صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ فاتحہ 7

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 
صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ
 
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہو اور نہ گمراہوں کا۔
 
نیز شیخ محمد سرفراز خاں صفدر لکھتے ہیں :
علاوہ ازیں متعدد کتابوں میں آپ کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر طلب دعا کا تذکرہ ہے ‘ چناچہ حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ ایک جماعت نے عتبی سے یہ مشہور حکایت نقل کی ہے جس جماعت میں شیخ ابومنصور الصباغ بھی ہیں ‘ انہوں نے اپنی کتاب ” الشامل “ میں بیان کیا ہے کہ عتبی فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا : السلام علیک یا رسول اللہ ! میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے ” اور اگر بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آتے پس وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور ان کے لیے رسول بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے “ اس لیے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگے کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی پیش کرنے آیا ہوں۔ اس کے بعد اس نے درد دل سے چند اشعار پڑھے اور جذبہ محبت کے پھول نچھاور کرکے چلا گیا ‘ اور اسی واقعہ کے آخر میں مذکور ہے کہ خواب میں اس کو کامیابی کی بشارت بھی مل گئی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عتبی ! جا کر اعرابی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی ہے (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٢٠) یہ واقعہ امام نووی نے ” کتاب الاذکار “ ص ١٨٥‘ طبع مصر میں اور علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد النسفی الحنفی المتوفی ٧١٠ ھ نے اپنی تفسیر ” مدارک “ ج ١ ص ٣٩٩ میں اور علامہ تقی الدین سبکی نے ” شفاء السقام “ ص ٤٦ میں اور شیخ عبدالحق نے ” جذب القلوب “ میں ص ١٩٥ میں اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی نے ” رسائل الارکان “ ص ٢٨٠ طبع لکھنؤ میں نقل کیا ہے ‘ اور علامہ علی بن عبدالکافی السبکی اور علامہ سمہودی لکھتے ہیں کہ۔
عتبی کی حکایت اس میں مشہور ہے اور تمام مذاہب کے مصنفین نے مناسک کی کتابوں میں اور مورخین نے اس کا ذکر کیا ہے اور سب نے اس کو مستحسن قرار دیا ہے ‘ اس اسی طرح دیگر متعدد علماء نے قدیما وحدیثا اس کو نقل کیا ہے اور حضرت تھانوی (رح) لکھتے ہیں کہ مواہب میں بسند امام ابومنصور صباغ (رح) اور ابن النجار (رح) اور ابن عساکر (رح) اور ابن الجوزی (رح) اللہ تعالیٰ نے محمد بن حرب ہلالی (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں قبر مبارک کی زیاررت کرکے سامنے بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور زیارت کرکے عرض کیا کہ یا خیرالرسل ! اللہ نے آپ پر ایک سچی کتاب نازل فرمائی جس میں ارشاد ہے : (آیت) ” ولوانہم اذ ظلموا انفسھم جآءوک فاستغفرواللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما “ (النساء : ٦٤) اور میں آپ کے پاس اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوا اور اپنے رب کے حضور میں آپ کے وسیلہ سے شفاعت چاہتا ہوا آیا ہوں پھر دو شعر پڑھے ‘ اور اس محمد بن حرب کی وفات ٢٢٨ ھ میں ہوئی ہے ‘ ١ ھ۔ غرض زمانہ خیر القرون کا تھا اور کسی سے اس وقت نکیر منقول نہیں بس حجت ہوگیا۔ (نشر الطیب ص ٢٥٤) اور حضرت مولانا نانوتوی یہ آیت کریمہ لکھ کر فرماتے ہیں : ” کیونکہ اس میں کسی کی تخصیص نہیں آپ کے ہم عصر ہوں یا بعد کے امتی ہوں ‘ اور تخصیص ہو تو کیونکر ہو آپ کا وجود تربیت تمام امت کے لیے یکساں رحمت ہے کہ پچھلے امتیوں کا آپ کی خدمت میں آنا اور استغفار کرنا اور کرانا جب ہی متصور ہے کہ قبر میں زندہ ہوں ‘ ١ ھ (آب حیات ص ٤٠) اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی یہ سابق واقعہ ذکر کرکے آخر میں لکھتے ہیں کہ پس ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ کا حکم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بھی باقی ہے۔ (اعلاء السنن ج ١٠ ص ٣٣٠) ان اکابر کے بیان سے معلوم ہوا کہ قبر پر حاضر ہو کر شفاعت مغفرت کی درخواست کرنا قرآن کریم کی آیت کے عموم سے ثابت ہے ‘ بلکہ امام سبکی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس معنی میں صریح ہے۔ (شفاء القام ص ١٢٨) اور خیر القرون میں یہ کارروائی ہوئی مگر کسی نے انکار نہیں کیا جو اس کے صحیح ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (تسکین الصدور ص ٣٦٥۔ ٣٦٢‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجر انوالہ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر دعا کی درخواست کرنے کو ناجائز ثابت کرنے کے لیے شیخ ابن تیمیہ (رح) ‘ شیخ ابن قیم (رح) اور شیخ ابن الہادی (رح) وغیرہم کی ایک یہ دلیل ہے کہ حضرت صحابہ کرام (رض) ‘ ائمہ دین اور سلف صالحین سے ایسی کارروائی ثابت نہیں ‘ اگر یہ جائز ہوتی تو وہ ضرور ایسا کرتے ‘ اس کے جواب میں شیخ محمد سرفراز خان صفدر لکھتے ہیں۔
یہ ان حضرات کا ایک علمی مغالطہ ہے کیونکہ قبر کے پاس حاضر ہو کر سفارش کرانا اور طلب دعا ‘ نہ تو فرض و واجب ہے اور نہ سنت مؤکدہ ‘ تاکہ یہ حضرات اس پر خواہ مخواہ ضرور عمل کر کے دکھاتے اور اس کا رروائی کے نہ کرنے پر وہ ملامت کئے جاتے ‘ اس کارروائی کے مقر اس کو صرف جائز ہی کہتے ہیں اور جواز کے اثبات کے لیے حضرت بلال بن الحارث (رض) کا یہ فعل جس کی حضرت عمر (رض) اور دیگر حضرات صحابہ کرام (رض) نے تائید کی ہے کیا کم ہے ؟ اگر حضرت ابن عمر (رض) صحابی ہیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا تو یقین جانئے کہ بلال بن الحارث اور ان کی اس کارروائی کے مصدقین بھی صحابہ کرام (رض) ہیں ‘ اگرچہ حافظ ابن تیمیہ (رح) یہ کارروائی تسلیم نہیں کرتے لیکن اس کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ کارروائی بعض متاخرین سے ثابت ہے۔ (محصلہ قاعدہ جلیلہ ص ٧٢) (تسکین الصدور ص ٣٥٤‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجر انوالہ)
