بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓمّٓۚ
الف لام میم۔
 
اللہ کا ارشاد ہے : الف ‘ الام ‘ میم ‘ (البقرہ : ١)
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو ان حروف مقطعات کے ساتھ شروع فرمایا تاکہ قرآن مجید کے وصف اور اس کے اعجاز پر تنبیہ ہو ‘ اور اس چیلنج کی طرف اشارہ ہو کہ کوئی انسان قرآن مجید کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثل بھی نہیں لاسکتا ‘ اور یہ اللہ کا کلام ہے جس کے مشابہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے ‘ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن عربوں کی لغت اور ان کے حروف تہجی مثل الف ‘ لام ‘ میم سے مرکب ہو کر نازل ہوا ہے ‘ اگر یہ کسی انسان کا کلام ہے تو انہی حروف سے ایک کلام بنا کر تم بھی لے آؤ کیونکہ یہ ان حروف ھجاء سے مرکب ہے جن سے ہر اہل زبان کلام کرتا ہے ‘ اس کے باوجود جب تم اس کلام کی نظیر لانے سے ہمیشہ عاجز رہے تو پھر مان لو کہ یہ انسان کا نہیں اللہ کا کلام ہے۔
حروف مقطعات علم کی تحقیق :
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ” الم “ اور اس کی مثل دیگر حروف مقطعات کا معنی کسی کو معلوم ہے یہ نہیں ! ایک قول یہ ہے کہ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ (رض) سے اس قسم کی روایات منقول ہیں
علامہ بیضاوی لکھتے ہیں :
خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام (رض) کی مراد یہ ہے کہ یہ حروف مقطعات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار اور رموز ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور کو ان حروف مقطعات پر مطلع کرنے کا قصد نہیں کیا گیا ‘ اور یہ نہیں ہوسکتا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی ان حروف کے معانی کا علم نہ ہو ورنہ لازم آئے گا کہ غیر مفید کلام کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کیا گیا اور یہ بہت بعید ہے (انوار التنزل مع الخفاجی ‘ ج ١ ص ١٧٨ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)
علامہ آلوسی لکھتے ہیں :
ظن غالب یہ ہے کہ حروف مقطعات کا علم مخفی ہے ‘ علماء اس کی تاویل سے عاجز ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) کا یہی قول ہے اور حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا : ہر کتاب کے اسرار ہوتے ہیں اور قرآن مجید کے اسرار اوائل سورة ہیں ‘ امام شعبی (رح) نے کہا : اللہ تعالیٰ کے اسرار کا کھوج نہ لگاؤ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان کی معرفت صرف اولیاء کرام کو ہے جو وارث علم رسول ہیں ‘ ان کو اسی دربار سے معرفت حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ حروف خود ان کو اپنا معنی بتا دیتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک ہاتھوں میں سنگریزوں نے تسبیح کا نطق کیا ‘ اور گوہ اور ہرن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہم کلام ہوئے۔ بعض علماء نے کہا : اگر ان حروف کا کوئی معنی نہ ہو تو یہ مہمل ہوں گے ‘ یہ قول صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اگر یہ مراد ہو کہ تمام لوگوں کو ان حروف کا معنی معلوم ہو تو یہ ضروری نہیں اور اگر یہ مراد ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا معنی معلوم ہو تو کوئی مومن اس میں شک نہیں کرسکتا اور ہر صاحب ایمان کا یہ ایمان ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان حروف کے معنی معلوم ہیں :
(روح المعانی ج ١ ص ١٠١۔ ١٠٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
حروف مقطعات متشابہات میں سے ہیں اور فقہاء شافعیہ اور حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا میں متشابہات کا علم اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔
ملاجیون لکھتے ہیں :
متشابہ کا حکم یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس کی مراد حق ہے ‘ اگرچہ قیامت سے پہلے ہم کو وہ مراد معلوم نہیں ہے اور قیامت کے بعد متشابہ ہر ایک پر منکشف ہوجائے گا اور یہ امت کے حق میں ہے اور بہرحال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متشابہات کا قطعی طور پر علم ہے ‘ ورنہ آپ کو ان سے خطاب کرنے کا فائدہ باطل ہوجائے گا اور یہ مہمل کلام سے خطاب کرنے کی طرح ہوگا جیسے حبشی کے ساتھ عربی میں گفتگو کی جائے اور یہ تقریر ہمارے نزدیک ہے اور امام شافعی کے نزدیک تمام ” راسخین فی العلم “ کو متشابہات کا علم ہے۔ (نورالانوار ص ٩٣‘ مطبوعہ ایچ۔ ایم سعید اینڈ کمپنی ‘ کراچی)
قاضی ثناء اللہ مظہر نقشبندی لکھتے ہیں :
