تین بار دہراتے

حدیث نمبر :206

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ سمجھ لیا جائے ۱؎ اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار سلام کرتے ۲؎ (بخاری)

شرح

۱؎ لفظ سے مراد پوری بات ہے،یعنی مسائل بیان کرتے وقت ایک ایک مسئلہ تین تین بار فرماتے تاکہ لوگوں کے ذہن میں اتر جائے ہر کلام مراد نہیں۔اسی لیئے صاحب مشکوٰۃ اس حدیث کو”کتاب العلم”میں لائے۔

۲؎ ایک سلام اجازت حاصل کرنے کا،دوسرا ملاقات کا،تیسرا رخصت کا،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور بوقت ملاقات ایک سلام کرتے تھےکیونکہ وہاں صرف ملاقات کا سلام مراد ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ گھر میں داخلے کی اجازت کے لئے شور نہ مچائے،بہت دروازہ نہ پیٹے،بلکہ صرف یہ کہے السلام علیکم آجاؤں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے اور جانے والا سلام کرے اگرچہ بڑا ہو۔

مالک : سیرت مصطفیٰ کے آئینے میں

مالک:سیرت مصطفیٰ کے آئینے میں

محمد ابرار عالم مصباحی

حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ ایک شخص نے پوچھا:یارسول اللہ! میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ فر مایا: روزانہ ستربار

ایک اچھا اور عمدہ مالک ہونے کی حیثیت سے ہمارا سلوک اپنے غلاموں اور نوکروں کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے، اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے لیے بہترین نمونۂ عمل اور آپ کی تعلیمات بہترین تعلیم ہیں ۔

 خادموں کے ساتھ سلوک 

 

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا ، لیکن واللہ! آپ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہااور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ یا فلاں کام کیوں کیا؟۔ (مسلم، کتاب الفضائل،حدیث:۲۳۰۹)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سب سے اچھے تھے ،آپ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا ،میں نے کہا :واللہ! میں نہیں جائوں گا ،حالاںکہ میرے دل میں تھا کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جس کام سے بھیج رہے ہیں میں وہ کام کرنے ضرور جائوں گا۔پھرمیں چلا گیا یہاں تک کہ میں بازار میں کھیلنے والے چند لڑکوں کے پاس سے گزرا تو میں کھیلنے میں مشغول ہوگیا۔جب تاخیر ہوئی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری تلاش میں نکلےاورمجھے کھیلتا ہو ا پایا، پھرمشفقانہ انداز میں پیچھے سے میری گدی پکڑلی ۔حضرت انس کابیان ہے کہ جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے ۔ آپ نے فر مایا:انس ! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے کہا تھا ؟ میں نے کہا: جی! میں ابھی جارہاہوں یارسول اللہ! (مسلم،کتاب الفضائل ،حدیث:۲۳۱۰)

 اس کے باوجود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ان کو ڈانٹ پلائی اورنہ ہی سزا دی، بلکہ مسکرا تے رہے اور شفقت و محبت کے موتی لٹاتے رہے ۔خادموں کے ساتھ اس طرح کا حسن سلوک اور ایساپیارا انداز نہ صرف اُن کے دلوں میں مالک کی محبت پیدا کرتا ہے، بلکہ انھیں مالک کی اطاعت و فرماںبرادری پربھی ابھارتا ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہ مارا،نہ کسی نوکرکو اور نہ ہی کسی عورت کو۔ (شمائل ترمذی،ص:۵۹۶)

 حضور نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا اپنے خادموں اورماتحتوں پر شفقت و محبت کا اندازہ اس واقعے سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت زید بچپن میں اپنے والدین سے بچھڑ گئےتھے اور غلام کی صورت میں حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پہنچے تھے۔ایک زمانے تک ان کے والدین ان کے فراق و جدائی میں روتے رہے اور انھیں ڈھونڈتے رہے۔حضرت زید کی تلاش میں ان کے والد نے کئی ملکوں کے خاک چھانا اور جب انھیں پتا چلا کہ ان کا لخت جگر مکہ میں ہیں تواُنھیں واپس لانے کے لیےانتہائی بے قراری کے عالم میں مکہ پہنچے۔چنانچہ جب حضرت زید کویہ اختیار دےدیا گیا کہ چاہو تو اپنے والد کے ساتھ گھر چلے جائو اور چاہو تو یہیں رہو۔

ایسےنازک موقع پربھی حضرت زید بلاجھجھک یہ کہتے نظر آئے:

مَاأنَا بِالَّذِی أخْتَارَ عَلَیْکَ أحَدًا أنْتَ مِنِّی مَکَانَ الَأبِ وَالْعَمِّ۔

یعنی یا رسول اللہ !میں ایسا نادان نہیں ہوں کہ آپ کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ چلا جائوں، آپ ہی میرے باپ ہیں اور آپ ہی میرے چچا ہیں۔

یہ دیکھ کر اُن کے والد نے کہاکہ زید!صد افسوس کہ تم آزادی کے بجائے غلامی کو اور اپنے ماں باپ کے بجائے اِن(نبی کریم ) کو پسند کر رہے ہو ،تمھیں کیا ہوگیا ہے؟

 زید تو اخلاق مصطفی کے اسیر ہوگئے تھے کہنے لگے :

 آ پ کو کیا معلوم ؟جس ہستی کی غلامی پر میں نے آزادی کو اور اپنے ماں باپ اور سارے خاندان کو قربان کر رہا ہوں ، وہ ہستی کتنی دلربا اور کتنی دلکش ہے،میں اُنھیں چھوڑ کر کہیں اورجانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ (ضیاء النبی،جلد:۲،ص:۱۵۸-۱۵۹)

مزدوروں اور ماتحتوں کے تعلق سے ہدایات نبوی 

 

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے خادموں کے ساتھ حسن سلوک فر ماتے تھےاسی طرح اپنی امت کو بھی یہ تمام ہدایات عطا فر مائیں،ان میں سے کچھ افادۂ عام کی خاطر پیش کیے جارہے ہیں:

 ۱۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایاکہ سنو! اپنے غلاموں کا خیال رکھو ، غلاموں کا خیال رکھو، انھیں وہی کھلائو جو تم خود کھاتے ہو، اُنھیں وہی لباس پہنائو جو تم خودپہنتے ہو۔زمانۂ جاہلیت کی ساری چیزیں میں نے اپنے پیروں سے روند دی ہیں ۔البتہ! تم اُنھیں غلطیوں پر معمولی سزائیں دے سکتےہو،لیکن اگر وہ باز آجائیں تو اُنھیں اچھی طرح کھلائو پہناؤ۔

۲۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں جسے اللہ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے۔چنانچہ ہر وہ شخص جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو، اُسے اپنے کھانے سے کھلائے، اپنےلباس سے پہنائے اور اُس پر کاموں کا اتنا بوجھ نہ ڈالے کہ وہ نہ کر سکے اور اگر زیادہ بوجھ ڈالے تو اس کام میں اُس کی مدد ضرورکی جائے۔ (سنن تر مذی،حدیث:۱۹۴۵،بخاری،حدیث:۲۵۴۵)

۳۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہاتھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا: ابن مسعود! جان لو، ابن مسعود! جان لو،جب میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔آپ نے ارشاد فر مایاکہ جتنا تم اس غلام پر قادر ہو اُس سے زیادہ اللہ تم پر قادر ہے۔حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے اپنے غلام کو کبھی نہیں مارا۔ (مسلم،حدیث:۱۶۵۹)

۴۔حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جنھیں دھوپ میں کھڑا کرکے اُن کے سروں پر تیل ڈالا جارہا تھا ۔یہ دیکھ کر میں نے کہاکہ یہ کیا معاملہ ہے؟ بتا یا گیا کہ ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے سزا دی جارہی ہے۔آپ نے کہا:سن لو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سناہے کہ جو لوگ دنیا میں سزا دیتے ہیں اللہ انھیں یقیناًسزا دےگا۔ (مسلم،حدیث:۲۶۱۳)

۵۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کابیان ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ،اور پوچھا : یارسول اللہ !میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے،پھر انھوں نے کہا :یارسول اللہ!میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ آپ نے فر مایا: روزانہ ستربار۔ (سنن ترمذی،حدیث:۱۹۴۹)

۶۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضورنبی کریم نے فر مایا:

بد کردار مالک جنت میں نہیں جائےگا۔ (سنن ترمذی،حدیث:۱۹۴۶)

۷۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

جس نے اپنے غلام کو کوئی بری بات کہی اس پر قیامت کے دن حد (یعنی سزا)قائم کی جائے گی ،مگر یہ کہ وہ ویسا ہی ہو(تو نہیں)۔ (ترمذی،حدیث:۱۹۴۷)

۸۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

مزدوروں کوپسینہ سوکھنے سے پہلے اجرت دے دو۔ (سنن ابن ماجہ،باب اجرالاجراء ،حدیث:۲۴۴۳)

۹۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کا قیامت کے دن میں خود مدعی بنوں گا(یعنی اس کے خلاف لڑوں گا)ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور پھر وعدہ خلافی کی (یعنی کسی کو میرا نام لے کر یقین دلادیا اور جب اس نے میرے نام کی وجہ سے یقین کر لیا تو اس نے دھوکا دے دیا)۔دوسرا وہ شخص جس نے آزاد آدمی کو بیچ کر اُس کی قیمت کھا گیااورتیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدوری پر رکھا ، پھر کام تو اس سے پورا لیا لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔ (بخاری،کتاب الاجارۃ،حدیث:۲۲۷۰)

ان تمام باتوں سے واضح ہوتاہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کیے بغیر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔

میدان جنگ اور اخلاقِ حسنہ

میدان جنگ اور اخلاقِ حسنہ

صاحبزادہ امداد حسین صاحب

میدان جنگ غیض و غضب‘ فساد و تخریب‘ قتل و غارتگری کے جذبات کی سب سے بڑی آماجگاہ ہوتا ہے۔ چنانچہ تاریخ کی ابتداء سے لے کر آج تک اگر دنیا کی غیر اسلامی جنگوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ میدان جنگ میں دو متحارب گروہ کسی بھی اخلاقی ضابطے کی پابند نہیں ہوتے اور ہر ایک فریق کا مدعا ہوتاہے کہ دوسرے فریق کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیا جائے خواہ اس کے لئے کیسی ہی بربریت کا مظاہرہ کیوں نہ کرنا پڑے۔

چنانچہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے 4 سو سال بعد قسطنطنین اعظم نے جب بنام مذہب یہودیوں پر لشکر کشی کی تو ان کا اس طرح قتل عام کیا کہ تاریخ آج بھی اس کے تصور سے لرزہ براندام ہے۔ بابل کا بادشاہ بخت نصر جب بیت المقدس میں فاتحانہ داخل ہوا تو اس نے ایک بھی انسان اور جانور کو زندہ نہیں چھوڑا اور جب اس کے غیض و غضب کی آگ انسانوں اور حیوانوں کے خون سے بھی نہ بجھ سکی تو اس نے دیار قدس کے تمام آثار کو مٹانا شروع کردیا اور ایک مدت تک اپنی جنگی جنون کی تسکین کے لئے وہاں کے کھیتوں اور درختوں کو جلاتا رہا۔

روم اور ایران کی جنگیں جو صدیوں کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں‘ قیصر و کسریٰ کے جنگی جنون کی بھیانک ترین مثالیں ہیں۔ بارہا کسریٰ نے قیصر پر غلبہ حاصل کیا تو ایران کی تباہی و بربادی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور یونہی جب جب کسریٰ نے قیصر پر فتح پائی تو عورتوں‘ بوڑھوں اور بچوں کا قتل عام کیا۔

چنگیز اور ہلاکو کی فوجوں نے جب بعض اسلامی شہروں کو تخت و تاراج کیا تو گھروں میں محصور مسلمانوں نے اپنے ننھے ننھے بچوں کو اس امید پر التجائے رحم کرنے کے لئے بھیجا کہ بے قصور اور معصوم بچوں پر دست ظلم نہ اٹھ سکے گا۔ آخر چنگیزیوں کے گھروں میں بھی تو بچے ہوں گے مگر ظالم فوجی افسروں نے اپنے مسلح فوجیوں کو حکم دیا کہ ان بچوں کو گھوڑوں کے سموں سے روند دیا جائے۔

یہ تو بخت نصر قسطنطین اعظم‘ قیصر و کسریٰ اور چنگیز و ہلاکو کے دور کی مثالیں تھیں لیکن آج کا دور تو ان ادوار گزشتہ سے بھی زیادہ بھیانک نقشہ جنگ پیش کررہا ہے۔ پہلے تو جنگ میدان جنگ میں ہوتی تھی اور دو متحارب فوجیں آمنے سامنے ہوکر نبرد آزما ہوا کرتی تھیں۔ مگر آج کے نقشہ جنگ کو ترتیب دینے والے لوگ سب سے پہلے آبادیوں‘ فیکٹریوں‘ صنعتی اور تعلیمی اداروں ار دیگر اقتصادی اور فلاحی مراکز کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں تاکہ مقابل قوم کی اقتصادی اعتبار سے کمر ٹوٹ جائے اور وہ بہت دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ آج کے انسان نے تخریبی توانائیوں کو بے جان ہتھیاروں کے حوالہ کرکے پوری دنیا کو موت کے دروازہ پر پہنچا دیا ہے اور کسی وقت بھی انسان کی جنگی وحشت کی نمود دنیا کے اوپر ہزاروں ہیروشیما اور ناگا ساکی جنم دے سکتی ہے۔

چنانچہ آج کے دور کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ دنیا کے سامنے اسلامی جہاد کی ان اعلیٰ ترین اخلاقی قدروں کو پیش کیا جائے جن کوپیش نظر رکھنے کے بعد حالت جنگ میں بھی انسان جذبات سے مغلوب نہ ہوں بلکہ ان کے سامنے اس کا وہ عظیم نصب العین ہو‘ جس کے لئے انہوں نے جنگ کی ناگزیر راہ اختیار کی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دنیا کی جنگجو طاقتوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ جنگوں سے فساد فی الارض کے بجائے اصلاح فی الارض اور ظلم کے بجائے ظالم سے مظلوم کے حقوق دلانے کا کام لیں۔

اسلام میدان جنگ میں جانے سے پہلے مجاہدین کا یہ مزاج بنادیتا ہے کہ ان سے ظلم سرزد ہی نہ ہوسکے۔ خواہ وہ کتنے ہی غصہ کی حالت میں کیوں نہ ہوں۔ وہ انہیں اس بات کی ہدایت کرتا ہے کہ حالت غیض و غضب میں بھی انسانی حقوق کو ملحوظ رکھیں۔ اسلام ان کے ذہن میں یہ بٹھا دیتا ہے کہ رحم و کرم عفو و درگزر ہی انسان کوخدا کے قریب کرسکتے ہیں اور ظلم خدا کی رحمت سے دور کردیتا ہے اور چونکہ ایک مومن میدان جنگ میں بھی رضائے الٰہی تلاش کرنے کے لئے نکلتا ہے۔اس لئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتا جس میں اﷲ کی ناراضگی کا خطرہ ہو۔

احادیث مبارکہ میں رسول اﷲﷺ نے باربار رحم اور محبت کی تاکید فرمائی ہے۔

من لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا فلیس منا  (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح )

ترجمہ: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے

ارحموا من فی الارض رحمکم من فی السمآء(البخاري في الأدب المفرد ، وأبو داود ، والترمذي)

ترجمہ: زمین والوں پر رحم کرو‘ آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

ان اﷲ رفیق یحب الرفق (رياض الصالحين)

ترجمہ: اﷲ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

چونکہ اسلام کی اساس ہی رحم و محبت پر رکھی گئی ہے۔ اس لئے اسلام جنگ کی اس وقت اجازت دیتا ہے جبکہ دنیا کی اصلاح اور مظلوم کی دادرسی کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہ رہ جائے‘ چنانچہ قرآن عظیم مقصد جہاد کی وضاحت ان الفاظ میں فرماتا ہے۔

ولولا دفع اﷲ الناس بعضم ببعض لفسدت الارض ولٰکن اﷲذوفضل علی العالمین (البقرہ 251)

ترجمہ: اگر اﷲ بعض کی ظلم کو بعض سے دفع نہ فرماتا تو زمین پر فساد برپا ہوجاتا لیکن اﷲ تمام عالم پر بہت زیادہ فضل فرمانے والا ہے۔

میدان جنگ میں باطل قوتوں کی سرکوبی اور ظلم کا استیصال مظلوم دنیا کیلئے فضل الٰہی ہے اور یہ فضل اس وقت تک فضل رہے گا جب تک کہ مظلوم ظالم سے اپنے حقوق زندگی حاصل کرنے کے بعد انہیں راہوں پر نہ چلنے لگے جن پر چل کر ظالم قوت سے اپنی پاداش کوپہنچی ہے۔

اسلام کی اعلیٰ ترین ہدایات سے ہٹ کر جب بھی جنگ ہوگی‘ ہوسکتا ہے کہ ابتداء اس کا نصب العین مظلوم کی دادرسی ہی رہی ہو لیکن جب فتح حاصل ہوجاتی ہے تو وہ بھی وہی کردار پیش کرتی ہے جو اسکے سامنے ظالم قوم پیش کرتی رہی ہے۔ اس طرح سے ظلم وجبر کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہوجاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسکے برعکس اسلام نے سختی سے حکم دیا ہے کہ حالت جنگ میں عدل وانصاف کو برقرار رکھا جائے چنانچہ قرآن عظیم ارشاد فرماتا ہے

لاتعتدوا ان اﷲ لایحب المعتدین(البقرہ 190)

ترجمہ: حد سے نہ گزرو بے شک اﷲ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔

لایجرمنکم شنان قوم علیٰ ان لا تعدلوا اعدلوا ہوا اقرب لتقویٰ ( المائدہ 8)

ترجمہ: کسی قوم سے انتقاماً جذبات تم کو عدل سے باز نہ رکھیں انصاف کرو‘ اس لئے کہ انصاف تقویٰ سے قریب ہے۔

جنگ کے سلسلے میں اسلام نے جو اخلاقی پابندیاں بصورت قانون عائد فرمائی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔

1۔ اعلان جنگ کے بغیر دشمن پر حملہ نہ کیا جائے۔

2۔ شکست خوردہ دشمن کا تعاقب نہ کیا جائے۔

3۔ ہتھیار ڈالنے والوں پر تلوار نہ اٹھائی جائے۔

4۔ بچوں‘ بوڑھوں‘ عورتوں‘ عبادت گزاروں‘ خانقاہ نشینوں‘ راہبوں اور تارک الدنیا افراد سے تعرض نہ کیاجائے۔

5۔ قیدیوں کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتائو کیا جائے۔

6۔ زخمیوں کو ہر طرح کی طبی امداد بہم پہنچائی جائے۔

7۔ زخمی اور بیمار قیدیوں سے کام نہ لیا جائے۔

8۔ سرسبز درختوں کو نہ کاٹا جائے‘ عمارتوں کو نہ ڈھایا جائے۔

9۔ افادہ عام کے وسائل کو غارت نہ کیاجائے۔

اسلام مجاہدین کو حکم دیتا ہے کہ جیسے ہی فساد فی الارض پر قابو پالیا جائے اور مخالف قوتیں سلامتی کے لئے جھک جائیں تو پھر قتال اور جہاد کو باقی رکھنا جائز نہیں ہے چنانچہ قرآن عظیم کا ارشاد عالیٰ ہے

وان حنحو للسلم فاجنح لھاد توکل علی اﷲ (الانفاک 61)

