أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ‌ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ ۚ فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ‌ ۚ وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ‌ ؕ وَلِاَ بَوَيۡهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنۡ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ‌ ؕ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِىۡ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ‌ ؕ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ ۚ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَـكُمۡ نَفۡعًا‌ ؕ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

ترجمہ:

اللہ تمہاری اولاد (کی وراثت کے حصوں) کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے کہ (میت کے) ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے، سو اگر صرف بیٹیاں (دو یا) دو سے زیادہ ہوں تو ان کا حصہ (کل ترکہ کا) دوتہائی ہے اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو اس کا حصہ (کل ترکہ کا) نصف ہے ‘ اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے ترکہ سے اس کے ماں باپ میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے، اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کا تیسرا حصہ ہے، (اور باقی سب باپ کا ہے) اور اگر میت کے (بہن) بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس کی وصیت پوری کرنے کے بعد ‘ اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ہے ‘ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم (خود) نہیں جانتے کہ تم کو نفع پہنچانے کے کون زیادہ قریب ہے (یہ) اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حصص ہیں ‘ بیشک اللہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے

تفسیر:

وراثت کے تفصیلی احکام : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر وارثت کے احکام بیان فرمائے تھے : مردوں کے لئے اس (مال میں) سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس (مال میں) سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت داروں نے چھوڑا ہو خواہ وہ (مال) کم ہو یا زیادہ۔ یہ (اللہ کی طرف سے) مقرر کیا ہوا حصہ ہے (النساء : ٧) اور اب اللہ تعالیٰ نے تفصیلی طور پر وراثت کے احکام شروع فرمائے۔ وراثت کے احکام میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے ذکر سے احکام شروع فرمائے کیونکہ انسان کا سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ امام بخاری متوفی ٢٥٦ ھ نے حضرت مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (سیدتنا) فاطمہ ( رض) میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضب ناک کیا اس نے مجھے غضب ناک کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧) اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام میں سب سے پہلے اولاد کے حصص بیان فرمائے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں بنو سلمہ میں اپنے گھر کے اندر بیمار تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لئے تشریف لائے میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں اپنے مال کو اپنی اولاد کے درمیان کس طرح تقسیم کروں ؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : اللہ تمہاری اولاد (کی وراثت کے حصوں) کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے کہ میت کے ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

اولاد کے احوال : 

اولاد کئی صورتوں میں وارث ہوتی ہے ‘ ایک حال یہ ہے کہ میت کی اولاد کے ساتھ میت کے والدین بھی ہوں اور دوسرا حال یہ ہے کہ میت کی وارث صرف اس کی اولاد ہو اور اسکی تین صورتیں ہیں یا تو بیٹے اور بیٹیاں دونوں وارث ہوں گے یا صرف بیٹیاں یا صرف بیٹے ‘ اگر میت نے بیٹے اور بیٹیاں دونوں چھوڑے ہیں تو اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا مثلا اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہے تو امور متقدمہ علی الارث کے بعد میت کے ترکہ کے تین حصے کریں دو حصص بیٹے کو اور ایک بیٹی کو ملے گا۔ علی ہذا القیاس اور دوسری صورت یہ کہ اگر میت نے زوجہ ‘ ماں باپ اور بیٹے اور بیٹیوں کو چھوڑا ہو تو اس صورت میں زوجہ اور ماں باپ اصحاب الفرائض ہیں یعنی ان کے حصص مقرر ہیں زوجہ کا آٹھواں حصہ ‘ ماں کا چھٹا حصہ اور باپ کا بھی چھٹا حصہ ‘ تو اصحاب الفرائض کو ان کے حصص دینے کے بعد جو باقی بچے گا وہ سب اولاد میں تقسیم کردیا جائے گا کیونکہ اولاد عصبات ہیں اور اصحاب الفرائض کو دینے کے بعد جو باقی بچے وہ عصبات میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتاب اللہ کے مطابق مال کو اصحاب الفرائض کے درمیان تقسیم کرو اور اصحاب الفرائض کو دینے کے بعد جو باقی بچے وہ (میت کے) سب سے اقرب مرد کو دو ۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٤٠‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٧٣٧‘ ٦٧٣٥‘ ٦٧٣٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤١٧‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٠٩٨) 

