وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑنے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو ‘ اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشو) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو اور ان کو (تادیبا) مارو پس اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔ (النساء : ٣٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : اے لوگو ! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امان میں حاصل کیا ہے اور اللہ کی اجازت سے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اس شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کانشان نہ پڑے اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٢١٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلیمان بن عمرو اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ والوداع میں تھے آپ نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : سنو عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو وہ تمہارے پاس تمہاری قید میں ہیں تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو ‘ ہاں اگر وہ کھلی بےحیائی کریں تو ان کو ان کے بستروں میں اکیلا چھوڑ دو اور ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کا اثر ظاہر نہ ہو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ تلاش نہ کرو سنو تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے ‘ تمہاری عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ آنے دیں اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ان کو تمہارے گھروں میں آنے نہ دیں ‘ اور سنو تمہاری عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو اچھا پہناؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء :) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٥١) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زیاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مارا نہ کرو ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ بدخلقی اور بدزبانی کرتی ہیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مارنے کی اجازت دی پھر بہت ساری عورتوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر جا کر اپنے خاوندوں کی شکایت کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بہت ساری عورتوں نے اپنے خاوندوں کی شکایت کی ہے اور یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص سے اس پر باز پرس نہیں ہوگی کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے پھر دن گزرنے کے بعد اس سے جماع کرے۔ (صحیح البخاری :‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق فقہاء کا نظریہ : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے اصحاب (احناف) نے یہ تصریح کی ہے کہ چار صورتوں میں مرد عورت کو مار سکتا ہے۔

(١) جب خاوند چاہتا ہو کہ بیوی بناؤ سنگھار کرے اور بیوی میک اپ نہ کرے۔ 

(٢) خاوند بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے۔ 

(٣) جب وہ نماز نہ پڑھے ایک قول یہ ہے کہ جب وہ غسل نہ کرے۔ 

(٤) جب وہ بغیر عذر شرعی کے گھر سے باہر نکلے ‘ ایک قول ہے کہ جب وہ خاوند کو ناراض کرے ‘ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت زبیر بن العوام کی چوتھی بیوی تھی جب وہ کسی بیوی سے ناراض ہوتے تو وہ اس کو کھونٹی کی لکڑی سے مارتے حتی کہ وہ لکڑی ٹوٹ جاتی ‘ واضح رہے کہ بیوی کی اذیتوں کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا اس کو مارنے سے افضل ہے الا یہ کہ کوئی ناقابل برداشت معاملہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ‘ ٢٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشوہر) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا۔ 

اختلاف زن و شوہر میں دونوں جانب سے مقرر کردہ منصف آیا حاکم ہیں یا وکیل : 

امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک یہ منصف حاکم ہیں اور ان منصفوں کو از خود یہ اختیار ہے کہ وہ مناسب جانیں تو خاوند اور اس کی بیوی کو نکاح پر برقرار رکھیں یا ان میں سے کسی ایک کے ذمہ کسی چیز کی ادائیگی لازم کردیں یا مناسب جانیں تو ان کا نکاح فسخ کردیں ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک یہ منصف وکیل ہیں اور ان کو اختیار نہیں ہے الا یہ کہ زوجین ان کو فسخ نکاح کا اختیار بھی تفویض کردیں۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اور مرد کی طرف سے جو دو شخص مقرر کئے جائیں وہ ان کے وکیل ہوں گے اور بہ حیثیت وکیل کے ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کے حکم کے بغیر از خود ان کا نکاح فسخ کردیں۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ١٩٠ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

یہ دونوں حاکم زوجین کے وکیل ہیں اور ان کے فیصلہ میں ان دونوں کی رضا کا اعتبار ہوگا یہ امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ حاکموں کے فیصلہ کے لئے زوجین کی رضا کی ضرورت نہیں ہے۔ 

(زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٧٨۔ ٧٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں : 

