وَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ‌ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ‌ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ‌ ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰ لِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِى الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصٰى بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ ۙ غَيۡرَ مُضَآرٍّ‌ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَلِيۡمٌ ؕ‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 12

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ‌ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ‌ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ‌ ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰ لِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِى الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصٰى بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ ۙ غَيۡرَ مُضَآرٍّ‌ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَلِيۡمٌ ؕ‏

ترجمہ:

تمہاری بیویوں کے ترکہ میں سے تمہارے لیے آدھا حصہ ہے۔ بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو ‘ اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارا چوتھائی حصہ ہے ان کی وصیت پوری کرنے اور ان کا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے ان کا چوتھائی حصہ ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے ان کا اٹھواں حصہ ہے ‘ تمہاری وصیت پوری کرنے اور تمہارا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کرنا ہو جس کے ماں باپ ہوں اور نہ اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ (بھائی یا بہن) ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کا ایک تہائی حصہ ہے اس شخص کی وصیت پوری کرنے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ‘ وصیت میں نقصان نہ پہنچایا گیا ہو ‘ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا بہت حلم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہاری بیویوں کے ترکہ میں سے تمہارے لئے آدھا حصہ ہے بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لئے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے۔ ان کی وصیت پوری کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ‘ اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے۔ ان کی وصیت پوری کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ‘ اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے ان کا آٹھواں حصہ ہے تمہاری وصیت پوری کرنے اور تمہارا قرض ادا کرنے کے بعد۔ 

شوہر اور بیوی کے احوال :

اولاد کی ماں باپ کے ساتھ اور ماں باپ کی اولاد کے ساتھ نسبی قرابت ہے ‘ اور یہ بلاواسطہ قرابت ہے اور شوہر کی بیوی کے ساتھ اور بیوی کی شوہر کے ساتھ نکاح کے سبب سے قرابت ہے اور یہ بھی بلاواسطہ قرابت ہے ‘ ان کے علاوہ جو قرابتیں ہیں مثلا بھائی بہن وغیرہ وہ بالواسطہ قرابتیں ہیں کیونکہ بھائی ‘ بہن وغیرہ کی قرابت ماں باپ کے واسطہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے بلاواسطہ قرابت داروں کے احکام وراثت بیان فرمائے اور پھر بالواسطہ قرابت داروں کے احکام بیان فرمائے ‘ اور بلاواسطہ قرابت میں نسبی قرابت سببی قرابت سے قوی ہے اس لئے پہلے نسبی قرابت داروں میں اولاد اور ماں باپ کے حصص بیان فرمائے اس کے بعد سببی قرابت میں شوہر اور بیوی کے حصص بیان فرمائے اور یہ نہایت عمدہ ترتیب ہے۔ 

اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ اگر بیوی کی اولاد نہ ہو تو شوہر کا حصہ نصف (آدھا) ہے اور اگر اولاد ہو تو اسکا حصہ چوتھائی ہے اور اگر شوہر کی اولاد نہ ہو تو بیوی کا حصہ ربع (چوتھائی) ہے اور اگر اولاد ہو تو اس کا حصہ ثمن (آٹھواں) ہے اس سے واضح ہوا کہ شوہر کا حصہ بیوی کے حصہ سے دگنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دگنا ہوتا ہے۔ 

اس آیت میں اولاد سے مراد عام ہے خواہ ایک ہو یا زیادہ ‘ مذکرہو یا مونث ‘ نیز وہ اولاد واسطہ ہو جیسے بیٹا یا بیٹی یا بالواسطہ ہو جیسے پوتا اور پوتی ‘ اور جب بیوی شوہر کی وارث ہو تو شوہر کی اولاد عام ہے خواہ اسی بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح جب شوہر بیوی کا وارث ہو تب بھی اولاد عام ہے خواہ وہ اسی شوہر کی اولاد ہو یا اس کے پہلے شوہر کی اولاد ہو ‘ اسی طرح بیوی ایک ہو یا کئی بیویاں ہوں سب کا حصہ ثمن (آٹھواں) ہے اور آٹھواں حصہ ان سب بیویوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کرنا ہو جس کا نہ والد ہو اور نہ اولاد اور (اس کا ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ (بھائی یا بہن) ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کا تہائی حصہ ہے اس شخص کی وصیت پوری کرنے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد وصیت میں نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا ‘ بہت حکمت والا ہے۔ 

