كتاب الايمان
ایمان کا بیان ۱؎
الفصل الاول
پہلی فصل

۱؎ ایمان کےلغوی معنی ہیں امن دینا۔شریعت میں ایمان اُن اسلامی عقائد کا نام ہےجنہیں مان کر انسان عذابِ الٰہی سے امن میں آجاتا ہے،یعنی تمام ان چیزوں کو ماننا جوحضور رب کی طرف سے لائے،چونکہ ایمان محض ماننے اورتصدیق کا نام ہے اس لیئے اس میں مقدارناممکن ہے،ہاں کیفیت کی زیادتی وکمی ممکن ہے،چونکہ ایمان عبادت کی اصل ہے اس لیئے پہلے اسے بیان فرمایا۔

حدیث نمبر :1

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے ۱؎ جن کے کپڑے بہت سفیداور بال خوب کالے تھے۲؎ اُن پر آثارِسفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ تھا۳؎ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے اور اپنے گھٹنے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےگھٹنوں شریف سے مَس کردیئے۴؎ اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھے۵؎ اور عرض کیا اَےمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے اسلام کے متعلق بتائیے۶؎ فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اﷲ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمد اﷲ کے رسول ہیں۷؎ اور نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو ۸؎ عرض کیا کہ سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضورسے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں۹؎عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ اﷲ اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو۱۰؎ اور اچھی بُری تقدیرکو مانو۱۱؎ عرض کیا آپ سچے ہیں عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے۱۲؎ فرمایا اﷲ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ رہے ہو۱۳؎ اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے۱۴؎ عرض کیا کہ قیامت کی خبر دیجئے۱۵؎ فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کےبارے میں سائل سے زیادہ خبردارنہیں ۱۶؎ عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے ۱۷؎ فرمایا کہ لونڈی اپنےمالک کوجنے گی۱۸؎ اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کومحلوں میں فخر کرتےدیکھو گے ۱۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ پھرسائل چلے گئے میں کچھ دیرٹھہراحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اےعمرجانتے ہویہ سائل کون ہیں مَیں نےعرض کیااﷲ اوررسول جانیں۲۰؎ فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۲۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے،جو شکل انسانی میں حاضرہوئے تھے،جیسے بی بی مریم کے پاس مرد کی شکل میں گئے۔فرشتہ وہ نورانی مخلوق ہے جو مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے۔جن وہ آتشی مخلوق ہے جو ہرقسم کی شکل بن جاتی ہے مگر روح وہ ہی رہتی ہے لہذا یہ اواگون نہیں۔
۲؎ یعنی وہ مسافر نہ تھے ورنہ ان کے بال و لباس غبار میں اٹے ہوتے۔خیال رہے کہ حضرت جبریل کے بال کالے،کپڑے سفید(چٹے)ہونا شکل بشری کا اثرتھا ورنہ وہ خودنوری ہیں،لباس اورسیاہ بالوں سے بری۔ہاروت ماروت فرشتے شکل انسانی میں آکر کھاتے پیتے بلکہ صحبت بھی کرسکتے تھے۔عصاموسوی سانپ کی شکل میں ہو کرسب کچھ نگل گیا تھا،ایسے ہی ہمارے حضور نوری بشر میں کھانا، پینا،نکاح اس بشریت کے احکام تھے،روزہ وصال میں نورانیت کی جلوہ گری ہوتی تھی،بغیر کھائے پیئے عرصۂ دراز گزار لیتے تھے،آج صد ہا سال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر کھائے پیئے آسمان پر جلوہ گر ہیں یہ نورانیت کا ظہور ہے۔