جن دو شخصوں کو بھیجا جائے گا اس کے متعلق دو قول ہیں وہ وکیل ہیں اور ان کو از خود زوجین میں تفریق کا اختیار نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حاکم ہیں اور ان کا اختیار ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھا ہے کہ زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ یہ وکیل ہیں۔ (روضۃ الطالبین ج ٥ ص ٦٧٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے صحیح روایت یہ ہے کہ یہ دونوں شخص حاکم ہیں اور جب یہ دونوں شخص زوجین کے درمیان تفریق کردیں تو تفریق واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ نکاح سے مقصود الفت اور حسن معاشرت ہے اور وہ ان کے نزدیک نہیں پائی گئی (الی قولہ) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر خاوند کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر عورت کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ہم عورت کو مرد کا تابع کریں گے اور اگر دونوں کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو بھی ان میں تفریق کردی جائے گی اور مرد کو بعض مہر ادا کرنا ہوگا نہ کہ پورا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥٤١۔ ٥٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جہاں دونوں حاکم زوجین کے درمیان تفریق کردیں گے تو یہ طلاق بائن کے قائم مقام ہے اور حاکموں کا منصب طلاق واقع کرنا ہے وکالت کرنا نہیں ہے ‘ امام مالک ‘ امام اوزاعی اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا “۔ ” ایک حاکم مرد کی طرف سے بھیجو اور ایک حاکم عورت کی طرف سے بھیجو “ یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ یہ دونوں قاضی اور حاکم ہیں وکیل یا شاہد نہیں ہیں ‘ اور وکیل کی شریعت میں اور تعریف ہے اور حاکم کی شریعت میں اور تعریف ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی تعریف الگ الگ بیان کردی ہے تو کسی شخص یا عالم کے لئے یہ کس طرح جائز ہوگا کہ وہ ایک لفظ کی تعریف کو دوسرے لفظ میں محمول کردے (اس کے بعد علامہ قرطبی نے اپنے موقف پر سنن دارقطنی سے حدیث پیش کی) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٧٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) 

فقہاء مالکیہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کے ایک عورت اور اس کا خاوند آئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی ان لوگوں نے عورت کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا اور مرد کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے ان دونوں حاکموں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تم دونوں پر کیا فرض ہے ؟ اگر تمہاری رائے میں ان دونوں میں تفریق ہونی چاہیے تو تم ان میں تفریق کردو اور اگر تمہاری رائے میں ان کو اکٹھا ہونا چاہیے تو تم ان کو اکٹھا کردو خاوند نے کہا رہی فرقت تو میں اس کو اجازت نہیں دیتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا بخدا تم یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک تم اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی نہ ہوجاؤ وہ تمہارے حق میں ہو یا تمہارے خلاف ‘ عورت نے کہا میں اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی ہوں خواہ وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١١٨٨٣‘ جامع البیان : ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦۔ ٣٠٥) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں حضرت علی (رض) نے خبر دی ہے کہ حاکموں کا فیصلہ اس وقت تک معتبر نہیں ہوگا جب تک کہ دونوں فریق اس فیصلہ پر راضی نہ ہوجائیں ‘ اسی لئے ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حاکموں کا تفریق کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ خاوند اس پر راضی نہ ہوجائے کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اگر خاوند اس کا اقرار کرلے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو ان کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور نہ قاضی جانبین سے حاکم بنانے سے پہلے اس کو طلاق پر مجبور کرے گا ‘ اسی طرح سے اگر عورت خاوند کی نافرمانی کا اقرار کرلے تو قاضی اس کو خلع پر مجبور کرے گا نہ مہر واپس کرنے پر ‘ اور جب جانبین سے حاکم مقرر کرنے سے پہلے یہ حکم ہے تو جانبین سے حاکم مقرر کرنے کے بعد بھی یہی حکم ہوگا اور خاوند کی مرضی کے بغیر ان حاکموں کا اس کی بیوی کو طلاق دینا صحیح نہیں ہوگا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٩١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام مالک کی طرف سے یہ جواب دیا جائے گا کہ حضرت علی (رض) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بیوی اور خاوند کے جھگڑے میں حاکم بنانے کا معنی ہی یہ ہے کہ یہ اختیار ہے کہ فریقین کے بیان لینے کے بعد وہ اپنی صوابدید سے فیصلہ کرے خواہ نکاح برقرار رکھے خواہ نکاح و فسخ کردے ‘ اور حاکم بنائے جانے کے بعد بھی ان کو یہ اختیار نہ ہو اور طلاق دینے کا اختیار خاوند کے پاس ہی رہے تو پھر ان کی حیثیت حاکم کی نہیں وکیل کی ہوگی ‘ حالانکہ قرآن مجید نے ان کو حاکم فرمایا ہے نیز حسب ذیل آثار بھی امام مالک کے موید ہیں : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو سلمہ بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم میں تفریق کرنا چاہیں تو تفریق کردیں اور اگر ان کو ملانا چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