سو اس صورت میں کل ترکہ کے ٢٤ حصص کئے جائیں اس میں سے ٣ حصے اس کی بیوی کو ‘ ٤‘ ٤ حصے اس کے باپ اور ماں کو اور باقی ماندہ ١٣ حصص اس کی اولاد میں اس طرح تقسیم کردیں کہ بیٹے کو دو اور بیٹی کو ایک حصہ ملے۔ 

تیسری صورت یہ ہے کہ میت نے صرف بیٹیاں چھوڑی ہوں اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو ان کو دو ثلث (دو تہائی) ملیں گے اور اگر صرف ایک بیٹی چھوڑی ہو تو اس کو کل ترکہ کا نصف ملے گا اور اس کے بعد جو ترکہ بچے گا تو وہ دیگر اصحاب الفرائض کو ملے گا اور اگر وہ نہ ہوں تو پھر میت کے عصبات کو مل جائے گا ‘ اور اگر میت نے صرف بیٹے چھوڑے ہوں تو وہ تمام مال کے وارث ہوں گے اور اگر بیٹوں کے ساتھ اصحاب الفرائض بھی ہوں تو اصحاب الفرائض کو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی تمام مال بیٹوں کو دے دیا جائے گا۔ 

مرد کو عورت سے دگنا حصہ دینے کی وجوہات :

عورت کو وراثت میں مرد کے حصہ کا نصف ملتا ہے اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ عورت مرد کی بہ نسبت پیسوں کی زیادہ محتاج ہے کیونکہ مرد آزادی کے ساتھ بےخوف وخطر گھر سے باہر نکل سکتا ہے اور عورت اپنے شوہر یا والدین کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکل نہیں سکتی اور اگر باہر جائے تو اس کی عزت اور عصمت کے لئے متعدد خطرات ہیں نیز چونکہ اس کی عقل کم ہوتی ہے اس لئے اگر وہ خریدو فروخت کرے تو اس کے لٹ جانے یا دھوکا کھانے کا بہت اندیشہ ہے اور جسمانی طور پر وہ کمزور صنف ہے اس لئے اگر اس کو مرد سے دگنا حصہ نہ دیا جائے تو کم از کم برابر حصہ دینا چاہیے۔ 

اس سوال کے حسب ذیل متعدد جوابات ہیں : 

(١) مرد کے بہ نسبت عورت کے اخراجات کم ہوتے ہیں کیونکہ مرد پر اپنی اپنی بیوی اور بچوں کی اور اپنے بوڑھے والدین کے مصارف کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کے برخلاف عورت پر کسی کی پرورش کی ذمہ داری نہیں ہے اور جب عورت کی بہ نسبت مرد کے اخراجات زیادہ ہیں تو مرد کا حصہ بھی عورت سے دگنا ہونا چاہیے۔ 

(٢) سماجی کاموں کے لحاظ سے مرد کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلا وہ امام اور قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک اور وطن کے نظم ونسق چلانے کی ذمہ داریاں رکھتا ہے اور ملک اور وطن کے دفاع کے لئے جہاد کی ذمہ داری بھی مرد پر ہے۔ حدود اور قصاص میں وہی گواہ ہوسکتا ہے اور کاروباری معاملات میں بھی مرد کی گواہی عورت سے دگنی ہے سو جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں اس کا وراثت میں حصہ بھی دگنا ہونا چاہیے۔ 

