ایک ہی سفر میں مدینہ منورہ کی 23 تاریخی زیارات
🕌 **ایک ہی سفر میں مدینہ منورہ کی 23 تاریخی زیارات**
**ایک قدم سے دوسرا — ایک مقام سے اگلا**
—
مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں…
یہ تاریخِ اسلام کا زندہ نقشہ ہے۔
ایک قدم رکھیں تو تاریخ شروع ہوتی ہے،
اگلا قدم رکھیں تو ایک اور واقعہ سامنے آتا ہے۔
**23 مقامات — ایک ہی سفر میں — ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔**
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 1 — بئر حاء**
*(مسجد نبوی، دروازہ نمبر 21 کے اندر — یہاں سے سفر شروع ہوتا ہے)*
دروازہ 21 سے داخل ہوں، بائیں طرف ڈبل ستون سے دروازہ 22 کے سامنے سنگل ستون کے درمیان فرش پر تین گول دائرے — یہی بئر حاء کی جگہ ہے۔
حضرت ابو طلحہ انصاریؓ مدینہ کے سب سے زیادہ کھجوروں کے مالک تھے۔ ان کا یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، پانی نہایت میٹھا اور ٹھنڈا تھا۔ نبی ﷺ اس باغ میں تشریف لاتے، پانی پیتے اور کبھی وضو بھی فرماتے۔
جب یہ آیت نازل ہوئی:
**”لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّىٰ تُنفِقُوا مِمّا تُحِبّون”**
*(آل عمران: 92)*
حضرت ابو طلحہؓ فوراً حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بیرحاء مجھے سب سے محبوب ہے، میں اسے اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: **”بخٍ! ذلك مالٌ رابح”** — یہ نفع بخش مال ہے۔
📚 *(صحیح بخاری: 1461، صحیح مسلم: 998)*
یہ ہے اصل قربانی۔
⬇️ *اب گیٹ 310 سے باہر نکلیں — چند قدم مغرب کی طرف*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 2 — سقیفہ بنو ساعدہ**
*(گیٹ نمبر 310 سے چند قدم مغرب)*
سقیفہ ایک چھپر یا سائبان کو کہتے ہیں۔ یہ بنو ساعدہ قبیلے کا اجتماعی مقام تھا۔
نبی ﷺ کے وصال کے فوراً بعد انصار یہاں جمع ہوئے اور سعد بن عبادہؓ کو خلیفہ بنانے پر غور کرنے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور ابو عبیدہؓ یہاں پہنچے۔ طویل گفتگو کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ تھاما اور بیعت کی، پھر سب نے بیعت کی۔
نبی ﷺ نے فرمایا تھا: **”الأئمة من قريش”**
📚 *(صحیح بخاری: 3668، 6830، صحیح مسلم: 1759)*
امت قیادت کے بغیر نہیں رہ سکتی۔
⬇️ *یہاں سے شمال مغرب میں ڈبل سڑک کے پار*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 3 — میدانِ سبق**
*(سقیفہ سے شمال مغرب، ڈبل سڑک کے پار)*
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں دبلی تھی تو نبی ﷺ سے دوڑ لگائی اور جیت گئی۔ کچھ عرصے بعد جب وزن بڑھا تو دوبارہ دوڑ ہوئی، اس بار آپ ﷺ جیت گئے اور فرمایا:
**”هذه بتلك”** — یہ اس کا بدلہ ہے۔
📚 *(سنن ابو داؤد: 2578، سنن ابن ماجہ: 1979، مسند احمد: 25411)*
یہ بتاتا ہے: گھریلو زندگی میں خوشی، کھیل اور محبت سنت ہے۔
⬇️ *اسی میدان کے شمال مغربی کونے میں چھوٹی سڑک کے پار*
━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 5 — مقامِ وداع**
*(میدانِ سبق کا چوک)*
یہ مدینہ کا وہ دروازہ تھا جہاں سے شمال کی طرف سفر شروع ہوتا تھا۔ یہاں سے مجاہدین اور مبلغین کو رخصت کیا جاتا۔