شعبی کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم چاہیں تو ان میں تفریق کردیں اور اگر چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور حضرت معاویہ (رض) دونوں کو حاکم بنایا گیا ‘ ہم سے کہا گیا کہ اگر تمہاری رائے ان کو جمع کرنا ہو تو ان کو جمع کردو اور اگر تمہارے رائے ان میں تفریق کرنا ہو تو ان میں تفریق کردو ‘ معمر نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ان دونوں کو حضرت عثمان (رض) نے بھیجا تھا۔ (المصنف رقم الحدیث : ٥١٢۔ ٥١١‘ جامع البیان ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦) 

اگر خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف کو دونوں طرف کے وکیل یا منصف ختم کرا سکیں تو جو فریق مظلوم ہو اس کو داد رسی کے لئے عدالت میں جانا چاہیے۔ 

اگر شوہر ‘ بیوی کو خرچ دے نہ طلاق تو آیا عدالت اس کا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ 

ہمارے زمانہ میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کا خرچ نہیں دیتا اور نہ اس کو طلاق دیتا ہے بیوی عدالت میں مقدمہ دائر کردیتی ہے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت گواہوں کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلہ کرکے اس نکاح کو فسخ کردیتی ہے اور اس کو موجودہ مجسٹریٹ اپنی اصطلاح میں خلع سے تعبیر کرتے ہیں ‘ اب سوال یہ ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ از روئے شرع قابل عمل ہے یا نہیں۔ 

امام دارقطنی متوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے عیال کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی جو کہتی ہے مجھ کو کھلاؤ مجھ و علیحدہ کردو۔ (سنن دارقطنی ج ٣ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان) 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

جو شخص بیوی کا نفقہ ادا کرنے سے عاجر ہو اس کے بارے میں امام مالک ‘ امام شافعی اور احمد کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں تفریق نہیں کی جائے گی جمہور کی دلیل یہ ہے کہ جب شوہر نامرد ہو تو بالاتفاق ان میں تفریق کردی جاتی ہے اور جب کہ نفقہ نہ دینے کا ضرر مباشرت نہ کرنے کے ضرر سے زیادہ ہے تو اس میں بہ طریق اولی تفریق ہونی چاہیے (کیونکہ شوہر کے جماع نہ کرنے پر تو صبر ہوسکتا ہے لیکن بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ) ۔ (بدایۃ المجتہد ج ٣ ص ٣٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ المہذب مع شرح المہذب ج ١٨ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو البرکات سیدی احمد دردیر مالکی لکھتے ہیں : 

