حدیث نمبر 79

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم و موسیٰ نے اپنے رب کے نزدیک ۱؎ مناظرہ کیا تو آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ آپ وہ آدم ہیں جنہیں اﷲنے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی ۲؎ اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ۳؎ آپ کو جنت میں رکھا۴؎ پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے اتاردیا ۵؎ حضرت آدم نے فرمایا کہ آپ ہی وہ موسیٰ ہیں جنہیں اﷲ نے اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیئے چنا ۶؎ اور آپ کوتختیاں بخشیں جن میں ہر چیز کاکھلا بیان ہے ۷؎ اور ایک کوخصوصی ہمکلامی سے قرب بخشا فرمایئے کہ آپ نے میری پیدائش سے کتنے پہلے توریت کو پایا کہ رب نے لکھ دیا تھا۸؎ حضرت موسیٰ نے فرمایا چالیس سال پہلے۹؎ حضرت آدم نے فرمایا تو کیا آپ نے توریت میں یہ بھی دیکھا ۱۰؎ کہ آدم نے اپنے رب کی فرمانبرداری سےلغزش کی تو کامیاب نہ ہوئے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا کیا آپ اس لغزش پر ملامت کرتے ہیں ۱۱؎ جس کا کرلینا میرے مقدر میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھا جاچکا تھا ۱۲؎ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حضرت آدم موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے۱۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یا تو عالم ارواح میں،یا موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں آدم علیہ السلام کو زندہ فرما کر اور ان سے ملاقات کرا کے،یا اس طرح کہ حضائرقدس میں اُن کی ملاقات ہوئی۔مرقات میں ہے کہ انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں نمازیں پڑہتے ہیں۔دیکھو ہمارے حضور نے معراج میں تمام نبیوں سے ملاقات کی اور انہیں نماز پڑھائی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ عالم ارواح پر بھی ہے کہ وہاں کے حالات ملاحظہ فرماتے اور لوگوں کو سناتے ہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ حضور یہ دیکھا ہوا واقعہ بیان فرمارہے ہیں۔

۲؎ یعنی آپ کا جسم شریف بلاواسطہ فرشتہ اور بغیرتوسل ماں باپ دستِ قدرت سے بنایا اور اپنے تمام کمالات کا مظہر کیا اور اپنی پیدا کی ہوئی روح آپ کے جسم میں جاری فرمائی۔یہاں اضافت شرافت کی ہے ورنہ خدائے تعالٰی خود روح سے پاک ہے،حقیقتِ روح رب ہی جانے مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھونکنے کے قابل چیز ہے کیونکہ ہر جگہ اس کے لیئے پھونکنے کا لفظ ہی آتا ہے۔اولیاء اﷲ کا جھاڑ پھونک ان جیسی احادیث اور آیات سے ماخوذ ہے۔

۳؎ سارے فرشتوں سے مقربین ہوں،یا مدبّراتِ امر،زمین کے ہوں یا آسمان کے،تعظیمی سجدہ زمین پر پیشانی رکھ کر نہ فقط رکوع اور نہ صرف جھکنا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ “یہ سجدۂ عبادت نہ تھا کہ خدا کو ہوتا اور آدم علیہ السلام قبلہ ہوتے جیسا کہ لَكَ کے لام سے معلوم ہوا،ورنہ شیطان کبھی ا س سے انکار نہ کرتا۔

۴؎ عارضی طور پر تربیت دینے کے لئے تاکہ زمین کو اس طرح آباد کریں ورنہ آپ کی پیدائش زمین کی خلافت کے لیئے تھی اس کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھو۔

۵؎ یعنی خطاء اجتہادی اور بُھول سے گندم کھالیا جس کی وجہ سے آپ زمین پر تشریف لائے۔اور نسل یہاں چلی،اگر آپ وہیں رہتے تو ہم سب وہیں پیدا ہوتے۔

لطیفہ: ایک گستاخ نے کسی عالم سے کہا کہ دادا کا گناہ ہم بھگت رہے ہیں،گندم انہوں نے کھایا سزا ہمیں ملی،وہ ہمیں نیچے اتار لائے،عالم نے کہا غلط،بلکہ تجھ جیسے مردودوں نے انہیں نیچے اتارا،رب جانتا تھا کہ ان کی پشت میں تجھ جیسے بے ایمان بھی ہیں حکم دیا کہ اے آدم ان خبیثوں کو زمین پر پھینک آؤ،پھر واپس آجانا۔موسیٰ علیہ السلام کی یہ عرض و معروض گستاخی کے طور پرنہیں،انبیاء جدّ امجد کی گستاخی سے معصوم ہیں۔

