بعد دفن قبر پر تسبیح و تکبیر

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :133

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب حضرت سعد ابن معاذ ۱؎ نے وفات پائی تو ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی طرف گئے جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز پڑھ لی اور وہ اپنی قبر میں رکھے گئے اور ان پر مٹی برابر کردی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دراز تسبیح پڑھی ہم نے بھی تسبیح پڑھی پھر تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ اولًا تسبیح پھر تکبیر کیوں کہی ؟ فرمایا اس نیک بندے پر ان کی قبر تنگ ہوگئی تھی حتی کہ اﷲ نے کشادہ کردی۳؎(اسے احمدنے روایت کیا)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ انصار میں اوس کے سردار ہیں،بیعت عقبہ اولٰی کے بعد مدینہ منورہ میں ایمان لائے،آپ کے ایمان سے عبد اشہل بھی ایمان لائے،حضور نے ان کا نام سید الانصار رکھا،جلیل القدر صحابی ہیں۔حضور کے ساتھ بدر و احد میں شریک رہے،خندق کے دن کندھے میں تیر لگا جس سے خون جاری ہوا اور نہ ٹھہرا ایک ماہ کے بعد ذیقعد ۵ھ؁ میں وفات ہوئی،۳۷ سال عمر ہوئی،حضور کے ہاتھوں جنت بقیع میں دفن ہوئے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ بعد دفن قبر پر تسبیح و تکبیر پڑھنا سنت ہے کہ اس سے غضب الٰہی دفع ہوتا ہے،لگی ہوئی آگ بجھ جاتی ہے. اس سے قبر پر اذا ن کا مسئلہ ماخوذ ہے کہ اس میں تکبیر بھی ہے اور تلقین بھی اور یہ دونوں سنت ہیں۔

۳؎ یہ تنگیٔ قبر عذاب نہ تھی بلکہ قبر کا پیار تھا،قبر مؤمن کو ایسے دباتی ہے جیسے ماں بچے کو گود میں لے کر،مگر میت اس سے ایسی گھبراتی ہے جیسے ماں کے دبانے پر بچہ روتا ہے،اسی لیئے حضور نے عبدصالح فرمایا،عذاب قبر کافر یا گنہگار کو ہوتا ہے،اگلی حدیث اس کی شرح ہے حضور کی برکت اور تکبیر و تہلیل کے ذریعہ یہ تنگی بھی دور ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ قبر پر تسبیح و تکبیر میت کو مفید ہے،نیز پتہ لگا کہ حضور کی نگاہ اوپر سے قبر کے اندر کا حال دیکھ لیتی ہے،آپ کے لیئے کوئی شے آڑ نہیں۔خیال رہے کہ حضور کے قدم کی برکت سے قبر کی مصیبتیں دور ہوتی ہیں،یہ تکبیر فرمانا ہم کو تعلیم دینے کے لیئے ہے،کوئی گستاخ یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضور کے ہوتے ہوئے عذاب کیوں ہوا کیونکہ یہ عذاب تھا ہی نہیں۔

حدیث نمبر :134

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ وہ ہیں جن کے لیئے عرش ہل گیا،اور ان کے لیئے آسمان کے دروازے کھولے گئے ۱؎ اور ان پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے ۲؎ بے شک چپٹائے گئے چپٹایاجاتا پھراﷲ نے ان کے لیے آسانی کردی۳؎(نسائی)

شرح

۱؎ یعنی سعد ابن معاذ کے لیئے آسمان کے دروازے کھلے،وہاں کے فرشتوں نے ان کی روح کا استقبال کیا اور ان کی روح کے پہنچنے پر عرش اعظم خوشی میں ہلا آسمان سے فرشتے اور رحمتیں اتریں۔مرقاۃ میں فرمایا کہ مؤمنین کی ارواح جنت میں رہتی ہیں جو ساتویں آسمان کے اوپر ہیں۔

۲؎ اﷲ کی رحمتیں لےکر یا ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیئے۔

۳؎ یہ عبارت گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ تنگی عذاب قبر نہ تھی بلکہ قبر کی رحمت تھی اور ا ن کے لیئے وحشت،بلی اپنے بچے کو بھی منہ میں دباتی ہے اور چوہے کوبھی مگر دونوں میں فر ق ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.