غصہ اور ناراضگی

مبشر حسین مصباحی

حضرت ابودردا نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ!مجھے جنت میں جانے کی ترکیب بتائیں،آپ نے فرمایاکہ غصہ نہ کرو

غصہ اورناراضگی انسانی سماج ومعاشرے میں ایک ایسی بیماری ہے جو عام بیماریوں سے زیادہ نقصان دہ ہے۔اس نے ایک ہی فرد کونہیں،بلکہ پوری دنیامیں انسانیت کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے،اوراس وبانے نہ صرف بر صغیر ہندوستان ، بلکہ ایشیاویورپ اور دیگر ممالک کوبھی اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اسی غصے اور ناراضگی کی وجہ سےانسان ایک دوسرے سے برسرپیکارنظرآتاہے اور یہ سلسلہ آج ایک نہ تھمنے والے سیلاب کی طرح آگے ہی بڑھتاجارہا ہے۔اس نے جہاں انسانیت کی روح، اخوت و محبت اورانسان دوستی کو پامال کر رکھا ہے وہیں خاندانی رشتے، سماجی و ملکی تعلقات اور خیرسگالی کے جذبات کوبھی متأثرکررہا ہے۔

غصہ اور ناراضگی آج جس طرح جان لیوا ہیضے کی شکل میں انسانی سماج کے اندر اپنے بال وپر جمارہے ہیں ،اگر ا س پر قابو نہ پایاگیا تو وہ دن دور نہیں کہ انسانیت کا جنازہ اٹھ جائے اور اس کے لیے کسی دوا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان کو خود اِس بیماری سے لڑنے کے لیے کوشش کرنا ہوگا۔

آج دوست واحباب کے درمیان جارحانہ سلوک، بھائیوں اوربہنوں میں اَن بن، باپ بیٹے اور ماں بیٹیوں کے بیچ تلخیاں،ان سب باتوںکا اصل سبب غصہ اورناراضگی ہی ہے۔ لاتعدادشوہروں اور بیویوں کی خوش حال زندگیاں غصے اور ناراضگی ہی کی وجہ سے اجیرن بنی ہوئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں غصہ اورناراضگی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اُسےحرام قراردیا گیا ہے ،جب کہ غصہ پینے والے اور عفوو در گذر سے کام لینے والوں کی تعریف و ستائش کی گئی ہے،ایسے بندوںکو اللہ تعالیٰ پسند کرتاہے جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کارشادہے:

 وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ( آل عمران۱۱۴)

ترجمہ:غصہ پی جانےوالے،لوگوں کو معاف کرنے والے اور احسان کرنے والے کواللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔

ابلیس جب بارگاہ الٰہی سے مردودہواتو اس کی سب سے اہم اور بڑی وجہ غصہ اور ناراضگی ہی رہی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی یہ حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو،تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے یہ سوچ کر کہ وہ آگ سے بنایا گیا ہے اورحضرت آدم مٹی سے اور آگ مٹی سے بہر حال افضل و اعلیٰ ہے ، اس لیےاپنے غصے اورناراضگی کا اظہار کرڈالا، اوربولا :

خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ( اعراف۱۲)

ترجمہ:(یا اللہ!)تونے مجھے آگ سے بنایاہے اور آدم کو مٹی سے ۔

نتیجے کے طورپرابلیس بارگاہ الٰہی سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا ۔

اس سےمعلوم ہوا کہ غصہ کرنا اور ناراض ہونا انسانی صفت نہیں ہے بلکہ یہ ایک شیطانی صفت ہے جس سے بچناہم سب کے لیےانتہائی ضروری ہے،ورنہ غصہ اورناراضگی کی وجہ سے بندے کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ وبرباد ہوجائے گی۔

غصے کی حقیقت غصہ اورغضب کا محل دل ہے جس کا معنی انتقام کے لیے خونِ دل کا جوش مارنا ہے۔ اس کے تین درجے ہیں:

۱۔ افراط 

۲۔ تفریط 

 ۳۔اعتدال 

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الغَضَبِ سَرِيعُ الفَيْءِ، فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ سَرِيعَ الغَضَبِ بَطِيءَ الفَيْءِ، أَلَا وَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الغَضَبِ سَرِيعُ الفَيْءِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الغَضَبِ بَطِيءُ الفَيْءِ۔ أَلَا وَإِنَّ الغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، أَمَا رَأَيْتُمْ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ، فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَلْصَقْ بِالأَرْضِ۔ (ترمذی،باب ماجاءمااخبر النبی)

