لوھار کی بند دکان میں کہیں سے گھومتا پھرتا ایک سانپ گھس آیا.

یہاں سانپ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تھی۔اس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا. گھبراہٹ میں سانپ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. سانپ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا. اگلی بار سانپ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گھونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی. دوسرے دن جب دکاندار نے ورکشاپ کھولی تو ایک سانپ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنی طیش اور غصے کی بھینٹ چڑھ گیا تھا.

بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے خود اپنا زیادہ نقصان کیا ہے.

اچھی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں

کچھ چیزوں کو

کچھ لوگوں کو

کچھ حوادث کو

کچھ کاموں کو

کچھ باتوں کو

نظر انداز کرنا چاہیئے.

اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکھائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

سب سے بڑی قوت۔۔۔قوتِ برداشت ہے

حضرت علی (رض) کا فرمان ھے کہ "صبر ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی

نہ کسی کے قدموں میں۔۔۔ نہ کسی کی نظروں میں۔”