أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ سوا اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ‘ بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ سوا اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔ (النساء : ٢٩ )

مال حرام کی انواع اور اقسام : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جسموں اور بدنوں میں تصرف کرنے کی ہدایت دی تھی ‘ زنا اور عمل لوط سے منع فرمایا ‘ اسی طرح محرمات کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا تھا ‘ اور اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے اموال میں تصرف کے متعلق ہدایت دی ہے بیع و شراء کے ذریعہ دوسرے کا مال حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اسی طرح ہبہ ‘ وراثت اور کسی چیز کو بنا کر اس کا مالک ہونا جائز ہے ‘ اور جوا سٹہ ‘ سود ‘ غصب ‘ چوری ‘ ڈاکہ ‘ خیانت ‘ جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ اور رشوت سے دوسرے کا مال کھانا ناجائز ہے۔ 

سود کے متعلق ہم تفصیل سے بحث کرچکے ہیں باقی چیزوں کا ناجائز اور گناہ ہونا واضح ہے اس لئے ہم یہاں رشوت کے متعلق گفتگو کریں گے۔ 

رشوت کی تعریف ‘ وعید اور شرعی احکام : 

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

کوئی شخص حاکم یا کسی اور افسر مجاز کو کوئی چیز دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا حاکم کو اپنی منشاء پوری کرنے پر ابھارے۔ (تاج العروس ج ١٠ ص ‘ ١٥٠ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا گیا کہ سحت کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا رشوت ‘ پھر سوال کیا گیا کہ فیصلہ پر رشوت لینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے (نازل کردہ) احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ (المائدہ : ٤٤) (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) 

کسی پر ظلم کرنے کے لئے یا کوئی ناجائز کام کرانے کے لئے کچھ دینا رشوت ہے اور اپنا حق حاصل کرنے کے لئے یا خود کو ظلم سے بچانے کے لئے کچھ دینا یہ رشوت نہیں ہے۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا مال غنیمت تقسیم کیا اور بڑے بڑے عطایا دیئے اور عباس بن مرداس کو بھی کچھ مال دیا تو وہ اس پر ناراض ہوگیا اور شعر پڑھنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (کچھ اور مال دے کر) ہمارے متعلق اس کی زبان بند کردو ‘ پھر اس کو کچھ اور مال دیا حتی کہ وہ راضی ہوگیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٤٣٤ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب وہ حبشہ کی سرزمین پر پہنچے تو ان سے ان کا کچھ سامان چھین لیا گیا تو انہوں نے اس سامان کو اپنے پاس رکھا اور دو دینار دے کر وہ سامان چھڑا لیا۔ 

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ جس کام میں رشوت دینے والا گناہ گار ہوتا ہے یہ وہ نہیں ہے جو اپنی جان اور مال سے ظلم اور ضرر دور کرنے کے لئے دی جائے، رشوت وہ چیز ہے کہ تم اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے کچھ دو جو تمہارا حق نہیں ہے اس میں دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنتہ ملتان) 

قاضی خاں اوزجندی حنفی متوفی ٥٩٤ ھ نے رشوت کی چار قسمیں لکھی ہیں : 

(١) منصب قضاء کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا اس میں رشوت دینا اور لینا دونوں حرام ہیں۔ 

(٢) کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لئے رشوت دے یہ رشوت جانبین سے حرام ہے خواہ وہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو ‘ کیونکہ فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری اور اس پر فرض ہے۔ 

(٣) اپنی جان اور اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا یہ لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر حرام نہیں ہے ‘ اس طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دیناجائز ہے اور لینا حرام ہے 

(٤) کسی شخص کو اس لئے رشوت دی کہ وہ اس کو سلطان یا حاکم تک پہنچا دے تو اس کا دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے۔ (فتاوی قاضی خان علی ہامش الہندیہ ج ٢ ص ٣٦٣‘ ٣٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ فتح القدیر ‘ ج ٦ ص ٣٨٥‘ طبع سکھر ‘ بنایہ شرح ہدایہ الجزء الثالث ص ٢٦٩‘ طبع فیصل آباد ‘ البحر الرائق ج ٦ ص ٢٦٢۔ ٢٦١‘ طبع مصر) 