اسلام مجاہدین کے اندر یہ داعیہ پیدا کرتا ہے کہ وہ میدان جنگ میں ہر کام خالصتا لوجہ اﷲ کریں اور جملہ عبادات کی طرح جہاد کو بھی ہر طرح کی غیر اسلامی جذبات کی آمیزش سے پاک رکھیں۔  جنگ میں بھی ان کا دل خشیت الٰہی سے ایک لمحہ کے لئے خالی نہ ہو اور جنگ افراد انسانی کے خلاف نہ کریں‘ بلکہ اس باطل ماحول کے خلاف کریں اور اس باطل نظام کو مٹائیں جس کو لوگوں نے قبول کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میدان جنگ میں بھی مجاہدین کے صبروتحمل کی ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ اسلام کے سپاہی کی تلوار بلند ہے اور قریب ہے کہ مدمقابل کا لاشہ زمین پر تڑپنے لگا کہ اچانک اس نے تلوار جھکالی۔ اسی لمحہ مجاہد فی سبیل اﷲ نے بھی تلوار نیام میں کرلی۔ جذبات پر کنٹرول کی یہ اعلیٰ ترین مثال ہے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ ایک کافر سے برسر پیکار ہیں۔ متعدد خطرناک واروں کو اپنی ڈھال پر روکنے کے بعد اسے کمرسے اٹھا کر زمین پر ڈال دیتے ہیں اور سینے پر بیٹھ کرسوچتے ہیں کہ اس کا سر تن سے جدا کردیں کہ وہ شدت غیض و غضب میں شیر خدا کے چہرہ منور پرتھوک دیتا ہے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے لیکن تلوار اٹھا کر حملہ کرنے کے بجائے وہ پوچھتا ہے کہ آپ نے مجھے مغلوب کرکے چھوڑ دیا۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے تلوار اﷲ کے لئے اٹھائی تھی اور میں نے تمہیں اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے مغلوب کیا تھا لیکن جب تم نے میرے ساتھ گستاخی کی تو مجھے غصہ آگیا میں فورا تمہیں چھوڑ کر الگ ہوگیا۔ اس لئے کہ اس حالت میں اگر میں تمہیں قتل کرتا تو رضائے الٰہی کی تعمیل میں اپنے جذبہ غضب کی تسکین کی خواہش بھی شامل ہوجاتی۔ ایسی حالت میں میرا یہ کام خالصتا لوجہ اﷲ نہ ہوتا۔

فوجی معاہدے ہر دور میں ہوتے رہتے ہیں لیکن ہمیشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ دو حلیف طاقتیں اس میں حق و باطل کا امتیاز کئے بغیر ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں۔ ایک ملک خواہ کتنا ہی جارح کیوں نہ ہو‘ کوئی دوسرا ملک اگر اس کاحلیف ہے تو اس کے ظلم اور جارحیت میں بھی اس کا ساتھ دے گا۔ اس کے برعکس اسلام صرف مظلوم کا ساتھ دینے کی اجازت دیتا ہے‘ ظالم کا نہیں۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔

انصر اخاک ظالما کان اومظلوما (بخاری )

اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم

صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ  ظالم کی مدد کس طرح کی جائے۔ ارشاد فرمایا کہ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے باز رکھا جائے۔

مندرجہ بالا تصریحات سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اسلام دفاع‘ اصلاح اور استیصال ظلم کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے مگر حالت جنگ میں بھی کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے اندر پوشیدہ بیہمانہ طاقتوں کو جنگ کی غضبناکیوں میں استعمال کرے بلکہ جنگ کے لئے بھی اخلاقی ضابطے متعین فرمادیئے ہیں تاکہ جوش و غضب میں انسان انسانی قدروں کو پامال نہ کرے۔ اے کاش آج کی مہذب دنیا اسلام کے ان بلند ترین اصولوں کو پیش نظر رکھتی۔

اسلام اور نفسیاتی مسائل کا حل

اسلام اور نفسیاتی مسائل کا حل

ڈاکٹر محمد مالک

دین اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ قرآنی تعلیمات ہوں یا سیرت طیبہ کے مہکتے پھول۔ یہ تعمیر سیرت‘ تشکیل ذات اور تشکیل معاشرہ کا بہترین علاج ہیں۔ حسن سلوک‘ صلہ رحمی‘ عدل و انصاف‘ معاشیات‘ سیاسیات‘ نفسیات اور طب غرضیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں تعلیمات رسولﷺ ہمہ پہلو خیروبرکت کی حامل ہیں۔ یقینا انسانوں کو ان کے تمام مسائل و جملہ امراض سے نجات‘ جسم اور روح کی شفا بخشی اسوۂ رسولﷺ کے بغیر ممکن نہیں۔ جسمانی صحت و توانائی‘ ذہنی طہارت و لطافت‘ روحانی بالیدگی و پاکیزی‘ ارادوں اور نیتوں کی اصلاح اور کردار کی عظمت و بلندی اسوۂ حسنہ کے لازمی ثمرات ہیں جن کی ہر زمانہ میں ضرورت رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔ لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنہ (ترجمہ کنز الایمان شریف: بے شک تمہیں رسول اﷲ کی پیروی بہتر ہے)

آج افراط و تفریط کے دور میں نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں اور پورا معاشرہ ان کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک حالات میں صرف دین اسلام ہی وہ حیات بخش نظریہ ہے جو انسانیت کے ہر قسم کے مسائل و مشکلات کا شافیو کافی حل پیش کرتا ہے اور روحانی انقلاب کے ذریعے فلاح انسانیت (بالخصوص ذہنی بیماریوں) کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ علماء ملت نے ہر دو ر میں اس ضمن میں رہنمائی فرمائی ہے اور دور آخر‘ بیسویں صدی ہجری میں عبقری وقت امام احمد رضا محدث بریلی علیہ الرحمہ کی شخصیت اور ان کے علمی ورثہ میں زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کے لئے واضح اصول ملتے ہیں‘ ان میں نفسیاتی مسائل بھی شامل ہیں۔ چونکہ یہ مضمون علم نفسیات سے متعلق ہے اس لئے ہم نفسیات (Psychology) کی اجمالی گفتگو اسوۂ رسولﷺ کی روشنی میں دور حاضر میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل کا حل پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

علم نفسیات (Psychology):

علم نفسیات ایک سائنس ہے جو انسانی فطرت سے متعلق ذہنی اعمال کا مطالعہ کرتا ہے‘ شعوری یا لاشعوری‘ طبعی یا غیر طبعی‘ انفرادی یا اجتماعی‘ مذہبی و سیاسی‘ ادبی و تعلیمی‘ معاشرتی و اقتصادی غرضیکہ ہر قسم کے اعمال کے مطالعہ کا منظم طریقہ علم نفسیات کہلاتاہے۔

نفسیاتی امراض کی اقسام:

آج کل چونکہ نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں اس لئے معاشرہ میں عام مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

(1)  Neuroses

(2) Psychoses

Neuroses میں ٹینشن‘ Anxiety‘ ڈپریشن‘ OCD‘ Panic Attakcs‘ Phobias اور Conversion Reaction شامل ہیں اور Psychoses میں Schizophrenia اور Hypomania/Mania اہم بیماریاں ہیں۔

نفسیاتی عارضوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے

علم نفسیات کا تعلق انسانی سوچ‘ تفکر‘ عادات و اطوار و کردار سے ہے۔ نفسیات کا علم چند ایسی انسانی خصلتوں‘ و جبلتوں کی نشاندہی کرتا ہے جو انسانی شخصیت میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور مستقبل میں ذہنی خرابیوں اور نفسیاتی امراض کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتی ہے مثلا بغض‘ حسد‘ کینہ‘ غصہ‘ غیبت‘ بہتان تراشی اور جاسوسی وغیرہ۔ دین اسلام نے جہاں ایسی خرابی کی نشاندہی کی وہاں اس کا حل پیش کرتے ہوئے بتادیا کہ یہ شیطانی وسواس انسانی شخصیت میں منفی اثرات پید اکرکے نفسیاتی بیماریوں کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ علم جنین کی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ خرابیاں Genes-Chromosomes کے ذریعے بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں جو دیمک کی طرح نسل انسانی میں بگاڑ کا باعث بنتی جاتی ہیں۔ دین اسلام نے نہ صرف ہر ایسی خرابیوں سے بچنے کی تاکید کی ہے بلکہ فرمودات رسولﷺ کی روشنی میں اس کا شافی حل بھی بیان فرمایا ہے جس کی جدید نفسیات آج بھی احسان مند ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں جس میں نفسیاتی بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

Anxiety Neuroses & Depression and relative disorder, Fear Comples, Guilt Complex, Inferiority Complex, Emotions, Behaviour & Personality Formation

حضور اقدسﷺ کو (اﷲ علیم و خبیر نے ہر اس علم سے نوازا ہے جس سے دنیا و آخرت میں انسان اور انسانیت کی فلاح و اصلاح وابستہ ہے۔ اس لئے آپ کو) انسانی ذہن‘ اس کی فزیالوجی اور بگڑجانے پر پتھالوجی پر کامل دسترس تھی۔ آپﷺ نے آئندہ کے لئے عملی نفسیات کو سمجھنے کا موقع فراہم کردیا جو آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ ہے۔ رسول پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ نے ذہنی خلجان پیدا کرنے والی تمام جبلتوں پر پوری توجہ دی ہے اور علاج کے وہ رہنما اصول بیان فرمائے ہیں جن کو عملی نفسیات کے ماہرین نے اپناکر غلبہ اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرلیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رحمت عالمﷺ سے پوچھا غیبت کیا ہے؟ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ تو کسی کے بارے میں کسی چیز کا اس کی عدم موجودگی میں ذکر ایسے انداز میں کرے کہ اگر اس شخص کے سامنے کیا جائے تو اسے برا لگے۔ سائل نے پوچھا یارسول اﷲﷺ اگر حقیقت ہو تو! پھر آپﷺ نے فرمایا اگر تونے باطل کہا وہ بہتان ہوجائے گا۔ (امام مالک) یعنی بہتان اور غیبت دونوں خرابیوں سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی کیونکہ اس سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے اور انسانی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔ جسے علم نفسیات کی رو سے بگاڑ کہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں عالمی مبلغ حضرت مولانا محمد الیاس قادری رضوی دامت برکاتہم کا کتابچہ ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ لائق مطالعہ ہے۔

{Phobic Anxiety:

فتح مکہ کے موقع پر فرمایا ’’جائو آج تم سے کوئی بدلہ نہ لیا جائے گا اور تم سب آزاد ہو‘‘ اﷲ اکبر! انسانی جان کو امان اور قدرومنزلت پہلی مرتبہ رسول کریمﷺ نے عطا فرمائی۔ جس سے لوگوں کو ذہنی کرب‘ فکری الجھنوں اور پریشانیوں سے نجات ملی۔

