کتابت پر بھروسہ کر کے پڑھنے کی چند مثالیں

امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے ایک حدیث الادب المفرد میں نقل فرمائی جسکی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک صغیر سن بھائی تھے ۔ ایک چڑیاہاتھ میں لئے کھیلتے پھرتے تھے ،کسی دن وہ چڑیا مرگئی۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ہمارے یہاں تشریف فرماہوئے تودیکھا کہ میرے بھائی رنجیدہ ہیں، وجہ دریافت کی، ہم نے قصہ بیان کیا ،چونکہ بچوں پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاپیار اورشفقت عام تھی ،مزاح اور جوش طبعی کیلئے کبھی نادرالمثال جملوں سے نواز تے ،اسی انداز میں حضور نے پہلے انکی کنیت ابوعمیر قراردی اورفرمایا ۔

یااباعمیر مافعل النغیر۔(الجامع الصحیح للبخاری، باب الکنیۃ للصبی،السنن لا بی داؤد، کتاب الادب باب فی الرجل یکنی،)

ابوعمیر نغیر نے کیاکیا ۔

امام حاکم اسی ارشاد رسول کے متعلق فرمارتے ہیں ،کہ ایک صاحب جنہوں نے احادیث کی سماعت مشائخ سے نہ کی تھی یونہی کتابت پر بھروسہ کرکے کتاب کھو ل کر حدیث پڑھنا شروع کردی ،جب یہ حدیث آئی چونکہ علم حدیث سے تہی دامن تھے اورنغیر کالفظ بھی کچھ غیر مشہورساہے لہذا فرمادیا یہ لفظ بعیرہے اور تلامذہ کوبے دھڑک بتادیا کہ حضور ابوعمیر سے پوچھ رہے ہیں

اے ابوعمیر اونٹ کیاہوا ۔

صحیح بخاری کی روایت میں صراحت ہے کہ یہ ایسے بچے تھے کہ ابھی دودھ چھوٹا تھا ،پھر قارئین اس بات کااندازہ خود لگاسکتے ہیں کہ ابوعمیر کاواسطہ کس سے رہاہوگا اونٹ سے یاچڑیاسے ،نیز حضور کا مزاح یہاں کلام مسجع کی شکل میں ہے تو پھر مقصد ہی فوت ہوگیا ۔

امام حاکم نے ایک اور واقعہ انہیں سے متعلق لکھا ہے ۔کہ اہل عرب عموماً قافلوں میں نکلتے تھے لہذا اونٹوں کے گلے میں گھنٹیاں باندھتے ، انکی غرض جوبھی رہی ہو لیکن اس سے منع کیاگیا ،غالبا سازومزامیرکی شکل سے مشابہت کی وجہ سے ،الفاظ حدیث یوں منقول ہیں ۔

لاتعجب الملائکۃ رفقۃ فیھا جرس ۔

فرشتے اس قافلہ کو دوست نہیں رکھتے جس کے جانوروں کے گلے میں گھنٹیاں ہوں ، ان صاحب نے ’جرس ‘ کو’ خرس‘ پڑھ دیا اور مطلب بیان فرمایا کہ جولوگ ریچھ کوقافلہ میں رکھتے ہیں وہ ملائکہ کے نزدیک ناپسند یدہ ہیں ۔

اسی طرح مشہور حدیث ہے :۔

البزاق فی المسجد خطیئۃ وکفارتہا دفنہا ۔(الجامع الصحیح للبخاری، باب کفارۃ البزاق فی المسجد، ۱/۵۹الصحیح لمسلم، باب النھی عن البصاق فی المسجد، ۱/۲۰۷)

مسجد میں تھوک گناہ اور اسکا کفارہ دفن کردینا ہے۔

اسکے متعلق ایک محدث صاحب کاواقعہ منقول ہے کہ انہوں نے اسکو ’البراق ‘ پڑھا اور معنی بتائے کہ براق مسجد میں دیکھے تودفن کرڈالے ۔

امام حاکم اس سے بھی عجیب تربیان کرتے ہیں ،کہ مشہور محدث حضرت ابن خزیمہ نے فرمایا : مشہور واقعہ ہے کہ