خلاصہ یہ ہے کہ تمام اکابر اور اصاغر علماء دیوبند کے نزدیک یا رسول اللہ کہنا جائز ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مقربین کے وسیلہ سے دعا کرنا اور ان سے دعا کی درخواست کرنا بھی جائز ہے ‘ بلکہ سنت اور مستحب ہے اور ہم بھی اس سے زیادہ نہیں کہتے۔
نداے غیر الہ اور توسل کے متعلق مصنف کا موقف :
انبیا کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے استمداد کے متعلق جو ہم نے احادیث اور فقہاء اسلام کی عبارات نقل کی ہیں اس سے ہمارا صرف یہ منشاء ہے کہ عام مسلمان جو شدائد اور ابتلاء میں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ کر پکارتے ہیں ‘ ان کا یہ پکارنا شرک نہیں ہے اور اس نداء کو شرک کہنا شدید ظلم اور زیادتی ہے کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہرحال اللہ کی مخلوق اور اس کا مقرب بندہ گردانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کا ہر فعل اور ہر تصرف اللہ کے اذن ‘ اس کی مشیت اور اس کی دی ہوئی قدرت کے تابع ہے ‘ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام ہوں یا عام انسان ‘ اس کائنات میں جس سے بھی جو فعل صادر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے صادر ہوتی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی انسان کو کسی شے پر ذرہ بھی قدرت نہیں ہے ‘ اور اس اعتقاد کے ساتھ ندائے غیر اللہ کو علماء دیوبند بھی جائز کہتے ہیں ‘ جیسا کہ شیخ گنگوہی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
اس اعتقاد کے ساتھ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے استمداد اور استغاثہ کرنا ہر چندی کہ جائز ہے لیکن افضل ‘ احسن اور اولی یہی ہے کہ حال میں اور ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا جائے اور اسی سے استمداد اور استعانت کی جائے ‘ امام ترمذی (رح) اپنی سند کے ساتھروایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن ایک سواری پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ‘ آپ نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تم کو چند باتوں کی تعلیم دیتا ہوں ‘ تم اللہ کو یاد رکھو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا ‘ تم اللہ کو یاد رکھو ‘ تم اللہ کو سامنے پاؤ گے ‘ جب تم سوال کرو تو اللہ تعالیٰ سے کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ تعالیٰ سے کرو اور جان لو کہ اگر تمام امت تم کو نفع پہچانے کیلیے جمع ہوجائے تو وہ تم کو صرف اسی چیز کو نفع پہنچا سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ‘ اگر تمام لوگ تم کو نقصان پہنچانے کیلیے جمع ہوجائیں تو وہ تم کو صرف اسی چیز کا نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ نے لکھ دیا ہے ‘ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٣٦١‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام ابو یعلی (رح) ١ (امام ابو یعلی (رح) احمد بن علی بن المثنی الموصلی ٣٠٧ ھ ‘ مسندابو یعلی موصلی ج ٣ ص ٨٥۔ ٨٢‘ مطبوعہ مؤسسۃ علوم القرآن ‘ بیروت) امام بن سنی (رح) ٢ ( حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحاق دینوری المعروف بابن سنی متوی ٣٦٤ ھ ‘ عمل الیوم واللیلۃ ص ١٣٦) اور امام ابن عبد البر (رح) ٣ (حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر (رح) مالکی متوفی ٤٦٣ ھ ‘ تمہید ج ٤ ص ١١١‘ مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ ‘ لاہور ‘ لاہور ‘ ١٤٠٤ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس تعلیم اور تلقین کے پیش نظر مسلمانوں کو چاہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں اور اسی سے مدد چاہیں ‘ اور دعا میں مستحسن طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا مانگیں ‘ زیادہ محفوظ اور زیادہ سلامتی اس میں ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید اور احادیث میں مذکور ہیں تاکہ دعاؤں میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سایہ افگن رہے ‘ اگر کسی خاص حاجت میں دعا مانگنی ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے مانگنی چاہیے۔
ہمارے فاضل معاصر علامہ محمد عبدالحکیم صاحب شرف قادری ثم نقشبندی لکھتے ہیں :
البتہ یہ ظاہر ہے کہ جب حقیقی حاجت روا ‘ مشکل کشا اور کارساز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو احسن اور اولی یہی ہے کہ اسی سے مانگا جائے اور اسی سے درخواست کی جائے اور انبیاء واولیاء کا وسیلہ اس کی بارگاہ میں پیش کیا جائے ‘ کیونکہ حقیقت ‘ حقیقت ہے اور مجاز ‘ مجاز ہے ‘ یا بارگاہ انبیاء واولیاء سے درخواست کی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ ہماری مشکلیں آسان فرمادے اور حاجتیں برلائے اس طرح کسی کو غلط فہمی بھی پیدا نہیں ہوگی اور اختلافات کی خلیج بھی زیادہ وسیع نہیں ہوگی۔
(ندائے یا رسول اللہ ص ١٢‘ مطبوعہ مرکزی مجلس رضا ‘ لاہور ‘ ١٤٠٥ ھ)
خلاصہ یہ ہے کہ نداء غیر اللہ اعتقاد مذکور کے ساتھ ہرچند کہ جائز ہے ‘ لیکن افضل ‘ اولی اور احسن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا جائے اور اسی سے استمداد اور استعانت کی جائے جیسا کہ حدیث مذکور تقاضا ہے۔
انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے استمداد ‘ نداء اور توسل کے متعلق میں نے بہت طویل بحث کی ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں اس مسئلہ میں جانبین سے غلو کیا جاتا ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ (رح) ابن القیم (رح) اور ابن الہادی (رح) کے پیروکار اور علماء نجد ‘ غیر اللہ سے استمداد اور وصال کے بعد ان کے توسل دعا مانگنے کا ناجائز اور شرک کہتے ہیں اور بعض غالی اور ان پڑھ عوام ‘ اللہ سے دعامانگنے کے بجائے ہر معاملہ میں غیر اللہ کی دہائی دیتے ہیں ‘ انہی کو پکارتے ہیں اور انہی کی نذر مانتے ہیں ‘ سو میں نے چاہا کہ قرآن مجید ‘ احادیت صحیحہ ‘ آثار صحابہ اور فقہاء اسلام کی عبارات کی روشنی میں حق کو واضح کروں ‘ تاکہ بلاوجہ بلاوجہ کسی مسلمان کو مشرک کہا جائے نہ اللہ تعالیٰ سے دعا اور استعانت کا رابطہ منقطع کیا جائے اور نہ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی تعظیم و تکریم میں کوئی کمی کی جائے۔
