يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَحِلُّ لَـكُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرۡهًا‌ ؕ وَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ لِتَذۡهَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ‌ ۚ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ۚ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡــًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 19

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَحِلُّ لَـكُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرۡهًا‌ ؕ وَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ لِتَذۡهَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ‌ ۚ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ۚ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡــًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ‘ اور نہ تم ان کو اس لیے روکو کہ تم ان کو دیے ہوئے (مہر) میں سے کچھ واپس لے لو سوا اس صورت کے کہ وہ علی الاعلان بےحیائی کا ارتکاب کریں ‘ اور تم ان کے ساتھ نیک سلوک کرو ‘ پھر اگر تم انکو ناپسند کرو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ تم ان کو اس لئے روکو کہ تم ان کو دیئے ہوئے (مہر) میں سے کچھ واپس لے لو۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ علی الاعلان بےحیائی کا ارتکاب کریں ‘ اور تم ان کے ساتھ نیک سلوک کرو پھر اگر تم ان کو ناپسند کرو تو وہ سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔ (النساء : ١٩)

زمانہ جاہلیت کے مظالم سے عورتوں کو نجات دلانا :

اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے مسائل اور احکام بیان فرمائے تھے درمیان میں ایک مناسبت سے توبہ کا ذکر آگیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر اس موضوع کو شروع کردیا ‘ زمانہ جاہلیت میں لوگ عورتوں پر طرح طرح کے ظلم کرتے تھے اور ان کو ایذاء پہنچاتے تھے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ایذارسانی اور ظلم سے منع فرمایا ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس کے اولیاء (ورثاء) اس کی بیوی کے حق دار ہوتے تھے ‘ اگر وہ چاہتے تو اس کا کہیں نکاح کردیتے اور اگر چاہتے تو خود اس سے نکاح کرلیتے اور اگر چاہتے تو اس کا کہیں نکاح نہ کرتے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر مجاہد ص ١٥٠‘ تفسیر سفیان ثوری ص ٩٢‘ تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٢٩) 

اس آیت میں یہ بتادیا کہ کسی شخص کا زبردستی عورت کا وارث بن جانا جائز اور حرام ہے ‘ نیز فرمایا : اور نہ تم ان کو جاہلیت میں بیوہ عورت کے وارث اس کو اپنی مرضی سے کسی جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے تاکہ ان کی گرفت سے آزاد ہو کر وہ اپنے مہر کا مطالبہ نہ کرے یا وہ اس عورت کو اس وقت تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک کہ وہ اپنے مہر کی رقم ورثاء کو دے کر اپنی خلاصی نہ کرائے (تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٣٠) یا پھر وہ عورت ورثاء کی قید میں مرجاتی اور وہ اس کے مرنے کے بعد اس کے مہر کی رقم پر قبضہ کرلیتے تھے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٢٠٨) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوا اس صورت کے کہ وہ عورتیں علی الاعلان بےحیائی کا ارتکاب کریں۔

اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں علی الاعلان بےحیائی سے کیا مراد ہے ؟ عطا خراسانی نے کہا ہے کہ اس سے مراد زنا ہے یعنی اگر کوئی عورت زنا کرے تو اس کا شوہر اس کو مہر میں دی ہوئی رقم واپس لے لے پہلے یہی حکم تھا بعد میں جب حدود کے احکام نازل ہوئے کہ کنواری کو سوکوڑے مارے جائیں اور شادی شدہ کو رجم کردیا جائے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ علی الاعلان بےحیائی سے مراد شوہر سے بغض رکھنا اور اس کی نافرمانی کرنا ہے اگر عورت ایسا کرے تو شوہر اس کو مہر میں دی ہوئی رقم واپس لے سکتا ہے۔ 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو تم نے ان عورتوں کو اپنے عقد میں اللہ کی امانت سے لیا ہے ‘ اور اللہ کی اجازت سے تم نے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور تمہارے ان پر حقوق ہیں ‘ اور تم پر ان کے حقوق ہیں ‘ تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی اور کو نہ آنے دیں ‘ اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں ‘ جب وہ یہ کرلیں تو دستور کے مطابق ان کا طعام اور پوشاک تم پر لازم ہے۔ 

حضرت عمر (رض) سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٢١٢۔ ٢١١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

فقیہ ابو اللیث سمرقندی متوفی ٣٧٥ ھ نے لکھا ہے کہ اگر عورت اپنے شوہر کی نافرمانی کرے تو وہ اس سے دی ہوئی چیزیں واپس لے سکتا ہے۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٢٤٢۔ ٢٤١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

علامہ آلوسی حنفی نے لکھا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ استثناء منقطع ہے یا متصل ‘ اگر یہ استثناء منقطع ہو تو اس میں عورتوں کے شوہروں سے خطاب ہے۔ جیسا کہ مذکور الصدر تفاسیر سے ظاہر ہے اگر یہ استثناء متصل ہو تو پھر اس میں بیوہ عورتوں کے ورثاء سے خطاب ہے کہ تم بیوہ عورتوں کے زبردستی وارث نہ بنو اور نہ تم ان کو اس لئے کسی جگہ نکاح کرنے سے روکو تاکہ تم ان کو دیئے ہوئے مہر سے کچھ واپس لے لو سوا اس صورت کے کہ وہ زنا کریں پھر بطور سزا ان کے مہر سے کچھ رقم لے لو ‘ لیکن حدود کے نازل ہونے کے بعد یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا۔ 

اس کے بعد فرمایا اور تم ان کے ساتھ نیکی کا سلوک کرو ‘ یہ عورتوں کے شوہروں سے خطاب ہے ‘ یعنی جب عورتیں بےحیائی کا کام نہ کریں اور جائز اور نیکی کے کاموں میں تمہاری اطاعت اور مدد کریں تو تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ‘ ان کو اپنی حیثیت کے مطابق اچھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ۔ پھر فرمایا اگر تم جان کو ناپسند کرو ‘ تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو ‘ اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے ‘ یعنی جس عورت کی شکل و صورت تم کو ناپسند ہے ہوسکتا ہے کہ اس سے بہت حسین و جمیل اولاد پیدا ہو ‘ اور نیک سیرت بچے ہوں جو بڑھاپے میں تمہارا سہارا بنیں ‘ اور ان کی نیکیاں تمہاری بخشش اور نجات کا ذریعہ بن جائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 19

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.