۳؎ یعنی وہ مدینہ کے باشندے نہ تھے ورنہ ہم انہیں پہچانتے ہوتے،حضور تو انہیں خوب پہچانتے تھے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۴؎ یعنی حضور سے بہت قریب بیٹھے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے حضرت جبریل کو پہچان لیا تھا ورنہ پوچھتے کہ تم کون ہو اور اس طرح ملکر مجھ سے کیوں بیٹھتے ہو۔
۵؎ جیسے نمازی التحیات میں دوزانو بیٹھتا ہے۔آج کل زائرین روضۂ مطہرہ پر نماز کی طرح کھڑے ہو کر سلام عرض کرتے ہیں اس ادب کی اصل یہ حدیث ہے۔حضرت جبریل نے قیامت تک کے مسلمانوں کو حضور کی بارگاہ میں حاضری کا ادب سکھادیا اور بتادیا کہ نماز کی طرح یہاں کھڑا ہونا یا بیٹھنا حرام نہیں،ہاں سجدہ یا رکوع حرام ہے۔
۶؎ اسلام کبھی ایمان کے معنی میں ہوتا ہے،کبھی اس کے علاوہ یہاں دوسرے معنی میں ہے،یعنی ظاہر کا نام اسلام ہے،باطنی عقائد کا نام ایمان اسی لیے یہاں شہادۃ و اعمال کا ذکر ہوا۔خیال رہے کہ اب حضور کو صرف “یا محمد” کہہ کر پکارنا حرام ہے،رب فرماتا ہے:”لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ “الخ۔واقعہ غالبًا اس آیت کے نزول سے پہلے ہوایافرشتے اس آیت سےعلیحدہ ہیں۔(مرقاۃ)
۷؎ کلمہ پڑھنے سے مراد سارے اسلامی عقائد کا مان لینا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میں”الحمد”پڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۃ فاتحہ لہذا اس حدیث کی بنا پراب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام اسلامی فرقے مرزائی، چکڑالوی وغیرہ مسلمان ہیں کیونکہ یہ لوگ اسلامی عقائد سے ہٹ گئے۔
۸؎ اس میں بظاہرحضرت جبریل سے خطاب ہے اوردرحقیقت مسلمان انسانوں سے ورنہ فرشتوں پر نماز،روزہ،حج وغیرہ اعمال فرض نہیں،رب فرماتاہے:”وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ”۔خیال رہے کہ یہ اعمال اسلام کا جزو نہیں کہ ان کا تارک کافر ہوجائے،یہاں کمال اسلام کا ذکر ہے،تارکِ اعمال مسلمان تو ہے مگر کامل نہیں۔
۹؎ کیونکہ پوچھنا نہ جاننے کی علامت ہے اورتصدیق کرنا جاننے کی علامت۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ تمام آسمانی کتابوں سے واقف ہیں کہ رب نے حضور کے بارے میں فرمایا:”مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ “۔
۱۰؎ خیال رہے کہ عن الایمان میں ایمان اصطلاحی مراد ہے،اور ان تؤمن میں ایمان لغوی یعنی ماننا،لہذا یہ تعریف الشی بنفسہ بھی نہیں اور اسمیں دور بھی نہیں۔تمام فرشتوں،نبیوں، کتابوں پر اجمالی ایمان کافی ہے،گو قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم پر تفصیلی ایمان لازم ہے۔
۱۱؎ اس طرح کہ ہربری بھلی بات جوہم کررہے ہیں،اﷲ کے علم میں پہلے ہی سے ہے اور اس کی تحریر ہوچکی ہے،تقدیرکےمعنی ہیں۔اندازہ۔تقدیردوقسم کی ہے:مبرم اورمعلق مبرم میں تبدیلی نہیں ہوسکتی،معلق دعاء،اعمال وغیرہ سے بدل سکتی ہے،ابلیس کی دعا سے اس کی عمر بڑھ گئی”فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنۡظَرِیۡنَ” حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے ساٹھ سال کے سو برس ہوگئی۔تقدیر کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی تیسرے پارے میں ملاحظہ کریں۔
۱۲؎ یعنی رب نے فرمایا:”لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی”وغیرہ ان آیات میں احسان سے کیا مراد ہے جواب ملاکہ اخلاص عمل۔
۱۳؎ اگر تو خداکودیکھتا ہے توتیرے دل میں کس درجہ اس کاخوف ہوتااورکس طرح توسنبھال کرعمل کرتا،ایسے ہی خوف کیسا تھ دل لگا کر درست عمل کر۔
۱۴؎ یوں تو ہر وقت ہی سمجھو کہ رب تمہیں دیکھ رہا ہے مگر عبادت کی حالت میں تو خاص طور پر خیال رکھو،تو ان شاءاﷲ عبادت آسان ہوگی،دل میں حضور وعاجزی پیدا ہوگی،آنکھوں میں آنسو آئیں گے،اﷲ ہم سب کو نصیب کرے۔آمین !