الہ العلمین ! ان سطور میں اثر آفرینی پیدا فرمایا ‘ اور جانبین سے غلو کرنے والوں کو اعتدال کی راہ اور صراط مستقیم پر گامزن فرما ‘ اس کتاب کو میری بخشش کا ذریعہ بنا دے اور اس کو میرے لیے صدقہ جاریہ کردے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی الہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الکاملین الراشدین وازواجہ امھات المومنین واولیاء امتہ الواصلین و علماء ملتہ الراسخین والائمۃ والمجتھدین المحدثین والمفسرین وسائرالمسلمین اجمعین الی یوم الدین۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم کو سیدھا راستہ پر چلا (الفاتحہ : ٥)
ہدایت کا لغوی معنی اور اس کی اقسام :
’ اھد “ کا لفظ ” ھدایۃ “ سے مشتق ہے ‘ علامہ راغب اصفہانی ” ھدایۃ “ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
جو چیز مطلوب تک پہنچا دے اس کی طرف ملائمت اور نرمی سے رہنمائی کرنا ہدایت ہے ‘ فلاں شخص کو ہدایت دی یعنی اس کی راہنمائی کی ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار قسم کی ہدایت دی ہے۔
(١) عقل اور شعور کی ہدایت اور بدیہیات کا علم ہر شخص کو عطا فرمایا ہے :
(آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی (طہ : ٥٠) جس نے ہر چیز کو اس کی (مخصوص) بناوٹ عطا فرمائی پھر ہدایت دی
(٢) انبیاء کرام (علیہم السلام) کی زبانوں سے اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہدایت عطا فرمائی :
(آیت) ” وجعلنھم ائمۃ یھدون بامرنا “۔ (الانبیاء : ٧٣) اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا ‘ وہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے۔
(٣) توفیق الہی جو ہدایت یافتہ لوگوں کے ساتھ مخصوص :
(آیت) والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم (محمد : ١٧) اور جن لوگوں کو ہدایت کی توفیق مل گئی (یعنی جنہوں نے ہدایت قبول کی) اللہ نے ان کی ہدایت کو زیادہ کردیا اور انہوں نے تقوی عطا فرمایا
(٤) آخرت میں جنت کی طرف پہنچانا :
(آیت) ” قالوا الحمد للہ الذی ھدنا لھذا “ (الاعراف : ٤٣) جنتی کہیں گے : اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا۔
یہ چاروں ہدایتیں ترتیب وار ہیں کیونکہ جس چیز کو ہدایت کی پہلی قسم (عقل و شعور) حاصل نہیں ہے اس کو باقی اقسام بھی حاصل نہیں ہوں گی بلکہ وہ مکلف بھی نہیں ہے ‘ جیسے حیوانات ‘ اور جس کو دوسری قسم کی ہدایت حاصل نہیں ہوئی اس کو باقی دو قسمیں بھی حاصل نہیں ہوں گی ‘(اس میں اشکال ہے) اور جس کو تیسری قسم حاصل نہیں ہوئی جیسے کفار اس کو چوتھی قسم حاصل نہیں ہوگی اور جس کو چوتھی قسم حاصل ہوگی اس کو پہلی تین قسمیں حاصل ہوچکی ہوں گی۔ (المفردات ص ٥٣٩۔ ٥٣٨‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
ہدایت کی اقسام کی مزید تفصیل :
اس تفصیل میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہدایت کی پہلی قسم وجدان ہے جو انسان کو مبدء ولادت میں عطا کیا جاتا ہے ‘ جس اس کو بھوک اور پیاس کا ادراک ہوتا ہے ‘ جب وہ غذا کی طلب کے لیے روتا اور چلاتا ہے ‘ اور دوسری قسم جو اس کی ہدایت ہے اور یہ قسمیں انسان اور حیوان میں مشترک ہیں ‘ اور تیسری قسم عقل کی ہدایت ہے جو انسان کے ساتھ مخصوص ہے ‘ عقل کی ہدایت سے انسان حواس کی اصلاح کرتا ہے مثلا صفراوی مزاج والا میٹھی چیزوں کو کڑوا محسوس کرتا ہے تو عقل ہدایت دیتی ہے کہ یہ میٹھی چیز ہے ‘ ہدایت کی چوتھی قسم دین اور شریعت کی ہدایت ہے ‘ اور ہدایت کی پانچویں قسم توفیق ہے۔
وجدان ‘ حواس اور عقل کی ہدایت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” الم نجعل لہ عینین ولسانا و شفتین وھدینہ النجدین (البلد : ١٠۔ ٨) کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں زبان اور ہونٹ نہیں بنائے اور ہم نے اسے (نیکی اور بدی) دونوں واضح راستے دکھادیئے
اور دین اور شریعت کی ہدایت کے متعلق فرمایا :
(آیت) ” واما ثمود فھدینہم فاستحبوا العمی علی الھدی (حم السجدۃ : ١٧) اور رہے ثمود کے لوگ تو ہم نے ان کو ہدایت دی سو انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر پسند کرلیا۔
اور ہدایت کی توفیق کے متعلق فرمایا :
(آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم (الفاتحہ : ٥) ہم کو سیدھے راستے پر چلا
اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی ذات کا دیدار ‘ اس کی رضا اور جنت الفردوس کی ہدایت ہے ‘ اس ہدایت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہم کو وجدان ‘ عقل اور شعور (حواس سے ادراک) کی ہدایت عطا فرمائی ‘ پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے واسطے سے ہم کو دین اور شریعت کی ہدایت میسر کی ‘ اب ہم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہم کو دین اور شریعت پر چلا اور اس کی توفیق مرحمت فرماتا کہ ہم کو جنت کی ہدایت حاصل ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت کا فرق :
ہدایت کا ایک معنی ” ایصال الی المطلوب الخیر “ (نیک مطلوب تک پہنچانا) ہے اور دوسرا معنی ” ارشاد “ اور ” اراءۃ الطریق “ (راستہ دکھانا) ہے ‘ مطلوب خیر تک پہنچانا یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے ‘ اس کو ہدایت یافتہ بنانا اور باطن میں ہدایت دینے سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور ” راستہ دکھانا “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب ہے ‘ اس کو ہدایت نافذ کرنے اور ظاہرا ہدایت دینے سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہدایت کی نسبت کی گئی ہے اس سے مراد راستہ دکھانا ہے اور جہاں آپ سے ہدایت دینے کی نفی کی گئی اس سے مراد ہدایت یافتہ بنانا ہے ‘ مثلا قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء (القصص : ٥٦) بیشک آپ اس کو ہدایت یافتہ نہیں بناتے جس کو آپ چاہیں ‘ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔
لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآء (البقرہ : ٢٧٢) انہیں ہدایت یافتہ بنانا آپ کے ذمہ نہیں لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔
ہدایت یافتہ بنانا ‘ مطلوب خیرتک پہنچانا اور باطن میں ہدایت دینا یہ آپ کا منصب نہیں ہے ‘ آپ کا منصب اللہ کی ہدایت کو نافذ کرنا ‘ ظاہرا ہدایت دینا اور راستہ دکھانا ہے اسی اعتبار سے فرمایا :