Inferiority Complex:

خطبہ حجتہ الوداع میں احساس کمتری کا حل ملاحظہ فرمایئے۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا ’’یعنی کوئی شخص احساس کمتری میں مبتلا نہ ہو کہ دوسرے سے کمتر ہے۔ رنگ و نسل کی وجہ سے کسی دوسرے پر ممتاز حیثیت نہیں رکھتا۔ اﷲ کے ہاں برتری کا معیار کردار و تقویٰ ہے‘‘ (مفہوم)

ڈپریشن:

رسول کریمﷺ نے فرمایا ’’دنیا کی ہوس رنج وغم میں مبتلا کردیتی ہے اور خودسری دل کو ٹیڑھا کردیتی ہیں‘‘ ایک حدیث پاک میں آتا ہے ’’اللھم نصف الہزم‘‘ ترجمہ : یعنی غمگین رہنے سے جلد بڑھاپا آتا ہے۔ مادہ پرستی کے اس تصور حیات نے انسان سے ہر قسم کا امن و سکون چھین لیا ہے۔ خودغرضی‘ حرص و لالچ‘ بغض و کینہ‘ دھوکہ دہی او منفی سوچ نے انسانی شخصیت کو مجروح کیا ہے جن سے Anxiety اور ڈپریشن میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا واحد حل رسول کریمﷺ کی پیروی میں ہے اور عملی زندگی کے حوالے سے دنیا و آخرت کی بہترین ضمانت آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہے۔ جدید سائنس کے مطابق دو مادے (Norepinephrine & Scrotonin)  ڈپریشن میں اہم رول ادا کرتے ہیں جس سے انسانی شخصیت اجاگر ہوتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نفسیاتی بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے اور یہی حال رہا تو آئندہ سالوں میں نفسیاتی بیماریاں سرفہرست ہوگی۔

غصہ:

غصہ انسانی جبلت میں موجود ہے جس سے انسانی صحت و شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے ’’یعنی غصہ آئے تو بیٹھ جائے‘ اگر زیادہ غصہ آئے تو لیٹ جائے‘‘ اس حدیث مبارکہ میں غصے کا فوری نفسیاتی علاج بتایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غصہ میں خاص قسم کے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو انسانی افعال میں تبدیلی لاتے ہیں اور اس کو کنٹرول کرنے میں (System-Sympathetic & Parasympathetic System Antonomic Nervous) بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور دماغ کے اہم حصے (Cerebral Cortex, Limic System and Reticular Formation HHypothalamus) اہم کام سر انجام دیتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ غصے کا فوری علاج بیٹھ جانے اور لیٹ جانے سے Body Changes کے ساتھ Neurotransmitters میں ٹھہرائو پیدا ہوتا ہے جس میں (1) Physilogical Change (2) Motivational Behaviour (3) Emotion Evolution میں اعتدال آنا شروع ہوجاتا ہے اور غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

جدید ریسرچ:

Emotions:

Emotion is a moved or stirred up state of the individual. Emotion is hard term to define, when we speak of emotion, we usually refer to:

A: Subjective feeling

B: The Physiological bases of emotion

C: The effect of emotion on Perception, thinking and behavior.

D: The motivational Properties of Certain emotion.

E: The ways emotions are shown in language, facial expression and gestures.

The Pattern of bodily activity in a number of emotion are controlled by the limbic system and hypothalamus of brain. The arousual state that accompanies many emotions is regulated by the ascending reticular activating system (ARAS) of the brain stem. In emotions, the sympathetic system causes the discharge of the hormones epinephrine (adrenaline) and nor epinephrine (noradrenalin) while other part of the autonomic nervous system, called the parasympathetic system tends to be active when we are calm and relaxed.

Theories of Emotion:

1.    James Lange theory of Emotion (Feeling and Physical) (1842-1910)

2.    Connon Bard Theory of Emotion (Feeling and Cognitive) (1927)

3.    Schachter Singer Theory of Emotion (The interpretation of bodily arosal) (1962)

4.    Cognitive theory of Emotion.

5.    Plutchik’s theory of Emotion.

6.    Mc Dougall’s theory of Emotion

یعنی جب انسان غصے میں ہوتا ہے تو Sympathetic part اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس لئے حدیث مبارکہ کی رو سے غصہ کی حالت میں بیٹھ جانے یا لیٹ جانے سے دل کی دھڑکن میں کمی آجاتی ہے۔ بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔ Endocrine Screetion اعتدال پر آنا شروع کردیتے ہیں۔ یقینا Parasympathetic Part اہم رول ادا کرتا ہے۔جس کی وجہ سے انسان Relaxation محسوس کرتا ہے۔ بلاشبہ فرمان نبویﷺ سچا ہے۔ جس کی تائیدآج جدید میڈیکل سائنس نے کردی ہے۔

Human Behaviour & Personality Formation

حدیث نبویﷺ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ وزنی چیز کوئی نہ ہوگی‘‘ حدیث نبویﷺ ہے ’’حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’فحاشی اور بدگوئی تمہاری شخصیت کو خراب کرے گی اور حیاء اسے تزئین و آرائش دے گی‘‘ پہلی حدیث پاک میں Human Behaviour کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسری حدیث پارک تعمیر شخصیت سے متعلق ہے۔ واضح رہے کہ تعمیر شخصیت کے حوالے سے فرمودات اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی علیہ الرحمہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں جس میں نفس قلب اور روح کا ذکر کیا گیا ہے۔ بحوالہ (امام احمدرضا اور نظریہ شخصیت۔ ڈاکٹر محمد مالک‘ امام احمد رضا اور سگمنڈ فرائیڈ کی افکار کا تقابلی جائزہ The revivalist of the 20th Century۔ ڈاکٹر محمد مالک)

بچوں کی نفسیات:

بحیثیت ماہر تعلیم بچوں کی نفسیات سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی ایک فکر انگیز تحریر ملاحظہ ہو جو تعمیر سیرت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ جلد دہم میں فرماتے ہیں ’’پڑھانے لکھانے میں رفق و نرمی رکھے۔ موقع پر چشم نمائی تنبیہ تحدید کرے مگر ہرگز کو سنا نہ دے کہ اس وقت کا کوسنا ان کے لئے سبب اصلاح نہ ہوگا بلکہ اور زیادہ فساد کا اندیشہ ہے‘ مارے تو منہ پر نہ مارے‘ اکثر اوقات تحدید و تخویف پر قانع رہے‘ کوڑا قمچی اس کے پیش نظر رکھے کہ دل میں رعب رہے۔ زمانہ تعلیم میں ایک وقت کھیلنے کے لئے بھی دے کہ طبیعت نشاط پر باقی رہے۔ مگر زنہار زنہار! بری صحبت میں نہ بیٹھنے دے کہ یار بد مار بد سے بدتر ہے‘‘

’’ہرگز ہرگز بہار دانش‘ مینار بازار‘ مثنوی غنیمت وغیرہ کتب عشقیہ و غزلیات فسقیہ دیکھنے نہ دے کہ نرم لکڑی جدھر جھکائے جھک جاتی ہے‘‘

نفسیاتی علاج

نفسیاتی بیماریوں کا علاج پیچیدہ‘ سخت محنت طلب اور وقت طلب مسئلہ ہے جس میں مریضوں کابنیادی محرکات کو معلوم کرنا‘ مریض میں خود اعتمادی بحال کرنا اور سکون مہیا کرنا ہے جو صرف نفسیاتی علاج ہی سے حاصل ہوتا ہے۔

نفسیاتی علاج رسول عربیﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ رسول عربیﷺ سب سے پہلے مریض کا ہال پوچھتے‘ علامات سنتے اور تسلی اور اطمینان سے فرماتے ’’طہور انشاء اﷲ‘‘ اﷲ تعالیٰ بہتری فرمانے والا ہے۔

نفسیاتی علاج کی اہمیت

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ نفسیاتی علاج کی بنیادی اہمیت یہ ہے۔

1۔ سب سے پہلے مریض کی تنہائی دور ہوتی ہے۔

2۔ مریض کو ذہن کے اندر چھپی ہوئی کیفیتیں اور تکلیفیں بیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔

3۔ مریض کی حوصلہ افزائی سے اس کو سکون محسوس کرتا ہے اور امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔

رسول عربیﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کے سنہری اصولوں کو بنیاد سمجھتے ہوئے ماہرین نفسیات نے نفسیاتی علاج کے جدید طریقے ایجاد کئے ہیں مثلا:

Interpersonal Psychotherapy

Congnitive Behavior Theraphy

Psychodynamic Psychotherapy

Humanistic Psychotherapy

Gestalt Therapy

Aversion Therapy

Ellis’s Rational-Emotive Therapy

Family Therapy-Group Therapy

فرمان نبویﷺ ہے۔ انت الرفیق واﷲ الطبیب۔ ترجمہ: تمہارا کام مریض کو اطمینان دلانا ہے‘ علاج خدا کرے گا۔ Applied Mental Health کے اصولوں

کی بنیاد اسی حدیث مبارکہ پر صادق آتی ہے۔ جس سے مریضوں کو نفسیاتی طور پر حوصلہ ہوتا ہے اور کافی حد تک تکلیف دور ہوجاتی ہے۔ رسول عربیِﷺ نے فرمایا ’’ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ جب اس کا مسلمان بھائی بیمار ہو تو اس کی عیادت کو جائے‘‘

ابن ماجہ شریف کی روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’اذا دخلتم علی المریض فنفسو الہ فی الااجل‘‘ جب تم کسی مریض کے پاس جائو تو اس کی اجل کو مہلت دو یعنی مریض کو امید دلائو اور حوصلہ دو۔ دین اسلام کی رفعت شان ملاحظہ فرمایئے رسول عربیﷺ نے فرمایا ’’اﷲ نے جس قدر مرض پیدا کئے ہیں ان تمام کے لئے شفاء بھی پیدا کی ہے۔ یعنی ہر مرض کا علاج موجود ہے‘‘ ذہنی صحت کا تصور جدید سائنسی خطوط پر بیسویں صدی میں نظر آتا ہے۔ لیکن اسلام نے چودہ سو سال قبل فرمادیا ہے۔ الا بذکر اﷲ تطمئن القلوب ترجمہ : سن لو اﷲ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (کنزالایمان)

