وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِۙ – سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Saturday، 31 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِۙ ۞
ترجمہ:
اور گروہ میں بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شر سے
الفلق : ٤ میں فرمایا اور گرہ میں بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شر سے۔
” نفثت “ کا معنی
اس آیت میں ” نفشت “ کا لفظ ہے ” نفث ‘ کا معنی ہے : منہ سے ایسی پھونک مارنا جس میں کچھ لعاب کی آمیزش ہو اور بعض نے کہا، اس سے مراد صرف پھونک ہے اور ” العلق ’“” عقدۃ “ کی جمع ہے، اس کا معنی گرہ ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب جادوگر جادو کے الفاظ پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ ایک دھاگا پکڑ لیتا ہے، وہ اس دھاگے میں ایک گرہ لگاتا ہے اور جادو کے الفاظ پڑھ کر اس گروہ میں پھونک مارتا ہے، پھر اس طرح گرہیں لگاتا جاتا ہے اور اس میں پھونکیں مارتا جاتا ہے۔ اس آیت میں پھونک مارنے والے جادوگر کے لئے مئونث کا صیغہ استعمال فرمایا ہے، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) جادو کا عمل زیادہ تر عورتیں کرتی ہیں کیونکہ وہ گرہ لگاتی جاتی ہیں اور پھونک ماتری جاتی ہیں ا رو اس میں اصل چیز یہ ہے کہ یہ عمل دل سے کیا جائے، اور عورتیں یہ کام زیادہ توجہ سے کرتی ہیں، کیونکہ ان کا علم کم ہوتا ہے اور ان میں شہوت زیادہ ہوتی ہے۔
(٢) مئونث کا صیغہ اس لئے لایا گیا ہے کہ ا سے مراد جادوگروں کی جماعت ہے کیونکہ جب کئی جادوگر مل کر جادو کریں گے تو اس کا اثر زیادہ ہوگا۔
(٣) ابوعبیدہ نے کہا :” نفاثات “ (پھونک مارنے والیاں) سے مراد ہے، لبیدبن اعصم یہودی کی بیٹیاں، جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا تھا (لیکن تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر نہیں ہوا تھا اس کی وضاحت عنقریب آئے گی۔ سعیدی) (تفسیر کبیرج ١١ ص 374)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہونے کے متعق امام رازی کا مئوقف
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :
جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو جادو کی جگہ کی خبر دی، تب آپ نے حضرت علی اور حضرت طلحہ کو ب ھیا اور وہ اس دھاگے کو لے کر آئے اور حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ آیت پڑھتے جائیں اور گرہ کھولتے جائیں اور جبا پٓ آیت پڑھنے لگے تو گرہ کھلنے لگی اور آپ کی طبیعت ٹھیک ہوتی گی۔
نیز امام رازی فرماتے ہیں : جاننا چاہیے کہ معتزلہ نے اس کا سرے سے انکار کیا ہے، قاضی نے کہا : یہ روایت باطل ہے، یہ کیسے صحیح ہوسکتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :” واللہ یعصمک من الناس “ (المائدہ :67) اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واللہ یعصم من الناس “ (المائدہ :67) اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :” ولا یفلح السحرحیث اتی “ (طہ :69) جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا، جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا، اور اسلئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ماننے سے نبوت میں طعن ہوتا ہے اور اس لئے کہ آپ پر جادو کا اثر ہونا اگر صحیح ہو تو ضروری تھا کہ جادو گر تمام انبیاء اور صالحین کو جادو سے نقصان پہنچاتے اور وہ اس پر قادر ہوتے کہ اپنے لئے کوئی بڑا ملک حاصل کرلیتے اور یہ تمام لوازم باطل ہیں اور اس لئے کہ کفار آپ کو عار دلاتے تھے کہ آپ جادو زدہ ہیں اور اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو کفار اپنے اس طعن میں صادق ہوتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ عیب ہوتا، اور معلوم ہے کہ آپ میں عیب جائز نہیں