حضرت قبلہ طاغوت

اس سال کی رمضان ٹرانسمیشن نامی ڈرامے میں ایک اور خود ساختہ اسلامک اسکالر اور نمونے کا اضافہ ہوا ہے ۔

موصوف کو ساحل عدیم کہا جاتا ہے

ساحل عدیم نے اپنی زندگی کے دس سال زونگ کمپنی کی نوکری کرتے گزاردیے،
وہ عمر جب اہلِ مکتب چٹائیوں پر بیٹھ کر “قال اللہ” اور “قال الرسول” پڑھتے اور سمجھتے تھے، موصوف “زونگ سب کہہ دو” پڑھنے میں مصروف تھے۔

زونگ سے نکالے گئے۔

پھر ٹیلی نار میں اپنی قسمت آزمائی فرمائی، جبکہ تفسیر، فقہ اور دینی علوم سیکھنے کی عمر تھی، موصوف کالر ٹون لگوانے اور ہو ہو ہو کالر ٹون کے شوق میں مصروف تھے۔

ٹیلی نار سے بھی نکالے گئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی کچھ عرصہ رہے، وہاں سے بھی جلد آؤٹ کیے گئے۔

اپنی ٹریننگ کمپنی قائم کی، وہ بھی فلاپ ہوگئی۔

پھر موصوف نے مذہب کو کاروبار کا ذریعہ بنایا۔ انگریزی آنے کی وجہ سے، یہ دھندا جلد چلا اور لوگ ان کے بہکائے ہوئے خیالات سے متاثر ہونے لگے۔

قرآن کی آیات غلط پڑھتے ہیں،
تفاسیر میں دور کی کوڑی لاتے ہیں،
سائنس اور اسلام کو ملا کر مضحکہ خیز مسائل تخلیق کرتے ہیں، جس پر لبرلز ہنسیں یا نہ ہنسیں، جاہل طبقہ ان کو دانشور مان بیٹھتا ہے۔

موصوف اب جاہلوں کی سوسائٹی میں اتنے بڑے “دانشور” بن چکے ہیں کہ صدیوں کے اسلامی ادب اور مولوی کی محنت پر طنز کرنے لگے۔

مولوی کی محنت ان کے سینے میں چبھتی ہے، اور دین کے نام پر لگژری کا لطف اٹھانے والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

البتہ دین کی غلط تعبیر اور تاویلیں کرکے، لگژری گاڑیوں تک پہنچنا ان کے لیے “کامیابی” ہے۔

جس قوم کے ایسے پھدو قسم کے دانشور اور مذہبی سکالر ہوں اس قوم کا اللہ حافظ ہے

Copy Jamal Sahib Ki Wall Se

Follow Page Like Comments Tag Share

🫵🫵🫵🫵🫵🫵