فرمان باری تعالیٰ ہے !اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِ حْسَانِ وَاِیْتَایِ ذِی الْقُرْبیٰo(سورۃ النحل ۹۰)

ترجمہ:۔بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی کا اور رشتہ داروں کے دینے کا ۔(کنز الایمان)

عدل کے معنیٰ ہیں برابر کرنا ،یا افراط وتفریط کی درمیانی راہ اختیار کرنا جسے اعتدال کہا جاتا ہے ۔شرعی اعتبار سے عدل ،انسانی کمالات کا سر چشمہ اور جملہ اخلاقی اقدار ومحاسن کا منبع ومرکز ہے۔ اسی سے انسان بارگاہ الوہیت کا مقرب اور مخلوق کا محبوب بنتا ہے ،عدل ہی دنیاوی فلاح وبہبود اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے ،یہ اللہ وحدہ لاشریک کی صفات عالیہ میں سے ایک صفت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی اشرف المخلوقات انسان میں پنہاں کیا ہے اسی لئے کوئی بھی انسان اس کی افادیت واہمیت کا انکار نہیں کرتا ہے۔

اسلام صرف اپنوں کے ساتھ عدل وانصاف کا حکم نہیں دیتا بلکہ غیروں کے ساتھ بھی عدل ومساوات کا حکم دیتا ہے۔چنانچہ اللہ نے جب اپنے حبیبﷺکو منصب نبوت کی زمہ داریاں پوری کرنے کی تاکیدفرمائی تو ساتھ ہی ساتھ عدل کا بھی حکم فرمایا۔ارشاد ہوتا ہے:

۔فَلِذٰلِکَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ وَ لَاَ تَتََّبِعْ اَھْوَائَ ھُمْ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَا اَنْزَلَ اﷲُمِنْ کِتَابٍ وَاُمِرْتُ لِاَ عْدِلَ بَیْنَکُمْ (الشوریٰ؍۱۵)

ترجمہ:۔تو اسی لئے بلائو اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا اور ان کی خواہشوں پر نا چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں۔(کنز الایمان)

آیۂ کریمہ میں ’’وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ‘‘کا جملہ قابل توجہ ہے کہ اپنے تو اپنے بلکہ غیروں کے ساتھ بھی عدل وانصاف کا حکم دیا جارہا ہے۔اور یہ حکم اس نبیٔ مکرم رسولِ رحمتﷺ کو دیاگیا جو دنیا کو نظامِ عدل سے روشناش کرانے اور عدل کی برتری واضح کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ۔جس رسول معظمﷺنے اپنے عدل کی قوت سے تکبر وغرور کے بتوں کوپاش پاش کردیا ،مظلوموں کو ظلم واستبداد سے نجات دلائی ، امیر وغریب کے فرق کو مٹایا ،غلاموں پر آقائوں کی بر تری کا خاتمہ کیا ، رنگ ونسل اور زبان ومکان کے امتیاز کو پامال کیا ،صدیوں سے زندہ در گور کردینے والی مظلوم بچیوں پر عدل وانصاف کا دروازہ کھول دیا ۔

قرآن نے جس عدل کا حکم دیا ہے اور رحمت عالمﷺنے جس نظام عدل کی قولی وعملی تعلیم دی ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی قانون،کسی مذہب میں نہیں ملتی ،اسلامی نظام عدل سے ظلم وستم ،جبر واستبداد ،لو ٹ مار ، قتل وغارت کا خاتمہ ہوتا ہے،ہر قسم کے تعصبات دم توڑتے نظر آتے ہیں ،ہواوہوس ،غروتمکنت،خود بینی وخود پسندی کے بت پاش پاش ہوتے ہیں ،اسلامی نظام عدل سے چھوت چھات ، ملوکیت اور غلامیت کے مزاج کا سد باب ہوتا ہے ۔اسلامی نظام عدل سے سب کے لئے ایک حاکم ،ایک قانون کی عملی صورت نظر آتی ہے ،عزت و آبروکی حفاظت ہوتی ہے ،مظلوم وبیکس کی فریاد رسی ہوتی ہے ،ظالم کو عبرتناک سزا ملتی ہے ،اسلامی نظام عدل سے پورا معاشرہ امن وسلامتی کا ایسا گہوارہ بن جاتا ہے جس کی فظا میں راتیں بے خوف وخطر اور دن پر سکون گزرتے ہیں ،جس سے انسانی تہذیب وتمدن پر وان چڑھتی اور انسانیت عروج وترقی کی راہ پاتی ہے۔

