ادائے حدیث کے بعض صیغوں کی کتابت و قرات کا طریقہ:

جب احادیث نبویہ کی تعلیم و تدریس اور جمع و تدوین کے عمل کا آغاز ہوا تو سند وضیع اداء وجود میں آگئے تو ان صیغ اداء کے حوالے سے ایک چیز اور ایجاد ہوئی وہ یہ ہے کہ محدثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں ان صیغوں کو مکمل شکل میں لکھنے کی بجائے ان کے مخففات (Abbreviation) کو رواج دیا۔

چنانچہ ان صیغوں کے لیے الگ الگ علامات مقرر ہوئیں جن کو محدثین نے ایک اسلوب کے طور پر اپنا لیا۔

آج ہم ان میں سے ایک صیغے کی وضاحت کرتے ہیں

1-حدثنا:

اس لفظ کو محدثین مختصر کر کے صرف “ثنا” لکھتے دیتے ہیں اور اس کا اول حصہ “حد” حذف کر دیتے ہیں۔

یا

صرف “نا” لکھ کر “حدثنا” کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں اور یہاں “حدث” کو حذف کر دیتے ہیں۔

امام بخاری علیہ الرحمہ “ثنا” استعمال کرتے ہیں اور امام بیہقی علیہ الرحمہ “ثنا” اور “نا” دونوں استعمال کرتے ہیں:

“ثنا” کی مثال:

امام بخاری علیہ الرحمہ سے ایک مثال مندرجہ ذیل ہے:

حدثنا أحمد بن يونس، قال: ثنا زهير، قال: ثنا عبد العزيز بن رفيع، قال: ثنا شداد بن معقل، قال: قال عبد الله..الخ

[خلق افعال العباد للبخاري ج1 ص 86]

اس سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے شروع میں “حدثنا” استعمال کیا ہے بعد میں “حد” حذف کر کے صرف “ثنا” استعمال کیا ہے۔

امام بیہقی علیہ الرحمہ سے ایک مثال

أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني، أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي، ثنا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني، ثنا شبابة، ثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن علقمة، والأسود، عن ابن مسعود..الخ

[السنن الکبری للبیہقی ج 3 ص 114 رقم الحدیث 4691]

اس سند میں واضح ہے کہ امام بیہقی علیہ الرحمہ نے “حدثنا” سے “حد” حذف کر دیا ہے صرف “ثنا” لکھا ہے۔

“نا” کی مثال

امام بیہقی علیہ الرحمہ سے ایک مثال مندرجہ ذیل ہے:

وأخبرنا أحمد بن الحسن القاضي، أنا حاجب بن أحمد، نا أحمد بن نصر المقرئ، نا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن شريح بن عبيد، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ثوبان

[السنن الکبری للبیہقی ج 3 ص 48 رقم الحدیث 4825]

اس سند میں امام بیہقی علیہ الرحمہ نے “حدثنا” سے “حدث” حذف کر دیا ہے صرف “نا” استعمال کیا ہے۔

“ثنا” اور “نا” دونوں کا استعمال ایک ساتھ:

امام بیہقی علیہ الرحمہ سے ایک مثال مندرجہ ذیل ہے:

أخبرنا عبد الله بن يوسف، أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي، ثنا أبو يحيى بن أبي مسرة، ثنا المقرئ أبو عبد الرحمن، ثنا سعيد، نا عقيل، ويونس، عن ابن شهاب، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة رضي الله عنها… الخ

[السنن الکبری للبیہقی ج 7 ص 35 رقم الحدیث 13197]

اس سند میں امام بیہقی علیہ الرحمہ نے “ثنا” اور “نا” دونوں کا استعمال کیا ہے۔

اس کے علاوہ اور کئی محدثین کرام اس طرح کے صیغے استعمال کرتے ہیں۔

2-حدثني:

محدثین کرام اس صیغے کو سند میں مختصر کر کے “ثني” استعمال کرتے ہیں اور “حد” کو حذف کر دیتے ہیں۔

یا

صرف “ح” کو حذف کر کے “دثني” استعمال کرتے ہیں لیکن اس (دثنی) کو بہت ہی کم محدثین استعمال کرتے ہیں۔

“ثني” کی مثال:

حدثنا ربيع الجيزي، قال: ثنا سعيد بن عفير، قال: ثنى يحيى بن أيوب , قال: ثنا عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابن عمر…الخ

[شرح معانی الآثار للطحاوی ج 1 ص 480 رقم الحدیث 2746]

امام طحاوی علیہ الرحمہ نے اس سند “سعيد بن عفير، قال: ثنى يحيى بن أيوب” میں “حدثنی” میں سے “حد” کو حذف کر دیا ہے صرف “ثنی” استعمال کیا ہے۔

“دثني” کی مثال:

أرنا أبو الحسن عمر بن الحسن بن مالك ، دثنا أحمد بن عبيد بن إسحاق العطار ، دثني أبي ، دثنا أبو حماد المفضل بن صدقة ، عن الأعمش ، ومنصور , وحصين ، عن أبي وائل ، عن حذيفة بن اليمان…الخ

[مجالس من امالی ابی عبداللہ بن مندہ رقم الحدیث 187]

اس سند کے درمیان “دثنی ابی” میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “حدثنی” سے صرف “ح” کو حذف کر دیا گیا ہے اور “دثنی” کو استعمال کیا گیا ہے۔