ترجمہ:سنو!بعض لوگوں کو غصہ جلدآجاتا ہے اور جلد چلاجاتا ہے،یہ ایک کے بدلے میں دوسرا ہےاور بعض لوگوں کو غصہ جلدآجاتاہے اور دیرسے جاتا ہے۔لیکن تم میں بہتر شخص وہ ہےجسے غصہ دیر سےآئےاور جلد چلاجائےاور بدتر شخص وہ ہے جسےغصہ جلد آئے اور دیر سے جائے۔ اور یہ بھی جان لو کہ غصہ آدمی کے دل میں ایک انگارہ ہے، دیکھتے نہیں کہ غصے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اورگلے کی رگیں پھول جاتی ہیں۔ چنانچہ جو شخص غصہ اپنے اندر محسوس کرے وہ لیٹ جائے۔

معلوم ہوا کہ غصہ اچھی عادت نہیں ،کیوں کہ غصہ اچھے بھلے انسان کو وحشی بنادیتا ہے اوراُس کے درمیان اچھے برے کی تمیز بھی مٹادیتا ہے ،جس کی وجہ سے آپس میں نفاق تو پیدا ہوتا ہی ہے معاشرے پربھی ا س کا غلط اثر پڑتا ہے۔

غصےسے بچنے کا علاج 

غصے اور ناراضگی سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے اندر تشدد، انتہا پسندی، جارحیت اور کڑا پن کو جگہ نہ دے، بلکہ تواضع و انکساری ،بردباری، لطف و کرم اور جود و سخا جیسے اعلیٰ صفات کاحامل بنے،کیوں کہ یہ صفتیں انسان کو غصے اور ناراضگی پر قابوپانے میں مدد کرتی ہیں۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی اور غصے کا علاج بتاتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:

 إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطٰنِ وَإِنَّ الشَّيْطٰنَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ۔(ابو داؤد،باب ما یقال عندالغضب)

ترجمہ:غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا جب کسی کو غصہ آجائے تو وضو کرلے ۔

 مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ،فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ۔ (ابو داؤد،باب ما یقال عندالغضب)

ترجمہ:جب کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اگر غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔

غصہ پرقابو پانے کا انعام 

سیدعالم رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف علاج پر اکتفا نہ کیا، بلکہ غصے سے محفوظ رہنے پر بے شمار برکتوں کی بشارت بھی دی۔

 حضرت ابو دردارضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ!

دُلَّنِی عَلٰی عَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ، قال :لَاتَغْضَبْ،لَکَ الْجَنَّۃَ۔(معجم کبیرازطبرانی،باب قطعۃ من المفقود)

ترجمہ:مجھے کوئی ایسی ترکیب بتائیں جو مجھےجنت میں پہنچا دے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ غصہ نہ کرو، جنت میں پہنچ جاؤگے۔

حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:

 مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَہُوَ یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُنْفِذَہٗ، دَعَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِعَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلاَئِقِ، حَتّٰی یُخَیِّرَہٗ فِی أَیِّ الْحُوْرِ شَاءَ۔ (سنن ترمذی،باب فی کظم الغیظ)

ترجمہ: جس نے قدرت کے باوجوداپنےغصے کوپی لیاتو اللہ رب العزت اُسے قیامت کے دن اختیار دے گا کہ وہ حوروں میں سے جس حورکوچاہے لے لے۔

اس طرح اسلامی تعلیمات اور انسانی تجربات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ غصہ اور ناراضگی سے نہ صرف جانی و مالی نقصانات ہوتے ہیں اور اتحادواتفاق کاشیرازہ بکھرجاتا ہے، بلکہ ہمارے اندر شیطانی خصلتیں اورناپسندیدہ صفتیں بھی پیدا ہوجاتی ہیں جو ہمارے ایمان کو بھی کھوکھلاکردیتی ہیں اور ہمارے سماج و معاشرے کو بھی بگاڑکر رکھ دیتی ہیں۔

چنانچہ ہم جب بھی اپنے اندر غصہ یا ناراضگی محسوس کریں تو سب سے پہلے ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے غصے اور ناراضگی پر قابو پائیں ،تاکہ نہ ہماراجانی ومالی نقصان ہوسکے،نہ ہمارا اتحادواتفاق ختم ہوسکے اور نہ ہی ہمارے سماج ومعاشرے میں کسی قسم کی کوئی خرابی پیدا ہوسکے،اور اُس کے لیے ضروری ہے کہ احادیث کریمہ میں جن جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان پر لازمی طور سے عمل کیا جائے۔