۱۵؎ کہ کس دن کس تاریخ اورکس مہینہ کس سال ہوگی۔معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل امین کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور کو اﷲ تعالٰی نے قیامت کا علم دیا ہےکیونکہ جاننے والے سے ہی پوچھا جاتا ہے۔یہاں جبرئیل امین حضور کے امتحان یا اظہار عجز کے لیے تو سوال کر نہیں رہے ہیں،بلکہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم تو ہے مگر اس کا اظہار نہ فرمایا۔خیال رہے کہ حضورنے دوسرے موقعوں پرقیامت کا دن بھی بتادیا مہینہ بھی تاریخ بھی کہ فرمایاجمعہ کو ہوگی،دسویں تاریخ محرم کے مہینہ میں ہوگی۔
۱۶؎ یہاں علم کی نفی نہیں ورنہ فرمایا جاتا”لا اعلمُ”میں نہیں جانتا بلکہ زیادتی علم کی نفی ہے،یعنی اس کا مجھے تم سے زیادہ علم نہیں،مقصد یہ ہے کہ اے جبرائیل!یہاں لوگوں کا مجمع ہے اور قیامت کا علم اسرارالہیہ میں سے ہے یہ راز مجھ سے کیوں فاش کراتے ہو۔حق یہ ہے کہ اﷲتعالٰی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم بھی دیا(تفسیرصاوی وغیرہ)اسی لیے حضرت جبرئیل نےحضورسے یہ سوال کیا،علم قیامت کی تحقیق ہماری کتاب “جاء الحق”حصہ اول میں ملاحظہ کرو،حضور کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ حضور نے یہاں حضرت جبرئیل کو پہچان لیا تھا۔
۱۷؎ یعنی اگرقیامت کی خبر دینا خلاف مصلحت ہے تو اس کی خصوصی علامت ہی بتادیجئے۔اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم تھا،علامتیں واقف ہی سے پوچھی جاتی ہیں۔
۱۸؎ یعنی اولاد نافرمان ہوگی،بیٹا ماں سے ایساسلوک کرے گا جیسا کوئی لونڈی سےتو گویا ماں اپنے مالک کو جنے گی،اس کی اوربھی تفسیریں ہیں۔
۱۹؎ یعنی دنیا میں ایسا انقلاب آوے گا کہ ذلیل لوگ عزت والے بن جائیں گے اور عزیر لوگ ذلیل ہوجائیں گےجیسا آج دیکھا جارہا ہے۔سکندر ذوالقرنین نے حکم دیا تھا کہ کوئی پیشہ ور اپنا موروثی پیشہ نہیں چھوڑسکتا تاکہ عالم کا نظام نہ بگڑ جائے۔(اشعۃ اللمعات)معلوم ہوا کہ کمینوں کا اپنا پیشہ چھوڑکر اونچا بن جاناعلامت قیامت ہے۔اور اس سے نظام عالم کی تباہی ہے۔
۲۰؎ یہ صحابہ کا ادب ہے کہ علم اللہ اور رسول کے سپردکرتے ہیں۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور کا ذکراﷲ کےساتھ ملاکرکرناشرک نہیں بلکہ سنتِ صحابہ ہے،یہ کہہ سکتے ہیں کہ اﷲاوررسول جانیں،اﷲ اور رسول فضل کریں،اﷲ اور رسول رحم فرمادیں،اﷲ اور رسول بھلاکرے۔دوسرے یہ کہ حضورکو خبرتھی کہ یہ سائل جبریل تھے ورنہ آپ فرمادیتے کہ مجھےبھی خبر نہیں یہ کون تھے۔
۲۱؎ یعنی اس لیے آئے تھے کہ تمہارے سامنے مجھ سے سوالات کریں تم جوابات سن کر دین سیکھ لو۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر حضور کی اطاعت واجب ہے نہ کہ جبریل کی کہ یہاں جبریل نے حاضرین سے خود نہ کہہ دیا کہ لوگو! میں جبریل ہوں مجھ سے فلاں فلاں بات سیکھ لو بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا تاکہ لوگوں کےلیےقابل قبول ہو۔جبریل کے معنی ہیں ” عبداﷲ” جبربمعنی عبد،ایل اﷲ بزبان عبرانی۔
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تھوڑے اختلاف سے روایت کی ان کی روایت میں ہے کہ جب تم ننگے پاؤں،ننگے بدن والے،بہروں،گونگوں کو زمین کا بادشاہ دیکھو قیامت ان پانچ میں سے ہے جنہیں خدا کے سواکوئی نہیں جانتاپھریہ آیت تلاوت کی کہ قیامت کا علم اﷲ ہی کو ہے وہ ہی مینہ برساتا ہے ۱؎ (مسلم و بخاری)
۱؎ یعنی پانچ چیزیں رب تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتاقیامت کب ہوگی،بارش کب آویگی،ماں کے پیٹ میں کیا ہے،اور میں کل کیاکروں گا،اور میں کہاں مروں گا۔اس میں سورۂ لقمان کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے۔اس آیت وحدیث کا مطلب یہ نہیں کہ اﷲ نےکسی کو یہ علم دیئے بھی نہیں،کاتب تقدیر فرشتہ اور ملک الموت کو یہ علوم بخشے گئے،ہمارے حضورنے بدرکی جنگ سے پہلے زمین پر خطوط کھینچ کر بتایاکہ کل یہاں فلاں فلاں کافر ماراجاوے گا،بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ علوم خمسہ قیاس تخمینہ حساب سے معلوم نہیں ہوسکتے صرف وحی الٰہی سے ان کا پتہ لگ سکتا ہے۔