تقویٰ اور پرہیزگاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں

حدیث نمبر :144

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی کام کیا پھر اس کی اجازت ہوگئی ۱؎ مگر ایک گروہ نے اس سے پرہیز کیا۲؎ یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے خطبہ پڑھا اور اﷲ کی حمدکی پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان چیزوں سے بچتے ہیں جو میں کرتا ہوں اﷲ کی قسم میں ان سب سے اﷲ کو زیادہ جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اﷲ سے خوف والا ہوں۳؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی مباح دنیوی کام کیا جس کی وجہ سے لوگوں کے لیئے مباح ہی نہیں بلکہ سنت بن گیا۔حدیث میں ذکر نہ ہوا کہ وہ کون سا کام تھا شاید روزے دار کے لیئے بیوی کو بوسہ تھا یا سفرمیں روزۂ رمضان کا چھوڑنا۔(مرقاۃ)

۲؎ یہ سمجھ کر کہ اگرچہ جائز یہ بھی ہے مگر اس کا نہ کرنا تقویٰ ہےحضور کا یہ فعل فقط بیان جواز کے لیئے ہے۔

۳؎ کہنا کہ نہیں تقویٰ اور پرہیزگاری میری اطاعت میں ملے گی جیسے رات کو خوف خدا میں رونا سنت اور عبادت ہے،ایسے ہی آرام سے سونا بھی سنت اور عبادت ہے کیونکہ دونوں میرے طریقے ہیں۔

قبر میں مومن اور کافر کا حال

حدیث نمبر :137

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردہ قبر میں پہنچتا ہے پھر اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے نہ گھبرایا ہوا نہ پریشان ۱؎ پھر اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا ؟وہ کہتا ہے اسلام میں تھا۲؎ پھر کہا جاتا ہے یہ کون صاحب ہیں؟وہ کہتاہے محمدرسول اﷲ ہیں جو ہمارے پاس رب کی طرف سے نشانیاں لائے ہم نے ان کی تصدیق کی۳؎ تب کہا جاتا ہے کیا تو نے اﷲ کو دیکھا ہے ؟۴؎ وہ کہتا ہے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۵؎ پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ ادھر دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہی ہے ۶؎ پھر اس سے کہاجاتا ہے کہ ادھر دیکھو جس سے تجھے اﷲ نے بچالیا ۷؎ پھر جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی ترو تازگی کی طرف اور جو اس میں ہے دیکھتا ہے۸؎ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تو یقین پر تھا اسی پر مرا اور ان شاءاﷲ اسی پر اٹھے گا ۹؎ برا آدمی اپنی قبر میں بٹھالا جاتا ہے حیران پریشان۱۰؎ اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟وہ کہتا ہے مجھے نہیں خبر پھرکہا جاتا ہے یہ صاحب کون ہیں؟وہ کہتا ہے میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا وہ میں نے بھی کہا تھا ۱۱؎ تب اس کے سامنے جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ وہاں کی ترو تازگی اور جو کچھ اس میں ہے دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے وہ دیکھ جو اﷲ نے تجھ سے پھیر دیا پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہا ہے پھر کہا جاتا ہے یہ ہے تیرا ٹھکانہ۲؎۱ تو شک پر تھا اس پر مرا اسی پر ان شاءاﷲ اٹھے گا۳؎۱(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ مؤمن کا حال ہوگا اسی اطمینان کی وجہ سے سوالات کا جواب آسانی سے دے گا وہ دنیا میں کافی گھبرا اور ڈرچکا اب اس کے اطمینان کا زمانہ آگیا۔

۲؎ یعنی زندگی میں بھی اسلام پر تھا اور اب بھی لیکن چونکہ سزاوجزا کا دارومدار زندگی کے ایمان و اعمال پر ہے اس لیئے یہاں اسی کا ذکر کیا گیا،بعض صالحین قبر میں تلاوت قرآن،بلکہ نمازبھی اداکرتے ہیں مگر انہیں اس کا کوئی ثواب نہیں،لذات روحانی ہے،اسی لیئے بزرگوں کی ارواح کو بھی نیکیوں کا ثواب بخشاجاتاہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کُنْتُ کیوں فرمایا۔

۳؎ خیال رہے کہ اگرچہ اسلام میں توحید،رسالت اور سارے عقائد آگئے تھے لیکن پھر بھی آخری سوال حضور کے بارے میں ہوتا ہے۔کلمہ ختم ہو تو ان کے نام پر،نمازختم ہو تو ان کے سلام پر،امتحان قبر ختم ہو تو ان کی پہچان پر،خاتمیت کا سہرا انہی کے سر ہے،ہر جگہ نجات انہی کے سہارے ہے۔

