ہمارے مئوقف سے حصہ لے چکے ہوں گے اور اگر آپ کا مئوقف ہمارے مئوقف سے زیادہ صحیح ہو تو ہم آپ کے مئوقف سے حصہ لے چکے ہوں گے، تب اللہ تعالیٰ نے سورة کافرون نازل فرمائی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث، ١٩٥١٩، جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٥٦٤ )

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

یہ سورت ان ضدی اور سرکش کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہے، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ ہرگز ہرگز کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے اور وہ بت پرستی کو ترک کر کے توحید اور اسلام کی طرف رجوع نہیں کریں گے، کیونکہ ایسا نہیں تھا کہ ہر کافر کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرے گا، کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک وقت میں کافر ہو اور دور سے وقت میں اسلام لے آئے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ سورت صرف ان ہی کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہے، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ یہ تادم مرگ کافر ہی رہیں گے اور اسلام نہیں لائیں گے اور واقع میں ایسا ہی ہوا اور اس میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے ثبوت پر دلیل ہے کیونکہ آپ نے خبر دی تھی کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور وہ ایمان نہیں لائے اور کفر پر مرگئے۔ اس سورت میں آپ کی رسالت کی دلیل کے علاوہ یہ بھی دلیل ہے کہ کفار مکہ جو آپ کو اپنے دین کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ مایوس ہوجائیں کیونکہ آپ کبھی بھی ان کے بتوں کی طرف موافقت کرنے والے نہ تھے۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ١٠ ص ٦٤١ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٦ ھ)

” یایھا الکافرون “ سے پہلے ’ قل “ لانے کے متعلق امام رازی کی توجیہات

امام رازی نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ ’ قل “ کیوں فرمایا : یعنی آپ کہیے اور صرف اسی پر اکتفاء کیوں نہیں کیا کہ اے کافرو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر لفظ ’ قل “ نہ ہوتا تو اس سے یہ سمجھا جاتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) از خود فرما رہے ہیں : اے کافرو ! حالانکہ آپ بہت نرم مزاج، شفیق اور رحیم و کریم ہیں اور ایسا سخت لفظ کہنا آپ کے مزاج کے مناسب نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں آپ کی نرمی اور رحم دلی کے متعلق یہ آیات ہیں :

(آل عمران : ١٥٩) اللہ کی رحمت کے سبب آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔

(الانبیائ : ١٠٧) اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

اور آپ کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ آپ کافروں کو نہایت اچھے طریقہ سے دین کی طرف بلائیں اور عمدہ جواب دیں، فرمایا :

(لخل : ١٢٥) لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیں اور نہایت اچھے طریقہ کے ساتھ ان سے بحث کریں۔

سو آپ کو لوگوں کے ساتھ خلق اور نرم گفتاری کا حکم دیا گیا اور پھر آپ ان سے فرماتے : اے کافرو ! تو لوگ کہتے : یہ سخت کلام نرم گفتگو کے کیسے لائق ہوسکتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے ” قل “ فرمایا یعنی آپ کہیے : اے کافرو ! گویا آپ از خود مشرکین مکہ کو اے کافروچ نہیں کہہ رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اس کے حکم کی تعمیل میں ان سے سخت کلام فرما رہے ہیں اور نرم گرفتاری کر رہے ہیں یعنی آپ کی رحمت اور نرم مزاجی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

امام رازی نے اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا :

وانذرعشیرتک الاقربین۔ (الشعرائ : ٢١٤) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایئے۔ اور آپ اپنے قرابت داروں سے بہت محبت کرتے تھے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

(الشوری : ٢٣) آپ کہیے کہ میں اس تبلیغ دین پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا سوا اس کے کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھوے اور جب کہ رشتہ داری اور نسب کی وحدت سخت کلام کرنے سے مانع ہوتی ہے تو آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں سے سختی سے کلام کریں اور کہیں : اے کافرو !

امام رازی نے اس کی تیسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(المائدہ : ٦٧) اے رسول ! آپ پر آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچا دیجیے اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے اپنے ذمہ جو پیغام تھا وہ نہیں پہنچایا دیا۔

تو چونکہ آپ کے اوپر ” قل یا ایھا الکفرون۔ “ کا مجموعہ نازل کیا گیا تھا، اس لئے آپ نے ” قل “ سمیت یہ پورا کلام پہنچا دیا۔

امام رازی نے ” قل “ کہنے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ انسان اپنے مالک اور مولا کی تو ہر بات برداشت کرلیتا ہے خواہ وہ سخت ہو یا نرم لیکن دور سے کی سخت بات برداشت نہیں کرتا اور مشرکین یہ مانتے تھے اور یہ اعتراض کرتے تھے کہ اللہ سبحانہ ان کا خالق اور ان کا رازق ہے اور وہی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