میرے نزدیک حق یہ ہے حروف مقطعات متشابہات میں سے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار ہیں ‘ ان حروف سے عام لوگوں کو سمجھانے کا قصد نہیں کیا گیا بلکہ صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان حروف سے افہام مقصود تھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کامل متبعین میں سے جن کو چاہیں ان کا معنی سمجھا دیں (الی قولہ) علامہ سجاوندی (رح) نے کہا ہے کہ یہ حروف مقطعات اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار ہیں اور کبھی محبین کے درمیان کچھ کلمات بہ طور معمہ ہوتے ہیں، ان میں یہ اشارہ ہوتا ہے کہ ان کلمات کو محرمان راز کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
ایک قول یہ ہے کہ حروف مقطعات اور متشابہات کا علم اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ساتھ مخصوص کرلیا ہے ‘ ان کا علم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا ہے اور نہ آپ کے متبعین کو ‘ یہ قول بہت بعید ہے ‘ کیونکہ خطاب افہام کے لیے ہوتا ہے اگر ان حروف سے افہام نہ ہو تو ان سے خطاب کرنا مہمل کلمات سے خطاب کرنے کی طرح ہوگا ‘ یا جیسے عربی کے ساتھ ہندی میں خطاب کیا جائے ‘ نیز پورا قرآن بیان اور ہدایت نہیں رہے گا (کیونکہ جب ان الفاظ کا کوئی مفہوم حاصل نہ ہو تو ان سے ہدایت کیسے حاصل ہوگی) اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ فرمایا ہے :
(آیت) ” ثم ان علینا بیانہ (القیامہ : ١٩) (ترجمہ) پھر اس قرآن کا بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے
اس وعدہ کا خلاف لازم آئے گا ‘(اسی طرح ” الرحمان علم القران “ کا بھی خلاف لازم آئے گا ‘ کیونکہ حروف مقطعات بھی قرآن ہیں اور رحمان نے ان کو نہیں سکھایا) ’ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن خواہ محکم ہو یا متشابہ ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا بیان واجب اور ضروری ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں ” راسخین فی العلم “ سے ہوں اور میں ان علماء سے ہوں جن کو ان کی تاویل کا علم ہے ‘ اسی طرح مجاہد سے مروی ہے ‘ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے یہ دعوی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر حروف مقطعات کی تاویل کو ظاہر فرما دیا ہے اور ان کے اسرار کو بیان کردیا ہے لیکن عام لوگوں کے لیے ان کا بیان ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کا بیان کرنا ان کے اسرار الہیہ ہونے کے منافی ہے۔ (تفسیر مظہری ج ١ ص ١٥۔ ١٤‘ مطبوعہ بلوچستان بک ڈپو ‘ کوئٹہ)
شیخ محمود الحسن لکھتے ہیں :
ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں ان کے اصلی معنی تک اوروں کی رسائی نہیں بلکہ یہ بھید ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان جو بہ وجہ مصلحت و حکمت ظاہر نہیں فرمایا۔ (حاشیۃ القرآن ص ٣ مطبوعہ کمپنی لمیٹڈ ‘ کراچی)
ہم نے پہلے ذکر کیا کہ اکثر علماء ان حروف مقطعات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اسرار قرار دیتے ہیں اور بعض علماء نے ان حروف کی تاویلات کی ہیں ‘
علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں :
ایک قول یہ ہے کہ حروف مقطعات ان سورتوں کے اسماء ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ تنبیہ کے لیے حروف زائدہ ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ ان حروف سے ان کلمات کی طرف اشارہ ہے جو ان حروف سے مرکب ہیں جیسے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : الف سے مراد آلاء اللہ (اللہ تعالیٰ کی نعمتیں) ہیں اور لام سے مراد اللہ کا لطف ہے اور میم سے مراد اس کا ملک ہے ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ ” الرحم “ اور ” ن “ اس کے مجموعہ سے ” الرحمن “ مراد ہے اور یہ روایت بھی ہے کہ ” الم “ سے مراد ہے ” انا اللہ اعلم “ (میں اللہ ہی خوب جانتا ہوں) اور باقی سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان سے بھی اسی طرح کے کلمات مراد ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ روایت بھی ہے کہ الف سے اللہ کی طرف ’ لام سے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف اور میم سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ قرآن اللہ نے لسان جبریل سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا، یا ان حروف سے بعض اقوام کی مدتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہود آئے تو آپ نے ان پر ” الم “ البقرہ “ کی تلاوت کی انہوں نے حساب کرکے کہا : ہم اس دین میں کیسے داخل ہوں جس کی مدت اکہتر سال ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے ‘ انہوں نے کہا : اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ تو آپ نے پڑھا : (آیت) ” المص، الر، المر “ وہ کہنے لگے ‘ آپ نے ہم پر حساب مشتبہ کردیا ‘ اس کے علاوہ بھی تاویلات ہیں۔ (انوار التنزل مع الخفاجی ‘ ج ١ ص ١٧٤‘ ملخصا مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت )