اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا

ترجمہ:

اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے ‘ اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے۔ (النساء : ٣١)

صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی تحقیق : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

بعض عرفاء نے کہا ہے کہ یہ مت سوچو کہ گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ ‘ یہ غور کرو کہ تم کس ذات کی نافرمانی کر رہے ہو اور اس اعتبار سے تمام گناہ گناہ کبیرہ ہیں۔ قاضی ابوبکر بن طیب ‘ استاد ابواسحق اسفرائنی ‘ ابوالمالی ‘ ابو نصر عبدالرحیم قشیری وغیرھم کا یہی قول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گناہوں کو اضافی طور پر صغیرہ یا کبیرہ کہا جاتا ہے۔ مثلا زنا کفر کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور بوس وکنار زنا کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور کسی گناہ سے اجتناب کی وجہ سے دوسرے گناہ کی مغفرت نہیں ہوتی بلکہ تمام گناہوں کی مغفرت اللہ کی مشیت کے تحت داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨) 

ترجمہ : بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ 

اور یہ جو قرآن مجید میں ہے 

(آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (النساء : ٣١) 

اس آیت میں کبائر سے مراد انواع کفر ہیں ‘ یعنی اگر تمام انواع کفر سے بچو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا ‘ نیز صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا حق مارا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر دوزخ واجب کر دے گا اور اس پر جنت حرام کر دے گا ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! ہرچند کہ (اس شخص کا حق) تھوڑی سی چیز ہو ؟ آپ نے فرمایا : ہرچند کہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو ! پس معمولی معصیت پر بھی ایسی شدید وعید ہے جیسی بڑی معصیت پر وعید ہے۔ 

علامہ قرطبی مزید لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ہے کہ جن چیزوں سے منع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو جہنم یا غضب یا لعنت یا عذاب کے ذکر پر ختم کیا ہے اور گناہ کبیرہ ہے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا سورة نساء کی تیتیس (٣٣) آیتوں میں جن چیزوں سے منع کیا ہے اور پھر فرمایا ہے (آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “۔ وہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا کبائر سات (٧) ہیں فرمایا یہ ستر کے قریب ہیں اور سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا کبائر سات ہیں فرمایا یہ سات سو کے قریب ہیں البتہ استغفار کے بعد کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار سے کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتا ہے) 

گناہ کبیرہ کی تعداد اور ان کے حصر میں علماء کا اختلاف ہے کیونکہ ان میں آثار مختلف ہیں ‘ میں یہ کہتا ہوں کہ گناہ کبیرہ کے متعلق صحیح اور حسن بکثرت احادیث ہیں اور ان سے حصر مقصود نہیں ہے البتہ بعض گناہ بعض دوسرے گناہ سے زیادہ بڑے ہیں اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تکذیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ورحمتی وسعت کل شیء “ میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” انہ لایایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ میری رحمت سے کافروں کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اس کے بعد تیسرا درجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسروان “۔ (الاعراف : ٩٩) کیا یہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہیں ؟ تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے ہی بےخوف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چوتھے درجہ پر قتل سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کے بعد لواطت ہے ‘ پھر زنا ہے ‘ پھر شراب نوشی ہے پھر نماز اور اذان کا ترک کرنا ہے پھر جھوٹی گواہی دینا ہے اور ہر وہ گناہ جس پر عذاب شدید کی وعید ہے یا اس کا ضرر عظیم ہے وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٦١۔ ١٥٩ ملخصا مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

میں نے گناہ کبیرہ کے متعلق ان تمام اقوال اور تعریفات پر غور کیا میرے نزدیک جامع مانع اور منضبط تعریف یہ ہے : جس گناہ کی دنیا میں کوئی سزا ہو یا اس پر آخرت میں وعید شدید ہو یا اس گناہ پر لعنت یا غضب ہو وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے اور اس سے بھی زیادہ آسان اور واضح تعریف یہ ہے کہ فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے۔ اور واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے نیز کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر بےخوفی سے کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے علامہ نووی شافعی اور علامہ بھوتی حنبلی نے جو گناہ کبیرہ اور صغیرہ کی مثالیں دی ہیں ان پر یہ تعریفیں صادق آتی ہیں اس لئے گناہ صغیرہ اور کبیرہ کو سمجھنے کے لئے ان تعریفات کی روشنی میں ان مثالوں کو ایک بار پھر پڑھ لیاجائے۔ اس بحث میں یہ نکتہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ فرض کے ترک کا عذاب واجب کے ترک کے عذاب سے اور حرام کے ارتکاب کا عذاب مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے عذاب سے شدید ہوتا ہے اور اصولیین کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فرض اور واجب کے ترک کا عذاب ایک جیسا ہوتا ہے اور ان میں صرف ثبوت کے لحاظ سے فرق ہے۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ صغیرہ اور کبیرہ دو قسم کے ہیں۔ استاذ ابو اسحاق نے کہا ہے کہ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہوتا لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ گناہ کبیرہ کی چار تعریفیں ہیں۔ (١) جس معصیت پر حد واجب ہوتی ہے وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٢) جس معصیت پر کتاب اور سنت میں وعید شدید ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٣) امام نے ’ ارشاد “ میں لکھا ہے کہ جس گناہ کو لاپرواہی کے ساتھ کیا گیا ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٤) جس کام کو قرآن مجید نے حرام قرار دیا ہو یا جس کام کی جنس میں قتل وغیرہ کی سزا ہو یا جو کام علی الفور فرض ہو اس کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ 

علامہ نووی نے دوسری تعریف کو ترجیح دی ہے پھر علامہ نووی لکھتے ہیں کہ یہ گناہ کبیرہ کی منضبط تعریفات ہیں۔ بعض علماء نے گناہ کبیرہ کو تفصیلا ‘ شمار بھی کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے : قتل ‘ زنا ‘ لواطت ‘ شراب پینا ‘ چوری ‘ قذف ‘ (تہمت لگانا) جھوٹی گواہی دینا ‘ مال غصب کرنا ‘ میدان جہاد سے بھاگنا ‘ سود کھانا ‘ مال یتیم کھانا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا ‘ جھوٹ باندھنا ‘ بلاعذر شہادت کو چھپانا ‘ رمضان میں بلاعذر روزہ نہ رکھنا ‘ جھوٹی قسم کھانا ‘ قطع رحم کرنا ‘ ناپ اور تول میں خیانت کرنا ‘ نماز کو وقت سے پہلے پڑھنا ‘ بلاعذر نماز قضاء کرنا ‘ مسلمان کو ناحق مارنا ‘ صحابہ کرام کو سب وشتم کرنا ‘ رشوت لینا ‘ دیوثی (فاحشہ عورتوں کے لئے گاہک لانا) حاکم کے پاس چغلی کھانا ‘ زکوۃ نہ دینا ‘ نیکی کا حکم نہ دینا ‘ باوجود قدرت کے برائی سے نہ روکنا ‘ قرآن مجید بھلانا ‘ حیوان کو جلانا ‘ عورت کا بلاسبب خاوند کے پاس نہ جانا ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ‘ اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا ‘ علماء کی توہین کرنا ‘ ظہار ‘ بلاعذر خنزیر یا مردار کا گوشت کھانا ‘ جادو کرنا ‘ حالت حیض میں وطی کرنا اور چغلی کھانا۔ یہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ 

علامہ نووی نے گناہ صغیرہ کی تفصیل میں ان گناہوں کو لکھا ہے : 

اجنبی عورت کو دیکھنا ‘ غیبت کرنا ‘ ایسا جھوٹ جس میں حد ہے نہ ضرر ‘ لوگوں کے گھروں میں جھانکنا ‘ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے قطع تعلق کرنا ‘ زیادہ لڑنا جھگڑنا اگرچہ حق پر ہو ‘ غیبت پر سکوت کرنا ‘ مردہ پر بین کرنا ‘ مصیبت میں گریبان چاک کرنا اور چلانا ‘ اترا اترا کرچلنا ‘ فاسقوں سے دوستی رکھنا اور ان کے پاس بیٹھنا ‘ اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنا ‘ مسجد میں خریدو فروخت کرنا ‘ بچوں پاگلوں کو مسجد میں لانا ‘ جس شخص کو لوگ کسی عیب کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں اس کا امام بننا، نماز میں عبث کام کرنا ‘ جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ‘ قبلہ رخ بول وبراز کرنا “ عام راستہ پر بول وبراز کرنا ‘ جس شخص کو غلبہ شہوت کا خطرہ ہو اس کا روزہ میں بوسہ لینا ‘ صوم وصال رکھنا ‘ استمناء ‘ بغیر جماع کے اجنبیہ سے مباشرت کرنا (یعنی بوس وکنار اور بغل گیر ہونا) بغیر کفارے کے مظاہر کا اپنی عورت سے جماع کرنا ‘ اجنبی عورت سے خلوت کرنا ‘ عورت کا بغیر محرم اور خاوند کے سفر کرنا یا بغیر ثقہ عورتوں کے سفر کرنا۔ (یہ مذہب شافعی کے ساتھ خاص ہے) بخش ‘ احتکار ‘ مسلمان کی بیع پر بیع کرنا ‘ اسی طرح مسلمان کی قیمت پر قیمت لگانا اور منگنی پر منگنی کرنا ‘ شہری کا دیہاتی سے بیع کرنا ‘ دیہاتی قافلہ سے بیع کے لئے ملاقات کرنا ‘ تصریہ (بیع کے لئے تھنوں میں دودھ روک لینا) بغیر عیب بیان کئے ہوئے عیب دار چیز کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت کتا رکھنا ‘ مسلمان کا کافر کو قرآن مجید اور دینی کتابوں کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت نجاست کو بدن پر لگانا اور بلاضرورت خلوت میں اپنی شرمگاہ کھولنا۔ 

عدالت (نیک چلنی) میں صغائر سے بالکل اجتناب کرنا شرط نہیں ہے لیکن صغیرہ پر اصرار یعنی بلاتوبہ بار بار صغیرہ کا ارتکاب کرنا صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے۔ (روضۃ الطالبین وعمدۃ المقتین ج ١٢ ص ٢٢٥۔ ٢٢٢ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٥ ھ) 

علامہ شمس الدین مقدسی محمد بن مفلح حنبلی متوفی ٧٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر حد ہو یا اس پر وعید ہو یا اس پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی کی گئی ہو جس طرح حدیث میں ہے : من غش فلیس منا “۔ ” جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ یعنی یہ وہ کام ہے جو ہمارے احکام میں سے نہیں ہے یا ہمارے اخلاق میں سے نہیں ہے یا ہماری سنت میں سے نہیں ہے ‘ اور فصول ‘ غتیہ اور مستوعب میں ہے کہ غیبت اور چغلی صغائر میں سے ہے اور قاضی نے معتمد میں کہا ہے کہ کبیرہ وہ ہے جس کا عقاب زیادہ ہو اور صغیرہ وہ ہے جس کا عقاب کم ہو۔ ابن حامد نے کہا ہے کہ صغائر خواہ کسی نوع کے ہوں وہ تکرار سے کبیرہ ہوجاتے ہیں اور ہمارے فقہاء نے کہا ہے کہ تکرار سے صغیرہ کبیرہ نہیں ہوتا جیسا کہ جو امور غیر کفر ہوں وہ تکرار سے کفر نہیں ہوتے۔ (کتاب الفروع ج ٦ ص ٥٦٥۔ ٥٦٤ مطبوعہ عالم الکتب بیروت ‘ ١٣٨٨ ھ) 