نوٹ: اس سند میں بھی “حدثنا” سے صرف “ح” کو حذف کر کے “دثنا بھی استعمال کیا گیا ہے جیسے سند میں ” دثنا احمد بن عبید بن اسحاق العطار” اور “دثنا ابو الحماد المفضل بن صدقۃ” کہا گیا ہے۔

لیکن “دثنا” کو بہت ہی کم محدثین استعمال کرتے ہیں۔

3-اخبرنا

اس صیغے کو محدثین کرام تین اسلوب سے مختصر کر کے استعمال کرتے ہیں جن کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے۔

الف) پہلا اسلوب یہ ہے کہ

“انا” لکھتے دیتے ہیں اور “خبر” کو حذف کر دیتے ہیں۔ یہ اسلوب زیادہ مستعمل و مشہور ہے۔

اس کی مثال مندرجہ ذیل ہے:

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ , أنا أبو عمرو بن أبي جعفر , ثنا عبد الله بن محمد , ثنا أبو كريب , أنا ابن فضيل , عن أبيه , عن أبي زرعة , عن أبي هريرة..الخ

[السنن الکبری للبیہقی ج 5 ص 463 رقم الحدیث 10503]

اس سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امام بیہقی علیہ الرحمہ نے “اخبرنا” سے “خبر” کو حذف کر دیا ہے اور صرف “انا” لکھا دیا ہے جیسے سند میں ” أنا أبو عمرو بن أبي جعفر “اور “أنا ابن فضيل” ہے۔

ب) دوسرا اسلوب یہ ہے کہ

“ارنا” لکھ دیتے ہیں اور “خب” کو حذف کر دیتے ہیں۔

اس کی مثال یہ ہے:

أرنا أبو الحسن عمر بن الحسن بن مالك ، دثنا أحمد بن عبيد بن إسحاق العطار ، دثني أبي ، دثنا أبو حماد المفضل بن صدقة ، عن الأعمش ، ومنصور , وحصين ، عن أبي وائل ، عن حذيفة بن اليمان…الخ

[مجالس من امالی ابی عبداللہ بن مندہ رقم الحدیث 187]

اس سند کے شروع میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “اخبرنا” سے “خب”کو حذف کر کے صرف “ارنا” لکھ دیا گیا ہے۔

ج) اس کا تیسرا اسلوب یہ ہے کہ

“انبا” لکھ دیتے ہیں ایسا عام طور پر امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ زیادہ ایسا کرتے ہیں یعنی “اخبرنا” میں سے “خ” اور “ر” کو حذف کر دیتے ہیں اور باقی تین حروف کو اختیار کر لیتے ہیں۔اور محدثین اس اسلوب کو اچھا نہیں سمجھتے ۔

اس کی مثال یہ ہے:

أخبرناه أبو بكر أحمد بن الحسن، ثنا أبو العباس الأصم، أنبأ الربيع، أنبأ الشافعي، أنبأ عبد المجيد، عن ابن جريج، عن يوسف بن ماهك..الخ

[السنن الکبری للبیہقی ج 6 ص 4 رقم الحدیث 10983]

اس سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امام بیہقی علیہ الرحمہ نے “اخبرنا” میں سے “خ” اور “ر” کو حذف کیا ہوا ہے اور اس میں صرف تین حروف کو لیا ہے اور پھر “انبا” استعمال کیا ہے جیسے سند میں ” أنبأ الربيع، أنبأ الشافعي اورأنبأ عبد المجيد ہے۔

4-قال:

محدثین کرام اس صیغے کو سند میں مندرجہ ذیل اسلوب سے استعمال کرتے ہیں:

صرف “ق” کو لکھ دیا جاتا ہے اور “ا” اور “ل” کو حذف کر دیا جاتا ہے۔

اور بعض محدثین اس کو “حدثنا” کی علامت “ثنا” کے ساتھ ملا کر بھی لکھتے ہیں جیسے “قثنا” ہے۔

اس کی مثال یہ ہے:

حدثنا أبو داود الحراني، قثنا محمد بن عبيد، قثنا أبو اليسع، عن علقمة بن مرثد، عن أبي عبد الرحمن السلمي، عن عثمان…الخ

[مستخرج ابی عوانۃ ج 2 ص 446 رقم الحدیث 3774]

اس سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امام ابو عوانہ علیہ الرحمہ نے “قال” سے “ا” اور “ل” کو حذف کر دیا اور صرف “ق” لیا ہے اور “حدثنا” سے “حد” کو حذف کر دیا ہے اور صرف “ثنا” لیا ہے اور پھر “ق” اور “ثنا” کو ملا دیا ہے جیسے سند میں “قثنا محمد بن عبید” اور “قثنا ابو الیسع” ہے۔ لیکن جب سند پڑھی جائی گئی تو “قثنا” کو “قال حدثنا” ہی پڑھا جائے گا۔کیونکہ یہ صرف “قال حدثنا” کی علامت اور اختصار ہے۔ لیکن محدثین کرام “قثنا” کو بہت کم استعمال کرتے ہیں۔

واللہ اعلم

آج ادائے حدیث کے صیغوں کی کتابت اور قرات کا موضوع مکمل ہوا۔

اللہ عزوجل ہم سب کو علم نافع پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

(آمین)

رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

9 جنوری 2019ء