(آیت) وانک لتھدی الی صراط مستقیم “ اور بیشک آپ ضرور صراط مستقیم دکھاتے ہیں (الشوری : ٥٢)
صراط مستقیم کا لغوی اور شرعی معنی :
دونقطوں کو ملانے والے سب سے چھوٹے خط کو لغت میں صراط مستقیم کہتے ہیں اور شریعت میں صراط مستقیم سے مراد وہ عقائد ہیں جو سعادت دارین تک پہنچاتے ہیں ‘ یعنی وہ دین اسلام جس کو دے کر تمام انبیاء اور رسل کو مبعوث کیا گیا اور ان تمام کی نبوات اور رسالات کو حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر ختم کردیا گیا ‘ جس دین سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح معرفت ہو اور تمام احکام شرعیہ کا علم ہو وہ صراط مستقیم ہے۔ یہ صراط مستقیم کا خاص معنی ہے ‘ اور اس کا عام معنی یہ ہے :
تمام اخلاق ‘ اعمال اور امور میں افراط اور تفریط کے درمیان متوسط طریقہ :
خواص مسلمین کے نزدیک صراط مستقیم کا معنی یہ ہے :
کفر ‘ فسق ‘ جہل ‘ بدعت اور ہوائے نفسانیہ کے جہنم کی پشت پر علم ‘ عمل ‘ خلق اور حال کے اعتبار سے شریعت پر استقامت کا پل :
اس معنی میں صراط مستقیم سے ذہن آخرت کے پل صراط کی طرف متوجہ ہوتا ہے ‘ پل صراط کے متعلق احادیث میں ہے کہ وہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اور شریعت پر استقامت بھی بال سے زیادہ اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ‘ مثلا ہمارے ہاں عام طور پر دیور اور بھا بھی میں پردہ نہیں ہوتا، حالانکہ شریعت میں ان کے درمیان پردہ کی سخت تاکید ہے ‘ سرکاری ملازمتیں رشوت ‘ سود اور بےایمانی کی آمدنی کے بغیر نہیں ‘ یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم مخلوط طریقہ تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ‘ دکاندار اور ٹھیلے والے پولیس کو بھتہ دیئے بغیر اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے ‘ نجی اداروں اور دفاتر میں مردوں اور عورتوں کا مخلوط اسٹاف ہوتا ہے ‘ استقبالیہ اور معلوماتی کاؤنٹر پر بےپردہ خواتین سے گفتگو کرنی پڑتی ہے ‘ سرکاری ٹیندرز پر کوئی ٹھیکہ رشوت کے بغیر منظور نہیں ہوسکتا ‘ پولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں کوئی رشوت میں ملوث ہوئے بغیر ملازمت نہیں کرسکتا غرضیکہ پورا معاشرہ شریعت کی خلاف ورزیوں اور اخلاقی پستیوں میں ڈوبا ہوا ہے ‘ ایسے معاشرہ میں اگر کوئی شخص شریعت پر مستقیم رہنا چاہے تو یہ صراط مستقیم بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جو اس صراط مستقیم پر آسانی سے گزر گیا وہ آخرت کی پل صراط سے بھی آسانی سے گزر جائے گا۔
اور عوام مسلمین کے اعتبار سے صراط مستقیم کا یہ معنی ہے :
اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو ماننا اور اس پر عمل کرنا اور ہر اس کام سے رکنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔
خواص جب (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ کہتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے : اے اللہ ہمیں ” سیرالی اللہ “ کے بعد ” سیر فی اللہ “ عطا فرما اور ہم پر اپنے جمال اور جلال کی صفات غیر متناہیہ منکشف کر دے اور جب عوام (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ کہتے ہیں تو اس کا معنی ہے : اے اللہ ہمیں اپنے تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرما۔
کیا نمازی کا صراط مستقیم کی دعا کرنا تحصیل حاصل ہے ؟
اس جگہ ایک مشہور سوال یہ ہے کہ جب نماز نماز میں کہتا ہے (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ سو وہ تو خود صراط مستقیم کی ہدایت پر ہے ‘ اگر صراط مستقیم پر نہ ہوتا تو نماز کیسے پڑھتا ‘ لہذا یہ تحصیل حاصل ہے، اس کے دو جواب ہیں :
(١) اس دعا کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ مجھ کو صراط مستقیم کی ہدایت پر قائم اور ثابت رکھ اور اس میں دوام عطا فرما۔ معنی عوام مسلمین کے اعتبار سے ہے اور اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
(آیت) ” ربنا لاتزع قلوبنا بعد اذھدیتنا “ (آل عمران : ٨) اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔
اور اس حدیث میں بھی اس کی تائید ہے : امام ترمذی روایت کرتے ہیں :
” عن انس قال کان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یکثر ان یقول یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “ (جامع ترمذی ص ٣١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ بہ کثرت یہ کہتے تھے : اے دلوں کے پلٹنے والے ! میرے دل کو بھی اپنے دین پر قائم اور ثابت رکھ۔
(٢) اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی معرفت کے درجات غیرمتناہی ہیں اور نمازی معرفت کے جس درجہ میں ہے وہ اس سے اگلے مقام کی معرفت کی دعا کرتا ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ میری ہدایت میں ترقی عطا فرما۔ یہ خواص مسلمین کے اعتبار سے ہے۔ اور اس کی تائید ان آیات میں ہے :
(آیت) ” ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی “۔ (مریم : ٧٦) اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ زیادتی فرماتا ہے۔
(آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی واتہم تقوہم (محمد : ١٧) اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کو اللہ نے زیادہ کیا اور انہیں ان کا تقوی عطا فرمایا۔
(آیت) ” وللاخرۃ خیر لک من الاولی ’ (الضحی : ٤) اور بیشک آپ کی ہر بعد کی گھڑی ‘ پہلی گھڑی سے بہتر ہے۔
جمع کے صیغہ سے دعا کرنے کی وجہ اور ربط آیات :
دوسرا سوال یہ ہے کہ یہاں جمع کے صیغہ سے دعا کی تعلیم ہے ‘” ہم کو سیدھے راستہ پر چلا “ واحد کا صیغہ کیوں نہیں ہے ؟ ” مجھ کو سیدھے راستہ پر چلا “ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نمازی تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرے گا تو ان میں کچھ اللہ کے مقرب اور مقبول بندے بھی ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالیٰ دعا کو قبول فرمائے گا اور یہ اس کے کرم عمیم سے بعید ہے کہ وہ بعض کے حق میں دعا قبول کرے اور باقی بعض کے حق میں دعا کو مسترد کردے۔
ان آیات میں ربط اس طرح ہے کہ جب بندوں نے کہا : اے پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہاری مہمات یا عبادات میں ‘ میں تمہاری کیسے مدد کروں ؟ پس بندوں نے کہا : ہمیں دین اسلام پر چلا اور چونکہ دین اسلام پر چلنا اللہ کی خاص نعمت ہے اس لیے فرمایا :