آیئے!عدل کی اہمیت وافادیت کا اندازہ سب سے پہلے داعیٔ اعظمﷺکی حیات طیبہ سے لگائیں ۔میرے پیارے آقاﷺنے اعلان نبوت سے قبل ہی اس موحول اور سوسائٹی میں عدل کا تعارف کرایا جس میں لفظ عدل کا استعمال تو ہوتا تھا لیکن اس کی عملی صورت کا تصور تک نہ تھا ،اس وقت عدل صرف اپنی اغراض کی تکمیل کا نام تھا ، ایسے ماحول میں وہ نبی جو انسانوں کو قیامت تک کے لئے ایک بے نظیر نظام کی تعلیم دینے کے لئے آیاتھا سب سے پہلے خود عدل کرکے دکھاتا ہے۔

یہ وہ وقت ہے جب قریش خانۂ کعبہ کی تعمیر کی اور متحد ومنظم ہو کر محنت سے تعمیر کرنے والے اچانک اس مسئلہ دست بگریباں ہوگئے کہ حجر اسود نصب کرنے کا اعزاز کو حاصل کریگا ،چار پانچ دن مسلسل یہ اختلاف چلتا رہا ،سخت کلامی بھی ہوئی ،ہاتھا پائی کا مظاہرہ بھی ہوا ،حتیٰ کہ تلواریں تان لی گئیں ،اب خون کی ندیاں تو بہتی نظر آتی تھیں لیکن مسئلہ کا حل دور دور تک نہ تھا ۔بالآخر اللہ  نے اپنے گھر کو قتل وغارت سے بچانے اور حق حقدار کو عطا فرمانے کے لئے کسی دل میں یہ بات ڈالی اور وہ چلایا اے گروہ قریش !جھگڑا ختم کرو اور اس شخص کو اپنا حَکَم بنالو جو کل سب سے پہلے اس مسجد کے دروازہ میں داخل ہو ؛یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور صبح کا انتظار کرنے لگے اور سپیدئہ سحر نمودار ہوتے ہی ہر ایک تیزی سے اس گھر کی طرف دوڑنے لگا لیکن جو مسجد کے دروازے میں داخل ہوا اس نے اپنے اعلیٰ اخلاق ،بلند کردار ،حضرت عبد اللہ کے در یتیم محمدﷺکو اپنا استقبال کرتے پایا اور خوش ہوکر چلایا ’’ھذا الامین رضینا بہ حکما ھذامحمد‘‘یہ محمد ہیں(ﷺ)یہ امین ہیں ہم سب ان کے فیصلے پر راضی ہیں ،اب اللہ ل کے گھر کو آباد کرنے والے آقاااللہ ہی کے گھر میں عدل وانصاف کا ماظہرہ فرماتے اور عدل کو متعارف کراتے ہیں،فرمایا:’’ھَلُمَّ اِلَیَّ ثَوْبًا‘‘مجھے ایک چادردو!چادر پیش کی گئی ،آپ ا نے اسے پھیلایا اور اپنے دست مبارک سے حجر اسود اس میں رکھا اور ہر قبیلہ کے ایک ایک سردار کو بلایا اور فرمایا :سب مل کر چادر پکڑو اور اس اعزاز میں میرے ساتھ شریک ہوجائو!حیرت واستعجاب ار مسرت وشادمانی کی ملی جلی کیفیت میں سب نے چادر پکڑی اور حجر اسود کو اس مقام تک لے آئے جہاں اسے نصب کرنا تھا ،اب حضور انے اسے اپنے نورانی ومقدس ہاتھوں سے اٹھایا اور دیوار میں مقررہ جگہ پر نصب کردیا ۔یہ پہلا موقع تھا جب آقائے کریم اکے عدل وانصاف سے ایک بڑی خون ریزی کا خطرہ ٹلا اور پوری قوم کو مسرت وشادمانی نصیب ہوئی۔

جنگ بدر کے بعد گرفتار شدگان میں حضورﷺکے چچا حضرت عباس  بھی تھے جو ابھی دولت ایمان سے مصرف نہیں ہوئے تھے ۔انہیں اسی طرح باندھا گیا تھا جس طرح دوسرے قیدیوں کو باندھا گیا تھا ،اور جب قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں آزاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ایک عام آدمی کا فدیہ چار ہزاردرہم مقرر ہوا ،لیکن ان میں جو دولت مند تھے ان سے زیادہ رقم لینے کا فیصلہ ہوا ۔بعض صحابہ نے خیال کیا کہ حضرت عباس  کو حضورﷺکا چچا ہونے کے ناطے بغیر فدیہ آزاد کردیاجائے ۔آقائے کریمﷺو اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا : سب قیدیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے اور عباس سے زیادہ رقم لی جائے کیونکہ وہ دولت مند ہیں۔

یہ اور اس جیسے واقعات اس حقیقت کی وضاحت کے لئے کافی ہی کہ اسلام کا نظام عدل اپنے اور غیروںسب کے لئے یکسا ہے ۔ اسلام کا نظام عدل ہر شخص کو اس کا حق دلانے کا ضامن ہے ،کسی کی امارت ،رشتہ داری ،دینی خدمت ،جاہ وحشمت یا کوئی بھی وجہ اس کے نفاذحائل نہیں ہوسکتی ۔اب حضور ا کے بعد امت مسلمہ کے حقوق وامور کے دو عظیم محافظوں کے واقعات عدل ملاحظہ ہو ں۔

