حضرت عدی بن حاتم کا قبول اسلام اور اس میں موجود اسباق

📜حضرت عدی بن حاتم کا قبول اسلام اور اس میں موجود اسباق ۔

مفتی خالد محمود کراچی

☀ اپنے والد حاتم طائی کے بعد اپنے قبیلہ کے رئیس بنے۔یہ قبیلہ اجاَ اور سلمی دو پہاڑوں کے درمیان رہتا تھا ۔ آج کل یہ علاقہ منطقہ حائل میں آتا ہے

🌹جناب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے ربيع الآخر 9 ھ میں حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجهه الكريم کی سربراہی میں ایک لشکر اس علاقہ کی طرف بھیجا۔

اس وقت جناب عدی اپنے علاقہ کی بجائے شام کے قریب چلے گئے اور جانے کی وجہ وہ خود ہی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کا معزز و شریف آدمی بلکہ رئیس تھا، دین پر بھی تھا، مال غنیمت کا چوتھائی لے لیتا۔

سو پورے عرب میں آپ سے زیادہ مجھے کسی اور نفرت نہ تھی۔

( فقیر خالد محمود کہتا ہے کہ آپ صلی الله عليه وسلم کی دعوت میں عدی کو اپنی یہ چاروں شانیں بظاہر مفقود ہوتی نظر آرہی تھیں لیکن نبی تو اپنے دامن سے وابستہ ہونے والوں کی عزتوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ بعد میں جب کبھی مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرم صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے ایک معزز سردار کا پروٹوکول آپ کو دیا ۔

فقیر مزید عرض گزار ہے کہ صرف اس ایک واقعہ سے عقائد اہل سنت اور اصلاح معاشرہ کی کثیر تعداد کی تعلیمات ہیں لیکن فقیر اختصار کی بھر پور کوشش کر کے صرف انتہائی ضروری باتیں لکھے گا ۔

علاقہ کونسا ہے؟ مدینہ سے کتنا دور ہے ؟

آپ صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم کبھی وہاں تشریف نہیں لے گئے

اور عدی لشکر کی آمد سے قبل راہِ فرار اختیار کر چکے ہیں خواہ صرف دعوت نبی کا سن کر یا لشکر کی آمد کا سن کر۔دونوں باتیں اکھٹی ہو سکتی ہیں )

● اس غزوہ میں جو لوگ قید کرکے مدینہ منورہ میں لائے گئےان میں جناب عدی کی بہن سفانۃ بھی تھیں جو کہ بہت خوبیوں والی اور پر اثر گفتگو کرنے والی خاتون تھیں

مسجد نبویؐ کے دروازے کے پاس ان سب کو رکھا گیا تھا ۔

جناب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کو جاتے دیکھا تو کھڑے ہو کر بولیں

"هلك الوالد وغاب الوافد فامنن علي، من الله عليك”

والد فوت ہو چکے ہیں، رابطہ کر کے آنے والا بھاگ گیا ہے ۔ آپ مجھ پر احسان کریں ۔ اللہ آپ پر احسان کرے گا ۔

( دوستو ! جملے تو 4 ہیں لیکن ہیں کمال کے ۔ اپنے دل کی ساری خواہش بہترین مؤثر پس منظر کے ساتھ بیان کر دی اور رہائی کی درخواست بھی انتہائی باوقار اور مخاطب کو محبوب ترین انداز و الفاظ میں کر دی )

اللّہ تبارک وتعالیٰ کے رسول نے پوچھا "تیرا وافد ہے کون؟ عرض کیا:عدی بن حاتم۔

رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا ‘ الله اور اس کے رسول سے بھاگنے والا ؟

(دوستو ! عدی بھاگے تو رسول کی وجہ سے تھے لیکن یہاں رسول اللہ نے الله کو اپنے ساتھ جمع کر کے ذکر فرمایاہے )

سفانہ کہتی ہیں کہ رسول الله سن کر خاموش چل دیئے ۔اگلے دن بھی ایساہی ہوا۔تیسرا دن آیا۔میں مایوس ہو چکی تھی الله کے رسول گزرے تو علی نے جو پیچھے آ رہے تھے اشارہ کیا کہ بات کرو۔ میں نے اپنی بات کی تو آپ نے فرمایا جلدی نہ کرو ۔کوئی بااعتماد ذریعہ بنتاہے تو مجھے بتانا۔بھیج دونگا