اپنے آپ کو قتل کرنے کی ممانعت کے تین محمل : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو بیشک اللہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : ٢٩) 

اس آیت کے تین معنی ہیں ایک معنی یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کریں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٨٦) اس لئے اگر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔ 

دوسرا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہوجاؤ اس کی مثال یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات میں جنبی ہوگئے تو انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ تم اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے “ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے (ان کو) ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری : کتاب التیمم باب ٧ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

اس آیت کا تیسرا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسی آیت کی بناء پر خود کشی کرنا حرام ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کے عذاب کا بیان :ـ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہتھیار سے خود کشی کرے گا تو دوزخ میں وہ ہتھیار اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ شخص جہنم میں اس ہتھیار سے ہمیشہ خود کو زخمی کرتا رہے گا ‘ اور جو شخص زہر سے خود کشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا اور جو شخص پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا۔ (صحیح مسلم : رقم الحدیث : ١٠٩) 

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خود کشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کفر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب سے انسان دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوتا پھر خود کشی کرنے والا دائمی عذاب میں کیوں مبتلا ہوگا ؟ اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ 

اول : یہ کہ یہ حدیث اس شخص کے متعلق ہے جس کو خود کشی کے حرام ہونے کا علم تھا اس کے باوجود اس نے حلال اور جائز سمجھ کر خود کشی کی ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں خلود کا استحقاق بیان کیا گیا ہے اور یہ جائز ہے کہ مستحق خلود ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے یا پھر خلود مکث طویل کے معنی میں ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جس نے خود کو قتل کرلیا خواہ عمدا اس کو غسل دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اسی پر فتوی ہے اگرچہ دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کی بہ نسبت یہ زیادہ بڑا گناہ ہے ‘ امام ابن ہمام نے امام ابویوسف کے قول کو ترجیح دی ہے، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے خود کشی کی تھی آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ (الدرالمختار ج ١ ص ٥٨٤‘ علی ہامش ردالمختار) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم نے خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور بظاہر یہ ہے کہ آپ نے اس پر نماز جنازہ زجرا نہیں پڑھی جس طرح آپ نے مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی ‘ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صحابہ میں سے بھی کسی نے اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی کیونکہ دوسروں کی نماز آپ کی نماز کے برابر نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ کی صلوۃ انکے لئے سکون ہے۔ شرح المنیہ میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور اہل سنت و جماعت کے قواعد پر یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ہے ‘ کیونکہ مطلقا گنہگار کی توبہ مقبول ہوتی ہے بلکہ کافر کی توبہ بھی کفر سے قطعا مقبول ہوتی ہے حالانکہ اس کا گناہ زیادہ ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ نزع روح کے وقت توبہ مقبول نہیں ہوتی اور جس نے ایسے فعل سے خود کشی جس سے فورا مرجائے (مثلا کنپٹی پر پستول رکھ کر فائر کردینا) تو اس کو توبہ کا وقت ہی نہیں ملا، یا نزع روح کے وقت چند لمحے ملے اور اس وقت کی توبہ مقبول نہیں ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی آلہ سے زخمی کرلیا اور اس کے بعد وہ کچھ دن زندہ رہا اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ کی قبولیت کا یقین رکھنا چاہیے یہ ساری بحث اس کے متعلق ہے جس نے عمدا خود کو قتل کیا اور جس نے خود کو خطاء قتل کیا اس کو شمار شہداء میں ہوگا۔ (ردالمختار ج ١ ص ٥٨٥‘ ٥٨٤) 

خلاصہ یہ ہے کہ کسی بڑے عالم اور مفتی کو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھانا چاہیے اور عام مسلمان کو چاہیے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھا دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 29