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا (الفاتحہ : ٧)
جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے وہ گزشتہ امتوں میں سے انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔ امام ابن جریر (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے : ہمیں ان لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت اور عبادت کا انعام کیا ہے جو ملائکہ ‘ انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں ‘ جنہوں نے تیری اطاعت اور عبادت کی۔ (جامع البیان ج ١ ص ٥٩۔ ٥٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے انعام یافتہ لوگوں کا اجمالا ذکر کیا ہے اور اس کی تفصیل ان آیتوں میں ہے :
انعام یافتہ لوگوں کا بیان :
(آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین۔ (النساء : ٦٩) اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ہیں۔
(آیت) اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ذریۃ ادم وممن حملنا مع نوح، ومن ذریۃ ابرھیم واسرآء یل وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجدا وب کیا (مریم : ٥٨) جن لوگوں پر اللہ نے انعام کیا وہ اولاد آدم میں سے انبیاء ہیں اور ان لوگوں (کی نسل) سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا ‘ اور ابراہیم اور یعقوب کی نسل سے اور ان میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور ان کو منتخب کرلیا ‘ جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ سجدہ کرتے ہیں اور روتے ہوئے گرپڑتے ہیں
انعام یافتہ لوگوں کے راستوں کا بیان :
ان انعام یافتہ نفوس قدسیہ پر چلنے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بالکلیہ اطاعت الہی اور اس کی قضاء پر راضی ہونے میں جذب کرلے ‘ اور ایسا ہوجائے کہ اگر اس کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دے تو اس کی اس طرح اطاعت کرے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی ‘ اور اگر خود اس کو ذبح ہونے کا حکم دیا جائے تو اپنے آپ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی طرح ذبح کے لیے تیار پائے، اور اگر کسی بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد اس کو کسی سے علم حاصل کرنے کا حکم دیا جائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح طلب علم کے لیے روانہ ہوجائے ‘ اور اپنی بڑائی کو عار نہ بنائے اور اگر اس کو یہ حکم دیا جائے کہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے خواہ اس راہ میں اس کو آرے سے چیر دیا جائے تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور زکریا (علیہ السلام) کی طرح قتل ہوجائے اور اف نہ کرے ‘ سخت موذی بیماریوں میں مبتلا کیا جائے تو حضرت ایوب (علیہ السلام) کی طرح صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے ‘ اگر قاضی اور حاکم بنے تو عدل اور انصاف کے سامنے جھکنے میں عار محسوس نہ کرے اور اگر اس کے بیٹے کا کیا ہوا فیصلہ اس کے کے ہوئے فیصلہ کے مقابلہ میں صحیح ہو تو قبول حق کے راستہ میں انانیت کو نہ آنے دے ‘ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے کئے ہوئے فیصلہ کے مقابلہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کو راجح قرار دیا تھا ‘ اور سلطنت اور شاہی ملے تو حکومت کے رعب اور دبدبہ میں اللہ کی یاد ‘ عبادت و ریاضت اور شب بیداری کو نہ بھولے ‘ جیسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اتنی عظیم الشان حکومت ملنے کے باوجود اطاعت الہی سے غافل نہ تھے اور رکوع اور سجدوں میں راتیں گزارتے تھے اور اگر قضاء الہی سے کسی بلا اور مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو شکوہ و شکایت نہ کرے بلکہ اپنے قصور نفس کا اعتراف کرے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل میں مصروف رہے جیسے حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں گرفتار ہو کر بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل کرتے رہے ‘ اگر نوجوان ‘ حسین و جمیل اور پیارا بیٹا گم ہوجائے تو حرف شکایت زبان پر نہ لائے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح صبر جمیل کرے ‘ اور اگر کوئی بااختیار واقتدار حسین و جمیل عورت کسی جوان مرد کو گناہ کی دعوت دے تو قید خانے میں جانا منظور کرلے اور گناہ سے دامن بچائے رکھے اور جب قید خانہ میں جائے تو وہاں بھی دعوت و ارشاد کو نہ بھولے اور وہاں کے قیدیوں کو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کی دعوت دے اور یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اسوہ اور نمونہ ہے اور ان کا راستہ ہے۔
یہ سابق انعام یافتہ لوگوں کی سیرتوں کا اجمالی بیان ہے اور سب سے زیادہ انعام حضرت سید المرسلین و سیدنا محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا گیا ہے اور ان کی سیرت تمام انبیاء سابقین کی سیرتوں کی جامع ‘ کامل ‘ اتم اور اکمل ہے اور یہ سارا قرآن انہی کی سیرت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل آپ کی احادیث اور سنت میں ہے ‘ اس لیے قرآن اور سنت ہی دراصل صراط مستقیم ہے ‘ اس لیے جو شخص انعام یافتہ نفوس قدسیہ کی صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہو وہ قرآن اور سنت کو دانتوں سے پکڑ لے اور اس پر پورا پورا عمل کرے۔
(آیت) ” مغضوب “ کا معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں : غضب کا معنی ہے : انتقام کے ارادے سے دل کے خون کا کھولنا اور جوش میں آنا ‘ اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غضب سے بچو کیونکہ یہ ایک انگارہ ہے جو بنو آدم کے دلوں میں دہکتا ہے کیا تم غضبان شخص کی گردن کی پھولی ہوئی رگوں اور اس کی سرخ آنکھوں کو نہیں دیکھتے ‘ اور جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے صرف انتقام مراد ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” وغضب اللہ علیہ ولعنہ “ (النساء : ٩٤) اور اللہ (مومن کے قاتل سے) انتقام لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے دور کرے گا۔
