حدیث نمبر :15

روایت ہے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ وفد ۲؎جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون قوم یا کون وفد ہو عرض کیا ہم ربیعہ ہیں۳؎فرمایا یہ وفد یا قوم خوب اچھے آگئے کہ نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ۴؎عرض کیا یارسول اﷲ ہم آپ تک صرف محترم مہینہ میں آسکتے ہیں۵؎ کیونکہ ہمارے آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے۶؎ لہذا ہمیں فیصلہ کُن خبر فرمادیں جس کی خبر ہم اپنے پیچھے والوں کوبھی دے دیں اور ہم جنت میں بھی پہنچ جائیں۷؎ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے انہیں چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ا ﷲ پر ایمان لانے کا حکم فرمایا کیا جانتے ہوصرف اﷲ پر ایمان لانا کیا ہے وہ بولے اﷲ اور رسول جانیں۸؎ فرمایا یہ گواہی دینا کہ اﷲ کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد اﷲ کے رسول ہیں۹؎ اور نماز قائم رکھنے زکوۃ دینے رمضان کے روزے کا۱۰؎ اور فرمایا کہ غنیمت میں سے پانچواں حصہ حاضرکرو ۱۱؎ اور چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا سے،تونبی سے،لکڑی کی دوری سے اور تارکول والے پیالے سے۱۲؎ فرمایا یہ خود بھی یاد کرلو دوسروں کو اس کی خبر دے دو۱۳؎ (مسلم و بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔

شرح

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن عباس ابن عبدالمطلب ہے،حضور کے چچازادہیں،آپ کی والدہ لبابہ بنت حارث یعنی امیرالمؤمنین میمونہ کی ہمشیرہ ہیں،آپ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،جب تیرہ سالہ تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،آپ کا لقب حبرامت ہے یعنی امت اسلامیہ کے بڑے عالم،تفسیر قرآن کے امام ہیں،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، ۶۸ھ؁میں بمقام طائف ۷۱ برس عمر شریف میں وصال ہوا،طائف میں مزار شریف ہے فقیر نے زیارت کی ہے۔

۲؎ وفدقوم کے وہ نمائندے کہلاتے ہیں جو اپنی قوم کی طرف سے سلطان یا امیر کی خدمت میں کچھ پیام سلام لے کر حاضر ہوں یا ان کی طرف سے عہد وفاداری کریں۔یہ چودہ حضرات تھے جو قبیلہ عبدالقیس کی طرف سے ایمان لائے اورحضورسے احکام اسلام معلوم کرنےحاضرہوئے تھے یہ قبیلہ بحرین،قطیف،ہجروغیرہ بستیوں میں آباد تھا،عبدالقیس ان کے جد کا نام تھا۔جن کا سلسلہ نسب ربیعہ ابن نزار ابن معدابن عدنان تک پہنچتا ہے،اس لیے اس قبیلہ کو عبدالقیس بھی کہتے ہیں اور ربیعہ بھی۔

۳؎ یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لئے ہے حضور تو واقف تھے۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ یہ وفد جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو حضور نے حاضرین کو خبر دی کہ وفد عبدالقیس آرہا ہے جو مشرق کے بہترین لوگوں میں سے ہے،ان میں اشج بھی ہے جس کا نام منذر ہے۔پوچھنا بے علمی سے ہی نہیں ہوتا رب نے پوچھا تھا:”وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی”۔

۴؎ یہ کلمات یا دعائیہ ہیں یعنی خدا کرے تمہیں کبھی رسوائی و شرمندگی نہ ہو یا خبر ہے یعنی اچھا ہوا تم خوشی سے اسلام لاکر حاضر ہوگئے،ورنہ کچھ عرصہ بعدلشکر اسلام تمہارا ملک فتح کرتا پھر تمہیں شرمندگی اور رسوائی ہوتی،اب عزت سے ایمان لے آئے۔