یہاں کا سب سے مشہور واقعہ — نبی ﷺ حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن روانہ کرتے وقت پیدل ساتھ آئے اور فرمایا:
**”يا معاذ، إني أحبك، فلا تدعنَّ في دبر كل صلاة: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك”**
📚 *(سنن ابو داؤد: 1522، مسند احمد: 22119)*
دعوت اور جدوجہد ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔
⬇️ *اسی چوک سے احد کی طرف والا راستہ پکڑیں*۔۔۔طریق سیدالشہدا
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 6 — طریقِ شہدائے احد۔۔۔طریق سیدالشہدا**
*(چوک سے احد کی طرف)*
7 شوال 3 ہجری — نبی ﷺ ایک ہزار صحابہؓ کے ساتھ اسی راستے سے روانہ ہوئے۔ راستے میں عبداللہ بن ابی منافق تین سو آدمیوں کو لے کر پلٹ گیا۔ آپ ﷺ نے پھر بھی آگے بڑھنے کا فیصلہ فرمایا۔
اس سفر میں 70 صحابہؓ نے جامِ شہادت نوش کیا — سیدنا حمزہؓ، مصعب بن عمیرؓ اور عبداللہ بن جحشؓ۔
📚 *(صحیح بخاری: 3906، صحیح مسلم: 1789، سیرت ابن ہشام: 3/68)*
یہ صرف سڑک نہیں — یہ قربانی اور صبر کا راستہ ہے۔
⬇️ *اسی راستے پر ڈیڑھ کلومیٹر — بائیں طرف دیکھیں*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 7 — مسجدِ دراع**
*(طریقِ احد ۔۔۔۔۔۔طریق سیدالشہدا پر ڈیڑھ کلومیٹر، بائیں طرف)*
یہاں عبداللہ بن ابی منافق نے کہا: ہم نہیں جانتے لڑیں یا نہ لڑیں — اور تین سو منافقین کو لے کر واپس پلٹ گیا۔ قرآن نے اسے یاد رکھا:
**”وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ”**
*(آل عمران: 167)*
نبی ﷺ نے یہاں چند نمازیں بھی ادا فرمائیں۔
📚 *(سیرت ابن ہشام: 3/66، وفاء الوفاء: 3/837)*
کمزور ایمان میدان میں کھڑا نہیں رہتا۔
⬇️ *تھوڑا اور آگے بڑھیں — بائیں طرف*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 8 — مسجدِ مستراحہ**
*(مسجد دراع سے تھوڑا آگے، بائیں طرف)*
غزوہ احد سے واپسی پر نبی ﷺ تھکاوٹ اور زخموں کے ساتھ یہاں رکے۔ زرہ اتاری اور آرام فرمانے لگے۔
اسی وقت جبرائیلؑ تشریف لائے:
**”فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے — بنو قریظہ کی طرف بڑھیں”**
نبی ﷺ نے فوراً حکم دیا اور صحابہؓ کو عصر سے پہلے بنو قریظہ پہنچنے کا ارشاد فرمایا۔
📚 *(صحیح بخاری: 4117، صحیح مسلم: 1769، زاد المعاد: 3/298)*
مومن آرام میں بھی تیار رہتا ہے۔
⬇️ *اب واپس مڑیں — رنگ روڈ پر عنبریہ کی طرف*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 9 — بئر سقیا**
*(عنبریہ، ترکی ریلوے اسٹیشن کے جنوبی حصے میں)*
17 رمضان 2 ہجری — غزوہ بدر کی روانگی کے موقع پر نبی ﷺ نے یہاں پڑاؤ کیا، نماز ادا فرمائی، پھر اہلِ مدینہ کے لیے دعا فرمائی:
**”اللهم بارك لهم في مكيالهم وصاعهم ومدهم”**
*(اے اللہ! ان کے ناپ تول اور پیمانوں میں برکت دے)*
📚 *(صحیح مسلم: 1374، صحیح بخاری: 1885)*
یہ دعا آج بھی مدینہ کی برکتوں کی بنیاد مانی جاتی ہے۔
⬇️ *عمر بن خطاب روڈ پر مغرب کی طرف تھوڑا آگے*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 10 — مسجدِ منارتین**
*(عمر بن خطاب روڈ پر دو میناروں والی مسجد)*
ایک دن نبی ﷺ صحابہؓ کے ساتھ گزرے۔ راستے میں ایک مری ہوئی بکری کا بچہ پڑا تھا۔ آپ ﷺ نے اٹھایا اور فرمایا:
