أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‌ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے وہ اللہ ایک ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بےنیاز ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ اس کا کوئی ہم سیر ہے۔ (الاخلاص : ٤-١)

مطالب کی تین قسمیں اور پوری تفسیر کبیر کا امام رازی کی تصنیف ہونا

الاخلاص : ١ میں فرمایا، آپ کہیے : وہ اللہ ایک ہے۔

اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو بتادیا کہ بات یہ ہے کہ اللہ ایک ہے اور آپ کو اس مشقت میں نہیں ڈالا کہ آپ دلائل عقیلہ سے اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کو معلوم کریں۔

امام رازی فرماتے ہیں : مطالب تین قسم کے ہیں : ایک وہ مطالب ہیں جن کو خبر کے ذریعے نہیں معلوم کیا جاسکتا یہ وہ اور معجزات کی صحت کا علم (کیونکہ عقل یہ کہتی ہے کہ اس جہان کا کوئی بنانے والا ہونا چاہیے اور یہ ضروری ہے کہ وہ عالم اور قادر بھی ہو کیونکہ بغیر علم اور قدرت کے وہ اس جہان کو بنا نہیں سکتا اور نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ معجزہ دکھائے ورنہ سچے نبی اور جھوٹے نبی میں امتیاز نہیں ہوسکتا) اور مطالب کی دوسری قسم وہ ہے جس کا بغیر خبر کے محض عقل سے علم نہیں ہوسکتا (جیسے دوزخ کے محافظ فرشتوں کی تعداد انیس (١٩) ہے اور مطالب کی تیسری قسم ہے وہ جس کا علم عقل سے بھی ہوسکتا ہے اور خبر سے بھی ہوسکتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا واحد ہونا۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ہم درج ذیل آیت کی تفسیر میں مفصل دلائل پیش کرچکے ہیں :

لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا۔ (الانبیائ : ٢٢) اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا متعدد خدا ہوتے تو ان کا نظام فاسد ہوجاتا ہے۔

امام رازی کی اس عبارت میں صاف تصریح ہے کہ پوری تفسیر کبیر امام رازی ہی کی لکھی ہوئی ہے، تب ہی تو انہوں نے سورت الاخلاص کی تفسیر میں سورت الانبیاء کا حوالہ دیا ہے اور علامہ ابن خلکان، حافظ ذہنبی، حافظ عسقلانی اور حاجی خلیفہ کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ پوری تفسیر کبیرامام رازی کی لکھی ہوئی نہیں ہے اور اس کو علامہ احمد قمولی متوفی ٧٢٧ ھ نے مکمل کیا ہے، درصال ان علماء نے پوری تفسیر کبیر پڑھی ہی نہیں۔

اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل

چونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کو بیان فرمایا ہے، اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید پر چند سادہ اور عام فہم دلائل پیش کئے جائیں۔

(١) اگر اس کائنات کے متعدد پیدا کرنے والے ہوتے تو فرض کیجیے ایک خدا ارادہ کرتا کہ زید کو پیدا کیا جائے اور دوسرا خدا ارادہ کرتا کہ زید کو پیدا نہ کیا جائے تو دونوں کا ارداہ پورا ہونا محال ہے کہ زید پیدا بھی ہو اور نہ بھی ہو، کیونکہ یہ اجتماع نقیضین ہے تو جس کا ارادہ پورا ہوگا وہی خدا ہوگا، دوسرا خدا نہیں ہوگا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دونوں خدا اتفاق سے پیدا کرتے ہیں اور ان میں اختلاف نہیں ہوتا تو ہم کہتے ہیں کہ ان اختلاف ممکن تو ہے تو جب ان میں اختلاف ہوگا تو پھر کس کا ارادہ پورا ہو گاڈ سو جس کا ارادہ پورا ہوگا، وہی خدا ہوگا دورسا خدا نہیں ہوگا، نیز جب وہ دونوں اتفاق سے پیدا کرتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ ایک خدا دوسرے خدا کی موافقت کرے تو جس کی موافقت کی جائے گی وہ متبوع ہوگا اور جو موافقت کریگا وہ تابع ہوگا اور تابع خدا نہیں ہوسکتا تو پھر دو خدا نہیں ہوسکتے اور جب دو خدا نہیں ہوسکتے تو دو سے زیادہ بھی نہیں ہوسکتے۔

(٢) ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں پیدائش اور موت، اور تغیر و تبدیل نظام واحد پر چل رہا ہے، سورج ہمیشہ ایک مخصوص جانب سے طلوع ہوتا ہے اور ایک مخصوص جانب میں غروب ہوجاتا ہے، اسی طرح چاند اور ستارے بھی نظام واحد کے موافق طلوع اور غروب کر رہے ہیں، زرعی پیداوار اور انسانوں اور حیوانوں کی پیدائش اور متو ایک نظام کے تحت ہو رہی ہے، اگر یہاں متعدد خدا ہوتے تو کائنتا کے نظام متعدد ہوتے، ہر خدا اپنا اپنا نظام جاری کرتا اور اس کائنات میں نظام واحد ہونا اس پر دلیل ہے کہ اس کا نظام اور خالق اور موجد بھی واحد ہے۔

(٣) اس کائنات میں ہر کثرت کسی وحدت کے تابع ہوتی ہے، تب ہی نظام صحیح رہتا ہے ورنہ نظام فاسدہ ہوجاتا ہے، اسکول میں ماسٹر متعدد ہوں تو ہیڈ ماسٹر واحد ہوتا ہے، صوبہ میں وزراء متعدد ہوں تو وزیر اعلیٰ ایک ہوتا ہے، وفاقی وزراء متعدد ہوں تو وزیر اعظم واحد ہوتا ہے اور جس ملک میں صداری نظام ہو وہاں صدر ایک ہوتا ہے تو جب ایک ملک کے دو صدر نہیں ہوسکتے تو اس کائنات کے دو خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس کائنات کا واحد خالق اور مالک ہے اور اس کے ثبوت میں اس نے نبیوں، رسولوں کو بھیجا اور آسمانی کاتبوں کو نازل کیا، اگر اس کے علاوہ بھی اس کائنات کا کوئی خالق تھا تو اس پر لازم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے دعویٰ کو باطل کرنے کے لئے نبی اور رسول بھیجتا، جو آکر یہ بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ بھی اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک ہے او وہ اس کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کا شریک ہے، لیکن جب ایسا کوئی نبی نہیں آیا، ایسی کوئی آسمانی کتاب نہیں آئی تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے واحد لاشریک ہونے کا دعویٰ سچا ہے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی عبادت لازم نہیں ہے۔

جب اللہ واحد ہے تو مجوسیوں کا یہ کہنا باطل ہے کہ دو خدا ہیں، ایک خیر کا خالق ہے وہ یزداں ہے اور ایک شرکا خالق ہے وہ اہرمن ہے اور عیسائیوں کا یہ کہنا باطل ہے کہ تین خدا ہیں، اللہ تعالیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم اور مشرکین مکہ کا بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک اور مسستحق عبادت ماننا بھی باطل ہوگیا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 112 الإخلاص آیت نمبر 1