ہے، ہمارے اصحبا نے کہا، یہ قصہ جمہور اہل نقل کے نزدیک صحیح ہے اور جن وجوہ کا معتزلہ نے ذکر کا ہے، ہم ان پر سورة بقرہ میں میں کلام کرچکے ہیں، رہا ان کا یہ کہنا کہ کفار آپ پر عیب لگاتے تھے کہ آپ جاد و زدہ ہیں تو اگر آپ جادو کیا جاتا تو کفار اپنے اس طعن میں صادق ہوتے، اس کا جواب یہ ہے کہ مسحور کہنے سے کفار کی مراد یہ تھی کہ آپ مجنون ہیں اور جادو کے ذریعہ آپ کی عقل زائل کردی گئی ہے، اسی وجہ سے آپ نے کفار کے دین کو ترک کردیا، رہا یہ کہ جادو کے اثر سے آپ کے بدن میں کوئی درد ہوگیا ہو تو ہم اس کا انکار نہیں کرتے، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر کسی شیطان، کسی انسان اور جن کو اس طرح مسلط ہونے نہیں دے گا کہ وہ آپ کے دین، آپ کی شریعت اور آپ کی نبوت میں کوئی ضرر پہنچا سکے اور رہا آپ کے بدن میں ضرور پہنچانا تو وہ بعیدن ہیں ہے، ہم سورة البقرہ میں اس مسلہ پر مکمل بحث کرچکے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہونے کے متعقل مصنف کا مئوقف
امام رازی کی اس عبارت میں حسب ذیل امور لائق توجہ ہیں :
(١) امام رازی نے یہاں سورة الفلق کی تفسیر میں سورة البقرہ کی تفسیر کا حوالہ دیا ہے، اس سے معلوم ہو کہ یہ پوری تفسیر امام رازی کی لکھی ہوئی ہے اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ پوری تفسیر امام رازی کی نہیں ہے اور علامہ قمولی نے اس کو مکمل کیا ہے۔ جیسا کہ ہم بہت جگہ اس پر تنبیہ کرچکے ہیں۔
(٢) امام رازی نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہم سورة بقرہ میں متعزلہ کے دلائل کا جواب لکھ چکے ہیں، یہ امام رازی کا تسامح ہے، امام رازی نے سورة البقرہ کی تفسیر میں معتزلہ کی کسی دلیل کا جواب نہیں دیا، دیکھیے تفسیر کبیر ج ١ ص 626، داراحیاء التراث العربی، بیروت
(٣) امام رازی نے یہاں صرف جادو زدہ کے طعن کا جواب دیا ہے اور اس کو بہت مفسرین نے لکھا ہے لیکن معتزلہ کی قوی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :” ولا یفلح السحر حیث اتی۔ ‘(طہ :69) جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا، اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہوجاتا تو جادوگر آپ کو ضرر پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے، سو آپ پر جادو سے ضرور ماننا قرآن مجید کی اس آیت کی تکذیب کرنا ہے۔ علامہ تفتا زانی نے شرح مقاصد ج ٥ ص 79-81 میں جادو پر بحث کی ہے اور معتزلہ کی اس دلیل کا ذکر کیا ہے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے بنی اسرائیل :47 میں اس پر تفصیل سے لکھا ہے، ہمارے نزدیک یہ تو ہوسکتا ہے کہ لبیدبن اعصم یا اس کی بیٹیوں نے آپ پر جادو کیا ہو لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ اس جادو کا آپ پر اثر ہوا ہو، آپ نے کوئی کام نہ کیا ہو اور آپ کے دل میں یہ خیال ڈالا گیا ہو کہ آپ نے وہ کام کرلیا ہے، آپ اس سے مامون ہیں کہ آپ کے دل میں کوئی خلاف واقع خیال ڈالا جائے، یا العیاذ باللہ ! آپ دیکھیں کچھ اور آپ کو نظر کچھ آئے یا آپ کی قوت مردی متاثر ہو، ہمارے نزدیک اس قسم کی تمام باتیں بعض راویوں کی کارستانی ہے، ہم نے ذکر کیا ہے کہ المعوذتان کے شان نزول میں دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں اور جس قول کی بناء پر یہ دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں، ان روایات کا غیر صحیح ہونا اور بھی واضح ہوجاتا ہے، نیز اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ معجزہ کے اثر کا سبب بھی مخفی ہوتا ہے اور سحر کے اثر کا سبب بھی مخفی ہوتا ہے، معجزہ کا صدور نبی سے ہوتا ہے اور اس کا سبب اللہ سبحانہ سے قرب اور دعائیہ کلمات ہیں اور سحر کا صدور کافر سے ہوتا ہے اور اس کا سبب شیطان سے قرب اور شرکیہ اور کفریہ کلمات کا پڑھنا ہے تو اگر بنی پر سحر کا اثر مان لیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ شیطان کا مقرب رحما کے مقرب پر اثر انداز ہوگیا اور اس کو بیمار کرنے میں کامیاب ہوگیا حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” ولایفلح السحر حیث اتی۔ (طہ :69)