جب عورت فسخ نکاح کا ارادہ کرے اور حاکم کے پاس مقدمہ پیش کرے تو اگر کا خاوند کا افلاس ثابت نہ ہو تو حاکم خاوند کو کھانے کا خرچ اور کپڑے دینے کا حکم دے جبکہ عورت نے نفقہ نہ دینے کی شکایت کی ہو یا اس کو طلاق دینے کا حکم دے یا کہے کہ یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے گا۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوقی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اب رہا یہ سوال کہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق جو اقول پیش کئے گئے ہیں ان میں خاوند عدالت میں حاضر ہوتا ہے اور ہمارے زیر بحث جو صورت ہے اس میں خاوند عدالت میں حاضر نہیں ہوتا اور غائب ہوتا ہے تو غائب کے خلاف جو فیصلہ کیا جائے گا وہ کیسے نافذ ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ۔ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اگر غائب کے خلاف دلیل قائم کردی گئی اور قاضی گمان غالب یہ ہے کہ یہ حق ہے جھوٹ نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حیلہ ہے تو غائب کے خلاف یا اس کے حق میں فیصلہ کردینا چاہیے اسی طرح مفتی بھی یہ فتوی دے سکتا ہے تاکہ حرج نہ ہو اور لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں ‘ اور اس میں ضرورت ہے علاوہ ازیں یہ مسئلہ مجہتدفیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے اور ہمارے اصحاب کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی طرف سے ایک وکیل کرلیا جائے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غائب کی رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کمی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں اس کو برقرار رکھا گیا ہے اور عنقریب مسخر میں اس کا ذکر ہوگا اسی طرح فتح القدیر کے باب المفقود میں ہے کہ جب قاضی غائب کے خلاف یا اس کے حق میں کوئی مصلحت دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کردے گا اور اس کا حکم نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ خواہ قاضی حنفی ہو اور خواہ ہمارے زمانہ میں ہو اور یہ قاعدہ پہلے قاعدہ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس قاعدہ کو ضرورت اور مصلحت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

عدالت کے فسخ نکاح پر اعتراضات کے جوابات : 

کسی مظلوم اور نان ونفقہ سے محروم عورت کے حق میں جب عدالت فسخ نکاح کردیتی ہے اور اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو اس پر بعض علماء کرام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر عدالت کے فیصلہ کی بناء پر اس نکاح کے جواز کا دروازہ کھول دیا جائے تو جو عورت بھی اپنے خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے گی وہ عدالت میں جھوٹا دعوی دائر کر کے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گی۔ اس اعتراض کے جواب میں پہلے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرہ کے دروازہ پر کچھ لوگوں کے جھگڑنے کی آواز سنی آپ ان کے پاس باہر گئے اور فرمایا میں صرف بشر ہوں (خدا نہیں ہوں) میرے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا فوقف زیادہ وضاحت سے پیش کرے اور میں اس کو سچا گمان کرکے اس کے حق میں فیصلہ کردوں سو (بفرض محال) اگر میں کسی شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ صرف آگ کا ٹکڑا ہے وہ اس کو لے یا ترک کردے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٤٥٨‘ ٧١٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٣) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

یعنی میں (ازخود) غیب اور مخفی امور کو نہیں جانتا جیسا کہ حالت بشریہ کا تقاضا ہے اور آپ صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے اور مخفی چیزیں اللہ کی ولایت میں تھیں ‘ اور اگر اللہ چاہتا تو آپ کو مخفی امور پر مطلع فرما دیتا حتی کہ آپ (صورت واقعیہ کے مطابق) یقین کے ساتھ فیصلہ فرماتے لیکن اللہ نے آپ کی امت کو آپ کی اقتداء کا حکم دیا اس لئے آپ نے ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ فرمایا تاکہ امت کو آپ کی اتباع کرنے میں آسانی اور اطمینان ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٥) 

اسی طرح حافظ ان حجر شافعی ٨٥٢ ھ نے لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ١٧٥) 