(لقمان : ٢٥) اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔

اور انسان اپنے مالک اور مولیٰ کی وہ باتیں برداشت کرلیتا ہے جن کو وہ دوسروں سے سننا گوارا نہیں کرتا، پس اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء فرماتے : یایھا الکفرون۔ “ اے کافرو ! تو ہوسکتا تھا کہ وہ یہ قرار دیتے کہ یہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہے تو شاید وہ اس کو برداشت نہ کرتے اور آپ کو ایذاء پہنچاتے لیکن جب انہوں نے سنا ’ دقل “ (آپ کہیے “ تو انہوں نے جان لیا کہ یہ درشت اور سخت کلام آسمانوں اور زمینوں کے خالق کی طرف سے ہے، تو انہوں نے اس سخت کلام کو برداشت کرلیا اور ان کو یہ ناگوار نہ لگا۔

امام رازی نے ” یایھا الکفرون۔ “ سے پہلے لفظ ’ قل “ ذکر کرنے کی اسی طرح کی تینتالیس (٤٣) تاویلات اور توجیہات ذکر کی ہیں، آخری تاویل اور توجیہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں سختی اور درشتی تھی، سو جب ان کو حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا گیا تو ان دونوں سے فرمایا :

فقولالہ قولاً لینا (طہ : ٤٤) آپ دونوں فرعون سے نرمی سے بات کریں۔

اور جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخلقو کی طرف بھیجا گیا تو آپ کو سختی کرنے کا حکم دیا، لہٰذا فرمایا :

واغلظ علیھم (التوبہ : ٧٣) ان پر سختی کیجیے۔

کیونکہ آپ میں انتہائی نرمی اور رحم دلی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا :

’ قل یایھا الکفرون۔ لا اعبدماتعبدون۔ “ (الکافرون : ٢-١) آپ کہیے : اے کافرو !۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 323-329 داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

امام رازی کی توجیہات پر مصنف کا تبصرہ

امام رازی قدس سرہ نے یہ توجہیات اور تاویلات اس لئے کی ہیں کہ مشرکین مکہ کو کافر کہنا گویا سب و شتم کی بات تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شایان شان نہ تھی اس لئے یایھا الفکرون۔ “ سے پہلے ’ قل “ لایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے از خود ان کو کافر نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم دینے سے ان کو کافر فرمایا ہے۔

مصنف کے نزدیک فی نفسہ کافر کے لفظ میں کوئی سختی یا سب و شتم کی بات نہیں ہے، کافر کا معنی ہے : منکر، مشرکین چونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے تھے، اس لئے ان کو کافر کہا جاتا ہے یعنی منکرین، اسی طرح مسلمان چونکہ بتوں کی پرستش اور شیاطن کی اطاعت کا انکار کرتے ہیں، اس لئے اس معنی میں ان پر بھی کفر کا اطلاق فرمایا گیا ہے، قرآن مجید میں ہے :

(البقرہ : ٢٥٦) سو جو شخص شیطان (کی اطاعت) کا کفر کرتا ہے اور اللہ (کی توحید) پر ایمان رکھتا ہے، اس نے مضبوط دستے کو تھام لیا۔

جس طرح مشرکین اللہ تعالیٰ کی توحید کے کافر اور منکر ہیں، اسی طرح مسلمان بھی شیاطن کی اطاعت کے کافر اور منکر ہیں، اس لئے اس اعتبار سے مسلمان کو کافر کہنے میں کوئی سخت بات ہے نہ مشرک کا و کافر کہنے میں کوئی سخت اور ناروابات ہے۔

قرآن مجید کی بہت آیات میں مشرکوں کو خطاب کرکے کفر کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور اس سے پہلے لفظ ” قل “ نہیں ہے، چند آیات ملاحظہ فرمائیں :

(البقرہ : ٢٨) تم اللہ کا کیوں کر کفر کرتے ہو حلان کہ تم مردہ تھے، سو اس نے تم کو زندہ کیا۔

حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کے مشرکوں نے کہا ،

(الاعراف : ٧٦) متکبر لوگوں نے کہا، تم جس ذات پر ایمان لائے ہو، ہم اس ذات کے کافر ہیں (یعنی اس کے منکر ہیں) ۔

اس آیت میں مشرکین، نے خود اپنے اوپر کافر کا اطلاق کیا ہے، پس مشرکین کو کافر کہنا ان کے حق میں سخت بات کیسے ہوگئی۔

(التوبہ : ٣٢) مشرکین چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے کے سوا انکار کرتا ہے، خواہ کافروں کو ناگوار ہو۔

لہٰذا مصنف کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین مکہ کو ” کافرون “ فرمانا کوئی ایسی سخت اور سنگین بات نہیں ہے، جس کی تینالیس (٤٣) توجیہات کی ضرورت ہو، ویسے امام رازی بہت عظیم اور متبحر مفسر ہیں، وہ جس کی چاہیں اور جتنی چاہیں توجیہات کرسکتے ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 109 الكافرون آیت نمبر 1