کلالہ کا معنی اور اس کے مصداق کی تحقیق :

کلالہ کی کئی تفسیریں ہیں : ایک تفسیر یہ ہے کہ کلالہ ان وارثوں کو کہتے ہیں جو میت کے نہ والد ہوں اور نہ اولاد۔ یہ تفسیر حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ کلالہ اس مورث میت (مرنے والے شخص) کو کہتے ہیں جس کا نہ والد ہو اور انہ اس کی اولاد ہو ‘ یہ تفسیر حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور یہی تفسیر مختار ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کلالہ میت کے ترکہ کو بھی کہتے ہیں۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کلالہ کی تفسیر میں میری ایک رائے ہے اگر یہ درست ہے تو اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے اور اگر یہ خطاء ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اس سے بری ہے ‘ کلالہ اس وارث کو کہتے ہیں جو میت کا نہ والد ہو اور نہ اولاد ‘ اور حضرت عمر (رض) جب خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا میں اس بات سے اللہ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں نے کلالہ کی تفسیر میں حضرت ابوبکر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٩٢‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب میں بیمار ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) میری عیادت کے لئے آئے مجھ پر بےہوشی طاری تھی آپ نے وضو کیا اور وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا مجھے ہوش آگیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے مال کو کس طرح تقسیم کروں۔ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ میراث کی آیت نازل ہوئی : 

آیت) ” ویستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ ان امرؤا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت لھا ولد فان کا نتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک وان کانوا اخوۃ رجالا ونسآء فللذکر مثل حظ الانثیین “۔ (النسا : ١٧٦) 

ترجمہ : آپ سے حکم معلوم کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ اللہ تمہیں کلالہ (کی میراث) میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہوجائے جس کی نہ اولاد ہو (نہ والد) اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لئے نصف ترکہ ہے ‘ اور وہ شخص اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کا بیٹا نہ ہو ‘ اور اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو اس شخص کے ترکہ کا دو تہائی ٢۔ ٣، ملے گا اور اگر اس کے وارث بہن بھائی ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے کے برابر ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦١٦) 

یہ سورة النساء کی آخری آیت ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلالہ کی تفسیر میں اسی آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

معدان ابوبکر (رض) کا ذکر کیا اور کہا میں اپنے بعد کلالہ سے اہم اور کوئی چیز چھوڑ کر نہیں جارہا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جتنا کلالہ کے متعلق پوچھا ہے اور کسی چیز کے متعلق نہیں پوچھا اور آپ نے نے جتنی سختی اس میں کی ہے اور کسی چیز میں نہیں فرمائی حتی کہ آپ نے میرے سینہ میں انگلی چبھوئی اور فرمایا اے عمر کیا تم کو سورة النساء کی آخری آیت کافی نہیں ہے ؟ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦١٧) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

کلالہ کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ کلالہ ان وارثوں کو کہتے ہیں جو والد (ماں باپ) اور اولاد (یا بیٹے کی اولاد) کے ماسوا ہوں ‘ اس کے ثبوت میں حضرت براء بن عازب سے حدیث صحیح ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ جو وارث بیٹے کے ماسوا ہوں ‘ ایک قول یہ ہے کہ اخیافی بھائیوں کو کلالہ کہتے ہیں ‘ ایک قول ہے، عم زاد بھائیوں کو کلالہ کہتے ہیں ایک قول ہے تمام عصبات کو ‘ ایک قول ہے تمام وارثوں کو ‘ ایک قول ہے میت کو ‘ ایک قول ہے مال موروث کو ‘ جوہری نے کہا کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس کی نہ اولاد ہو نہ والد (ماں باپ) ہو ‘ زمخشری نے کہا کلالہ کا اطلاق تین پر کیا جاتا ہے اس مرنے والے پر جس کی نہ اولاد ہے نہ والد (ماں باپ) اور اس وارث پر جو نہ والد (ماں باپ) ہے نہ اولاد ‘ اور ان قرابت داروں پر جو والد (ماں باپ) اور اولاد کی جہت سے نہ ہوں۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ٨٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٧ ھ) 