اس حدیث اور اس کی شرح سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت خاوند کے خلاف جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتی ہے تو عدالتتو بہرحال ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرے گی لیکن اس جھوٹ کا وبال اس عورت کے سر پر ہوگا۔ ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرنے کے متعلق ایک اور حدیث یہ ہے : جو لوگ غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ نے واپس آکر ان سے باز پرس کی تو اسی (٨٠) سے کچھ زیادہ لوگ (منافقین) آئے انہوں نے مختلف بہانے کئے اور قسمیں کھائیں سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ظاہر کردہ بہانوں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطنی امور کو اللہ کے سپرد کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤١٨) 

دوسرا جواب یہ ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک صرف حجت ظاہریہ کا اعتبار ہے : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جھوٹے گواہوں کے ساتھ ظاہرا و باطنا عقود اور فسوخ میں قضا نافذ ہوجاتی ہے بہ شرطی کہ قضا کے محل میں اسی قضا کی صلاحیت ہو اور قاضی کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم نہ ہو۔ (درمختار علی ہامش ردالمختار ج ٤ ص ٣٣٣) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

فسوخ سے مراد ایسافیصلہ ہے جو عقد حکم کو فسخ کردے ‘ لہذایہ طلاق کو بھی شامل ہے اور اس کی فروع میں سے یہ ہے کہ ایک عورت نے دعوی کیا کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور خاوند اس کا منکر ہو اور اس عورت نے اپنے دعوی پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے ان میں علیحدگی کا فیصلہ کردیا ‘ اس عورت عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز ہے خواہ اس کو حقیقت حال کا علم ہو اور ان دو گواہوں میں سے بھی اگر کوئی اس عورت سے نکاح کرے تو عدت کے بعد اس عورت سے نکاح اور مباشرت کرنا جائز ہے اور اس کے پہلے خاوند کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے اور اس عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو وطی کرنے کا موقع دے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جس عورت پر اس کا خاوند ظلم کرے اس کو نہ گھر میں رکھے اور نہ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچ دے اور نہ اس کو طلاق دے اور وہ عورتت جوان ہو وہ اپنے معاش کے حصول کے لئے محنت مزدوری یا ملازمت کرے تو اس کو اپنی عزت اور عفت کے لٹ جانے کا بھی خطرہ ہو (اور ایسے واقعات ہمارے ہاں ہوتے رہتے ہیں) تو اس صورت حال کے مطابق اگر عدالت اس کے فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے تو یہ ائمہ ثلاثہ کے مطابق ایک جائز عمل ہے ‘ اب اگر کوئی عورت اس قانون سے فائدہ اٹھا کر گواہوں کے ذریعہ شوہر کے آباد نہ کرنے کی فرضی داستان سنا کر اپنے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کرا لے تو اس کا وبال اس عورت کے سر ہوگا اور اس کے اس جھوٹ کی وجہ سے اس جائز طریقہ کو ترک نہیں کیا جائے گا اس کی نظر یہ ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن حجر نے کہا ہے کہ زیارت قبور کو اس لئے ترک نہیں کیا جائے گا کہ زیارت قبور میں بہت سے منکرات اور مفاسد (ناجائز اور برے کام) مثلا مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور دوسرے امور (مثلا قبروں پر سجدہ کرنا) داخل ہوگئے ہیں کیونکہ عبادات کو ان کاموں کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ انسان پر لازم ہے کہ ان عبادات کو بجا لائے اور ان غلط کاموں کا رد کرے اور حسب استطاعت ان بدعات کو زائل کرے (رد المختار ج ١ ص ‘ ٦٠٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) 

ثانیا : یہ کہ جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں عدالت سے فیصلہ کرانا صرف فسخ نکاح کے عقد کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے۔ ہر قسم کے دیوانی اور فوجداری مقدمات میں پیشہ ور جھوٹے گواہ عدالت کے باہر مل جاتے ہیں اور ان کی بناء پر بہت سے مقدمات میں ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کردیا جاتا ہے تو اب اگر کسی مقدمہ میں ظاہری شہادت کی بناء پر عدالت کے فیصلہ کو اس لئے معتبر نہ مانا جائے کہ یہ شہادت فی الواقع جھوٹی تھی تو پھر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ معتبر نہیں رہے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ جھوٹی گواہی کی بناء پر ہو اور اس کا حل یہی ہے کہ عدالت کا کام ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کرنا ہے اگر کسی فریق نے جھوٹے شواہد پیش کئے ہیں تو اس کا گناہ اس کے ذمہ ہوگا اور حقیقت کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے۔ 