ان عمربن الخطاب توضأ فی جر نصرانیۃ۔

ایک موقع پر حضرت عمرفاروق اعظم نے ایک نصرانی عورت کے گھڑے سے وضوکیا ۔

پڑھنے والے نے اسکو ’حرّ ، بمعنی اندام نہانی پڑھا ، اب قارئین خود اندازہ کرلیں کہ بات چل رہی تھی کہ کن پانیوں اورکون کونسے برتنون سے وضوہوسکتا ہے اور یہ کیسی فحش کلامی پر اترآئے۔

یہ حال ہے اس کتابت کا محض جس پر منکرین حدیث نے بنائے کار رکھی ہے ۔

ہوسکتا ہے کوئی صاحب کہہ اٹھیں کہ اس طرح کی تصحیف اورایسے ذھول ومسامحات سے کتنوں کا دامن پاک رہا ہے ؟ یہ ان حضرات کی کوتاہی تھی پھر اسکا نفس کتابت سے کیا تعلق کہ اسکو مذموم قرار دیا جائے ۔

ہم کہتے ہیں صحیح ہے کہ فی نفسہ کتابت کسی علم کی حفاظت کیلئے مذموم نہیں ،لیکن اتنی بات توطے ہوگئی کہ محض کتابت پرتکیہ کرلینا اوراسی کو حفاظت علم وفن کا معیار قرار دینا درست نہیں رہا جب تک حفظ وضبط کا اسکے ساتھ مضبوط سہارا نہ ہو۔

پھر یہاں یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ جن غلطیوں کی نشاندھی کی گئی ہے وہ معمولی نہیں بلکہ درایت سے کوسوں دورنری جہالت کی پیداوار ہیں ، اختلاف قرأت یا نسخوں کی تبدیلی اس طرح کی غلطیوں میں مسموع نہیں ہوتی ۔بلکہ ان مثالوں کو تصحیف کہنا ہی نہیں چاہیئے انکے لئے تو تحریف کا عنوان دینا ضروری ہے ۔

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز وہ مثالیں ہیں جن میں قاری نے غلط پڑھنے کے ساتھ ساتھ انکے معانی پر جزم کرکے توجیہ کرتے ہوئے وہ باتیں کہدی ہیں جو بالکل بے سروپا ہیں ۔

ایک حدیث شریف میں ہے: ۔

زرغبا تزددحباً۔

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا،کبھی کبھی ملاقات سے محبت زیادہ ہوتی ہے ۔

امام حاکم کہتے ہیں :۔

ایک صاحب جنکا نام محمد بن علی المذکرتھا ،ہوسکتا ہے وعظ گوئی کا پیشہ کرتے ہوں لہذا لوگوں کوعشروصدقات کی ترغیب دینے کیلئے ایک واقعہ گڑھ لیا ہو ،چنانچہ اس حدیث کو ان الفاظ میں پڑھکر سنایا ۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔

زرعنا تزداد حناً۔

ہم نے کھیتی کی تو وہ سب مہندی ہو گئی۔

لوگوں نے تعجب خیز انداز میں پوچھا ،جناب اس کا کیا مطلب ہوا ؟بولے:

اصل میں قصہ یہ ہے کہ کسی علاقہ کے لوگوں نے اپنی کھیتی باڑی کا عشر وصدقہ ادانہیں کیاتھا ،لہذا اسکی سزاملی ،حضور کی خدمت میں شکایت لیکر پہونچے ،یارسول اللہ ! ہم لوگوں نے کھیتی کی تھی لیکن وہ سب مہندی کے درخت بن گئی ۔ توحضور نے انکا قول نقل کرتے ہوئے لوگوں کو برے نتائج سے خبر دار کیا ہے ،معاذ اللہ رب العالمین ۔

یہ سب نتیجہ اسی چیز کا تھا کہ حدیث کسی استاذ سے پڑھی نہیں تھی صرف کتاب سے نقل کرکے بتادی جس میں بیچارے کاتب کی خامہ فرسائی سے الفاظ میں تغیر ہوگیا ہوگا جسکو یہ خود سمجھ نہ پائے ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کریمہ کی غلط تاویل بھی بسااوقات

اسی بے علمی اور محض کتابت پر بھروسہ کی پیدا وار ہوتی ہے ۔

حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھی ، چونکہ نماز عید میدان میں اداکی جاتی تھی ،لہذا سترہ کے طور پر کبھی چھوٹاتیز بلم وغیرہ نصب کرلیا جاتا ، دوسرے اوقات کی نمازیں بھی جب سفر میں اداہوتیں تو سترہ کا طریقہ عام تھا ،حدیث کے الفاظ ہیں ۔