یہ یار غار حضرت ابوبکر صدیق ص ہیں،جب مسند خلافت پر رونق افروز ہوتے ہیں تو اپنے پہلے ہی خطبے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بنیاد عدل وانصاف کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اے لوگو !میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم لوگوں میں زیادہ بہتر نہیں ،اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرو اور برائی کی طرف جائوں تو مجھے سیدھا کردو ،صدق امانت ہے ،کذب خیانت ہے ۔ان شاء اللہ تمہارا کمزور میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق واپس دلادوں ،اور تمہارا قوی میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلادوں ۔پھر آ نے فرمایا : ’’وَاَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِذَا عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَلَاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ‘‘میری فرمانبرداری کروجب تک میں اللہ ورسول(د وا) کی فرمانبرداری کروں اور جب میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی نافرمانی کروں تو تم پر بھی میری اطاعت نہیں۔امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم  کا عدل ’’عدل فاروقی‘‘کے عنوان سے معروف اور متعارف ہے آپ کے باب عدل سے صرف ایک واقعہ پیش ہے ۔

آپ کے دور خلافت میں غسان کا بادشاہ جبلہ بن عسفان مشرف باسلا م ہوتا ہے ،اللہ کے گھر کا طواف کرنے کعبۃ اللہ میں حاضر ہوتا ہے ،دوران طواف ایک بدو کا پیر اس کی چادر پر پڑگیا ،احکم الحاکمین کے دربار میں دنیا کے اس شہنشاہ کی رگ تکبر پھڑک اٹھی ،اس نے بدو کے منھ پر ایسا تھپڑ مارا کہ غریب کے کئی دانت باہر آگئے ۔وہ دوڑا دوڑا عدالت فاروقی میں حاضر ہوا اور مقدمہ دائر کردیا۔ آپ نے بادشاہ کو طلب کیا، معاملہ کی تحقیق کی بادشاہ نے جرم کااعتراف کیا، آپ نے بدو کو اجازت دی کہ بادشاہ کے منھ پر اتنے ہی زور سے تھپڑ مارے کہ اس کے بھی دانت نکل پڑیں، جبلہ بادشاہ واویلا مچانا شروع کیااور کہنے لگا کہ آپ کے یہاں ایک دیہاتی اورایک بادشاہ کے دانت برابرہیں؟ امیر المومنین نے اسے قرآنی فیصلہ’’وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اِنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَ نْفِ وَالْاُ ذْنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ والْجُرُوْحَ قِصَاصٌ‘‘سنایا۔

(المائدۃ : ۴۴)

اور آپ نے فرما یا:کہ تحفظ حقوق کے اعتبار سے اسلام امیر وغریب میں کوئی امتیاز نہیں کرتا، اسلامی قانون سب کے لئے ایک ہے، ایک گنوار بد واور ایک شہنشاہ کے دانتوں میں کیا فرق ہوسکتا ہے؟ اے بادشاہ! تونے اعتراف جرم کرلیا ہے لہٰذا اب تو قصاص کے لئے تیار ہوجا۔ وہ اسلام تو قبول کرچکاتھا لیکن ایمان اب تک اس کے دل میں راسخ نہیں ہواتھا، اس نے سزا سے بچنے کے لئے بہانہ تلاش کیا اور بولا اے امیر المومنین! مجھے ایک دن کی مہلت دے دی جائے، مہلت کی درخواست منظور ہوئی اور جبلہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر غسان بھاگ گیا اور وہاں جاکر مرتد ہوگیا۔

اﷲ اکبر! اسلامی عدل کی فوقیت وبرتری تو ملاحظہ کرو کہ کوئی مرتد ہوتا ہے توہوجائے، اسلام کا قانون اٹل ہے، اس میں کسی سودے بازی کی گنجائش نہیں، اسلامی نظام عدل ومساوات سب کے لئے یکساں ہے، مجرم چاہے مزدور کسان ہو، غریب ہو امیرو حاکم ہو، یادولت مند ہو، اسلامی عدل مظلوم کوسہارا دیتا ہے۔ ظالم ومجرم کو سجادیتا ہے اور حق دار کو حق دلاتاہے۔

ایسے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات پر موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں جنہیں حیطۂ تحریر میں لانامشکل ہے ، اختصار کے پیش نظر انہیں واقعات پر اقتصار کرتا ہوں آپ ان واقعات سے اسلامی نظام عدل ومساوات کی اہمیت وافادیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں، رب قدیر ہمیں ہر حال میں عدل وانصاف کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ وآلہ افضل الصلوات والتسلیم