علامہ منصور بن یونس بن ادریس بھوتی حنبلی متوفی ١٠٤٦ ھ بیان کرتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ ہے جس پر دنیا میں حد ہو اور آخرت میں وعید ہو جیسا کہ سود کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اور شیخ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جس فعل پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی ہو۔ 

جھوٹ بولنا گناہ صغیرہ ہے بشرطیکہ اس پر دوام اور استمرار نہ ہو البتہ جھوٹی گواہی دینا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھنا یا کسی پر جھوٹی تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے اور صلح کرانے کے لئے بیوی کو راضی کرنے کے لئے اور جنگی چال کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ علامہ ابن جوزی نے کہا ہے ہر وہ نیک مقصد جو جھوٹ کے بغیر حاصل نہ کیا جاسکتا ہو اس کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ غیبت میں اختلاف ہے علامہ قرطبی نے اس کو کبائر میں شمار کیا ہے اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ یہ صغیرہ ہے۔ صاحب الفصول ‘ صاحب الغنیہ اور صاحب المستوعب کی یہی تحقیق ہے۔ امام داؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق بلاعلم کچھ کہنا گناہ کبیرہ ہے ‘ ضرورت کے وقت علم چھپانا گناہ کبیرہ ہے ‘ فخر اور غرور کے لئے علم حاصل کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ جاندار کی تصویر بنانا گناہ کبیرہ ہے ‘ کاہن اور نجومی کے پاس جانا اور ان کی تصدیق کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ‘ بدعت کی دعوت دینا ‘ خیانت کرنا ‘ بدفالی کرنا ‘ بدفالی نکالنا ‘ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا ‘ وصیت میں زیادتی کرنا ‘ خمر بیچنا ‘ سودی معاملہ لکھنا اور سود پر گواہی دینا کبیرہ ہے ‘ دو چہروں والا ہونا یعنی بظاہر دوستی رکھنا اور بباطن دشمنی رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ خود کو کسی اور نسب کی طرف منسوب کرنا ‘ جانور سے بدفعلی کرنا ‘ بلاعذر جمعہ ترک کرنا ‘ نشہ آور اشیاء استعمال کرنا ‘ نیکی کرکے احسان جتلانا ‘ لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کی باتیں کان لگا کر سننا ‘ کسی پر بلا استحقاق لعنت کرنا ‘ غیر اللہ کی قسم کھانا یہ تمام امور گناہ کبیرہ ہیں ‘ اور جو مسائل اجتہادیہ ہیں ان کو کسی مجتہد کی اتباع میں کرنا ‘ معصیت نہیں ہے ‘ مثلا امام ابوحنیفہ کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کرنا جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں ہے اور امام مالک کے نزدیک بغیر گواہوں کے نکاح جائز ہے اور باقی ائمہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ علامہ بھوتی حنبلی کے ذکر کردہ کبیرہ گناہوں میں سے ہم نے ان گناہوں کو حذف کردیا جن کو اس سے پہلے ہم علامہ نووی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں۔ (کشاف القناع ج ٦ ص ٤٢٢۔ ٤١٩‘ ملخصا مطبوعہ عالم الکتب بیروت) 

اصرار سے گناہ صغیرہ کے کبیرہ ہونے کی وجہ : 

علامہ شامی اور دوسرے فقہاء نے لکھا ہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے ایک علمی مجلس میں مجھ سے ایک فاضل دوست نے سوال کیا کہ صغیرہ پر اصرار کرنا دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہے اس لئے یہ اسی درجہ کی معصیت ہونی چاہیے اور جب یہ پہلے صغیرہ تھا تو دوبارہ اس کو کرنے سے یہ گناہ کبیرہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے اس کے جواب میں کہا : اگر گناہ صغیرہ کرنے کے بعد انسان نادم ہو اور اس پر استغفار کرے اور پھر دوبارہ شامت نفس سے وہ صغیرہ گناہ کرلے تو یہ اصرار نہیں ہے تکرار ہے اور گناہ صغیرہ کرنے کے بعد نادم اور تائب نہ ہو اور بلاجھجک اس گناہ کا اعادہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے اور یہ کبیرہ اس وجہ سے ہوگیا کہ اس نے اس گنہا کو معمولی سمجھا اور اس میں احکام شرعیہ کی تخفیف اور بےوقعتی ہے اور شریعت کی تخفیف اور بےوقعتی گناہ کبیرہ ہے ‘ جبکہ شریعت کی توہین کفر ہے۔ فرض اور واجب تو دور کی بات ہے جو فعل مسنون ہو اس کی تخفیف اور بےوقعتی بھی گناہ کبیرہ ہے ‘ اور اس کی توہین کرنا کفر ہے۔ العیاذ باللہ ! 