(٣) عورت چونکہ صنفا کمزور ہوتی ہے اور اس کو دنیاوی معاملات کا زیادہ تجربہ نہیں ہوتا اس لئے اگر اس کو زیادہ پیسے مل جائیں تو اندیشہ ہے کہ اس کے وہ سب پیسے ضائع ہوجائیں گے۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے یہ بحث ذکر کی ہے کہ ایک بیٹی کا وراثت سے نصف حصہ قطعی ہے اور جس حدیث میں ہے کہ ہم گروہ انبیاء مورث نہیں بنائے جائیں گے وہ ظنی ہے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ظنی حکم کے مقابلہ میں قطعی کو کیوں ترک کردیا اور حضرت سیدنا فاطمہ (رض) کو وراثت سے حصہ کیوں نہیں دیا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ہمارے ظنی ہے حضرت ابوبکر (رض) نے چونکہ اس کو زبان رسالت سے تھا اس لئے ان کے لئے یہ حدیث قرآن مجید کی طرح قطعی تھی اس کی مفصل بحث ہم نے شرح مسلم جلد خامس میں کی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ 

اللہ تعالیٰ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر میت کی اولاد ہو تو ماں باپ میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کا تیسرا حصہ ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے) اور اگر میت کے (بہن) بھائی ہوں تو ماں کا چھٹاحصہ ہے۔ (النساء : ١) 

والدین کے احوال : 

اولاد کا اطلاق مذکر اور مونث دونوں پر ہوتا ہے اس لئے میت کے ماں باپ کے ساتھ اگر اولاد ہو تو اس کی تین صورتیں ہیں : 

پہلی صورت یہ ہے : کہ ماں باپ کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ بیٹے ہوں تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ‘ تیسری صورت یہ ہے کہ میت کی صرف ایک بیٹی ہو اور ماں باپ ہوں تو بیٹی کو نصف ملے گا اور ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا البتہ باقی مال بھی باپ کو بہ طور عصبہ ہونے کے مل جائے گا۔ 

اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کو تہائی مل جائے گا اور باقی دو تہائی مال باپ کو بطور عصبہ دے دیا جائے گا اور اس صورت میں مرد (باپ) کو عورت (ماں) سے دگنا حصہ مل جائے گا۔ 

اگر میت کے (بہن) بھائی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔ یہ والدین کے احوال میں سے تیسرا حال ہے، جس میں میت نے والدین کے ساتھ اپنے بہن بھائیوں کو بھی چھوڑا ہو ‘ اس پر اتفاق ہے کہ ایک بہن یا بھائی ماں کے تہائی حصہ کے لئے حاجب بن کر اس کو چھٹا نہیں کرتے۔ اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ جب بہن یا بھائی کا عدد تین کو پہنچ جائے تو وہ ماں کا حصہ تہائی سے کم کرکے چھٹا کردیتے ہیں اور اگر دو بہنیں یا دو بھائی ہوں تو اس میں اختلاف ہے اکثر صحابہ کا نظریہ یہ ہے کہ وہ بھی ماں کا حصہ تہائی سے کم کرکے چھٹا کردے ہیں اور حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں دو بہنیں ماں کا حصہ تہائی سے کم نہیں کرتیں۔ فقہاء احناف کا مذہب اکثر صحابہ کے قول کے مطابق ہے ‘ یہ بھی واضح رہے کہ دو بہنیں کسی قسم کی ہوں سگی یا سوتیلی خواہ ماں کی طرف سے خواہ باپ کی طرف سے۔ اسی طرح سے بھائی بھی۔ وہ ماں کے لئے حاجب ہیں اور اس کا حصہ تہائی سے کم کرکے چھٹا کردیتے ہیں اور ایک بہن ہو یا ایک بھائی وہ ماں کے لئے حاجب نہیں ہیں خواہ وہ بہن یا بھائی عینی ہوں علاتی ہوں یا اخیافی۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہ تقسیم) اس کی وصیت پوری کرنے کے بعد ‘ اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ہے۔ (النساء : ١١) 

قرض کو وصیت پر مقدم کرنے کے دلائل : 

اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ وارثوں میں ترکہ کی تقسیم پر قرض کی ادائیگی مقدم ہے۔ اگر میت پر لوگوں کا اتنا قرض ہے کہ وہ اس کے تمام ترکہ پر محیط ہے تو وارثوں کو کچھ نہیں ملے گا اور میت کے ترکہ سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور اگر میت کا قرض ادا کرنے کے بعد مال بچ رہتا ہے اور میت نے وصیت بھی کی ہوئی ہے تو ایک تہائی مال سے اس کی وصیت پوری کی جائے گی اور اس کے بعد اس کا باقی ماندہ ترکہ ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔ 

اس آیت میں میت کی وصیت پوری کرنے کا قرض کی ادائیگی سے پہلے ذکر کیا ہے لیکن اس پر امت کا اجماع ہے کہ پہلے میت کا قرض ادا کیا جائے گا پھر اس کی وصیت پوری کی جائے گی۔ اس کے حسب ذیل دلائل ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

اور ذکر کیا جاتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا کہ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوالامانات الی اھلھا “۔ (النساء : ٥٨) 

ترجمہ : اور بیشک اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانات امانتوں والوں کو ادا کردو۔ 

اور نفلی وصیت پوری کرنے کی بہ نسبت امانت کو ادا کرنا مقدم ہے (قرض بھی ایک طرح سے امانت ہے) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حارث ‘ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت کو پورا کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا حالانکہ تم قرآن مجید میں وصیت کو قرض سے پہلے پڑھتے ہو۔ امام ترمذی نے کہا عام اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ وصیت پوری کرنے سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢١٢٩‘ ٢١٠١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٥) 

حارث اعور کے ضعف کا بیان : 

یہ حدیث حارث نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے ‘ حارث کے ترجمہ میں حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : 

حارث بن عبداللہ ہمدانی اعور (یک چشم) کبار علماء تابعین میں سے ہے اور اس میں ضعف ہے۔ یہ حضرت علی (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) سے حدیث روایت کرتا ہے اور اس سے عمرو بن مرہ ‘ ابو اسحاق اور ایک جماعت حدیث روایت کرتی ہے شعبی نے کہ ابو اسحاق نے اس سے صرف چار احادیث کا سماع کیا ہے نیز شعبی نے کہا مجھے حارث اعور نے حدیث بیان کی اور وہ کذاب تھا ‘ نیز مغیرہ نے کہا حضرت علی (رض) سے روایت میں حارث کی تصدیق نہیں کی جاتی تھی۔ ابن المدینی نے کہا یہ کذاب ہے۔ ابن معین نے کہا ضعیف ہے۔ نسائی نے کہا یہ قوی نہیں ہے۔ ابن عدی نے کہا اس کی عام روایات غیر محفوظ ہیں۔ دارقطنی نے کہا ضعیف ہے۔ حصین نے شعبی سے روایت کیا کہ حضرت علی کی طرف حارث نے جتنی جھوٹی احادیث منسوب کی ہیں اتنی اور کسی نے نہیں کیں۔ ابن سیرین کا یہ گمان تھا کہ اس کی حضرت علی سے عام روایات باطل ہیں۔ ابن اسحاق نے اس کو کذاب کہا۔ ابن حبان نے کہا حارث تشیع میں غالب تھا اور حدیث میں ضعیف تھا۔ 

ابوبکر بن ابی داؤد نے کہا حارث بہت بڑا فقیہہ تھا اور علم میراث کا ماہر تھا اس نے یہ علم حضرت علی سے سیکھا تھا حارث اعور نے ٦٥ ھ میں وفات پائی ( میزان الاعتدال ج ٢ ص ١٧٢۔ ١٧٠ ملخصا) 

