جیفری ایپسٹین کون تھا؟
1953 میں جیفری ایک متوسط یہودی خاندان میں نیویارک کے علاقے بروکلین کے ایک جیوش محلے میں پیدا ہوا۔ اس کی سکول کی تعلیم مکمل ہوئی تو اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکا وہ ریاضی میں ماہر تھا چنانچہ اس کو سکول میں ہی ریاضی کے ٹیچر کی جاب مل گئی۔ اس نے صرف دو سال تدریس کی، جس کے بعد ٹیچر کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔

جیفری ایک کرشمہ ساز پرسنیلیٹی رکھتا تھا اور تعلقات بنانے میں بہت ماہر تھا- سکول میں ٹیچنگ کے دوران اس کی ملاقات اپنے ایک طالب علم کے والد سے ہوئی جو ایک بینک کا منیجر تھا۔ اسکول سے نکالے جانے کے بعد اسی تعلق کی بدولت اسے بینک میں نوکری مل گئی۔

وہ 1981 تک تقریباً پانچ سال بینک میں کام کرتا رہا۔ اس دوران وہ اپنے تعلقات بڑھاتا رہا، جو کہ بعد دھوکہ دہی کے الزامات اور مشکوک مالی لین دین سے جوڑے گئے۔اور یوں اس پر مختلف کے قسم کے الزامات لگے اور اس کو بینک بھی چھوڑنا پڑا–

اسی عرصے میں اس کی پہلی گرل فرینڈ ایوا اینڈرسن (مس سویڈن) سے ملاقات ہوئی۔ وہ نیویارک منتقل ہو گئیں اور یہ تعلق دس سال تک قائم رہا۔بینک چھوڑنے کے بعد اس نے امیر لوگوں کے لیے ایک کنسلٹنگ فرم قائم کی اور ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے مزید تعلقات بناتا چلا گیا۔

1991 میں اس کا اپنی گرل فرینڈ ایوا اینڈرسن (مس سویڈن) سے تعلق ختم ہو گیا۔ یہ علیحدگی دوستانہ اور پُرامن انداز میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ جیفری نے خود اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو گلین ڈوین نامی ایک ارب پتی کے پاس منتقل ہونے میں مدد دی۔

1991 کے بعد اس کی ملاقات غزلین میکسویل نامی خاتون سے ہوئی، جو ناول نگار رابرٹ غزلین کی بیٹی تھی۔ اس کا خاندان یہودی تھا- اور رابرٹ طویل عرصے تک موساد کا ایجنٹ رہا۔اور یوں یہیں جیفری کا موساد سے رابطہ ہوا-

1991 کے بعد ان دونوں یعنی جیفری اور غزلین کی زندگی کی ایک نئی شروعات ہوئی-جیفری نے کم عمر لڑکیوں کو ورغلانا، ان کا استحصال کرنا شروع کردیا پھر اس قسم کی تفریح امیر اور بااثر افراد کو فراہم کرنا شروع کر دی۔ کہا جاتا ہے- اور اس کام میں باقاعدہ معاونت میں موساد شامل تھی

معاملات بظاہر خاموشی سے چلتے رہے۔ متاثرہ لڑکیوں کو لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے قابو میں رکھا گیا، جبکہ فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ کاروبار اور دولت میں اضافہ ہوتا رہا۔

جیفری کے پاس انتہائی پرتعیش مکانات، محلات، شاہانہ یاٹس، نجی طیارے اور ایک مکمل نجی جزیرہ تھا، جو خاص مہمانوں کی نجی تقریبات کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

جیفری کے خلاف پہلی شکایت 1996 میں ماریا فارمر نامی لڑکی نے کی، جس نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایپسٹین کے گھر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ تاہم ایپسٹین کے اثر و رسوخ کی بدولت یہ کیس دب گیا اور بغیر کسی مسئلے کے بند کر دیا گیا۔

ایپسٹین نے دھڑلے سے اس کے بعد اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، اس کے کاروبار اور تعلقات پھیلتے چلے گئے۔ اس کی گرل فرینڈ غزلین نے لڑکیوں کو ورغلانے، قائل کرنے اور انتظامات میں اس کی مدد کی۔ 2005 تک کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہ آیا۔

2005 میں فلوریڈا کے علاقے پام بیچ میں، جہاں ایپسٹین کا گھر تھا، پولیس کو ایک 14 سالہ لڑکی کی ماں کی جانب سے شکایت موصول ہوئی کہ اس کی بیٹی کو پیسوں کے عوض جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس نے تحقیقات شروع کیں، میڈیا بھی شامل ہو گیا اور کیس کو عوامی توجہ ملنے لگی۔ مزید متاثرہ افراد سامنے آنے لگے، یہاں تک کہ متاثرین کی تعداد 250 تک پہنچ گئی۔