۶؎ زمین پر رہ کر بلاواسطۂ فرشتہ رب تعالٰی سے کلام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیّت ہے،اسی لیئے آپ کا لقب کلیم اﷲ ہے،لامکان میں پہنچ کر ربّ کا دیدار اور اس سے کلام ہمارے حضور کی خصوصیّت ہےکیونکہ آپ حبیب اﷲ ہیں۔

۷؎ یعنی توریت شریف جو زبرجد کی تختیوں پر لکھی ہوئی عطا فرمائی گئی اس میں احکام شرعیہ اور سارے علوم غیبیہ کا کھلا بیان تھا۔خیال رہے کہ بوقتِ عطا توریت میں ہدایت بھی تھی اور ہر چیز کا بیان بھی مگر جب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قوم کی بچھڑا پرستی پر غصّہ کی وجہ سے زمیں پر گرگئیں۔تو ہدایت و رحمت تو رہ گئی”تَبْیَانُ کُلِّ شَیْءٍ”اس میں سے اٹھالی گئی،رب تعالٰی فرماتاہے:”وَلَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلْوَاحَ وَ فِیۡ نُسْخَتِہَا ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُوۡنَ “۔دیکھو یہاں تبیان کا ذکر نہیں۔ خلاصہ یہ کہ توریت میں سارے علوم غیبیہ تھے مگرباقی نہ رہے لیکن قرآن شریف میں سارے علوم غیبیہ تھے بھی اور باقی بھی رہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیٰنًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ” لہذا موسیٰ علیہ السلام کا علم ہمارے حضور کے برابر نہیں ہوسکتا۔

۸؎ یعنی آپ کو تو خبر ہے کہ میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے توریت شریف لوح محفوظ میں،یا فرشتوں کے صحائف میں،یا ان تختیوں میں لکھی جاچکی تھی۔تیسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نگاہ اس عالم کی پیدائش سے پہلے واقعات کو بھی دیکھتی ہے کہ جو واقعہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل ہوچکا تو وہ موسیٰ علیہ السلام کی نگاہ میں ہے جیسا کہ وَجَدتَّ سے معلوم ہوتا ہے۔

۹؎ اگرتختیوں میں لکھنا مراد ہے تو سال سے اس دنیا کے سال مراد ہوں گے،اور اگر لوح محفوط میں لکھنا مراد ہے تو رب تعالٰی کے سال مراد ہوں گے جو ایک سال یہاں کے ہزار سال سے بھی زیادہ ہے،لہذا یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں کہ لوح محفوظ کی تحریر آسمان زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے ہوئی(ازاشعہ و مرقاۃ)۔خیال رہے کہ توریت کلام الٰہی قدیم ہے اس کے نقوش کا لکھنا حادث اسی کا یہاں ذکر ہے۔

۱۰؎ یعنی غلط فہمی سے جس مقصد کے لیئے گندم کھایاتھا انہیں وہ حاصل نہ ہوا ہمیشگی اورموت سے بچ کر جانا۔خیال رہے کہ انبیائےکرام نبوت سے پہلے اوربعدگناہ صغیرہ اور کبیرہ سب سےمعصوم ہیں۔(مرقاۃ)ہاں خطاءلغزش اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے اور عتاب الٰہی جو اُن کی لغزشوں پر آتا ہے اس میں ہزارہاحکمتیں ہوتی ہیں لہذا “عصیٰ”اور”غویٰ”کے وہی معنٰے ہیں جوفقیرنے عرض کیے۔

۱۱؎ یعنی ملامت کے انداز میں گفتگو کررہے ہو ورنہ موسیٰ علیہ السلام آپ کو نہ ملامت کرسکتے تھے نہ کی۔بیٹے کو باپ پر خصوصًا بنی باپ پرشاگردکو استاد پر ملامت کرنے کا حق نہیں۔

۱۲؎ اور رب تعالٰی نے بھی اس کی معافی کا اعلان فرمادیا۔خیال رہے کہ یہاں موسیٰ علیہ السلام کی نظر ظاہر پر تھی اور آدم علیہ السلام کا جواب حقیقت پرمبنی ہے آج ہم جیسے گنہگار تقدیر کی آڑ لےکر اپنے گناہوں سے بری نہیں ہوسکتے،یعنی اے موسیٰ!میری یہ خطا اور جنت سے زمین پر آنا،یہاں یہ باغ و بہار لگانا سب رب تعالٰی کے ارادہ اور اسکی مرضی سے تھا جس میں ہزاروں اسرار تھے تم صاحبِ اسرار ہو کر مجھ سے یہ سوال کیوں کرتے ہو؟۔

۱۳؎ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سوال شریعت پر اور حضرت آدم کا جواب حقیقت پر مبنی ہے حقیقت غالب رہتی ہے،حقیقت والے خضر علیہ السلام نے بچے کو بلا گناہ قتل کردیا اور ان پرکوئی فتویٰ جاری نہ ہوا۔