*درس 003: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(أَمَّا) الْوُضُوءُ: فَالْكَلَامُ فِي الْوُضُوءِ فِي مَوَاضِعِ تَفْسِيرِهِ، وَفِي بَيَانِ أَرْكَانِهِ، وَفِي بَيَانِ شَرَائِطِ الْأَرْكَانِ، وَفِي بَيَانِ سُنَنِهِ، وَفِي بَيَانِ آدَابِهِ، وَفِي بَيَانِ مَا يَنْقُضُهُ.

وضو کا بیان:

وضو کا بیان چند حصوں پر مشتمل ہے:

(١) وضو کی تشریح

(٢) وضو کے ارکان

(٣) ارکانِ وضو کی شرائط

(٤) وضو کی سنتیں

(٥) وضو کے مستحبات

(٦) وضو توڑنے والی چیزیں

أَمَّا الْأَوَّلُ: فَالْوُضُوءُ اسْمٌ لِلْغَسْلِ وَالْمَسْحِ

وضو کی تشریح:

وُضُوء نام ہے غَسْل(دھونا)اور مَسْح (تری پہنچانا) کا۔

لِقَوْلِهِ تَبَارَكَ، وَتَعَالَى

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ} [المائدة: 6]

اس بات کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اے ایمان والو! جب تم نماز کی طرف کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں دھولو اور اگر تم بے غسل ہو تو خوب پاک ہوجاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیتُ الخلاء سے آیا ہویا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہواور ان صورتوں میں پانی نہ پاؤ توپاک مٹی سے تیمم کرلو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرلو۔

أَمَرَ بِغَسْلِ الْأَعْضَاءِ الثَّلَاثَةِ، وَمَسْحِ الرَّأْسِ

اللہ تعالی نے تین اعضاء کے غَسْل اور سر کے مَسْح کا حکم دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

وُضو پر پیش ہے۔ جس برتن میں وُضو کیا جائے اسے وَضو (واو کے زبر کے ساتھ) کہتے ہیں۔

علامہ کاسانی نے فرمایا:

وضو دراصل غَسْل اور مَسْح کا نام ہے۔ (غسل اور مسح کی مکمل وضاحت آگے آتی ہے)

یہ وضو کا بنیادی کنسیپٹ ہے لیکن باقاعدہ تعریف نہیں ہے۔ وضو کی تعریف یہ ہے:

*”پانی کا مخصوص طریقے سے مخصوص اعضاء پر استعمال کرنا۔”*

ایک نکتہ ملاحظہ فرمائیں:

ہمیں حدث سے پاکی حاصل کرنی ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں: وضو، غسل اور تیمم۔

طہارتِ حکمیہ دو ہی چیزوں کے گرد گھوم رہی ہے۔۔۔

غَسْل اور مَسْح

*وُضو:* غَسْل بھی ہے اور مَسْح بھی۔

*غُسل:* صرف غَسْل ہے مَسْح نہیں ہے۔

*تیمم:* صرف مَسْح ہے غَسْل نہیں ہے۔

معلوم ہوا کہ فقہ حنفی میں حدث یعنی نجاستِ حکمیہ کو زائل کرنے کا سارا کنسیپٹ اس آیت مبارکہ سے ثابت شدہ ہے۔

اب آگے غسل اور مسح کو سمجھئے یہ کیا ہوتا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*