ہمارا دین جس قدر نیک نفسی اور عدل و شرافت پر زور دیتا ہے ہم مسلمان اتنا ہی برعکس چل رہے ہیں۔ آج بھی اسوہ رسولﷺ کے سنہری اصول تعمیر شخصیت اور دیگر نفسیاتی مسائل میں مینارۂ نور ہیں جنہیں اپناکر ہم جسمانی فوائد اور روحانی سکون حاصل کرسکتے ہیں۔

رشتے دار: سیرت مصطفیٰ کے آئینے میں

رشتے دار:سیرت مصطفیٰ کے آئینے میں

محمد ابرار عالم مصباحی

اچھا رشتے دار وہی ہے جو سیرت نبوی کے مطابق اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرتاہے

آج کے اس پُر آشوب دور میں ایک رشتے دار دولت و ثروت کی کثرت کی وجہ سے فلک بوس عمارتوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسرکررہاہے، ان کے بچے اعلی ترین ملبوسات زیب تن کر رہے ہیں ، لذیذ کھانوں اور میوہ جات کا مزہ لے رہے ہیں اور دنیا کی ہر نئی چیزوں سے صبح و شام لطف اندوز ہورہے ہیں ۔مگر اُن کے رشتے داراُن کی نظروں کے سامنے بھوک سے بلک رہے ہیں، ان کے بچے فاقہ پرفاقہ کررہے ہیں، اُن کے پاس ضروری لباس بھی نہیں ہے،اس کے باوجود اِن دولت مندوں کے دلوں میں اپنے رشتے دار کے دکھ درد بانٹنے کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا،بلکہ بسا اوقات اپنے رشتے دار کی غریبی اور مفلسی کی وجہ سے اُن سے بھی رشتہ توڑلیتے ہیں اور قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجوداُنھیں پہچاننے سے انکا ر کردیتے ہیں،جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سخت تکلیف دہ زندگی بسرکرنے پرمجبورہے ۔

 ایسی صورت میں معاشرے کو درد وغم ، مصیبتوں اور تکلیفوں سے کوئی نکال سکتا ہےتو وہ ہےمصطفی جان رحمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ تعلیمات۔

 رشتے داروں کے ساتھ ہمدردیاں

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاجناب ابوطالب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوشحال نہ تھے،اُنھیں اکثر تنگی کا سامنارہتا تھا ،مکے میں جب قحط پڑا تو اُس کی وجہ سے اُن کی مالی حالت اور بھی کمزور ہوگئی، رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی یہ تکلیف نہ دیکھی گئی۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا حضرت عباس کے پاس گئے اور اُنھیں اِس بات کی ترغیب دی کہ ہمیں مل کرچچا ابو طالب کا بوجھ بانٹ لینا چا ہیے ،ان کا ایک بیٹا میں لے لیتا ہوں،اس کی پرورش میں کروں گا ۔ایک لڑ کا آپ لے لیں ، اور اُس کی پرورش کی ذمے داری آپ اپنے ذمے لے لیں، اس طر ح اُن کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس، جناب ابوطالب کے پاس گئے اور اپنے آنے کا مقصد بتایا۔ جناب ابو طالب کے چار بیٹے تھے، طالب،عقیل، جعفر اور حضرت علی۔انھوں نے کہا کہ طالب اور عقیل کو آپ میرے پاس رہنے دیں اور باقی بچوں کے بارے میں آپ لوگوں کی جومرضی ہو کرلیں ۔چنانچہ حضرت علی جو سب سے کم عمر تھے ، رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ذمے داری اپنے سر لے لی اور جعفر کو حضرت عباس لے گئے۔ (ضیاء النبی،جلد :۲،ص:۲۲۹-۲۳۰)

ان کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےرشتے دار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر اُن سب کی خیر خواہی کرتے رہے،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دودھ شریک رشتے داروں کو بھی کبھی فراموش نہ کیا ۔

چنانچہ قحط سالی کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےرضاعی والدین کی مصیبتوں کو دیکھتے ہوئے اُنھیں بھی چالیس بکریاں اور ایک اونٹ عطا فر مایاتھا۔

اس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنے رشتے داروں کی تکلیف کو بانٹا اور دوسرے کو بھی اس نیک کام پر اُبھارا۔

 ذیل میں رشتے داروں کے ساتھ خیرخواہی کرنے سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ تعلیمات نہایت اختصار کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں:

۱۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، فَقَالَ اللهُ: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهٗ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهٗ۔ (بخاری،باب من وصل وصلہ اللہ،حدیث:۵۹۸۸ )

ترجمہ:رحم(رشتہ)رحمٰن سے مشتق ہے اور اللہ تعالیٰ نے رشتےکے بارے میں فر مایا ہے کہ جو تجھے ملائے گا میں اُسے ملائوں گا اور جو تجھے کاٹے گا میں اُسے کاٹوں گا۔

۲۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فر مایا:

 أَنَا اللهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهٗ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهٗ۔ (مستدرک ازحاکم،حدیث:۷۲۶۹-۷۲۷۰)

ترجمہ:میں اللہ ہوں ،میں رحمن ہوں ،رحم (رشتہ) کو میں نے پیدا کیا اور اس کانام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا لہٰذا جو اُسے ملائے گا میں اُسے ملائوں گا اور جو اُسے کاٹے گا میں اُسے کاٹوں گا۔

 ۳۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : یارسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم) مجھےکوئی ایسا کام بتائیں جس کومیں کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

 أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَام۔ (مستدرک ازحاکم،حدیث:۷۲۷۸)

ترجمہ:سلام کو پھیلائو،کھانا کھلائو،اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرواور رات کو جب سب لوگ سو جائیں تو اُٹھ کر نمازاداکیاکرو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو۔

۴۔حضرت عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا:

مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّمُدَّ اللهُ فِي عُمْرِهٖ وَيُوَسِّعَ لَهٗ فِي رِزْقِهٖ وَيَدْفَعَ عَنْهُ مَيْتَةَ السُّوءِ فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلْيَصِلْ رَحِمَهٗ۔ (مستدرک ازحاکم،حدیث :۷۲۸۰) ترجمہ:جس کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت ہو، رزق میں کشادگی ہواوربُری موت سے محفوظ رہے،وہ اللہ رب العزت سے ڈرتا رہے اور رشتےداروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

 ۵۔حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

 لاَ يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ۔

 ترجمہ:رشتےکاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری ،باب:اثم القاطع ،حدیث:۵۹۸۴)

 ۶۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اعْرِفُوْا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوْا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهٗ لَا قُرْبَ لِرَحِمٍ إِذَاقُطِعَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيْبَةً، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ وَإِنْ كَانَتْ بَعِيْدَةً۔(مستدرک ازحاکم، حدیث:۷۲۸۳)

ترجمہ:اپنے نسب کو پہچانو،رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو،کیوں کہ اگر رشتہ کاٹا جائے تو وہ قریبی رشتہ نہیں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ ہو، اور اگر رشتہ جوڑا جائے تو وہ رشتہ دورکا نہیں، اگرچہ وہ رشتہ دورکا ہو۔

 ۷۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملاقات کی غرض سے گیاتومیں نے جلدی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ لیا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور فر مایا:

يَا عُقْبَةُ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ أَخْلَاقِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ وَتَعْفُوْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ، أَلَاوَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُّمَدَّ فِي عُمْرِهٖ وَيُبْسَطَ فِي رِزْقِهٖ فَلْيَصِلْ ذَا رَحِمِهٖ۔(مستدرک ازحاکم،حدیث:۷۲۸۵)

ترجمہ:اے عقبہ! دنیا اور آخرت کے بہترین اخلاق یہ ہیں کہ اس سے بھی تعلق بنائو جو تم سے تعلق توڑے ،اُسے بھی دو جو تم کو محروم رکھے،اس کوبھی معاف کردوجو تم پر ظلم کرے ،اور ہاں!جو یہ چاہے کہ اُس کی عمر میں برکت ہو اور رزق میں اضافہ ہوتووہ اپنے رشتے والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔

۸۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

 لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهٗ وَصَلَهَا۔ (بخاری،باب :لیس الواصل بالمکافی،حدیث:۵۹۹۱)

ترجمہ:صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جوبدلے میں کچھ دے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ اُس سے تعلق توڑا جائے پھر بھی وہ تعلق توڑنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کر کے ہی معاشرے کو جنت نشاں بنایا جا سکتا ہے،جب کہ ان تعلیمات سے منھ موڑنے اورنفس کی غلامی کرنے سےدنیاوآخرت میںجونقصانات ہوتے ہیں وہ جگ ظاہر ہیں،اس لیے ایک اچھا رشتے دار وہی ہے جو مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کے مطابق اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اورصلہ رحمی کرتاہے، یعنی اُس کا رشتے دار اُس کے ساتھ صلہ رحمی کرے یا نہ کرے، پھر بھی وہ اپنے رشتے دارکے ساتھ حسن سلوک کرتا رہے۔