علامہ محمد بن خلفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

صحیح یہ ہے جس پر علماء کی ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس کا نہ والد (ماں باپ) ہو اور نہ اولاد۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٥ ص ٥٦٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور نہ اس کا والد (ماں باپ) ہو اور نہ اس کی اولادتو اس کے وارث کلالہ ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) حضرت عمر (رض) اور جمہور اہل علم کا قول ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٧٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اکثر صحابہ اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا قول یہ ہے کہ کلالہ وہ وارث ہیں جو والدین اور اولاد کے ماسوا ہوں یہی قول صحیح اور مختار ہے (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٦٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

مرنے والا خود کلالہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، 

(آیت) ” وان کان رجل یورث کلالۃ “۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ کلالہ میت کا اسم ہے اور کلالہ اس کا حال اور اس کی صفت ہے اسی لئے منصوب ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کلالہ مرنے والے کا وارث ہے جو نہ والد (ماں باپ) ہو نہ ولد ‘ اور میں حضرت ابوبکر کی مخالفت سے حیا کرتا ہوں اور جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوئے تو انہوں نے کہا کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس کی نہ اولاد ہو نہ والد۔ حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے سو قرآن مجید کی یہ آیت اور صحابہ کرام کے اقوال اس پر دلالت کرتے ہیں کہ مرنے والا خود کلالہ ہے۔ (احکام القرآن ج ٦ ص ٨٦‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کرنا ہو جس کا نہ والد ہو اور نہ اولاد اور (اس کا ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ (بھائی یا بہن) ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کا تہائی حصہ ہے۔ 

آیت مذکورہ میں بھائی بہن سے اخیافی بھائی بہن مراد ہونے پر دلائل : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کریمہ میں بھائی یا بہن سے مراد فقط اخیافی بھائی بہن (ماں کی طرف سے) عام مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے حتی کہ بعض نے کہا اس پر اجماع ہے۔ متعدد مفسرین نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے۔ ” ولہ اخ واخت من ام “۔ اور حضرت ابی اس کو پڑھتے تھے ولہ اخ اواخت من الام “ ہرچند کہ یہ قرات شاذ ہے تاہم اکثر علماء کا یہ مختار ہے کہ جب قرات شاذہ صحیح سند کے ساتھ مروی ہو تو وہ خبر واحد کے حکم میں ہے اور اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس میں بعض کا اختلاف بھی ہے۔ اس پر دوسری دلیل یہ ہے کہ عینی اور علاتی بھائی بہن (سگے اور باپ کی طرف سے) کا ذکر اس سورت کی آخری آیت میں ہے۔ نیز اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ اگر اخیافی بھائی یا بہن ایک ہو تو اس کا حصہ سدس (چھٹا) ہے اور اگر ایک سے زیادہ ہو تو ان کا حصہ ثلث (تہائی) ہے اور ماں کا بھی یہی حصہ ہے تو مناسب ہوا کہ ماں کی طرف بھائی یا بہن کا بھی یہی حصہ ہو نیز عینی بھائی اور بہن عصبہ ہوتے ہیں جیسا کہ اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے اور آیت میں بھائی اور بہن کا حصہ سدس اور ثلث مقرر فرمایا ہے اب اگر اس آیت میں بھائی اور بہن سے علاتی بھائی اور بہن سے علاتی بھائی اور بہن مراد لیا جائے تو ان آیتوں میں تعارض لازم آئے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 12

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.