**”أترون هذا هيّناً؟ فوالذي نفسي بيده، للدنيا أهون على الله من هذا عليكم”**
*(کیا تم اسے بے قدر سمجھتے ہو؟ دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بے قدر ہے)*
📚 *(صحیح مسلم: 2957، سنن ابن ماجہ: 4111)*
یہ مسجد مولانا حسین احمد مدنیؒ کے بھتیجے نے اسی یادگار مقام پر تعمیر کروائی۔
⬇️ *مسجد سے ملحق دائیں سڑک پر مڑیں، پھر دوبارہ دائیں*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 11 — مسجدِ دینار**
*(مسجد منارتین کے قریب، دائیں طرف)*
یہ مسجد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خاندانی محلے کے قریب تھی۔ خود خلیفہ بن کر بھی کپڑے کی تجارت کرتے، اپنے ہاتھ سے کام کرتے، بیت المال سے صرف اتنا لیتے جتنا ضروری تھا۔ وفات کے وقت فرمایا: جو میں نے بیت المال سے لیا واپس کر دو۔
📚 *(طبقات ابن سعد: 3/197، البدایہ والنہایہ: 6/336)*
سادگی اور تقویٰ — یہی ان کی پہچان تھی۔
⬇️ *واپس مڑ کر مغرب کی طرف اسی سڑک پر چلیں*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 12 — آلِ حسینؓ کے مکانات**
*(اسی سڑک پر مغرب کی جانب، بغیر چھت کے پرانے مکانات)*
10 محرم 61 ہجری — کربلا کی المناک شہادت کے بعد سیدنا علی بن حسینؓ (زین العابدینؓ) اہلِ بیت کو لے کر مدینہ واپس آئے اور یہاں قیام کیا۔
یہ مکانات آج بھی اسی حال میں کھڑے ہیں — بغیر چھت کے — جیسے وقت رک گیا ہو۔
📚 *(تاریخ الطبری: 5/461، البدایہ والنہایہ: 8/203)*
یہ مقام دکھ بھی ہے… اور صبر بھی۔
⬇️ *دوبارہ عمر بن خطاب روڈ پر آئیں — ڈیڑھ دو کلومیٹر آگے*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 13 — قلعہ عروہ بن زبیرؓ**
*(عمر بن خطاب روڈ پر بائیں طرف، ہلکی پیلی بڑی عمارت)*
حضرت عروہ بن زبیرؓ — علم حدیث کے عظیم امام، فقہائے سبعہ میں شامل، حضرت عائشہؓ کے بھانجے۔
ان کی ٹانگ گینگرین کی وجہ سے کاٹنی پڑی، اسی رات بیٹا گھوڑے سے گر کر شہید ہو گیا — مگر انہوں نے کہا:
**”اللہ نے لیا تو اللہ کا ہی تھا، اللہ نے دیا تو اللہ کا ہی ہے”**
📚 *(حلیۃ الاولیاء: 2/176، تاریخ ابن عساکر: 40/249)*
⬇️ *اسی کے مغربی جانب پل پر*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 14 — وادی عقیق**
*(عمر بن خطاب روڈ پر پل — قلعہ عروہ کے مغرب میں)*
نبی ﷺ نے فرمایا:
**”أتاني الليلة آتٍ من ربي فقال: صلِّ في هذا الوادي المبارك”**
📚 *(صحیح بخاری: 1534)*
حضرت عمرؓ نے یہاں زمین لی، حضرت علیؓ کا بھی یہاں باغ تھا۔ آج پل کے نیچے پانی نہیں مگر وادی کا نشان باقی ہے۔
📚 *(وفاء الوفاء: 4/1192)*
یہ مدینہ کے قدرتی حسن اور روحانیت کا ملاپ ہے۔
⬇️ *رنگ روڈ پر آ کر قباء کو بائی پاس کریں*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**🔵 15 — قلعہ کعب بن اشرف**
*(رنگ روڈ پر قباء کے بعد)*
کعب بن اشرف — یہودی قبیلے بنو نضیر کا سردار۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح پر مکہ گیا، مشرکین کو انتقام پر اکسایا، مسلمان عورتوں کے بارے میں بے حیائی کی شاعری کی۔
نبی ﷺ نے فرمایا: **”من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله”**
حضرت محمد بن مسلمہؓ نے 3 ہجری میں اسے اس کے قلعے میں واصلِ جہنم کیا۔