۵؎ یہاں جنسی مہینہ مراد ہے یعنی ہم سال میں صرف ۴ محترم مہینوں میں ہی سفر کرکے آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ماہ حرام۴تھےرجب، ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم۔ان مہینوں میں کفاربھی قتل و غارت نہیں کرتے تھے،راستوں میں امن رہتی تھی،سفر بآسانی ہوتے تھے،اس لیے یہ عرض کررہے ہیں۔

۶؎ جو باقی مہینوں میں لوٹ مار کرتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے سفر بند رہتے ہیں۔

۷؎ یعنی ان عقائد و اعمال کی وجہ سے ہم پر اﷲ فضل کرے،جنت بخشے۔خیال رہے کہ جنت اﷲ کے فضل سے ملے گی،یہ اعمال اسی فضل کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔

۸؎ یہ ادبًا عرض کیا ورنہ یہ لوگ ایمان لاچکے تھے،مؤمن ایمان سے بے خبر نہیں ہوتا۔(مرقات)صحابہ کا یہ ادب تھا کہ ان کو علم بھی ہوتا مگر حضور پر پیش قدمی نہ کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو اﷲ نے بہت علم بخشا۔

۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور پر ایمان لائے بغیر اﷲ تعالٰی پر ایمان غیرممکن ہیں،ایمان باﷲکی تفسیر میں رسالت کا ذکر بھی ہوا۔شہادۃسے مراد دل کی گواہی ہے،یعنی ماننا و قبول کرنا ورنہ زبانی اقرار ایمان کا جزو نہیں،بلکہ احکام اسلامی جاری ہونے کی شرط ہے۔

۱۰؎ نماز،روزہ وغیرہ ایمان کی تفسیر نہیں بلکہ ایمان پرمعطوف ہے،یعنی انہیں ایمان کا بھی حکم دیا اور نماز روزے وغیرہ کا بھی۔لہذا اقام وغیرہ جر سے پڑھنا چاہیئے،چونکہ ایمان اعمال پر مقدم ہے،اس لئے ایمان کے بعد ان کا ذکر ہوا،چونکہ ابھی حج نہ ہوا تھا اس لئے اس کا ذکر نہیں،حج ۹ھ؁ میں فرض ہوا ہے۔

۱۱؎ چونکہ اس وقت جہاد فرض ہوچکا تھا اور یہ لوگ اہل جہاد سے تھے،اسی لئے انہیں جہاد کے احکام ارشاد فرمائے کہ اگر تم کفار مضر سے جہاد کرو تو جو غنیمت کامال حاصل ہوا اس کا پانچواں حصہ یہاں بھیج دیا کرو،چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیا کرو،رب فرماتاہے:”وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ “الخ۔

۱۲؎ یہ شراب کے چاربرتن ہیں:حِنتُم،شراب کی چھوٹی گھڑی،رُبّا کھکل کیا ہوا پکا کدُو جو جگ کی طرح استعمال کیا جاتاتھا،نقیر درخت کی جڑجسے کھکل کرکے اس میں شراب رکھتے تھے،مزفت شراب پینے کا پیالہ۔چونکہ اس وقت شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی،اگر یہ برتن استعمال ہوتے رہتے توممکن تھا کہ انہیں چھوٹی ہوئی شراب پھر یاد آجاتی،اس لئے ان کا استعمال بھی حرام کردیا گیا،پھر کچھ عرصہ بعد یہ حرمت منسوخ ہوگئی جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔

۱۳؎ یعنی تم عالم و عامل بھی بنو اور مبلغ بھی،تبلیغ کے لیے کامل عالم ہونا شرط نہیں،جو صحیح مسئلہ ہو اس کی تبلیغ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام سے بچانے کے لیے اسباب حرام روکنا ضروری ہیں،نزلہ روکو تاکہ بخار سے بچو،چوہے فناکرو تاکہ طاعون نہ پھیلے،گانا اور بیہودگی روکو تاکہ زنا بند ہو۔