پاکستان میں ہیلمنٹ
sulemansubhani نے Wednesday، 3 October 2018 کو شائع کیا.
اٹھارویں صدی میں سپین کے بادشاہ فلپ٥ کو کاتالونیا میں سول مزاحمت کا سامنا رہا ہے کٸ جنگیں بھی ہوٸیں کاتالونیا کے ہی علاقے cervera کے لوگوں نے فلپ کی بھر پور حمایت کی اور اس کی فوج کے شانہ بشانہ بہت جانفشانی سے لڑے فلپ نے ان کی وفاداری کا ادراک کرتے ہوۓ اس علاقے کے لوگوں سے پوچھا آپ کا جو بھی سب سے بڑا مسٸلہ ہے وہ حل کیا جاۓ گا آپ مانگو کیا مانگتے ہو سب لوگوں نے صلاح مشورے کے بعد بادشاہ سے کہا حضور ہمارے علاقے میں دور دور تک ساحل سمنرر نہی ہے ہماری خواہش ہے کہ ہمارے علاقے کے ساتھ بھی سمندر ہو بادشاہ نے اندازہ لگا لیا کہ اس علاقے کا سب بڑا مسٸلہ جہالت ہے چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس علاقے میں کتلونیا کی سب سے بڑی اور منفرد یونیورسٹی قاٸم کی جاۓ جس کے نتیجے میں 1718ٕ میں یونیورسٹی آف سرویرا وجود میں آٸ جس میں سے نامور سیاسی ادبی اور سماجی شخصیات ابھر کر نکلیں اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی قوم کی رہنماٸ کی ایک زمانے تک اس یونیورسٹی کی ہم پلہ کوٸ دوسری یونیورسٹی سپین کے صوبہ کاتالونیا میں نہی پاٸ جاتی تھی پاکستان میں ہیلمنٹ کے متعلق قانون آنے کے بعد سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن پڑا ھوا ہے پوری دنیا میں ہیلمنٹ پہننا لازمی ہے اور خلاف ورزی پر سخت جرمانہ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اس پر بھی سیاست ہو رہی ہے یقین کریں ہمارے ملک میں بھی یونیورسٹیاں بنانے کی سخت ضرورت ہے ابھی بھی۔Asjad Butt

اٹلی میں سکھوں نے ایک بہت بڑاگرودوارہ خریدا ۔ یہ اٹلی کی تاریخ کا سب سے بڑا گرودوارہ تھا انہوں نے اس کی افتتاحی تقریب کے لئے وزیر اعظم رومانو پرودی کو دعوت دی اور اسے بہت زیادہ پروٹوکول اور مان دیا
سکھوں کے سربراہ نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہمارا اٹلی حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دی جائے کیونکہ اس کی تعلق ہماری مذہبی مجبوری سے ہے ہم نے سر پر پگڑی باندھنی ہوتی ہے اور ہیلمٹ پہننے کے لیے اسے اتارنا پڑتا ہے ۔
رومانو پرودی نے ہنستے ہوئے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ۔ اٹلی کی پولیس تو مجھے بھی اگر بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلاتے دیکھ لے تو چالان کر دے گی اس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی روایتی یا مذہبی مجبوری انسانی جان سے زیادہ اہم نہیں ہونی چاہیے
پاکستان میں حالیہ حکومت ہیلمٹ کے حوالے سے سختی کر رہی ہے تو عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں قانون کی پابندی کا کوئی کلچر نہیں ہر طبقے نے یہ جواز رکھا ہوا ہے کہ فلاں طبقہ بھی تو قانون توڑتا ہے ۔ کسی ایک کے قانون توڑنے کو کسی دوسرے کے قانون توڑنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا
ویسے تو جس دن سے یہ حکومت بنی ہے ہر مسئلہ پر معافیاں مانگنے اور فیصلے واپس لینے کے سوا کچھ نہیں کر رہی لیکن میری حکومت سے بھرپور گزارش ہے کہ ہیلمٹ والے مسئلے پر اور قانون پر عمل درآمد کروانے پر کسی قسم کا کوئی یوٹرن نہ لیں ۔ کسی بھی شہری کا یہ کہنا کہ وہ غریب ہے اسے قانون سے نرمی کا جواز نہیں دے سکتا ہر غریب کوُیہ پتہ ہونا چاہیے کہ اگر وہ دو ہزار کا جرمانہ نہیں دے سکتا تو آٹھ سو کا ہیلمٹ خرید لے اور اگر وہ اتنا ہی غریب ہے کہ ہیلمٹ نہیں خرید سکتا تو ایک لاکھ کا موٹر سائیکل بھی بیچے اور سائیکل خرید لے
محمود اصغر چوہدری