📚 *(صحیح بخاری: 4037، صحیح مسلم: 1801)*
فتنہ جب حد سے بڑھے، فیصلہ بھی آتا ہے۔
⬇️ *واپس اسی روڈ پر — مدرسہ حفظ کے بعد بائیں*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
** 16 — باغِ عبدالرحمن بن عوفؓ**
*(رنگ روڈ پر مدرسہ حفظ کے بعد)*
مدینہ ہجرت کے وقت خالی ہاتھ آئے۔ انصاری بھائی نے آدھی دولت دینی چاہی تو کہا: بس بازار کا راستہ بتاؤ۔ جلد ہی اتنے امیر ہوئے کہ سات سو اونٹوں کا تجارتی قافلہ ایک دن میں مدینہ داخل ہوا۔
مگر فرماتے: مجھے ڈر ہے کہ میری دولت مجھے جنت سے روک نہ دے۔
*(صحیح بخاری: 2048، سنن ترمذی: 3749)*
دولت اور دین ساتھ چل سکتے ہیں — اگر نیت صاف ہو۔
*قباء کی مشرقی سڑک کا چوک کراس کریں، قربان روڈ پر*
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
**17 — خاکِ شفا**
*(قربان روڈ سے مسجدِ جمعہ روڈ پر دائیں، چھوٹی گلی میں بڑا ویران احاطہ)*
یہ خاموش مقام روحانی نسبت رکھتا ہے۔ اہلِ مدینہ یہاں کی مٹی کو بیماری میں تبرک کے طور پر استعمال کرتے اور شفا پاتے تھے۔
*(وفاء الوفاء: 3/861 از سمہودی)*
*تھوڑا آگے بائیں — الشاوی سکول کے پاس*
**🔵 18 — بئرِ غرس**
*(الشاوی سکول کے ساتھ، قباء کے قریب)*
**💧 ایک خاموش مگر خوبصورت نسبت**
یہ مدینہ کے پرانے باغاتی علاقے کا ایک سادہ کنواں ہے۔
نہ بڑی عمارت، نہ نمایاں ہجوم —
مگر اس کے ساتھ ایک ایسی نسبت جڑی ہے جو دل کو جھکا دیتی ہے۔
**”غرس”** کے معنی ہیں پودا لگانا اور نشوونما دینا —
گویا یہ وہ جگہ تھی جہاں صرف درخت نہیں، ایک پورا ماحول پروان چڑھتا تھا۔
بعض روایات میں نبی ﷺ سے یہ الفاظ منقول ہیں:
**”إذا مت فاغسلوني من بئر غرس”**
*(جب میں وفات پاؤں تو مجھے بئر غرس کے پانی سے غسل دیا جائے)*
*(طبقات ابن سعد، المعجم الکبیر للطبرانی، سنن ابن ماجہ: 1468)*
**⚖️ علمی توازن — جو سمجھنا ضروری ہے:**
آپ ﷺ کا اس کنویں کو پسند فرمانا اور وصیت کرنا روایات سے ثابت ہے۔
البتہ عین غسلِ مبارک کے وقت اسی کنویں کا پانی استعمال ہوا یا نہیں —
اس پر کوئی قطعی اور متفق علیہ روایت موجود نہیں۔
بعض مورخین جیسے ابن سعد اور ابن کثیر نے اسے نقل کیا ہے —
مگر **”نقل کرنا”** اور **”قطعی ثابت ہونا”** دو الگ باتیں ہیں۔
اس لیے یہاں توازن یہ ہے:
نہ اسے بڑھا چڑھا کر بیان کریں،
نہ اسے نظر انداز کریں۔
بس اسے ایک **خوبصورت نسبت** کے طور پر دیکھیں —
محبت، ادب اور سمجھ تینوں کو ساتھ لے کر۔
مدینہ کے دیگر مشہور کنوؤں — بئر اریس، بئر رومہ، بئر بضاعہ — کے ساتھ
یہ کنواں بھی ایک خاموش مگر معنی خیز مقام ہے۔
*یہاں سے آدھا کلومیٹر دائیں طرف*
19 — باغِ سلمان فارسیؓ**
*(بئر غرس سے آدھا کلومیٹر، دائیں طرف — پرانا کنواں اور ٹیوب ویل موجود)*
ایران کے شہر اصفہان کے ایک آتش پرست خاندان سے نکلے، سچائی کی تلاش میں عیسائی راہبوں کے پاس رہے، غلام بنے، مدینہ پہنچے اور نبی ﷺ کے صحابی بنے۔
آزادی کے لیے تین سو کھجور کے درخت لگانے کی شرط تھی۔ تمام صحابہؓ نے مل کر درخت لگائے، نبی ﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے ایک درخت لگایا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
**”سلمان منا أهل البيت”**
*(مستدرک حاکم: 6541، طبقات ابن سعد: 4/75)*
