بدائع الصنائع

پہلے اسے پڑھ لیجئے:

ہم اس کتاب کے بالترتیب مطالعہ کا آغاز کررہے ہیں۔

یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ ہمارے فقہائے کرام کے اقوال بہت بابرکت اور معنی خیز ہوتے ہیں، ایک سطر میں کئی باتیں بیان کردیتے ہیں۔

کسی موضوع پر انکا کلام بظاہر چند سطروں میں ہوتا ہے مگر درحقیقت وہ رسالوں پر بھاری ہوتا ہے۔

اسلئے غور و فکر کے ساتھ مطالعہ اور اسے سمجھنا ضروری ہے۔

ہوسکتا ہے میں نے یا آپ نے بہار شریعت، فتاوی رضویہ یا دیگر کتب سے کوئی بحث مکمل پڑھی ہو اور وہ اس کتاب میں مختصر ہو۔۔۔ مگر

ہمیں نہ اکتانا ہے نہ ہی بدمزگی کا مظاہرہ کرنا ہے، ایسے رویوں سے انسان علم کی مٹھاس سے دور ہی رہتا ہے۔

طریقہ درس اس طرح ہوگا کہ

۱۔ متن سے منتخب عبارت

۲۔ مفہومی ترجمہ

۳۔ وضاحت

ہماری کوشش یہ ہوگی کہ جو مسائل عموما پڑھے یا سنے جاتے ہیں ان پر مختصر کلام ہو اور جو نئی چیزیں ہوں ان کو زیادہ فوکس کیا جائے۔

دنیائے اسلام کے عظیم محقق علامہ سید ابن عابدین شامی (صاحب رد المحتار) فرماتے ہیں:

*هَذَا الْكِتَابُ جَلِيلُ الشَّأْنِ، لَمْ أَرَ لَهُ نَظِيرًا فِي كُتُبِنَا*

یعنی یہ کتاب عظیم شان والی ہے، میں نے فقہ حنفی کی کتابوں میں اس جیسی کتاب نہیں دیکھی۔

ابو محمد عارفین القادری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.