کان یرکزالعنزۃ ویصلی الیھا ۔(الصحیح لمسلم، باب السترۃ، ۱/۱۹۵)

نیزہ گاڑاجاتا اور اسکی جانب رخ کرکے دورکعت نمازپڑھی ۔

دوسری حدیث میں ہے:۔

فصلی الی العنزۃ بالناس رکعتین۔ (الصحیح لمسلم، باب السترۃ، ۱/۱۹۶)

پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نیزہ کی طرف رخ کرکے دورکعت نمازپڑھائی۔

اب سنئے۔

عرب کے ایک قبیلہ کانام ’عنزہ ‘تھا ،اسکے ایک فرد ابوموسی عنزی بیان کرتے تھے کہ

ہماری قوم کو بڑا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے۔(مقدمہ بن صلاح، ۱۴۲)

غالبا انکی اسی طرح کی غفلتوں کے پیش نظر امام ذھلی نے فرمایا ۔

فی عقلہ شی۔( میزان الاعتدال، للذہبی، ۴ /۲۴)

انکی عقل میں کچھ فتور تھا ۔

دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے جوامام ابن حبان نے بیان کی ۔

کان لا یقرء الامن کتابہ۔ (میزان الاعتدال للذہبی، ۴/۲۴)

احادیث ہمیشہ کتاب سے پڑھنے کے عادی تھے ۔

نیزامام نسائی فرماتے ہیں ۔

کان یغیر فی کتابہ۔( میزان الاعتدال، للذہبی، ۴/۲۴)

اپنی کتاب میں تغیر سے بھی کام لیتے تھے ۔

حدیث شریف میں ہے :۔

ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد۔ ( مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے آڑ کی ۔

اسی معنی کی روایت بخاری شریف میں یوں ہے ۔

کان یحتجرحصیرا باللیل فیصلی ویبسطہ بالنہار فیجلس علیہ۔ ( الجامع الصحیح للبخاری، کتاب اللباس،)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شب میں ایک چٹائی سے آڑکرکے نماز پڑھتے اوردن میں اسکو بچھاکراس پر تشریف فرماہوتے ۔

قاضی مصر ابن لہیعہ نے اسکو یوں روایت کردیا ۔

احتجم فی المسجد ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔

امام ابن صلاح اس غلطی کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

اخذہ من کتاب بغیرسماع۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

ابن لہیعہ نے شیخ سے سماعت کئے بغیر کتاب سے دیکھکر روایت کردیا ۔

حدیث شریف میں ہے ۔

ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نھی عن تشقیق الخطب۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وعظ وتقریر میں نفاظی اور بناوٹی انداز سے منع فرمایا۔

دوسری حدیث یوں مروی ہے ۔

لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الذین یشققون الخطب تشقیق الشعر۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وعظ وتقریر میں بتکلف شعروشاعری کی طرح قافیہ بندی کرنے والوں کو ملعون فرمایا ۔

اب لطیفہ ملاحظہ کریں :۔

اس حدیث کوایک بیان کرنے والے مقرر نے مسجد جامع منصور میں اس طرح پڑھا ،

نھی عن تشقیق الحطب ۔

حضور نے لکڑیاں چیرنے سے منع فرمایا۔

اتفاق سے مجلس میں ملاحوں کی ایک جماعت بھی تھی ،بولے

فکیف نعمل والحاجۃ ماسۃ۔ (مقدمہ بن صلاح، ۱۴۲)

ہم کشتیاں کیسے بنائیں کہ اسکے لئے تو لکڑی چیرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔

ان بیچاروں کا روزگار ہی کشتی چلانے پرتھا توانکی تشویش بجا تھی ،امام ابن صلاح نےآگے کی بات ذکر نہیں کی کہ پھر ان ملاحوں کو جواب کیا ملا ۔

ان جیسے بہت سے قصے امام مسلم نے کتاب التمیز میں ذکر کئے ہیں اوردیگر محدثین مثل دارقطنی وغیرہ نے شرح وبسط سے مفید معلومات بیان کی ہیں ۔