*واپس جمعہ روڈ پر — دائیں طرف تھوڑا آگے*
20 — باغِ مزدوریِ علیؓ**
*(جمعہ روڈ پر دائیں طرف)*
حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کو گھر میں سخت تنگی تھی۔ حضرت علیؓ نے ایک یہودی کے باغ میں کنویں سے پانی نکالنے کا کام کیا — ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور۔
سولہ ڈول پانی نکالا اور سولہ کھجوریں لے کر گھر آئے۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو آئے مگر شکوہ نہ کیا۔
*(مسند احمد: 560، سنن ابن ماجہ: 2446)*
عظمت محنت سے بنتی ہے، نسب سے نہیں۔
*واپس مڑ کر مسجدِ جمعہ کی طرف*
21 — مسجدِ جمعہ**
*(جمعہ روڈ — بنو سالم کے محلے میں)*
1 ہجری — ہجرتِ مدینہ کے بعد نبی ﷺ قباء سے مدینہ روانہ ہوئے، جمعہ کا دن تھا۔ آپ ﷺ نے بنو سالم بن عوف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور اسلام کا **پہلا جمعہ** ادا فرمایا۔ یہ پہلا خطبہ جمعہ تھا جو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
📚 *(سنن ابو داؤد: 1069، سنن ابن ماجہ: 1082، سیرت ابن ہشام: 2/147)*
یہ اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد ہے۔
*مسجدِ جمعہ کے بالکل سامنے*
22 — مقامِ استقبال — طلع البدر علینا**
*(مسجدِ جمعہ کے سامنے — مدرسہ اقصیٰ)*
1 ہجری ربیع الاول — نبی ﷺ ثنیاتِ وداع کی پہاڑیوں سے اترے تو انصار کی بچیاں دف بجاتے ہوئے استقبال کے لیے نکل آئیں:
**طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا — مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ**
**وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا — مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعٍ**
*(ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا — ثنیاتِ وداع کی پہاڑیوں سے)*
*(ہم پر شکر واجب ہو گیا — جب تک اللہ کا کوئی داعی پکارتا رہے)*
📚 *(دلائل النبوۃ از بیہقی: 2/233، البدایہ والنہایہ: 3/196)*
یہ تاریخ کا سب سے خوبصورت استقبال ہے۔
مسجدِ جمعہ سے دائیں طرف — آخری پڑاؤ
23 — راہِ نبوی ﷺ تا قباء
(مسجدِ جمعہ سے دائیں طرف پیدل راستہ — سفر کا اختتام)*
ہر ہفتہ نبی ﷺ پیدل یا سواری پر مسجدِ قباء تشریف لے جاتے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
**”من تطهر في بيته ثم أتى مسجد قباء فصلى فيه ركعتين كان كأجر عمرة”**
*(جو گھر سے طہارت کر کے مسجدِ قباء آئے اور دو رکعت پڑھے، اسے عمرے کا ثواب ملے گا)*
📚 *(سنن ابن ماجہ: 1412، سنن ترمذی: 324، سنن نسائی: 699)*
مسجدِ قباء — اسلام کی سب سے پہلی مسجد:
**”لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ”**
*(التوبہ: 108)*
اگر واقعی کچھ محسوس کرنا ہو…
**تو اس راستے پر پیدل چل کر دیکھیں۔
یہ کوئی عام سیاحتی فہرست نہیں—
یہ ایک مکمل سفر ہے
جو مسجد نبوی سے شروع ہوتا ہے
اور راہِ نبوی پر ختم ہوتا ہے۔
**23 مقامات — ایک ہی دن میں — ایک ہی راستے پر۔
مدینہ کو صرف آنکھوں سے نہ دیکھیں…
اسے دل سے محسوس کریں۔
“یہاں وہ چلے جن کا نام لیتے ہی دل جھک جاتا ہے۔”
اللہ ہمیں بار بار اس پاک سرزمین کی زیارت نصیب فرمائے۔ آمین
**شیئر کریں — شاید کسی زائر کے کام آئے۔