چند روز کے بعد میں نے کہا یارسول اللہ بااعتماد قافلہ جو مجھے پہنچا دےگا ،آگیا ہے، الله کے رسول نے مجھے لباس، سواری اور راستہ کا سب خرچ دیا۔میں عدی کے پاس گئی۔

اس بہن کی باتیں سن کر عدی مدینہ کی طرف چل دیئے، مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ پہنچے۔نبی اکرم صلی الله عليه وسلم وہاں صحابہ کے ساتھ موجود تھے ۔کہتے ہیں کہ میں نے سلام کیا ۔آپ نے جواب دے کر پوچھا آپ کون صاحب ہیں؟ میں نے کہا: عدی بن حاتم

آپ مجھے لے کر گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔لوگ کہہ رہے تھے عدی بن حاتم آگیا، عدی بن حاتم آگیا

مجھے لئے ہوئے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم اپنے گھر کی راہ پر تھے کہ آپ کو ایک کمزور اور بڑی عمر کی بی اماں نے روک لیا اور کافی دیر تک اپنی ضروریات بتاتی رہیں

میں نے دل میں کہا ۔واللہ یہ بادشاہ تو نہیں

گھر پہنچنے تو کھجور کی چھال بھرا ہوا چمڑے کا ایک ہی بچھونا تھا ۔وہ آپ نے مجھے دے کر کہا کہ اس پہ بیٹھ جاؤ ۔میں نے کہا آپ تشریف رکھیں ۔آپ صلی الله عليه وسلم نے انکار کر کے مجھے اس پر بٹھایا اور خود زمین پہ بیٹھ گئے، میں نے دل میں کہا :واللہ یہ بادشاہی طریقہ کار نہیں

آپ نے فرمایا ۔

کیا تم رکوسی نہیں ؟

(دوستو !

رکوسیت بطور دین پہلے کبھی آپ نے سنا ہے؟ یہ اس وقت بھی یہودیت اور عیسائیت کاملغوبہ قسم کا تقریبا ناپید مذہب تھا ۔ اب ذرا سوچئے ۔

دین کا تعلق دل کے ساتھ ہے سو معروف مذاہب سے تعلق نہ رکھنے والا اور کوئی ظاہری مذہبی شناخت نہ رکھنے والا ، عیسائی معاشرے میں پیدا ہونے والا ، پروان چڑھنے والا ، اپنے علاقے میں کسی سےاس حقیقت حال کو نہ سننے والا اتنی دور ایک بندے کے منہ سے یہ الفاظ سنے گا تو حیران نہیں ہوگا تو کیا ہو گا ) ۔

فرمایا ۔تم مرباع(مال غنیمت میں سے چوتھائی) لے اڑتے ہو۔

میں نے کہا کہ جی ہاں ۔

فرمایا ۔تیرے دین میں تو یہ حلال نہیں ۔

میں نے کہا جی بالکل ۔

عدی کہتے ہیں وعرفت انه نبي مرسل يعلم مايجهل.

مجھے خوب یقین ہو گیا کہ آپ بھیجے ہوئے نبی ہیں جو وہ کچھ جانتے ہیں دوسروں کو جس کا پتہ نہیں ہوتا۔

(دوستو ! ذہن نشین کر لو عدی، نبی کی شان اور تعریف کیا بتا رہے ہیں۔)

صاحب البدایة و النھایة نے مندرجہ بالا الفاظ سیرت ابن اسحاق کے حوالے سے ذکر کیئے ہیں ۔اب مسند امام احمد بن حنبل کے درج ذیل الفاظ پڑھئے ۔

: امام ابن کثیر البدایہ میں لکھتے ہیں کہ

امام احمد نے اپنی مسند میں یہ گفتگو پوری سند کے ساتھ یوں بیان کی ہے کہ

رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا۔ اے عدی! مسلمان ہو جاؤ سلامتی والے ہو جاؤ گے ۔

تین بار آپ نے فرمایا تو اب کے میں نے کہا میں ایک دین کا پیرو ہوں تو آپ نے فرمایا ۔میں تیرے دین کو تجھ سے زیادہ جانتا ہوں ۔میں نے کہا ۔دین میرا اور آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔

فرمایا! کیا تم رکوسی نہیں ؟

اور چوتھائی مال غنیمت لے نہیں لیتے ۔

میں نے کہا ۔جی ہاں۔

فرمایا ۔اور یہ تیرے دین میں حلال نہیں ۔

میں نے کہا جی بالکل

عدی کہتے ہیں کہ اس گفتگو نے مجھے آپ کے حق میں کافی متواضع بنا دیا۔

فرمایا مجھے یہ بھی علم ہے کہ تمہیں اسلام قبول کرنے سے روکنے والی تیری یہ سوچ ہے کہ کمزور لوگ جنہیں اہل عرب نے قبول نہیں کیا، وہ اس دین کے پیروکار ہیں ۔

کیا تمہیں حیرۃ کا پتہ ہے؟

میں نے کہا ۔سنا ہے ۔دیکھا نہیں،

فرمایا اس اسلام کو الله تعالیٰ ایسا تمام فرمائے گا کہ حیرۃ سےایک اونٹنی سوار عورت کسی سے پناہ مانگے بغیر چلے گی مکہ اور مدینہ آئے گی ۔راستہ میں سوائے اللہ کے خوف اور بھیڑیئے کے بکری چرانےکے اور کوئی خوف اسے نہ ہو گا ۔

عدی کہتے ہیں کہ میں نے دل میں سوچا کہ قبیلہ "طی”کے وہ لٹیرے جنھوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے وہ کدھر ہونگے

پھر فرمایا۔تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو کسری بن ہرمز کے خزاے فتح کرے گا ۔

میں نے بطور تعجب پوچھا کسری بن ہرمز کے ؟؟

فرمایا۔ہاں کسری۔ابن ہرمز کے ۔

اور تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ بندہ مٹھی بھر سونا، مٹھی بھر چاندی لئیےگلیوں میں، اس زکوۃ کو قبول کرنے والے کی تلاش میں پھر رہا ہوگا لیکن کوئی نہیں ملے گا ۔

عدی کہتے ہیں کہ اسی موقع پر میں نے اللہ کے رسول کو یہ بھی فرماتے سنا۔کہ تم میں سے کچھ ایک اللہ کی جناب میں اس طرح حاضر ہوں گے کہ اللہ اور ان کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا ۔ دائیں دیکھیں گے تو جھنم اور بائیں دیکھیں گے تو صرف جھنم۔

لوگو "جھنم سے بچو اگر چہ کھجورکے ٹکڑے سے ہو اور کھجور کا ٹکڑا بھی نہ ملے تو اچھی بات سے "

عدی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سےحیرۃ سے آئی بڑھیا کوطواف کرتےدیکھا۔

کسری کے خزانے فتح کرنے والوں میں میں خود بھی شامل تھا ۔اور تیسری بات بھی تم لوگ جلدہی دیکھ لو گے کہ اللہ کے رسول کا فرمان ہے۔ ہو کر رہے گا ۔

[ بیہقی نے لکھا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں یہ تیسری پیشین گوئی بھی پوری ہو چکی ۔ ]

فقیر خالد محمود کہتا ہے کہ صاحب البدایة و النھایة نے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی،مسنداحمد ،سیرت ابن اسحاق کے حوالوں سے یہ تمام واقعات ذکر کئیے ہیں . دیگر کتب میں بھی ہیں ۔ان کو بار بارپڑھیں ۔ عقائد اہلسنت کی تائیدات حاصل کریں ۔

اپنے مذھب اسلام کو اپنے اوپر اور معاشرہ میں نافذ کرنے کی کوششیں کریں تاکہ یہ برکتیں پھر سے نصیب ہو جائیں ۔اچھی باتوں ، عمدہ اخلاق (اسی موقع پر رسول الله صلی الله عليه وسلم کے حوالے سے اخلاق حسنہ کے متعلق حضرت علیؓ کی گفتگو ہے ۔وہ الگ عرض کرونگا ان شاء الله تعالیٰ) اور صدقات و خیرات کے ذریعے جھنم سے بچنے کی تدبیریں آج اختیار کر لیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.