قضاء علی الغائب کے متعلق مذاہب ائمہ : 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک غائب کے خلاف فیصلہ کرنا جائز ہے انہوں نے کہا جو دور دراز غائب ہو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ نے کہا کہ غائب کے خلاف مطلقا فیصلہ نہیں کیا جائے گا (بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جس طرح حاضر کے خلاف ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح غائب کے خلاف بھی ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے (روضۃ الطالبین ج ٨ ص ١٥٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابواسحق ابراہیم بن علی فیروزآبادی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ایک شخص قاضی کے سامنے پیش ہو اور شہر سے غائب شخص کے خلاف دعوی کرے یا شہر میں حاضر ہو لیکن بھاگ جائے یا شہر میں حاضر ہو اور چھپ جائے اور اس کو حاض کرنا مشکل ہو تو اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ نہ ہوں تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس دعوی کا سننا غیر مفید ہے ‘ اور اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ ہوں تو اس کا دعوی سنا جائے گا اور اس کے گواہوں کو بھی سنا جائے گا کیونکہ اگر ہم اس کے دعوی کو نہ سنیں تو اس مدعی علیہ کا غائب ہونا یا شہر میں چھپ جانا لوگوں کے حقوق ساقط کرنے کا سبب ہوگا جب کہ ان حقوق کی حفاظت کے لئے حاکم کو نصب کیا جاتا ہے۔ (المہذب ج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب بیروت ‘ شرح المہذب ج ٢٠ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

جس غائب شخص کے خلاف کوئی حق ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا (الی قولہ) غائب کے خلاف صرف آدمیوں کے حقوق میں فیصلہ کیا جائے گا البتہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ حدود میں اسقاط کی گنجائش ہے اگر کسی غائب شخص کے چوری کرنے پر گواہ قائم ہوں تو اس سے مال واپس لینے کا حکم دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں دیاجائے۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ کی تحقیق یہ ہے کہ جو شخص مجلس عدالت سے غائب ہو یا اس شہر سے غائب ہو اور اس کے خلاف گواہ قائم ہوں تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا خواہ اس مقدمہ کا تعلق آدمیوں کے حقوق سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی حدود سے۔ (محلی ابن حزم ج ٩ ص ٣٦٦) 

قضاء علی الغائب کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ابو سفیان ایک کم خرچ کرنے والے انسان ہیں اور مجھے ان کے مال سے خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کے مال سے اتنی مقدار لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے دستور کے مطابق کافی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٤) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابو سفیان (رض) اس مجلس سے غائب تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ‘ امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان ہی یہ قائم کیا ہے باب القضاء علی الغائب۔ اس حدیث میں مالی معاملات میں غائب کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے فسخ نکاح میں غائب کے خلاف فیصلہ کیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے مفقود (لاپتہ) شخص کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ اس کی بیوی چار سال انتظار کرے اور اس کے بعد چار ماہ دس دن (عدت وفات گزارے) پھر اگر اس کا پہلا خاوند آجائے تو اس کو اپنے دئیے مہر اور بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ (المصنف ‘ رقم الحدیث : ١٢٣١٧) 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند لاپتہ ہوجائے اور اس کو معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر وہ حلال ہوجائے گی۔ 

امام مالک فرماتے ہیں کہ جب اس نے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا تو پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا۔ 