۴؎ یعنی تو جو کہتا ہے وہ اﷲ کے پاس سے نشانیاں لائے کیا تونے خدا کو انہیں نبی بناکر بھیجتے،نشانیاں دیتے دیکھا تھا ؟ وہ کہتا ہے کہ خود تو نہیں دیکھا،دیکھنے والے محبوب سے سنا تھا،مجھے ان کے کلام پر اپنی آنکھوں سے زیادہ اعتماد ہے،میری آنکھیں جھوٹی ہوسکتی ہیں ان کا کلام غلط نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ یہ گفتگو امتحان کے علاوہ ہے۔فرشتے خوش ہو کر اس سے یہ باتیں کرتے ہیں۔

۵؎ دنیا میں ان آنکھوں سے۔سبحان اﷲ!جاہل مسلمان بھی مرتے ہی عقائد کا عالم بن جاتا ہے۔

۶؎ خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت دوزخ کی آگ نظر آتی ہے تکلیف بالکل نہیں پہنچاتی،کچلنے کا یہ مطلب ہے کہ اس قدر زیادہ آگ ہے گویا آگوں کی بھیڑہوگئی ہے کہ بعض بعض کو کچلے دیتی ہے۔

۷؎ اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ دوزخ سے بچنا محض اپنے عمل سے نہیں بلکہ رب تعالٰی کے فضل سے ہے کہ اسی کے کرم سے قبر میں کامیابی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ہر شخص کی جگہ جنت میں بھی ہے اور دوزخ میں بھی،مؤمن جنت میں اپنی جگہ بھی سنبھالتاہے اور کافر کی بھی،مؤمن کو دوزخ کی جگہ پہلے دکھانا اسے زیادہ خوش کرنے کے لیئے ہے۔

۸؎ صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور دوزخ کی کھڑکی فورًا بندکردی جاتی ہے مگر یہ کھڑکی تا قیامت کھلی رہتی ہے۔

۹؎ یعنی دنیا میں تجھے اپنے عقائد کا علم الیقین تھا جو سن کر حاصل ہوا،قبر میں ان سب چیزوں کو دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوا۔اور بعد حشر وہاں پہنچ کر حق الیقین نصیب ہوگا،یقین دائمی رہا اس کے مرتبوں میں ترقی ہوتی رہی یاد رکھو کہ جیسے جیو گے ویسے ہی مرو گے ان شآءاﷲ فرمانا برکت کے لیے ہے نہ کہ شک کے لیئے رب تعالٰی نے فرمایا:”لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللہُ "۔

۱۰؎ کیونکہ کافر دنیا میں خدا سے بے خو ف رہا اب اس کا خو ف شروع ہوگیا۔

۱۱؎منافق نے فقط زبان سے لوگوں کی دیکھا دیکھی رسول اﷲ کہہ دیا تھا،کافر اپنے دوستوں سے سن کر انہیں جادو گر وغیرہ کہتے تھے،غرض تسلی بخش جواب نہ دے سکے گا۔

۱۲؎ یہاں بھی گزشتہ تقریر یاد رہے کہ کافر جنت کو صرف دیکھتا ہے اس سے فائدہ بالکل نہیں اٹھاتا اور جنت کی کھڑکی فورًا بند بھی کردی جاتی ہے یہ دکھانا زیادتی حسرت کے لیئے ہے دوزخ کو دیکھتا بھی ہے اور اس کی گرمی سے تکلیف بھی پاتا ہے اور یہ کھڑکی کبھی بند بھی نہیں ہوتی۔

۳؎۱ عام کافروں کو اپنے دین پر جزم نہیں ہوتا،ذرا سی مصیبت میں دین چھوڑ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:”دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ”ہم نے ہندؤوں کو مسجدوں کے دروازہ پر نمازیوں کے جوتوں کی خاک چومتے دیکھا ہے،مشائخ کرام کے تلوؤں کو چومتے دیکھا ہے،اور جن خاص کافروں کو اپنے مذہب پر جزم اوراعتماد ہے وہ بھی یقین نہیں کہلاتا بلکہ جہل مرکب یعنی جھوٹی بات کو سچا جان لینا،نیز اس کا یہ اعتماد مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے،اب اسے مرنے کے بعد سمجھ میں نہیں آتا کہ دین برحق کیا ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت سے کافرو ں کو اپنے مذہب پر یقین ہوتا ہے پھرحدیث کیونکہ صحیح ہوئی۔

جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے

حدیث نمبر :136

روایت ہے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب میت قبر میں داخل کی جاتی ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتاہے ۱؎ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۲؎ (ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ احساس منکر نکیر کے جگانے پر ہوتا ہے۔خواہ دفن کسی وقت ہو چونکہ نماز عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب کا ڈوبنا اس کا وقت جاتے رہنے کی دلیل ہے،اسی لئے یہ وقت دکھایا جاتا ہے۔

۲؎ یعنی اے فرشتو سوالات بعد میں کرنا عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نماز عصر کا پابند تھا،اﷲ نصیب کرے اسی لیئے رب فرماتا ہے:”حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی”تمام نمازوں کی خصوصًا عصر کی بہت نگہبانی کرو۔صوفیاءفرماتے ہیں جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے۔خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سوکر اٹھا ہوں نزع وغیرہ سب بھول جائے گا ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکی۔

فتنۂ قبر

حدیث نمبر :135

روایت ہے اسماء بنت ابوبکر سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لیے کھڑے ہوئے ۲؎ تو آپ نے فتنۂ قبر کا ذکر فرمایاجس میں انسان مبتلا ہوتا ہے۳؎ تو جب یہ ذکر کیا تو مسلمانوں نے چیخ ماری۴؎ بخاری نے اسی طرح روایت کی نسائی نے یہ اور زیادہ کیا کہ ان کے درمیان چیخ حائل ہوگئی کہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھ سکوں جب شوتھما تو میں نے اپنے نزدیکی آدمی سے کہا کہ اﷲ تجھے برکتیں دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر کلام شریف میں کیا فرمایا؟۵؎ وہ بولے کہ حضور نے یہ فرمایا کہ مجھے وحی ہوئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں فتنۂ دجال کے قریب فتنہ میں مبتلا کیے جاؤ گے۶؎

شرح

۱؎ آپ کا لقب ذات النطاقین ہے،عائشہ صدیقہ کی بڑی بہن،زبیر ابن عوام کی زوجہ،عبداﷲ ابن زبیر کی والدہ،ابوبکر صدیق کی صاحبزادی ہیں،آپ اٹھارھویں مؤمنہ ہیں،مکہ معظمہ میں ایمان لائیں،عائشہ صدیقہ سے دس سال بڑی تھیں،آپ کے صاحبزادے عبداﷲ ابن زبیرکو حجاج ابن یوسف نے سولی دی تھی۔چوب سے آپ کی لاش اتارنے کے دس روز بعد حضرت اسماء کا انتقال ہوا مکہ معظمہ میں دفن ہوئیں،یہ واقعہ۷۳ ھ؁ میں ہوا۔

۲؎ مسجدنبوی شریف میں جہاں مردوں اورعورتوں کا اجتماع تھا مرد آگے تھے عورتیں پردے کے ساتھ پیچھے جیسا کہ اس زمانہ میں عام مروج تھا بلکہ عورتوں کو حکم تھا کہ وعظ کی مجالس میں شرکت کیا کریں تاکہ انہیں اپنے احکام و مسائل معلوم ہوں۔خیال رہے کہ خطبہ اور وعظ کھڑے ہو کر کہنا سنت ہے۔شامی میں ہے کہ خطبۂ نکاح بھی کھڑے ہوکر پڑھاجائے۔

۳؎ فتنۂ قبر سے مراد وہاں کا امتحان ہے۔اَلْمَرْءُسےمعلوم ہوا کہ حساب قبرصرف انسانوں سے ہے جنات یا جانوروں سے نہیں کیونکہ ان کے لیئے نہ جنت ہے،نہ وہاں کی نعمتیں۔کفار جن کے لیئے صرف جہنم ہے جانوروں کے لیئے دونوں میں کچھ نہیں،بلکہ مظالم کا بدلہ کرا کر انہیں مٹی کردیا جائے گا اس کی تحقیق ہمارے فتویٰ میں دیکھو۔

۴؎ ہیبت سےگھبرا کر رو پڑے اور بے اختیاری چیخ نکل گئی،اس میں ریاء کی گنجائش نہ تھی۔خیال رہے کہ خوفِ الٰہی میں صرف آنسوؤں سے رونا بہت بہترہے،رب تعالٰی فرماتاہے:”تَرٰۤی اَعْیُنَہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ "لیکن اگر بے اختیاری میں لوگوں کے سامنے چیخ نکل جائے تو بھی عبادت۔

۵؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عورت اجنبی مرد سے ضرورتًا پردے میں رہ کر کلام کرسکتی ہے،بشرطیکہ سادی گفتگو کرے آواز میں شیرینی اور لوچ نہ ہو،رب فرماتاہے:”وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتٰعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ”اورفرماتا ہے:”فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ”۔دوسرے یہ کہ دعائیں دےکر کوئی بات پوچھنا بہتر ہے تاکہ مخاطب کو خوشی ہو،مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔تیسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبربھی قبول ہے گواہیوں کی ضرورت نہیں۔

۶؎ یعنی فتنۂ قبرفتنۂ دجال کی طرح بڑا ہی خطرناک ہے جیسے دجال کی شرسے وہی بچے گا جسے اﷲ بچائے،ایسے ہی حساب قبر میں وہی کامیاب ہوگاجسے اﷲ کامیاب کرے،ان دونوں جگہ ثابت قدمی اپنی بہادری سے نہیں،دجال دعوئے خدائی کرے گا اور بہت لوگ اس کا اقرار کرلیں گے،قبر میں شیطان سامنے آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرا رب ہوں،مجھے رب مان لے کامیاب ہوجائے گا،اس کی ذریت میت کے مرے ہوئے عزیزوں کی شکل میں آکر کہتی ہے کہ بیٹے اسے خدا مان لے،دیکھو اعلٰی حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کی کتاب ایذان الاجر اور ہماری کتاب "جاء الحق”اسی لیئے قبر پر اذان کہہ دیتے ہیں تاکہ شیاطین دفع ہوں۔

بعد دفن قبر پر تسبیح و تکبیر

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :133

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب حضرت سعد ابن معاذ ۱؎ نے وفات پائی تو ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی طرف گئے جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز پڑھ لی اور وہ اپنی قبر میں رکھے گئے اور ان پر مٹی برابر کردی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دراز تسبیح پڑھی ہم نے بھی تسبیح پڑھی پھر تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ اولًا تسبیح پھر تکبیر کیوں کہی ؟ فرمایا اس نیک بندے پر ان کی قبر تنگ ہوگئی تھی حتی کہ اﷲ نے کشادہ کردی۳؎(اسے احمدنے روایت کیا)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ انصار میں اوس کے سردار ہیں،بیعت عقبہ اولٰی کے بعد مدینہ منورہ میں ایمان لائے،آپ کے ایمان سے عبد اشہل بھی ایمان لائے،حضور نے ان کا نام سید الانصار رکھا،جلیل القدر صحابی ہیں۔حضور کے ساتھ بدر و احد میں شریک رہے،خندق کے دن کندھے میں تیر لگا جس سے خون جاری ہوا اور نہ ٹھہرا ایک ماہ کے بعد ذیقعد ۵ھ؁ میں وفات ہوئی،۳۷ سال عمر ہوئی،حضور کے ہاتھوں جنت بقیع میں دفن ہوئے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ بعد دفن قبر پر تسبیح و تکبیر پڑھنا سنت ہے کہ اس سے غضب الٰہی دفع ہوتا ہے،لگی ہوئی آگ بجھ جاتی ہے. اس سے قبر پر اذا ن کا مسئلہ ماخوذ ہے کہ اس میں تکبیر بھی ہے اور تلقین بھی اور یہ دونوں سنت ہیں۔

۳؎ یہ تنگیٔ قبر عذاب نہ تھی بلکہ قبر کا پیار تھا،قبر مؤمن کو ایسے دباتی ہے جیسے ماں بچے کو گود میں لے کر،مگر میت اس سے ایسی گھبراتی ہے جیسے ماں کے دبانے پر بچہ روتا ہے،اسی لیئے حضور نے عبدصالح فرمایا،عذاب قبر کافر یا گنہگار کو ہوتا ہے،اگلی حدیث اس کی شرح ہے حضور کی برکت اور تکبیر و تہلیل کے ذریعہ یہ تنگی بھی دور ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ قبر پر تسبیح و تکبیر میت کو مفید ہے،نیز پتہ لگا کہ حضور کی نگاہ اوپر سے قبر کے اندر کا حال دیکھ لیتی ہے،آپ کے لیئے کوئی شے آڑ نہیں۔خیال رہے کہ حضور کے قدم کی برکت سے قبر کی مصیبتیں دور ہوتی ہیں،یہ تکبیر فرمانا ہم کو تعلیم دینے کے لیئے ہے،کوئی گستاخ یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضور کے ہوتے ہوئے عذاب کیوں ہوا کیونکہ یہ عذاب تھا ہی نہیں۔

حدیث نمبر :134

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ وہ ہیں جن کے لیئے عرش ہل گیا،اور ان کے لیئے آسمان کے دروازے کھولے گئے ۱؎ اور ان پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے ۲؎ بے شک چپٹائے گئے چپٹایاجاتا پھراﷲ نے ان کے لیے آسانی کردی۳؎(نسائی)