رسول اللہ ﷺ کا کردار، مقصد، صبر و برداشت، اخلاق اور قوت

رسول اللہ ﷺ کا کردار، مقصد، صبر و برداشت، اخلاق اور قوت
_______________________________
دین اسلام کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے آج بالکل بنیادی باتیں احباب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں.
آج اسلام کے نام پر امن کا درس دینے والے ہوں یا تشدد کی راہ کو اپنانے والے سب کے پاس ہی اپنے اپنے دلائل موجود ہیں. اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے
ان گزارشات کو پانچ حصوں پر تقسیم کرنا پڑے گا..
(1) رسول اللہﷺ کا کردار
آپﷺ کی زندگی کے ابتدائی چالیس سال کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ دشمن سے دشمن کافر بھی آپ کے صادق و امین ہونے کا اقرار کرتا ہے.
جب رسول اللہ ﷺ نے صفا کی چوٹی پر کھڑے ہو کر تمام اہل مکہ کو خطاب فرمایا
آغازِ کلام اس طرح کیا
حاضرین !
اگر میں تمھیں کہوں کہ پہاڑ کی دوسری جانب سے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لئے بڑھتا چلا آ رہا ہے تو کیا تم میری بات تسلیم کرو گے؟
سب نے جواب دیا بے شک تسلیم کریں گے کیونکہ آج تک آپ کی زبان سے ہم نے کبھی بھی ایسی بات نہیں سنی جو غلط ہو، اور پھر آپ نے دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ…
یہ تھا رسول اللہ ﷺ کا کردار جس کی گواہی کافر بھی دیتے تھے
(2) رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد
قرآنی تعلیمات اور نبوی ہدایات کے ذریعہ دنیا کو بدلا، عرب وعجم میں انقلاب برپاکیا، عدل وانصاف کو پروان چڑھایا، حقوق کی ادائیگی کے جذبوں کو ابھارا، احترامِ انسانیت کی تعلیم دی، قتل وغارت گری سے انسانوں کو روکا، عورتوں کو مقام ومرتبہ عطاکیا، غلاموں کو عزت سے نوازا، یتیموں پر دستِ شفقت رکھا، ایثار و قربانی، خلوص و وفاداری کے مزاج کو پیدا کیا، احساناتِ خداوندی سے آگاہ کیا، مقصدِ حیات سے باخبر کیا، رب سے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑا، جبینِ عبدیت کو خدا کے سامنے ٹیکنے کا سبق پڑھایا اور توحید کی تعلیمات سے دنیا کو ایک نئی صبح عطا کی
(3) صبر و برداشت کی انتہا
صبرو برداشت کے بارے میں پڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین رکھیے کہ یہ تمام احوال مکی زندگی کے 13 سالوں کے ہیں. لیکن اخلاق ہمیشہ کے لئے ہے
ام جمیل ہاتھ میں پتھر لئیے رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرتی ہے، ابو سفیان رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے، حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کو عتبہ اور عتیبہ طلاق دے دیتے ہیں ، ابولہب اپنے گھر کا کوڑا اپنے جانوروں کی لید اور گوبر حضور ﷺ کے کاشانہ اقدس میں ڈال دیتا ہے، عقبہ بن ابی معیط چہرہ اقدس پر تھوکنے کی ناپاک جسارت کرتا ہے، ابوجہل کبھی رستے میں گھڑا کھودتا ہے کبھی کسی طرح کبھی طرح سے رسول اللہ ﷺ کو تکالیف پہنچاتا ہے، کبھی حالت سجدہ میں بدبودار اوجھڑی لاکر رسول اللہ ﷺ کی گردن پر ڈال دی جاتی ہے، کبھی عقبہ آتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی گردن میں چادر ڈال کر سختی سے کھینچتا ہے،
مگر یہ نہ بھولنا کہ یہ تمام احوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے ہیں……..
(4) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ
اخلاق دین اسلام کا ایسا شعبہ ہے جو وقتی نہیں ہے مستقل ہے ہر دور کے لئے ہے، اور ہر ایک کے لئے ہے
مختصر سی بات کرتے ہیں آپ کے اخلاق کریمانہ پر
عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ۔ (احمد، رقم ٨٩٥٢)
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اچھے اخلاق کو اُن کی تکمیل تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں..
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے کہ
،، ان من احبکم الی احسنکم خلقا ” تم میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہے جس کا اخلاق زیادہ اچھا ہو۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
میں دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہا خدا کی قسم آپ نے کبھی مجھ سے اُف نہ کہا اور نہ کبھی مجھ سے یہ کہا کہ تم نے ایساکام کیوں نہیں کیا؟ یا ایساکام کیوں کیا ؟
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجو زوجہ ہونے کی حیثیت سے رسول اللہﷺ کے بہت قریب تھیں ۔انکے پاس کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ کے خُلق کے متعلق پوچھنے کے لیے گئے تو حضرت عائشہ نے فرمایا:
کان خلقہ القران (تفسیر ابن کثیرجلد ۸،۷ صفحہ ۱۵۰)
آپ کا اخلاق ،قران ہے
اگر آپﷺ کا اخلاق قرآن ہے، تو قرآن میں بشیر بھی ہیں نذیر بھی ہے، قرآن سزاؤں کا حکم بھی دیتا ہے، قرآن اپنے مجرم کو معافی کی تلقین بھی کرتا ہے، قرآن دیت کا نظام بھی دیتا ہے، قرآن قتل کے بدلے قتل کا نظام بھی دیتا ہے، قرآن عدل کی تعلیم بھی دیتا ہے،
جس طرح کہا جاتا ہے کہ نظام کفر چل سکتا ہے مگر نظام ظلم نہیں چل سکتا آج ہم عدل سے کوسوں دور ہوگئے،
آج ہم نے یہ اصول بنا لیا کہ اگر مجرم میرا ہو تو معافی کا کوئی رستہ نہیں، اور اگر مجرم تمہارا ہے تو معاف کردو،
بھائی اگر اسلام پر عمل کرنا ہے تو اپنے مجرم کو معاف کردو دوسرے کے لیے عدل کے رستے کو اپناؤ…..
(5) اسلام کی سربلندی کے لیے طاقت کا استعمال
آخری بات کیا اسلام طاقت کے استعمال سے منع کرتا ہے جبکہ حق کے لئے ہو؟
جواب ہے ! ہرگز نہیں
جب ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں تشریف لے آئے تو یہاں بالکل دوسری طرز کی حکمت عملی کو اختیار کیا گیا.
پہلی حکمت عملی
اہل مکہ جن کے تجارتی قافلے دو دو ہزار اونٹوں پر مشتمل ہوتے آج کے اندازے کے مطابق اڑھائی لاکھ پاؤنڈ کی تجارت صرف اہل مکہ کی تھی پہلی حکمت عملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اختیار کی کہ وہ تمام قبائل جو اس تجارتی رستے کے ارد گرد تھے ان کے ساتھ دوستی کے معاہدے کئے جس طرح قبیلہ جہینہ، بنی صبرہ، بنی مدلج وغیرہ
تاکہ اہل مکہ ان قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ طیبہ میں نقصان نہ پہنچائیں،
دوسری حکمت عملی
ابتدائی فوجی مہمیں میں بظاہر جو بڑی مختصر تھی جن میں مجاہدین کی تعداد کبھی دس بارہ، کبھی تیس چالیس، کبھی ساٹھ ستر، ان چھوٹی چھوٹی فوجی مصروفیات کا سبب یہ تھا کہ مکّہ کی تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد کہیں مسلمان مدینے کی آسائشوں میں نہ کھو جائیں،
تیسری حکمت عملی
کفار نے چونکہ تمام مہاجرین کے اموال اور جائیدادوں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا اور دولت کے غرور میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معیشت پر کاری ضرب لگانے کے لئے حکمت عملی تیار کی.
کفار مکہ اس تجارتی راستے سے گزرنے پر بھی خوف میں مبتلا ہوگئے اس راستے سے گزرتے ہوئے خوف محسوس کرنے لگے
چوتھی حکمت عملی
اہل مکہ کو اپنی بہادری اور جنگی مہارت پر بڑا گھمنڈ تھا تو اس گھمنڈ کو توڑنے کے لئے فوجی مہمیں روانہ کی جاتی تھی تاکہ ان کے غرور کو توڑا جاسکے،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سالہ مدنی حیات طیبہ میں 27 غزوات میں شرکت فرمائی اور سرایا اس کے علاوہ ہیں سریہ اس کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا لیکن خود اس میں شرکت نہیں فرمائی..
اگر صرف آپ کے غزوات میں شرکت پر غور کیا جائے تو ہر ساڑھے چار مہینے میں ایک جنگ آپ نے لڑی ہے.
طبقات ابن سعد میں اس کی تفصیل موجود ہے
میں نے کوشش کی کہ اس کو اختصار کے ساتھ بیان کرو لیکن پھر بھی بات طویل ہو گئی اس کے لئے معذرت خواہ ہوں.
لیکن یہ یاد رکھیے مکی زندگی اور مدنی زندگی دونوں پہلوؤں کو شریعت سمجھیے صرف مکی زندگی شریعت نہیں ہے مدنی زندگی بھی شریعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، وہ بھی اسلام ہے ہمیں اسلام کا ایک پہلو بڑا یاد رہتا ہے لیکن دوسرا سرے سے بھول جاتے ہیں….
تحریر : – محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