امام مالک فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور وہ غائب ہوگیا اور اس حال میں اس نے اس طلاق سے رجوع کرلیا عورت کو طلاق کی خبر پہنچی اور اس کے رجوع کی خبر نہیں پہنچی اور اس نے دوسری جگہ شادی کرلی حضرت عمر (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا جب اس عورت نے نکاح کرلیا تو اب پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا خواہ دوسرے خاوند نے اس سے دخول کیا ہو یا نہیں۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢١٩) 

ان دو حدیثوں میں فسخ نکاح اور طلاق کے معاملہ میں قضاء علی الغائب کا ثبوت ہے۔ 

امام شافعی ‘ امام مالک ‘ اور امام احمد کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے لیکن فقہاء احناف نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر ضرورت کی بناء پر کوئی حنفی قاضی یا مفتی ائمہ ثلاثہ کے اس قول پر فتوی دے تو یہ جائز ہے اور جس عورت کو اس کا خاوند تنگ کرنے کے لئے نہ خرچ دیتا ہو نہ طلاق دیتا ہو اور اپنی عزت اور عصمت کی حفاظت کے ساتھ ملازمت کرکے اس کے لئے روٹی کمانا مشکل اور دشوار ہو اور اندریں صورت وہ عدالت میں اپنا کیس پیش کرے ‘ خاوند حاضر نہ ہو اور عدالت خاوند کے خلاف یک طرفہ ڈگری دے کر خلع کردے (یعنی نکاح فسخ کردے) تو یہ فیصلہ صحیح ہے اور عدت کے بعد اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا صحیح ہے۔ 

دفع حرج ‘ مصلحت اور ضرورت کی بناء پرائمہ ثلاثہ کے مذہب پر فیصلہ اور فتوی کا جواز :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

جو فقہاء احناف قضاء علی الغائب کو جائز کہتے ہیں وہ یہ فرق نہیں کرتے کہ حنفی قاضی یہ فیصلہ کرے یا غیر حنفی فیصلہ کرے ‘ قنیہ میں بھی مذکور ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا حنفی ہونا شرط نہیں ہے ‘ اس تصریح سے علامہ رملی اور علامہ مقدسی کا یہ کہنا غلط ہوجاتا ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا مجوزین میں سے ہونا شرط ہے اور یہی صاحب البحر الرائق کا نظریہ ہے ‘ صاحب البحر نے قضاء علی الغائب کو مفقود کے ساتھ خاص کیا ہے ‘ علامہ رملی نے ان کا رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں عموم ہے ‘ جامع الفصولین میں مذکور ہے کہ مسئلہ میں فقہاء کی آراء مضطرب ہیں پس میرے نزدیک یہ ظاہر ہے کہ تمام مقدمات میں غور وفکر کیا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے اور حرج اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے اور اگر جواز کا تقاضا ہو تو اس کو جائز کہا جائے ورنہ اس کو ناجائز کہا جائے ‘ مثلا ایک شخص نے اپنی بیوی کو چند نیک لوگوں کے سامنے طلاق دی پھر وہ شہر سے غائب ہوگیا اور اس کی جگہ کا پتہ نہیں یا پتہ تو ہے لیکن اس کو حاضر کرنا مشکل ہے یا عورت یا اس کے وکیل کا اس کے پاس جانا مشکل ہے کیونکہ وہ جگہ دور ہے یا کوئی اور مانع ہے ‘ اسی طرح اگر مقروض غائب ہوجائے اور اس کا شہر میں مال ہو ‘ اس قسم کی مثالوں میں اگر قاضی کے سامنے غائب کے خلاف گواہ پیش کردیئے جائیں اور قاضی کا ظن غالب یہ ہو کہ یہ گواہ سچے ہیں اور ان میں کوئی جھوٹ یا حیلہ نہیں ہے تو قاضی کو چاہیے کہ غائب کے خلاف فیصلہ کر دے اور مفتی کو بھی چائیے کہ حرج اور حاجت کو دور کرنے کے لئے اس کے جواز کا فتوی دے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع ہونے سے محفوظ رہیں جب کہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ اس کو جائز کہتے ہیں اور ہمارے اصحاب (احناف) کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی جانب سے ایک ایسا وکیل کرلیا جائے جس کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ غائب کی جانب سے مکمل رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے اسی طرح مسخر میں ہے اور فتح القدیر کے باب المفقود میں بھی یہی مذکور ہے کہ غائب کے خلاف قضاء جائز نہیں لیکن جب قاضی غائب کے حق میں اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں مصلحت دیکھے تو فیصلہ کردے اور یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا ظاہر معنی یہ ہے کہ خواہ قاضی حنفی ہو۔ (درالمختار علی الدر المختار ج ٤ ص ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جو شخص اپنی بیوی کو نہ خرچ دے نہ آزاد کرے اس کے متعلق شریعت کا حکم : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارالتعتدوا “۔ (البقرہ : ٢٣١) 

