وَلَا تُؤۡتُوا السُّفَهَآءَ اَمۡوَالَـكُمُ الَّتِىۡ جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ قِيٰمًا وَّارۡزُقُوۡهُمۡ فِيۡهَا وَاكۡسُوۡهُمۡ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 5

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُؤۡتُوا السُّفَهَآءَ اَمۡوَالَـكُمُ الَّتِىۡ جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ قِيٰمًا وَّارۡزُقُوۡهُمۡ فِيۡهَا وَاكۡسُوۡهُمۡ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‏

ترجمہ:

اور کم عقلوں کو اپنے وہ مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے اور اس مال میں سے ان کو کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے خیر خواہی کی بات کہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کم عقلوں کو اپنے وہ مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے۔ 

کم عقلوں کو مال نہ دینے اور یتیم کے مال کو ولی کا مال فرمانے کی توجیہہ : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا یتیموں کا مال ان کے حوالے کردو اور عورتوں کا مہر ان کے حوالے کردو۔ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب یتیم یا تمہاری منکوحہ عاقل بالغ ہو اور جب وہ عاقل بالغ نہ ہوں تو ان کے اموال کو اپنے پاس حفاظت سے رکھو اور جب وہ بالغ ہوجائیں اور ان کی عقل پختہ ہوجائے تو انکے اموال ان کے حوالے کردو۔ 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے اور کم عقلوں کو اپنے مال نہ دو حالانکہ مراد یہ ہے کہ کم عقلوں کو ان کے مال حوالے نہ کرو حتی کہ وہ عاقل بالغ ہوجائیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یتیم کا مال اس کے ولی اور سرپرست کی تحویل میں رہتا ہے۔ اس ادنی مناسبت کی وجہ سے یتیم کے مال کی اس کے سرپرست کی طرف نسبت کردی گئی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں یتیم کے مال کو ولی کا مال اس لئے فرمایا ہے تاکہ ولی یتیم کے مال کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح وہ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ اس کو فضول اور بےدریغ خرچ نہ کرے اور اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرے اور یتیم کے مال کی اپنے مال کی طرح حفاظت کرے۔ 

مال کم عقل کی ملک کرنا اس آیت کے منافی نہیں : 

سفہاء ‘ سفیہ کی جمع ہے سفیہ کم عقل کو کہتے ہیں اس میں اختلاف ہے کہ یہاں سفہاء سے کون مراد ہیں : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر نے کہا سفہاء سے مراد یتیم اور عورتیں ہیں۔ حسن بصری نے کہا اس سے مراد نابالغ ہیں۔ امام طبری کا مختار یہ ہے کہ اس سے کم عقل مراد ہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی بالغ ہو یا نابالغ۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٦٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت میں نابالغ بچوں کو مال دینے سے منع فرمایا ہے اور احادیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت نعمان بن بشیر (رض) روایت کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گئے اور کہا میں نے اپنے اس بیٹے کو مال ہبہ کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اتنا ہی مال ہبہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اس سے رجوع کرلو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٨٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث ١٦٢٣) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کم عمر بچوں کو ہبہ کرنا صحیح ہے البتہ ان میں مساوی ہبہ کرنا چاہیے اور اس آیت میں کم عمر بچوں کو دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ناسمجھ بچوں کو مال ہبہ کرنے اور ان کی ملکیت میں دینے سے منع فرمایا بلکہ تصرف کرنے کے لئے ان کے ہاتھوں میں مال دینے سے منع فرمایا ہے کیونکہ وہ اس کی حفاظت کرنے اور اس کو صحیح محل پر خرچ کرنے کے طریقوں پر مطلع نہیں ہوتے۔ 

حجر (قولی تصرف سے روکنا) کا لغوی اور شرعی معنی : 

حجر کا لغوی معنی ہے منع کرنا اور روکنا ‘ اور اصطلاحی معنی ہے ولی یا قاضی کا کسی کم عقل بچہ ‘ مجنون یا غلام کو قولی تصرف (مثلا خریدنا ‘ بیچنا ‘ ہبہ کرنا) سے روکنا ‘ اس کا سبب صغر ‘ جنون اور غلام ہونا ہے اس لئے بچہ ‘ مجنون اور مغلوب العقل کی دی ہوئی طلاق نافذ نہیں ہوگی اور اس کا اقرار کرنا صحیح نہیں ہے ‘ اگر بچہ یا مجنون کو بیع وشراء کی سمجھ ہو اور اس کے ولی نے ان کو اجازت دی ہو اور اس بیع وشراء میں غبن فاحش نہ ہو تو ان کی بیع وشراء صحیح نہیں ہے۔ اگر یہ کسی کے پاس اجرت پر کام کریں تو ان کی اجرت واجب ہوجائے گی اور جس عقد میں ان کے لئے نفع محض ہو وہ صحیح ہے۔ اس لئے ان کا صدقہ اور ہبہ قبول کرنا صیح ہے جو شخص آزاد ‘ عاقل اور بالغ ہو لیکن اس کی عقل کم ہو امام اعظم کے نزدیک اس کو قولی تصرف سے روکنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی آزادی اور بلوغ کے منافی ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کو روکنا صحیح ہے تاکہ اس کا مال محفوظ رہے۔ ورنہ وہ اس کو بےجاخرچ کرکے ضائع کر دے گا اور فتوی امام ابو یوسف اور امام محمد کے قول پر ہے۔ (درمختار رد المختار ج ٥ ص ٩٣‘ ٨٩ ملخصا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

حجر کے ثبوت میں قرآن اور سنت سے دلائل : 