عصر حاضر میں مطالعہ سیرت النبیﷺ کی معنویت اور جہت

عصر حاضر میں مطالعہ سیرت النبیﷺ کی معنویت اور جہت

شہید بغداد علامہ اسید الحق عاصم القادری بدایونی بغدادی

انتخاب و پیش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ نیک نمونہ عمل ہے، قرآن کریم نے اس کو مسلمانوں کیلئے "اسوہ حسنہ” قرار دیا ہے۔ یہ لفظ اپنے معنی کی وسعتوں کے اعتبار سے انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے، اسے زندگی کے کسی ایک شعبے کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح لفظ”سیرت” بھی اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے، بعض حلقوں میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ سیرت یا مطالعہ سیرت کا صرف یہ مطلب ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو تاریخی تسلسل اور جغرافیائی پس منظر میں سمجھ لیا جائے، آپ کی ولادت کب ہوئی، کس طرح آپ کی پرورش ہوئی، پہلی وحی کب آئی، ابتداء میں کون کون لوگ ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے، ہجرت کب ہوئی اور اس کے اسباب کیا تھے،کون سا غزوہ کس سن میں ہوا، اور اس کا نتیجہ کیا رہا، آپ کے بعض حسی معجزات ، آپ کی بعثت اور دعوت کے نتیجے میں دنیا میں کیا سیاسی ، جغرافیائی اور معاشی انقلابات آئے وغیرہ وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سارے امور بھی "سیرت” کا حصہ ہیں مگر "سیرت” کے معنی اور مفہوم کی حدیں صرف یہیں آکر ختم نہیں ہوجاتیں بلکہ سیرت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ سیرت قرآنی تعلیمات کی عملی تصویر کا نام ہے، اسلامی عقائد، اسلامی اعمال، اسلامی اخلاق، فرد کا نظام حیات، معاشرے کے مسائل، بین الاقوامی تعلقات و روابط، امن کے تقاضے، جنگی قوانین وغیرہ یہ سب کے سب سیرت کے موضوعات میں شامل ہیں۔ اور سیرت طیبہ کو اسی وسیع مفہوم میں "اسوہ حسنہ” میں قرار دیا گیا ہے، اگر سیرت پاک صرف واقعات کو تاریخی تسلسل سے بیان کرنے کا نام ہو، اور اس میں انسانی ہدایت کے گوشوں پر گفتگو نہ ہوتو پھر وہ "اسوہ حسنہ” یا بہترین نمونہ کیسے ہوگی؟ تاریخ میں اپنے اپنے میدانوں میں عظیم اور عبقری شخصیات کی سوانح اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح کو یہی بنیادی نقطہ جدا کردیتا ہے، تاریخ انسانی کی دیگر عظیم شخصیات کی سوانح انسان کی تاریخی معلومات میں اضافے کا سبب بنتی ہے لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا مطالعہ انسان کو آفاقی سعادتوں سے بہرہ مند کرتا ہے۔ سیرت کے اس وسیع مفہوم کے تناظر میں اگر مطالعہ سیرت کی معنویت اور اہمیت پر غور کیا جائے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آتے ہیں۔ سیرت طیبہ قرآن فہمی کا ایک بنیادی اور ناگزیر ماخذ ہے، قرآن کریم کی بے شمار آیات ایسی ہیں جن کے حقیقی معانی تک رسائی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ان آیات سے متعلق سیرت طیبہ کے بعض گوشوں سے پردہ نہ اٹھایا جائے، قرآن کریم اور صاحب قرآن میں باہم ایسا رشتہ اور تعل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے صاحب قرآن کے اخلاق ہی کو قرآن فرمایا ہے۔ قرآن فہمی کے سلسلہ میں مطالعہ سیرت کی اہمیت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ قرآن کی سورتوں کی تقسیم صاحب قرآن کی حیات مبارکہ کے دو مختلف ادوار کے احوال سے کی گئی ہے یعنی جو سورتیں زمانہ قیام مکہ میں نازل ہوئی ہیں ان کو مکی کہا جاتا ہے اور جو سورتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں ان کو ہم مدنی کہتے ہیں۔ مطالعہ سیرت کے نتیجے میں انسان اپنے سامنے انسانیت کاملہ کی ایک ایسی اعلیٰ مثال دیکھتا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل نظر آتی ہے، آپ انسانی زندگی کے جس پہلو اور جس گوشے کو بھی سامنے رکھ کر سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں تو ہر پہلو سے انسانی زندگی کا کمال آپ کو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آئے گا۔ یہی وجہہ ہے کہ مغرب کے مشہور اسکالر مائیکل ہارٹ نے جب دنیا کے سو عظیم انسانوں پر کتاب لکھی تو عیسائی ہونے کے باوجود اس نے اعلیٰ انسانی اقدار کے حوالے سے سب سے پہلے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا۔ مطالعہ سیرت کے نتیجے میں اسلام کے بنیادی عقائد، احکام، اخلاق اور ہر اس چیز کی معرفت ہوتی ہے جس کی ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ضرورت ہے۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہہ سے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمارے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ انسان کی ہدایت و رہنمائی اور ملتوں اور قوموں کی اصلاح احوال اورتربیت کیلئے ایک داعی، مبلغ، مصلح اور رہنما کو دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تربیت کے میدان میں جس جس چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے اس کا ایک پورا نصاب سیرت میں موجودہے۔ دعوت و تبیغ چونکہ یہ منصب نبوت و رسالت کا حصہ ہے اس لئے اس میدان مے اس وقت تک کامیابی نہیں مل سکتی جب تک دعوت و تبلیغ منہاج نبوی کے مطابق نہ ہو۔ لہذا کامیاب تبلیغ و دعوت کیلئے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ مطالعہ سیرت کی معنویت اور اہمیت کے بعد اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ عصر حاضر میں مطالعہ سیرت کی جہت کیا ہونا چاہئے۔ آج اسلام کو دہشت گرد مذہب کے طورپر دیکھا جارہا ہے اور (معاذ اللہ) رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے، کسی نے کہاکہ اسامہ کو اس کے حالات نے دہشت گرد نہیں بتایا ہے بلکہ اس کو اس کے مذہب اور اس کے رسول کی تعلیمات نے آتنک وادی بنایا ہے۔ ان حالات میں مطالعہ سیرت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے لیکن آج مطالعہ سیرت کی جہت ذرا مختلف ہونا چاہئے۔ جہاں تک سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اﷲً) دہشت گردی کے الزام کا رسول اہے تو یہ ان مستشرقین کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے جن کے دلوں میں اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بغض و عناد بھرا ہوا تھا۔ مگر اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خود ہم نے عملی طورپر دنیا کے سامنے اپنے مذہب ار اپنے رسول کو کس طرح پیش کیا ہے؟ شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہوکہ سیرت طیبہ پر جو سب سے پہلی کتاب لکھی گئی ہے اس کا نام "مغازی رسول” ہے یعنی حضور کے جنگی کارنامے۔ ہمارے یہاں بارہ ربیع الاول کے جلوس میں دو داڑھی والے حضرت عربی لباس میں ملبوس ہاتھ میں (لکڑی) کی تلواریں لئے ہوئے جلوس کے آگے آگے چلتے ہیں ممکن ہے یہ منظر اور جگہ بھی دیکھنے کو ملتا ہو، میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ آخر پیغمبر امن و سلامتی کے جشن ولادت کے موقع پر ہم ہاتھ میں تلوار لے کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حالانکہ اگر اعلان نبوت سے لے کر پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حالانکہ اگر اعلان نبوت سے لے کر آپ کے وصال تک 23 سالہ زندگی کو مختلف کاموں پر تقسیم کرکے دیکھا جائے تو بڑے حیرت انگیزانکشافات ہوں گے۔ مثال کے طورپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے غزوات میں شرکت فرمائی اگر ان سب کو جمع کرکے ان کے گھنٹے اور دن بنالئے جائیں تو معلوم ہوگا کہ ان 23برسوں میں صرف 6 ماہ ایسے ہیں جن میں آپ کے ہاتھ میں تلوار ہے، گویا ساڑھے بائیں سال میں آپ یا تو لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف فرمارہے ہیں یا پھر غریبوں اور مسکینوں کو مال تقسیم فرمارہے ہیں، یا لوگوں کے درمیان مساوات قائم فرمارہے ہیں، کبھی غلاموں، مزدوروں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک فرمارہے ہیں اور اپنے صحابہ کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔ کبھی آپ عورتوں اور بیواؤں کے حقوق کے سلسلہ میں لوگوں کو متنبہ فرمارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر آپ ان 6ماہ (جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تلوار ہے) سے ان ساڑھے بائیس سال کا موازنہ کریں تو ایک نئی دنیا کی سیر ہوگی۔ یہاں یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ ان چھ مہینوں میں بھی آپ نے لوگوں کو ظلم و زیادتی سے بچانے کیلئے ار فتنہ و فساد رفع کرکے امن کے قیام کیلے تلوار اٹھائی ہے۔ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت ہے کہ سیرت طیبہ کے ان ساڑھے بائیس برسوں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے۔ سیرت طیبہ سے متعلق ہمارے خطابات ہوں یا مضامین و مقالات ان میں عموماً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات یا آخرت میں آپ کی شفاعت اور اللہ کے نزدیک آپ کے مقام رفیع کا بیان ہماری توجہ کا مرکز ہوا کرتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور کے بیان سے ہمارے ایمان بالرسول میں تازگی اور پختگی کا سامان ہوتاہے، مگر ساتھ ہی ہمیں آج کے بدلتے حالات میں زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبنہ کے ان گوشوں پر روشنی ڈالنا بھی ضروری ہے جن میں فرد کی اصلاح اور ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کی سمت سفر کا آغاز کیا جاسکے۔ آج مطالعہ سیرت کی جہت کے تعین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ان گوشوں کو تحریراً، تقریراً اور عملاً سامنے لانے کی ضرورت ہے جن کا براہ راست تعلق انسان کی ہدایت و رہنمائی سے ہے، آپ کا اخلاق، صبر و رضا، قناعت و توکل، دشمنوں سے آپ کا حسن سلوک، مصیبت زدہ اور آفت رسیدہ انسانوں پر آپ کی شفقت و نوازش،غیر مسلموں کے ساتھ آپ کا حسن معاملہ وغیرہ تاکہ ایک طرف تو ہم اپنی قوم کے افراد کیلئے آپ کی زندگی کو "اسوہ حسنہ” یا بہترین نمونہ کے طورپر پیش کرسکیں، جس پر عمل کرکے ہم اعلیٰ انسانی اقدار سے متصف ہوکر ابدی سعادتوں سے بہرہ مند ہوں، ار دوسری طرف ہم دوسری اقوام کے سامنے اپنے رسول کا صحیح تعارف کرواسکیں جس سے اسلام کی دعوت اور غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کے راستے ہموار ہوں۔ آج اسلام دشمن میڈیا کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صرف دو چیزیں دی ہیں ایک تلوار اور دوسری چار شادیوں کی اجازت، اس مکروہ پروپگنڈہ کے جواب میں ہمیں مثبت طریقوں سے غیر مسلموں تک سیرت طیبہ کے اخلاقی و روحانی اور آفاقی پہلوؤں کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔عصر حاضر میں مطالعہ سیرت النبیﷺ کی معنویت اور جہت