ترجمہ : اپنی بیویوں کو حسن سلوک کے ساتھ رکھو ورنہ ان کو معروف طریقہ سے علیحدہ کردو اور ان پر زیادتی کرنے اور ضرر پہنچانے کی نیت سے ان کو اپنے پاس نہ رکھو۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ خاوند کے پاس جب بیوی کو نفقہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس کا چاہیے کہ وہ بیوی کو طلاق دے دے ‘ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ بیوی کو معروف طریقہ سے علیحدہ کرنے کی حد سے نکل گیا پھر حاکم کو چاہیے کہ وہ اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے ‘ کیونکہ جو شخص اس کو خرچ دینے پر قادر نہیں ہے اس کے نکاح میں رہنے سے اس عورت کو ضرر لاحق ہوگا اور بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور ‘ ابو عبید ‘ یحییٰ بن القطان اور عبدالرحمن بن مہدی کا یہی قول ہے ‘ اور صحابہ میں سے حضرت عمر (رض) ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے سعید بن مسیب نے کہا یہی سنت ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے : (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١٥٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :

حاکم پر لازم ہے کہ وہ خاوند سے کہے یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی کو طلاق واقع کردے۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوتی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ بیروت) 

سو اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے خلاف یہ مقدمہ دائر کرے تو کہ اس کا خاوند اس کو خرچ دیتا ہے نہ اس کو طلاق دیتا ہے اور اس پر گواہ قائم کردے اور خاوند بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دے ‘ خواہ وہ قاضی حنفی ہو یا شافعی یا مالکی یا حنبلی : 

مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی رئیس دارافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی لکھتے ہیں : 

ہاں شوہر کا ظلم و زیادتی اگر عدالت میں شرعی گواہوں سے ثابت ہوجائے اور شوہر شرعی طریقہ سے اسے آباد کرنے پر رضامند نہیں ہوتا نہ اسے طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع پر رضا مند ہوتا ہے تو ان مجبوریوں کے بعد عدالت گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر یک طرفہ فسخ نکاح کا اختیار رکھتی ہے۔ (جواہر الفتاوی ج ٣ ص ٣٢٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) 

مفتی رشید احمد کراچی نے بھی اسی صورت میں عدالت کے فیصلہ کو نافذ العمل قرار دیا ہے۔ (احسن الفتاوی ج ٥ ص ٤١١۔ مطبوعہ کراچی) 

میں نے اس مسئلہ کو شرح صحیح مسلم میں بھی لکھا تھا اور یہاں مزید تحقیق کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں جب کوئی مظلوم عورت ہمارے زمانہ کے مفتیوں کے پاس جاتی ہے جس کو خاوند نہ خرچ دیتا ہے نہ طلاق ‘ خاوند عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت یک طرفہ ڈگری دے دیتی ہے تو ہمارے مفتی اس فیصلہ کو نہیں مانتے اور اس عورت کو عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس کے مسئلہ کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے ‘ سو میں نے صرف اسلام کے دفاع کے جذبہ سے یہ تحقیق پیش کی ہے اور اللہ نیتوں کو جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.