2007 میں، سزا سے قبل جیفری ایپسٹین کو استثنا دے دی گئی۔یہ استثنا وفاقی اٹارنی جنرل کی جانب سے دیا گیا یہاں سے آپ جیفری کی طاقت کا اندازہ لگاسکتے ہیں-جو بعد میں ٹرمپ کے دور میں سیکریٹری آف لیبر بنا-

اس کے بعد 35 متاثرین کے ساتھ صلح کی گئی اور ان کو معاوضہ دیا گیا اور 2008 میں کیس بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد پھر خاموشی چھا گئی۔ پرانا کام دوبارہ شروع ہو گیا۔ اور اس کا جزیرہ مزید وسعت کے ساتھ چلتا رہا ولا،سوئمنگ پول، تفریحی مقامات ،لاؤنجز…بل کلنٹن، بل گیٹس، ٹرمپ، برطانوی شہزادہ اور دیگر نمایاں شخصیات اس جزیرے پر آتی جاتی رہیں۔

اس کا تعلقات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اس کی خدمات لینے والوں کی تعداد بڑھتی گئی، اور یہ سب کچھ اس دوران ہو رہا تھا جبکہ وہ موساد کے لیے کام کر رہا تھا۔

اور انہی خدمات کے عوض دنیا کے مختلف بااثر شخصیات کے درمیان کاروبار، اندرونی اور خارجی پالیسی کے معاملات میں ایک اہم کڑی بن گیا۔- جیسے 2009 میں زرداری گورنمنٹ نے شاہ محمود کا نام بھی کلیئرینس کے لیئے جیفری کے پاس بھیجا- خلیجی ممالک کے سیاستدان اسے جانتے تھے اور وہ انہیں جانتا تھا۔ اس کے ایجنٹس کئی ممالک میں موجود تھے۔

2018 میں میامی ہیرالڈ نے اس کیس پر تفصیلی تحقیقات شائع کیں اور ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا :انصاف کی بگڑی ہوئی شکل–ان تحقیقات میں 80 سے زائد متاثرین کے انٹرویوز شامل تھے۔

یوں یہ کیس ایک بار پھر عوامی رائے کا مرکز بن گیا۔تمام میڈیا ادارے، سوشل میڈیا اور عوام متحرک ہو گئے۔ حکام کو مجبوراً کیس دوبارہ کھولنا پڑا۔ تحقیقات کے بعد جولائی 2019 میں جیفری ایپسٹین کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 35 دن جیل میں رہا، جس کے بعد وہ بظاہر خودکشی کی حالت میں مردہ پایا گیا۔ اگرچہ قتل کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات موجود تھے کیمرے بند تھے، محافظ موجود نہیں تھے، وغیرہ وغیرہ-

حقیقت یہ ہے کہ اسے اس لیے قتل کیا گیا تھا تاکہ وہ تمام راز منظرِ عام پر نہ آسکیں جو اس کے پاس موجود تھے۔اور اس کو مارنے والی موساد ہی تھی- تحقیقات جاری رہیں اور کئی راز بے نقاب ہوئے۔ اس کی سب سے اہم معاون، غزلین، جو اس کے تمام معاملات میں اس کی شریک تھی، کو گرفتار کیا گیا اور اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ تقریباً 60 لاکھ دستاویزات قبضے میں لی گئیں، جن میں ای میلز، بیانات، مقدمات، تصاویر، ویڈیوز اور کیس سے متعلق ہر قسم کا مواد شامل تھا۔ تاہم، فائل کی حساسیت اور سنگینی کے باعث صرف 35 لاکھ دستاویزات عوام کے سامنے لائی گئیں، جبکہ باقی کو خفیہ رکھا گیا۔

یہ 35 لاکھ سے زائد دستاویزات ہی حیرت، صدمے اور چونکا دینے والے انکشافات کے لیے کافی ہیں۔ یہ معلومات اب بھی سامنے آ رہی ہیں اور تہہ در تہہ بے نقاب ہو رہی ہیں۔ یہ کیس دنیا کا سب سے بڑا اسکینڈل اور عالمی سطح پر سب سے اہم مقدمہ بن چکا ہے۔

عاصم چوھدری

نوٹ : صاحب مضمون کی طرف سے زرداری  حکومت کا ذکر بغیر کسی ثبوت یا کسی حوالے کے کیا گیا ہے باقی شاہ محمود کا ذکر ضرور فائلز میں آیا ہے۔