شہید بغداد علامہ اسید الحق عاصم القادری بدایونی بغدادی

انتخاب و پیش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ نیک نمونہ عمل ہے، قرآن کریم نے اس کو مسلمانوں کیلئے "اسوہ حسنہ” قرار دیا ہے۔ یہ لفظ اپنے معنی کی وسعتوں کے اعتبار سے انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے، اسے زندگی کے کسی ایک شعبے کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح لفظ”سیرت” بھی اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے، بعض حلقوں میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ سیرت یا مطالعہ سیرت کا صرف یہ مطلب ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو تاریخی تسلسل اور جغرافیائی پس منظر میں سمجھ لیا جائے، آپ کی ولادت کب ہوئی، کس طرح آپ کی پرورش ہوئی، پہلی وحی کب آئی، ابتداء میں کون کون لوگ ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے، ہجرت کب ہوئی اور اس کے اسباب کیا تھے،کون سا غزوہ کس سن میں ہوا، اور اس کا نتیجہ کیا رہا، آپ کے بعض حسی معجزات ، آپ کی بعثت اور دعوت کے نتیجے میں دنیا میں کیا سیاسی ، جغرافیائی اور معاشی انقلابات آئے وغیرہ وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سارے امور بھی "سیرت” کا حصہ ہیں مگر "سیرت” کے معنی اور مفہوم کی حدیں صرف یہیں آکر ختم نہیں ہوجاتیں بلکہ سیرت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ سیرت قرآنی تعلیمات کی عملی تصویر کا نام ہے، اسلامی عقائد، اسلامی اعمال، اسلامی اخلاق، فرد کا نظام حیات، معاشرے کے مسائل، بین الاقوامی تعلقات و روابط، امن کے تقاضے، جنگی قوانین وغیرہ یہ سب کے سب سیرت کے موضوعات میں شامل ہیں۔ اور سیرت طیبہ کو اسی وسیع مفہوم میں "اسوہ حسنہ” میں قرار دیا گیا ہے، اگر سیرت پاک صرف واقعات کو تاریخی تسلسل سے بیان کرنے کا نام ہو، اور اس میں انسانی ہدایت کے گوشوں پر گفتگو نہ ہوتو پھر وہ "اسوہ حسنہ” یا بہترین نمونہ کیسے ہوگی؟ تاریخ میں اپنے اپنے میدانوں میں عظیم اور عبقری شخصیات کی سوانح اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح کو یہی بنیادی نقطہ جدا کردیتا ہے، تاریخ انسانی کی دیگر عظیم شخصیات کی سوانح انسان کی تاریخی معلومات میں اضافے کا سبب بنتی ہے لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا مطالعہ انسان کو آفاقی سعادتوں سے بہرہ مند کرتا ہے۔ سیرت کے اس وسیع مفہوم کے تناظر میں اگر مطالعہ سیرت کی معنویت اور اہمیت پر غور کیا جائے تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آتے ہیں۔ سیرت طیبہ قرآن فہمی کا ایک بنیادی اور ناگزیر ماخذ ہے، قرآن کریم کی بے شمار آیات ایسی ہیں جن کے حقیقی معانی تک رسائی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ان آیات سے متعلق سیرت طیبہ کے بعض گوشوں سے پردہ نہ اٹھایا جائے، قرآن کریم اور صاحب قرآن میں باہم ایسا رشتہ اور تعل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے صاحب قرآن کے اخلاق ہی کو قرآن فرمایا ہے۔ قرآن فہمی کے سلسلہ میں مطالعہ سیرت کی اہمیت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ قرآن کی سورتوں کی تقسیم صاحب قرآن کی حیات مبارکہ کے دو مختلف ادوار کے احوال سے کی گئی ہے یعنی جو سورتیں زمانہ قیام مکہ میں نازل ہوئی ہیں ان کو مکی کہا جاتا ہے اور جو سورتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں ان کو ہم مدنی کہتے ہیں۔ مطالعہ سیرت کے نتیجے میں انسان اپنے سامنے انسانیت کاملہ کی ایک ایسی اعلیٰ مثال دیکھتا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل نظر آتی ہے، آپ انسانی زندگی کے جس پہلو اور جس گوشے کو بھی سامنے رکھ کر سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں تو ہر پہلو سے انسانی زندگی کا کمال آپ کو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آئے گا۔ یہی وجہہ ہے کہ مغرب کے مشہور اسکالر مائیکل ہارٹ نے جب دنیا کے سو عظیم انسانوں پر کتاب لکھی تو عیسائی ہونے کے باوجود اس نے اعلیٰ انسانی اقدار کے حوالے سے سب سے پہلے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا۔ مطالعہ سیرت کے نتیجے میں اسلام کے بنیادی عقائد، احکام، اخلاق اور ہر اس چیز کی معرفت ہوتی ہے جس کی ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ضرورت ہے۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہہ سے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمارے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔ انسان کی ہدایت و رہنمائی اور ملتوں اور قوموں کی اصلاح احوال اورتربیت کیلئے ایک داعی، مبلغ، مصلح اور رہنما کو دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تربیت کے میدان میں جس جس چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے اس کا ایک پورا نصاب سیرت میں موجودہے۔ دعوت و تبیغ چونکہ یہ منصب نبوت و رسالت کا حصہ ہے اس لئے اس میدان مے اس وقت تک کامیابی نہیں مل سکتی جب تک دعوت و تبلیغ منہاج نبوی کے مطابق نہ ہو۔ لہذا کامیاب تبلیغ و دعوت کیلئے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ مطالعہ سیرت کی معنویت اور اہمیت کے بعد اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ عصر حاضر میں مطالعہ سیرت کی جہت کیا ہونا چاہئے۔ آج اسلام کو دہشت گرد مذہب کے طورپر دیکھا جارہا ہے اور (معاذ اللہ) رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے، کسی نے کہاکہ اسامہ کو اس کے حالات نے دہشت گرد نہیں بتایا ہے بلکہ اس کو اس کے مذہب اور اس کے رسول کی تعلیمات نے آتنک وادی بنایا ہے۔ ان حالات میں مطالعہ سیرت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے لیکن آج مطالعہ سیرت کی جہت ذرا مختلف ہونا چاہئے۔ جہاں تک سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اﷲً) دہشت گردی کے الزام کا رسول اہے تو یہ ان مستشرقین کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے جن کے دلوں میں اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بغض و عناد بھرا ہوا تھا۔ مگر اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خود ہم نے عملی طورپر دنیا کے سامنے اپنے مذہب ار اپنے رسول کو کس طرح پیش کیا ہے؟ شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہوکہ سیرت طیبہ پر جو سب سے پہلی کتاب لکھی گئی ہے اس کا نام "مغازی رسول” ہے یعنی حضور کے جنگی کارنامے۔ ہمارے یہاں بارہ ربیع الاول کے جلوس میں دو داڑھی والے حضرت عربی لباس میں ملبوس ہاتھ میں (لکڑی) کی تلواریں لئے ہوئے جلوس کے آگے آگے چلتے ہیں ممکن ہے یہ منظر اور جگہ بھی دیکھنے کو ملتا ہو، میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ آخر پیغمبر امن و سلامتی کے جشن ولادت کے موقع پر ہم ہاتھ میں تلوار لے کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حالانکہ اگر اعلان نبوت سے لے کر پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حالانکہ اگر اعلان نبوت سے لے کر آپ کے وصال تک 23 سالہ زندگی کو مختلف کاموں پر تقسیم کرکے دیکھا جائے تو بڑے حیرت انگیزانکشافات ہوں گے۔ مثال کے طورپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے غزوات میں شرکت فرمائی اگر ان سب کو جمع کرکے ان کے گھنٹے اور دن بنالئے جائیں تو معلوم ہوگا کہ ان 23برسوں میں صرف 6 ماہ ایسے ہیں جن میں آپ کے ہاتھ میں تلوار ہے، گویا ساڑھے بائیں سال میں آپ یا تو لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف فرمارہے ہیں یا پھر غریبوں اور مسکینوں کو مال تقسیم فرمارہے ہیں، یا لوگوں کے درمیان مساوات قائم فرمارہے ہیں، کبھی غلاموں، مزدوروں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک فرمارہے ہیں اور اپنے صحابہ کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔ کبھی آپ عورتوں اور بیواؤں کے حقوق کے سلسلہ میں لوگوں کو متنبہ فرمارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر آپ ان 6ماہ (جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تلوار ہے) سے ان ساڑھے بائیس سال کا موازنہ کریں تو ایک نئی دنیا کی سیر ہوگی۔ یہاں یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ ان چھ مہینوں میں بھی آپ نے لوگوں کو ظلم و زیادتی سے بچانے کیلئے ار فتنہ و فساد رفع کرکے امن کے قیام کیلے تلوار اٹھائی ہے۔ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت ہے کہ سیرت طیبہ کے ان ساڑھے بائیس برسوں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے۔ سیرت طیبہ سے متعلق ہمارے خطابات ہوں یا مضامین و مقالات ان میں عموماً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات یا آخرت میں آپ کی شفاعت اور اللہ کے نزدیک آپ کے مقام رفیع کا بیان ہماری توجہ کا مرکز ہوا کرتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور کے بیان سے ہمارے ایمان بالرسول میں تازگی اور پختگی کا سامان ہوتاہے، مگر ساتھ ہی ہمیں آج کے بدلتے حالات میں زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبنہ کے ان گوشوں پر روشنی ڈالنا بھی ضروری ہے جن میں فرد کی اصلاح اور ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کی سمت سفر کا آغاز کیا جاسکے۔ آج مطالعہ سیرت کی جہت کے تعین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ان گوشوں کو تحریراً، تقریراً اور عملاً سامنے لانے کی ضرورت ہے جن کا براہ راست تعلق انسان کی ہدایت و رہنمائی سے ہے، آپ کا اخلاق، صبر و رضا، قناعت و توکل، دشمنوں سے آپ کا حسن سلوک، مصیبت زدہ اور آفت رسیدہ انسانوں پر آپ کی شفقت و نوازش،غیر مسلموں کے ساتھ آپ کا حسن معاملہ وغیرہ تاکہ ایک طرف تو ہم اپنی قوم کے افراد کیلئے آپ کی زندگی کو "اسوہ حسنہ” یا بہترین نمونہ کے طورپر پیش کرسکیں، جس پر عمل کرکے ہم اعلیٰ انسانی اقدار سے متصف ہوکر ابدی سعادتوں سے بہرہ مند ہوں، ار دوسری طرف ہم دوسری اقوام کے سامنے اپنے رسول کا صحیح تعارف کرواسکیں جس سے اسلام کی دعوت اور غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کے راستے ہموار ہوں۔ آج اسلام دشمن میڈیا کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صرف دو چیزیں دی ہیں ایک تلوار اور دوسری چار شادیوں کی اجازت، اس مکروہ پروپگنڈہ کے جواب میں ہمیں مثبت طریقوں سے غیر مسلموں تک سیرت طیبہ کے اخلاقی و روحانی اور آفاقی پہلوؤں کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