نابالغ بچہ اور کم عقل کو مالی تصرف سے روکنے پر قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت دلیل ہے جس میں فرمایا ہے : 

اور کم عقلوں کو اپنے وہ مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے اور ان سے خیر خواہی کی بات کہو ‘ اور یتیموں کا (بطور تربیت) امتحان لیتے رہو حتی کہ جب وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں اور تم ان میں سمجھ داری (کے آثار) دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو (النساء : ٦۔ ٥) 

اور حجر (قولی تصرف سے روکنے) کے ثبوت میں یہ احادیث بھی ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) نے فرمایا : کیا تم کو نہیں معلوم کہ تین شخصوں سے قلم (تکلیف) اٹھالیا گیا مجنون سے حتی کہ وہ تندرست ہوجائے ‘ بچہ سے حتی کہ وہ بالغ ہوجائے اور سوئے ہوئے سے حتی کہ وہ بیدار ہوجائے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مغلوب العقل کے سوا ہر شخص کی طلاق جائز ہے۔ (صحیح البخاری ‘ کتاب الطلاق باب : ١١ رقم الحدیث : ٥٢٦٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے سوئے ہوئے سے حتی کہ بیدار ہوجائے ‘ مجنون سے حتی کہ شفایاب ہوجائے اور بچہ سے حتی کہ وہ بڑا ہوجائے۔ (سنن ابو داؤد : ٤٣٩٨‘ سنن ترمذی : ١٤٢٨‘ سنن نسائی : ٣٤٣٢‘ سنن ابن ماجہ : ٢٠٤١‘ سنن کبری للنسائی : ٧٣٤٦‘ مسند احمد : ج ١ ص ١١٨‘ ١٤٠ ج ٦ : ص ١٠١‘ ١٠٠‘ سنن دارمی : ٢٢٩٦) 

ان حدیثوں میں مجنون اور نابالغ کے قولی تصرفات کو روکنے کی دلیل ہے اور جو آزاد عاقل بالغ ہو لیکن کم عقل ہو اس کو روکنے پر سورة نساء کی زیر تفسیر آیت میں بھی دلیل ہے اور اس حدیث میں بھی اس پر دلیل ہے : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی بیع اور شراء میں کچھ کمزوری تھی اور وہ بیع کرتا تھا اس کے گھر والوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو حجر (منع) کیجئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلا کر منع فرمایا اس نے کہا یا رسول اللہ میں بیع کرنے سے صبر نہیں کرسکتا۔ آپ نے فرمایا جو تم بیع کرو تو کہو یہ چیز اتنے اور انتے کی ہے اور کوئی دھوکا نہ کیا جائے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٥٤‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٦٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٠١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٤٤٩٧) 

جو کسی منصب (اسامی) کے نااہل ہوں ان کو اس کی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔ 

حجر یعنی قولی تصرفات سے روکنا ‘ اس کا تعلق ولی سے بھی ہے اور قاضی سے بھی ‘ اور حجر کا سبب کم عقلی ہے اور نااہلی بھی اس کے قریب ہے۔ اس لئے جو شخص کسی عہد کا اہل نہ ہو اور وہ اس عہدہ پر کام کرے تو قاضی ‘ سلطان یا حکومت وقت پر لازم ہے کہ مسلمانوں کو اس کے ضرر سے بچانے کے لئے اسے اس عہدہ پر کام کرنے سے روک دے مثلا ان پڑھ ‘ عطائی حکیم اور بےسند ڈاکٹر۔ انکو لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کے لئے علاج معالجہ سے روکنا لازم ہے۔ بعض جگہ کمپاؤڈر حضرات محلہ میں ایک چھوٹی سی کلینک کھول کر طب کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح بعض مساجد میں پانچ وقتی امام جو نماز کے مسائل سے بھی بمشکل واقف ہوتے ہیں وہ لوگوں کو نکاح ‘ طلاق ‘ حلال اور حرام کے مسائل غلط سلط بتاتے رہتے ہیں۔ اس لئے علاج کے معاملہ میں مستند اور تجربہ کار ڈاکٹر سے اور دینی مسائل میں کسی دینی دارالعلوم کے مفتی سے رجوع کرنا چاہیے۔ اسی طرح باقی معاملات میں بھی ہر فن کے ماہر سے رجوع کرنا چاہیے اور کسی اناڑی اور ناتجربہ کار کے ہاتھ میں اپنا کوئی معاملہ نہیں دینا چاہیے۔ 

ہمارے زمانہ میں حجر کو صحیح طریقہ سے جاری کرنے کی حکومت سے کوئی امید نہیں ہے کیونکہ تمام سرکاری اداروں میں حکومت نے سیاسی وابستگی ‘ رشوت اور سفارش کی بنیاد پر ہر شعبہ میں بکثرت نااہل افراد بھرتی کردیئے ہیں۔ اب کسی منصب کے لئے اہلیت اور قابلیت معیار نہیں ہے بلکہ سرکاری افسروں کے ساتھ تعلقات یا پھر زیادہ سے زیادہ روپوں کی پیش کش معیار ہے اس لئے ہر ادارہ میں اکثریت ان ملازموں کی ہوتی ہے جو ان ملازمتوں کے نااہل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے جس طرح حکم دیا ہے کہ کم عقل لوگوں کو ان کا مال نہ دو کیونکہ وہ اس مال کو ضائع کردیں گے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ جو شخص کسی منصب کا اہل نہ ہو اس کو اس منصب کی ذمہ داری نہ سونپی جائے لیکن ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں اس کے صریح خلاف عمل ہو رہا ہے کئی انگوٹھا چھاپ پیسے کے زور پر اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں اور وزارت کے اہل ہوجاتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 5

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.