(آیت) المغضوب علیہم “ کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں۔ (المفردات ص ٣٦١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
(آیت) ” المغضوب علیہم “ کی ماثور تفسیر :
امام ابن جریر (رح) نے متعدد اسانید کے ساتھ حضرت عدی بن حاتم (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت ابن مسعود (رض) اور دیگر صحابہ کرام (رض) سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ” المغضوب علیہم “ سے مراد یہود ہیں (جامع البیان ج ١ ص ٦٢۔ ٦١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
مغضوب کا معنی بیان کرنے میں بعض علماء کی لغزش :
سید ابو الاعلی مودودی (رح) نے (آیت) ” المغضوب علیہم “ کے ترجمہ میں لکھا ہے ” اور جو معتوب نہیں ہوئے “۔ (تفہیم القرآن ج ١ ص ٤٥‘ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن ‘ لاہور ‘ ١٩٨٣ ء)
ہمارے شیخ علامہ سید احمد کا ظمی قدس سرہ العزیز اس پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ایک معاصر نے (آیت) ” غیر المغضبوب علیہم “ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ” جو معتوب نہیں ہوئے “ یہاں ” مغضوب “ کا ترجمہ ” معتوب “ صحیح نہیں ‘ عہد رسالت سے لے کر آج تک کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا ‘ بلکہ ادنی تامل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غضب سے عتاب مراد لینا مراد الہی کے قطعا خلاف ہے ‘ اس لیے کہ اللہ کا غضب انہی لوگوں کے ساتھ ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ارادہ انتقام متعلق فرمایا۔ رہا ” عتاب “ توفی الجملہ وہ رسولوں کی طرف بھی متوجہ ہوا۔ صحیحن کی متفق علیہ حدیث میں ہے۔ ” عتب اللہ علیہ “ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عتاب فرمایا۔ “ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٣) بلکہ سورة (آیت) ” عبس و تولی “ کی تفسیر میں یہ حدیث وارد ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ ابن مکتوم کی آمد پر فرمایا : ” مرحبا بمن عانبنی فیہ ربی “ جس کی وجہ سے مجھ پر عتاب ہوا اس کو خوش آمدید (تفسیر ابن کبیرج ٨ ص ٤٧٠، روح المعانی ج ٣٠ ص ٣٩، ابن جریر ج ٣٠۔ ٢٩۔ ٢٨، ارشاد الساری ج ٧ ص ٤١١) جس سے ظاہر ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھی عتاب متوجہ ہوا۔ اگر ” مغضوب “ کا ترجمہ ” معتوب “ صحیح مان لیاجائے تو معاذ اللہ حبیب و کلیم علیہما الصلوۃ والتسلیم بھی (آیت) ” مغضوب علیہم “ میں شامل ہوجائیں گئے۔ واضح رہے کہ غضب جو اللہ کی صفت ہے اس کی بنیاد صرف عقوبت اور ارادہ انتقام ہے ‘ اور اس عتاب کا مبنی مودت و محبت ہے۔ اہل لغت نے عتاب کے معنے ” مخاطبۃ الادلال “ لکھے ہیں یعنی محبوب کی لاپروائی یا بےتوجہی پر محبت بھری خفگی کا اظہار۔ صاحب ” لسان العرب “ اور ” صاحب تاج العروس “ نے اس معنی پر بطور شاہد یہ شعر نقل کئے :
اعاتب ذا المودۃ من صدیق اذا ما رابنی منہ اجتناب
اذا ذھب العتاب فلیس ود ویبقی الودمابقی العتاب۔
(لسان العرب ج ١ ص ٥٧٧، تاج العروس ج ١ ص ٣٦٥)
” محبت والے دوست کے ساتھ میں عتاب سے پیش آتا ہوں ‘ جب مجھے اس کی کنارہ کشی کا اندیشہ ہو ‘ جب عتاب گیا تو محبت بھی نہ رہی کہ محبت اسی وقت تک رہتی ہے جب تک عتاب باقی رہے “ یعنی عتاب سے پیش آنا محبت کی نشانی ہے۔ اگر کہا جائے کہ اردو لغت کی کتابوں میں ” غضب “ کے معنی عتاب اور ” عتاب “ کے معنی غضب اور ” مغضوب “ کے معنی ” زیر عتاب “ لکھے ہیں تو عرض کروں گا کہ ہر زبان کے علماء لغت کی طرح اردو لغت والوں نے بھی اپنی اردو زبان کے استعمالات ومحاورات کو اردو لغت کی کتابوں میں جمع کردیا ‘ مگر قرآن مجید ” اردو “ میں نہیں بلکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ ہر زبان کے محاروات و استعمالات اس کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں ‘ اس لیے اردو استعمالات پر عربی استعمالات کا قیاس درست نہیں ‘ بالخصوص قرآنی استعمالات میں غضب اللہ سے عتاب مراد لینا یا مغضوب کا ترجمہ معتوب کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔ (التبیان ج ١ ص ٣٣۔ ٣٢ مطبوعہ کا ظمی پبلیکیشنز ‘ ملتان ١٩٩٣ ء)
” ضالین “ کے معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :
ضلال کے معنی ہیں : طریق مستقیم سے عدول اور اعراض کرنا ‘ اس کی ضد ہدایت ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، ومن ضل فانما یضل علیھا “۔ (بنی اسرائیل : ١٥) جس نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی نفع کے لیے ہدایت قبول کی اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑا۔
صحیح راستہ سے ہر انحراف کو ضلال کہتے ہیں خواہ وہ انحراف عمدا ہو یا سہوا ‘ کم ہو یا زیادہ کیونکہ جو صحیح راستہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے اس پر چلنا بہت دشوار ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مستقیم رہو اور تم ہرگز اس کا احاطہ نہ کرسکو گے ‘ بعض حکماء نے کہا : ہمارے صحت اور صواب پر ہونے کی ایک وجہ ہے اور ہمارے ضلال پر ہونے کی بہت سی وجوہ ہیں ‘ بعض صالحین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواب میں زیارت کی تو پوچھا : آپ نے یہ کیوں فرمایا تھا کہ مجھے سورة ھود اور اس کی نظائر نے بوڑھا کردیا ! ان میں آیت نے آپ کو بوڑھا کردیا ‘ فرمایا : (آیت) ” فاستقم کما امرت “ جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس طرح مستقیم رہو۔ “ (ھود : ١١٢) اور جب کہ ضلال کا معنی ہے : طریق مستقیم کو ترک کرنا ‘ خواہ یہ ترک کرنا عمدا ہو یا سہوا ‘ کم ہو یا زیادہ تو ضلال کا استعمال متعدد وجوہ سے ہوتا ہے ‘ یہ لفظ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے لیے بھی استعمال ہوا ہے اور کفار کے لیے بھی استعمال ہوا ہے اگرچہ دونوں کی ضلالت میں بہت زیادہ فرق ہے ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے متعلق ان کے بیٹوں نے کہا :
(آیت) ” قالوا تاللہ انک لفی ضللک القدیم (یوسف : ٩٥) (ترجمہ) وہ بولے : اللہ کی قسم ! یقیناً آپ اسی اپنی پرانی محبت میں ہیں
