جیفری ایپسٹن کی سیاہ کاریاں اور تصاویر کے مختلف رُخ!

پہلا رُخ :
چند سال قبل میں نے ایک کہانی سنی کہ ہمارے ملک کے کسی وڈیرے کے پاس اداروں کے بندے گئے اور انہوں نے اچھے مراسم قائم کیے پھر وڈیرے کو خوب مراعات دی اور موج مستی کا سامان فراہم کیا وڈیرے صاحب مخمور ہو کر موج مارتے رہے پھر جب نشہ اترا اور اداروں نے پاؤں پھیلانا چاہے تو وڈیرے صاحب احتجاج کرنے لگے اداروں نے رنگ رنگلیوں کی وڈیوز دکھا دی کہ چُوں چڑاں کی تو وڈیوز لیک…..پھر وڈیرے صاحب کی شکل اور بولی کسی اور کی..

بڑے بندے پھنسانے کا یہ جال چھوٹی سطح سے لے کر عالمی سطح تک ہے فرق صرف اتنا ہے پھنسانے والوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کا ادارک ہوتا ہے
چھوٹی سطح پر زنا بدکاریاں اور عیاشیاں اور بڑی سطح پر بچوں کے ساتھ زیادتی، ان کا قتل اور ان کے ٹکڑے کر کے کھانا……
کیونکہ مغرب کے نزدیک زنا شراب تو برا ہے ہی نہیں جس سے دھمکایا جاسکے……

دوسرا رُخ.

انسان جب بے حس ہو جائے تو وہ دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے
تھوڑی زیادہ بے حسی بوڑھے مردوں پر ظلم..
اس سے اوپر کا ظالم عورتوں پر ظلم کرے گا
اس سے اوپر کا ظالم…. بچوں کو بھی نہیں چھوڑتا اور ظلم کی آخری حد یہ کہ انسان چھوٹے معصوم بچوں کو نہ صرف قتل کرے بلکہ ان کی تکہ بوٹی بنا کر کچا کھا جائے…
جو بندہ اس حد تک پہنچ جائے پھر وہ دنیا میں کسی کو بھی مارنے پر ترس نہیں کھائے گا لاکھوں لوگو‍ں کو پل بھر میں ختم کرنا اس کے لیے معمولی بات ہو گی

تیسرا رخ…
اس قسم کے ظالم بندے سے ایک منٹ کے لیے بھی بات کرنا، مکالمے کرنا اور رحم و کرم کی بھیک مانگنا خود ظلم ہے چاہیے تو یہ کہ دنیا ایسو‍ں کا قیمہ بنا کر ہوا میں اڑا دے….جانوروں تک کو نہ کھلائے کہ وہ بھی باولے ہو جائیں گے…
جبکہ یہاں اس دنیا کو کنٹرول کرنے میں جو چہرے سامنے نظر آتے ہیں وہ سب جیفری کے مہمان بنتے رہے ہیں..ایسی دنیا ترقی نہیں بلکہ پنجابی والا تَرَق سے بھری ہے.

چوتھا رُخ…

جال میں پھنسانے والے اور پھنسنے والے برابر مجرم ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اسلام کردار اور عمل کو اہمیت دیتا ہے جب آپ کی پتنگ اڑنے لگے تو محتاط ہو جائیے اور کردار کو ستھرا رکھیے ورنہ شکاری اپنا جال پھینک کر گرفتار کر لیں گے پھر وہ سب کچھ کروائیں گے جو ایک طوائف بھی نہیں سوچ سکتی.. اور  ایسے جال سے موت ہی نکال سکتی ہے اور موت کے بعد حساب ہے..
پانچواں رُخ….

یہ بات طے ہے کہ ظاہری نظر آنے والے حکمران صرف پیادے ہیں جن کے مہرے جیفری جیسے بندے اصل شیطانوں کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور وہ شیطان وہی ہیں جن کو اسلام دجال، عبد الطاغوت، عبد ھوا کہتا ہے اور ان کا مقابلہ صرف رحمانی لشکر ہی کر سکتا ہے تو امید صرف اسلام ہے..

چھٹا رُخ…
علماء صلحا اور نیک لوگ ظاہری طور پر اسلام کی حفاظت کرتے ہیں لیکن حقیقت میں علماء و صلحا مشائخ اور عامی با عمل مسلمان کی حفاظت اسلام کرتا ہے جو بندہ اسلام سے لپٹتا ہے جیفری نظام سے جڑے بڑے سے لے کر انڈے میں موجود مگر مچھ تک اس کو پڑ جاتے ہیں اور سب سے زیادہ نفرت بھی ان سادھے مسلمانوں سے کی جاتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہی لوگ ہیں جو ہمارے جال سے بچ سکتے ہیں. ورنہ ساری دنیا ہی ہمارے شکاروں کی شکار ہے.

ساتواں رُخ…

قرآن کریم میں باطل کو ابلتی جاگ سے تشبیہ دی گئی ہے باطل نظام جتنا مرضی منظم ہو اپنا آپ ایک نا ایک دن خود ننگا کر دیتا ہے جیفری رپورٹس میں ہر خدا کے انکاری، لادینیت کو پروموٹ کرنے والے سائنس دانوں اور دانشوروں کے نام نمایاں لفظوں میں موجود ہیں جو خود ہی بتاتے کہ ان کا پھیلایا گند صرف منظم سازش کے سوا کچھ نہیں..
مومن کے دل کو راحت ملی، شک والوں کا شک دور ہوا البتہ منافق کی آنکھوں پر پٹی ہے.

کہنے کو بہت کچھ ہے…. طبعیت ان غلاظتوں اور ان چھوٹی بچیوں پر ہونے والے ظلم کی وجہ سے مکدر ہے….یقیناً یہ سب عبد طاغوت ہونے کے ساتھ دجالی بھی ہیں.. اس لیے آج بھی پناہ ہے تو صرف اسلام میں.

اللہ ہماری اور ہماری نسلوں کی حفاظت فرمائے آمین

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

#EpsteinFiles
#epistein
#ChildAbusePreventionAwareness
#ChildSafety
#ChildSafetyFirst
#truefacts
#hypocrisy