شرح

۱؎ یعنی سعد ابن معاذ کے لیئے آسمان کے دروازے کھلے،وہاں کے فرشتوں نے ان کی روح کا استقبال کیا اور ان کی روح کے پہنچنے پر عرش اعظم خوشی میں ہلا آسمان سے فرشتے اور رحمتیں اتریں۔مرقاۃ میں فرمایا کہ مؤمنین کی ارواح جنت میں رہتی ہیں جو ساتویں آسمان کے اوپر ہیں۔

۲؎ اﷲ کی رحمتیں لےکر یا ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیئے۔

۳؎ یہ عبارت گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ تنگی عذاب قبر نہ تھی بلکہ قبر کی رحمت تھی اور ا ن کے لیئے وحشت،بلی اپنے بچے کو بھی منہ میں دباتی ہے اور چوہے کوبھی مگر دونوں میں فر ق ہے۔

کافر پر اس کی قبر میں ننانوے۹۹ سانپ

حدیث نمبر :132

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر پر اس کی قبر میں ننانوے۹۹ سانپ مسلط کیے جاتے ہیں ۱؎ جو اسے قیامت تک نوچتے اور ڈستے رہیں گے ۲؎ اگر ان میں سے ایک سانپ زمین پر پھونک مار دے تو کبھی سبزہ نہ اگائے۳؎ اسے دارمی نے روایت کیا اور ترمذی نے بھی اسی کی مثل روایت کی انہوں نے ننانوے کی بجائے ستر فرمائے۴؎

شرح

۱؎ تنین زہر والے اژدھے کو کہتے ہیں چونکہ کافر ا ﷲ کے ننانوے ناموں کا منکر تھا۔اسی لئے اس پر ننانوے سانپ مقرر ہوئے نیز اﷲ کی سو رحمتیں ہیں ایک دنیا میں ننانوے مؤمن وں پر آخرت میں کافروں پر ان نعمتوں کے عوض سانپ مقرر ہوئے۔

۲؎ گوشت نوچنا،زہر نہ پہنچانا نھس ہے اور دانت مار کر زہر چھوڑ دینا لدغ یعنی کوئی نوچے گا کوئی ڈسے گا۔

۳؎ اس طرح کہ اس کی گرمی اور زہر کی وجہ سے مٹی پک جائے اور سبزے کے قابل نہ رہے آج جہاں ایٹم بم پڑا ہے وہاں کا علاقہ ناقابل کاشت ہوگیا۔

۴؎ ستر سے مراد بے شمار لینا یہ ننانوے کے خلاف نہیں۔

تدفین کے بعد ٹہرنا

حدیث نمبر :131

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ ٹھہرتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو پھر اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو ۱؎ کہ اس سے اب سوالات ہورہے ہیں۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ ہمارے ہاں رواج ہے کہ بعد دفن فورًا واپس نہیں ہوتے بلکہ قبر کے آس پاس حلقہ بنا کر کھڑے ہوتے ہیں کچھ پڑھ کر بخشتے ہیں اور میت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے،یہ تمام فعل سنت ہیں،بعض جگہ بعد دفن قبر پر اذان بھی کہتے ہیں،یہ بھی اسی حدیث سے نکل سکتا ہے کہ اس میں مردے کو تلقین ہے اور اس کے ثبات قدمی کی کوشش ہے حدیث میں ہے:”لَقِّنَوْا مَوْتَاکُمْ بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ”۔

۲؎ یعنی ہونے ہی والے ہیں کیونکہ حساب قبر لوگوں کے لوٹنے کے بعدشروع ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ زندوں کی دعا سے مردوں کو فائدہ ہوتا ہے ایسے ہی ان کے صدقات وخیرات میت کو مفید ہیں۔ابو امامہ کی روایت میں ہے کہ حضور ارشاد فرماتے ہیں دفن کے بعد قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ کہو اے فلاں ابن فلاں اپنا وہ کلمہ یاد کر جسے تو دنیا میں پڑھتا تھا۔تیرا رب اﷲ ہے،تیرا دین اسلام ہے،تیرے نبی محمد مصطفےٰ ہیں۔(اشعۃ)مرقاۃ نے فرمایا کہ قبر پر ختم قرآن کرنا مستحب ہے،بیہقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ بعد دفن سرہانۂ قبر پر سورہ بقر کا پہلا رکوع اور پائنتی پر آخری رکوع پڑھنا مستحب ہے۔شیخ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ قبر پر قرآن پڑھنا بہت اعلٰی ہے۔اشعۃ میں ہے کہ اگر اس وقت دو چار فقہی مسائل بیان کرکے ثواب میت کو پہنچائے تو اچھا ہے۔