قرآن مجید کی سورتوں سے دم کرنے کا جواز
الفل : ٤ میں گرہوں میں پھونک مارنے کا ذکر ہے، جادو کے کلمات پڑھ کر گوہوں میں پھونک مارنا باطل اور حرام ہے، لیکن اللہ کا کلام پڑھ کر کسی بیمایر پر پھونک مارنا مستحب ہے اور اس کے استحباب میں حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بستر پر لیٹتے تو آپ اپنی ہتھیلیوں پر ” قل ھو اللہ احد “ اور معوذتین پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان ہتھیلیوں کو اپنے چہرے پر ملتے اور ان ہتھیلیوں کو جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے، وہاں تک اپنے جسم پر ملتے، حضرت عائشہ نے کہا : جب آپ بیمار ہوگئے تو آپ مجھے اس طرح پھونک مار کر اپنی ہتھیلیوں کو ملنے کا حکم دیتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :57489 صحیح مسلم رقم الحدیث :2192 سنن ابو دائود رقم الحدیث :3902 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3529 )
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ایک سفر میں گئے اور عرب کے کسی قبیلہ میں پہنچے، انہوں نے قبیلہ والوں سے کہا : ہماری مہمانی کرو (یعنی کھانا کھلائو) قبیلہ والوں نے ان کو مہمان بنانے سے انکار کیا، اس قبیلہ کے سردار کو بچھونے ڈنک مارا ہوا تھا، انہوں نے اس کے علاج کے بہت جتن کئے، لیکن کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوا، ان میں سے کسی نے کہا : یہ لوگ جو تمہاری بستی میں آئے ہیں ہوسکتا ہے ان کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس سے اس کو شفا ہوجائے، سو ان لوگوں نے صحابہ سے کہا، اے نو واردوں کی جماعت ! ہمارے سردار کو بچھونے ڈنک مارا ہے، ہم نے اس کے علاج کی پوری کوشش کرلی لیکن اس کو فائدہ نہیں ہوا، کیا تمہارے پاسک ویء چیز ہے ؟ صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا، ہاں ہے : اللہ کی قسم ! بیشک میں ضرور دم کرتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم ! ہم نے تم سے مہمانی طلب کی تھی، تم نے ہماری مہمانی نہیں کی، لہٰذا اب میں تمہیں دم کرنے والا نہیں ہوں حتیٰ کہ تم ہمیں معاوضہ دو ، پسا نہوں نے بکریوں کے ریوڑ پر صلح کرلی (وہ تیس بکریاں تھیں۔ ابو دائود رقم الحدیث :3902) پھر وہ صحابی گیا اور سورت الفاتحہ پڑھ کر اس سردار پر لعاب آمیز پھونک ماری، حتیٰ کہ وہ ایسے ہوگیا جیسے رسی سے (بندھا ہوا) کھل گیا ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا گویا اس کو کوئی تکلیف ہی نہ تھی، پھر قبیلہ والوں نے ان کو بکریوں کا ریوڑ دے دیا، بعض صحابہ نے کہا، ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کرلو، دم کرنے والے صحابی نے کہا : نہیں ! حتی کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق معلمو کرلیں، ہم آپ کے سامنے یہ واقعہ بیان کریں گے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کیا حکم فرماتے ہیں، پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا : تم کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے، تم نے درست کیا، ان بکریوں کو تقسیم کرلو اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5749 سنن ابو دائود رقم الحدیث :3902 سنن ترمذی رقم الحدیبث :2064 صحیح مسلم رقم الحدیث :2201 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2156)
بعض روایات میں دم کرنے کی ممانعت ہے، اس سے مراد شرکیہ کلمات پڑھ کر دم کرنا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 4