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو شدید محبت تھی اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے خیال میں یہ بےجا محبت تھی ‘ اس لیے انہوں نے اس محبت کو ضلال کے ساتھ تعبیر کیا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں بالکل وارفتہ ہوگئے تھے تو آپ کو امت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرمایا :
(آیت) ” ووجدک ضآلا فھدی (الضحی : ٧) (ترجمہ) اور آپ کو (اپنی محبت میں) وارفتہ پایا تو (امت کی طرف) راہ دی
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :
(آیت) ” قال فعتھا اذا وانا من الضالین “۔ (الشعراء : ٢٠) (ترجمہ) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں نے وہ کام اس وقت کیا جب میں بیخبروں میں سے تھا
اس میں یہ تنبیہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قبطی کا قتل سہوا ہوا تھا ضلال نسیان کے معنی میں بھی مستعمل ہے :
(آیت) ” ان تضل احدہما فتذکر احدھما الاخری : (البقرہ : ٢٨٢) (ترجمہ) کہ ان دو میں سے کوئی ایک (عورت) بھول جائے تو ان میں سے دوسری اس کو یاد دلائے۔
علم اور عمل کے اعتبار سے ضلال کے دو اور معنی ہیں : ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ‘ اس کی وحدانیت اور نبوت اور رسالت میں کوئی شخص صحیح راہ سے بھٹک جائے ‘ اس معنی کا استعمال اس آیت میں ہے :
(آیت) ” ومن یکفر باللہ وملٓئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلابعید (النساء : ١٣٦) (ترجمہ) جو شخص اللہ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز قیامت کے ساتھ کفر کرے تو بیشک وہ گمراہ ہوگیا (سیدھ راہ سے) بہت دور جا پڑا
دوسرا معنی ہے : عبادات اور احکام شرعیہ میں صحیح راہ سے بھٹک جانا، اس معنی کا استعمال اس آیت میں ہے۔
(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قدضلوا ضللا بعیدا (النساء : ١٦٧) بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا یقیناً وہ گمراہ ہوگئے (سیدھی راہ سے) بہت دورجاپڑے
ضلال غفلت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے :
(آیت) ” قال علمھا عندربی فی کتب، لایضل ربی ولاینسی (طہ : ٥٢) (ترجمہ) (موسی (علیہ السلام) نے کہا : پچھلی قوموں کا) علم میرے رب کے پاس ایک کتاب (لوح محفوظ) میں ہے ‘ میرا رب نہ غافل ہوتا ہے نہ بھولتا ہے
زیربحث آیت میں ضالین سے مراد نصاری ہیں۔ (المفردات ص ١٩٨۔ ١٩٧‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے ضالین کی منقول تفسیر :
امام ابن جریر (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) اور کئی اصحاب (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” الضالین “ سے مراد نصاری ہیں۔ (جامع البیان ج ١ ص ٦٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
ہر وہ شخص جو سیدھے راستہ سے انحراف کرے اس کو عرب ضال کہتے ہیں ‘ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو ضالین فرمایا ‘ کیونکہ انہوں نے سیدھے راستہ سے انحراف کرکے غلط راستہ اختیار کرلیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہود نے بھی تو طریق مستقیم سے انحراف کر کے غیر طریق مستقیم اختیار کرلیا ‘ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو مغضوب کی صفت کے ساتھ مخصوص کیا اور نصاری کو ضالین کی صفت کے ساتھ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں ہی ضالین ہیں لیکن نصاری نبی کی محبت میں گمراہ ہوئے اور نبی کو خدا کا بیٹا کہا ‘ اور یہود نبی سے بغض میں گمراہ ہوئے کیونکہ انہوں نے کئی نبیوں کو قتل کر ڈالا ‘ اس لیے یہود پر اللہ تعالیٰ کا غضب زیادہ ہے اور ان کو مغضوب فرمایا۔
جن لوگوں تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچا آیا وہ شریعت کے مکلف ہیں یا نہیں ؟
ضالین کا مصداق وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی بالکل معرفت حاصل نہیں ہوئی ‘ یا ان کو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل نہیں ہوئی ‘ اول الذکر وہ لوگ ہیں جن کو نبوت کا پیغام نہیں پہنچا ‘ اور ثانی الذر وہ لوگ ہیں جن کو پیغام نبوت پہنچا لیکن ان پر حق اور باطل اور صواب اور خطا میں اشتباہ ہوگیا ‘ اور جن لوگوں کے زمانہ میں نبی معبوث نہیں ہوا ‘ وہ اصحاب فترت ہیں ‘ وہ کسی شریعت کے مکلف ہیں نہ آخرت میں ان کو عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (بنی اسرائیل : ١٦) (ترجمہ) اور جب تک رسول کو نہ بھیج دیں ‘ ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں
جمہور کی رائے یہی ہے ‘ لیکن علماء کی ایک جماعت کا یہ نظریہ ہے کہ شریعت کا مکلف ہونے کے لیے صرف عقل کافی ہے ‘ سو جس شخص کو عقل دی گئی ہے اس پر لازم ہے کہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں غور وفکر کرے اور ان کے خالق کی معرفت حاصل کرے اور جس طرح اس کی عقل ہدایت دے اس کے مطابق خالق کی تعظیم اور عبادت کرے اور نعمتوں پر اس کا شکر بجالائے۔
علامہ محب اللہ بہاری (رح) لکھتے ہیں :
جو شخص دور دراز کے پہاڑوں میں بلوغت کی عمر پالے اور اس کو پیغام نہ پہنچے اور وہ عقائد صحیحہ کا معتقد نہ ہو اور احکام شرعیہ پر عمل نہ کرے تو معتزلہ اور بعض احناف کے نزدیک اس کو آخرت میں عذاب ہوگا ‘ کیونکہ جن امور کا عقل ادراک کرسکتی ہے اس نے ان کے تقاضوں پر عمل نہیں کیا ‘ اور اشاعرہ اور جمہور احناف کے نزدیک اس کو آخرت میں عذاب نہیں ہوگا ‘ کیونکہ انسان احکام کا مکلف شریعت سے ہوتا ہے اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ اس کو شریعت کی دعوت نہیں پہنچی۔ (مسلم الثبوت مع شرحہ للخیر آبادی ص ٦٢‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامہ ‘ کوئٹہ)
آمین کا معنی :
علامہ ابن منطور افریقی (رح) لکھتے ہیں :
یہ وہ کلمہ ہے جو دعا کے بعد کہا جاتا ہے ‘ یہ اسم اور فعل سے مرکب ہے اور اس کا معنی ہے : ” اللہم استجب لی “۔ اے اللہ ! میری دعا کو قبول فرما “ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے حامیوں کے لیے دعاء ضرر کی اور فرمایا :
(آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبہم “۔ (یونس : ٨٨) اے ہمارے رب ! ان کے اموال کو تباہ و برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کہا : آمین۔