اس کے بعد اس بحث کو لکھتے وقت جب میں نے اس سوال پر غور کیا تو مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ قرآن اور حدیث میں معصیت پر اصرار کرنے کو کبیرہ قرار دیا ہے خواہ وہ کسی درجہ کی معصیت ہو معصیت پر نفس اصرار گناہ کبیرہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ اوظلموا انفسھم ذکرواللہ فاستغفروا الذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون، اولئک جزآؤھم مغفرۃ من ربھم وجنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ونعم اجر العاملین “۔ (ال عمران : ١٣٦۔ ١٣٥) 

ترجمہ : اور جب وہ لوگ بےحیائی کا کام یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ لوگ جان بوجھ کر اپنے کئے (یعنی گناہوں) پر اصرار نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ جنات ہیں جن کی نیچے دریا جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور (نیک) کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اخروی انعامات کو عدم اصرار معصیت پر مرتب فرمایا ہے اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ معصیت پر اصرار کرنا اخروی عذاب کو مستلزم ہے اور اس سے بھی زیادہ صریح یہ آیت ہے۔ : 

(آیت) ” عفا اللہ عما سلف ومن عاد فینتقم اللہ منہ ‘ واللہ عزیز ذوانتقام “۔ (المائدہ : ٩٥) 

ترجمہ : جو ہوچکا اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور جس نے دوبارہ یہ کام کیا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ بڑا غالب ہے بدلہ لینے والا۔ 

ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصرار پر وعید فرمائی ہے اور وعید گناہ کبیرہ پر ہوتی ہے۔

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں کے لئے عذاب ہو جو اپنے کئے ہوئے (گناہ) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے (گناہ پر) استغفار کرلیا تو یہ اس کا اصرار نہیں ہے خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ گناہ کرے۔ (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ١٥١٤) 

اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ گناہ کے بعد استغفار کرلیا جائے تو یہ تکرار ہے اور گناہ کے بعد پھر گناہ کرے اور توبہ نہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ 

علامہ قرطبی لکھتے ہیں : کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : 

استغفار کے ساتھ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ گناہ صغیرہ نہیں رہتا (یعنی کبیرہ ہوجاتا ہے) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٥٩‘ مطبوعہ ایران) 

اصرار کے ساتھ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے اس پر یہ حدیث صراحتا دلالت کرتی ہے علامہ آلوسی امام بیہقی کے حوالے سے لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے موقوفا روایت ہے کہ جس گناہ پر بندہ اصرار کرے (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرے) وہ گناہ کبیرہ ہے اور جب بندہ کسی گناہ پر توبہ کرلے تو وہ گناہ کبیرہ نہیں ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٦٢‘ مطبوعہ بیروت) 

قرآن مجید کی آیات ‘ احادیث اور آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ گناہ پر اصرار کرنا (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرنا) اس گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے خواہ وہ گناہ کسی درجہ کا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد توبہ نہ کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص اس گناہ کو معمولی اور بےوقعت سمجھتا ہے اور اس کا یہ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منع کرنے کو اہمیت نہیں دیتا اور ان کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا اور شریعت کو معمولی اور بےوقعت سمجھنا اور اس سے لاپرواہی برتنا یہی گناہ کبیرہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.