نیز اس کے ترجمہ کے متعلق دیکھیں : تاریخ صغیر للبخاری ج ١ ص ١٤١‘ الجرح والتعدیل ج ٣ ص ٣٦٣‘ ضعفاء ابن الجوزی ج ١ ص ١٨١‘ النجوم الزاھرۃ ج ١ ص ١٨٥‘ شذرات الذھب ج ١ ص ٧٣‘ طبقات ابن سعد ج ٦ ص ١٦٨‘ مراۃ الجنان ج ١ ص ١٤١۔ 

حافظ جمال الدین ابی الحجاج یوسف مزی متوفی ٧٤٢ ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں : 

امام مسلم بن الحجاج نے اپنی سند کے ساتھ شعبی سے روایت کیا ہے کہ حارث اعور کذاب تھا ‘ ابو معاویہ نے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے کہ حارث اعور کذاب تھا ابن معین سے ایک روایت ہے کہ حارث ثقہ ہے۔ امام ابو زرعہ نے کہا اس کی روایات سے استدلال نہیں کیا جائے گا ‘ امام نسائی سے ایک روایت ہے کہ یہ قوی نہیں ہے اور ایک روایت ہے کہ اس کی روایت کردہ حدیث میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جابر جعفی نے عامر شعبی سے روایت کیا ہے کہ حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) حارث سے حضرت علی کرم اللہ الوجہ الکریم کی روایات کے متعلق سوال کرتے تھے۔ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اس کی روایات درج کی ہیں۔ (تہذیب الکمال ج ٤ ص ٤٤۔ ٣٩ ملخصا، مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے بھی زیادہ تریہی نقل کیا ہے کہ حارث اعور کذاب اور ضعیف ہے۔ اور بعض ائمہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ ثقہ ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٢ ص ١٣٥۔ ١٣٣ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ کی اس کے متعلق رائے یہ ہے : 

یہ حضرت علی (رض) کا شاگرد تھا شعبی نے اس کو کذاب کہا ہے ‘ اور اس پر رفض کی تہمت ہے اور اس کی احادیث ضعیف ہیں۔ امام نسائی نے اس کی صرف دو حدیثیں روایت کی ہیں یہ حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) کی خلافت میں فوت ہوا تھا۔ (تہذیب التہذیب ج ١ ص ١٧٥‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

اہل علم کے عمل سے حدیث ضعیف کی تقویت : 

ہر چند کہ حارث کی جس روایت میں قرض کو وصیت پر مقدم کرنے کا ذکر ہے اس کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں تعلیقا درج کیا ہے لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، اس کے باوجود علماء امت کا اس حدیث پر عمل ہے ‘ جیسا کہ امام ترمذی نے کہا ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ اسی وجہ سے امام بخاری نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ‘ حالانکہ حدیث ضعیف سے استدلال کرنا ان کی عادت نہیں ہے اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قرض وصیت پر مقدم ہے۔ (فتح الباری ج ٥ ص ٣٧٨۔ ٣٧٧‘ مطبوعہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

اس سے معلوم ہوا کہ اہل علم کے عمل سے بھی حدیث ضعیف کی تقویت ہوجاتی ہے۔ 

قرض کو وصیت پر مقدم کیا جاتا ہے لیکن قرآن مجید میں وصیت کے ذکر کو قرض پر مقدم کیا گیا ہے اس لئے کہ قرض کا مطالبہ کرنے والے قرض خواہ ہوتے ہیں اور وصیت کا مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ‘ اس لئے یہ خدشہ ہے کہ ورثاء وصیت کو چھپالیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے وصیت کا ذکر پہلے فرمایا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص موت تک قرض ادا نہ کرے اس لئے یہ نادر الوجود ہے اور وصیت عام طور پر کی جاتی ہے اس لئے وصیت کو پہلے اور قرض کو بعد میں ذکر فرمایا لیکن ذکر میں تقدم واقع میں تقدم کو مستلزم نہیں ہوتا جیسا کہ (آیت) ” واسجدی وارکعی “۔ (ال عمران : ٤٣) میں سجدہ کا پہلے اور رکوع کا بعد میں ذکر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 11