ایک قول یہ ہے کہ آمین کا معنی ہے : اسی طرح ہوگا۔ زجاج نے کہا ہے : اس میں دو لغتیں ہیں : امین اور آمین۔ ابوالعباس نے کہا ہے کہ آمین عاصین کی طرح جمع کا صیغہ ہے ‘ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حسن سے منقول ہے کہ آمین اللہ عزوجل کے اسماء میں سے ایک اسم ہے ‘ مجاہد نے بھی کہا ہے کہ یہ اللہ کا ایک اسم ہے اور یہ یا اللہ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد ” استجب “ مقدر ہے ‘ ازھری نے کہا : یہ قول صحیح نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آمین رب العالمین کی اپنے بندوں پر مہر ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کی آفات اور بلیات کو آمین سے دور کردیتا ہے جیسے جب کسی لفافے پر مہر گا دی جائے تو اس مہر کی وجہ سے اس میں فاسد اور ناپسندیدہ چیز داخل نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ امین جنت میں ایک درجہ ہے ‘ ابوبکر (رض) نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ آمین کہنے والے کو جنت میں ایک درجہ ملے گا۔
(لسان العرب ج ١٣ ص ٢٧۔ ٢٦ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)
نماز میں آمین کہنے کے متعلق مذاہب اربعہ :
علامہ شمس الدین محمد بن ابی العباس الرملی الشافعی لکھتے ہیں :
سورة فاتحہ یا اس کے قائم مقام کسی دعا کے بعد کچھ وقفہ سے آمین کہنا سنت ہے ‘ خواہ وہ نماز میں ہو یا غیر نماز میں ‘ لیکن نماز میں یہ بہت زیادہ مستحب ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة فاتحہ کی قرات سے فارغ ہوتے تو بلند آواز کے ساتھ آمین کہتے اور الف کو کھینچ کر (دراز کر کے) آمین کہتے۔ (نہایۃ المحتاج ج ١ ص ٤٨٩۔ ٤٨٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
علامہ محمد بن عبداللہ خرچی مالکی لکھتے ہیں :
” ولا الضالین “ کے بعد آہستہ آواز کے ساتھ آمین کہنا مستحب ہے ‘ سری نماز میں صرف امام آمین کہے اور جہری نماز میں امام اور مقتدی دونوں پست آواز کے ساتھ آمین کہیں کیونکہ آمین دعا ہے اور دعا میں اصل یہ ہے کہ پست آواز کے ساتھ کی جائے۔ (الخرشی علی مختصر خلیل ج ١ ص ٢٨٢‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت)
علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :
سنت یہ ہے کہ جہری نمازوں میں امام اور مقتدی جہرا آمین کہیں اور سری نمازوں میں دونوں سرا آمین کہیں۔ امام ابوحنفیہ (رح) اور امام مالک کے نزدیک آمین آہستہ کہیں ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہ آواز بلند آمین کہی اور آپ نے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا حکم دیا ‘ اگر امام نے بلند آواز سے آمین نہ کہی تو امام کی آمین پر مقتدی کی آمین نہیں ہو سکے گی۔ (المغنی ج ١ ص ٢٩٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)
علامہ حصکفی حنفی لکھتے ہیں :
امام اور مقتدی پست آواز سے آمین کہیں خواہ سرا ہو یا جہرا اور جس حدیث میں یہ ہے کہ جب امام آمین کہے تو آمین کہو یہ پست آواز سے آمین کہنے کے منافی نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ معلوم اور متعین ہے کہ ” ولا الضالین “ کے بعد آمین کہی جاتی ہے ‘ اس لیے مقتدی کا آمین کہنا ‘ امام سے سننے پر موقوف نہیں ہے ‘ کیونکہ سورة فاتحہ کے اخیر میں آمین کہی جاتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جب امام (آیت) ” ولا الضالین “ کہے تو آمین کہو۔ (درمختار مع حاشیۃ الطحطاوی ‘ ج ١ ص ٢٢٠۔ ٢١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ ‘ بیروت)
آمین کہنے کی فضیلت میں احادیث :
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہتا ہے تو آسمان میں فرشتے (بھی) آمین کہتے ہیں ‘ پس جب ایک فریق کی آمین دوسرے کے موافق ہوجائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٠٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث کو امام مسلم (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٦) ‘ امام ابودادؤ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٣٥) ‘ امام نسائی (سنن نسائی ج ١ ص ١٤٧) ’ امام مالک (موطا امام مالک ص ٦٩ ) ‘ اور امام احمد (مسند احمد ج ٢ ص ٤٥٩) نے بھی روایت کیا ہے۔
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے پس پست دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے ‘ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو اس کے پاس کھڑا ہوا ایک فرشتہ آمین کہتا ہے اور وہ فرشتہ اس کے لیے بھی وہی دعا کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ٢٠٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ‘ ١٩٥‘ ج ٦ ص ٤٥٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہود تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا وہ تم سے آمین پر حسد کرتے ہیں سو تم بہ کثرت آمین کہا کرو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٦١‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
آمین بالجہر کے متعلق احادیث :
امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :
حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آیت) ” ولا الضالین “ پڑھتے تو بہ آواز بلند فرماتے : آمین (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٣٥۔ ١٣٤ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)
امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ اس میں ” رفع بھا صوتہ “ کی بجائے ” مدبھا صوتہ “ (آمین کو مد کے ساتھ پڑھا) ہے۔ (جامع ترمذی ص ٦٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
نیز امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :
حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی تو آپ نے بہ آواز بلندآمین کہی۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٣٥ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)
امام نسائی روایت کرتے ہیں :
حضرت وائل بن حجر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی ‘ آپ نے اللہ اکبر کہہ کر کانوں کے بالمقابل رفع یدین کیا ‘ پھر آپ نے سورة فاتحہ پڑھی اور اس سے فارغ ہو کر بہ آواز بلند آمین کہی۔ (سنن نسائی ج ١ ص ١٤٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) بقیہ اگلی آیت میں۔
 

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.