أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَسۡتَوِى الۡقَاعِدُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ غَيۡرُ اُولِى الضَّرَرِ وَالۡمُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ‌ ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الۡمُجٰهِدِيۡنَ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ عَلَى الۡقٰعِدِيۡنَ دَرَجَةً‌  ؕ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ؕ وَفَضَّلَ اللّٰهُ الۡمُجٰهِدِيۡنَ عَلَى الۡقٰعِدِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۙ‏ ۞

ترجمہ:

بلا عذر اور بلاضرر (جہاد سے) بیٹھے رہنے والے مسلمان اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے (کافروں کے خلاف) جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اپنے جان اور مال سے جہاد کرنے والے مجاہدوں کو اللہ نے بیٹھنے والوں پر درجے میں فضیلت وہی ہے ‘ اور سب سے اللہ نے اچھی عاقبت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کی فضیلت دی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بلا عذر اور بلاضرر (جہاد سے) بیٹھے رہنے والے مسلمان اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے (کافروں کے خلاف) جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اپنے جان اور مال سے جہاد کرنے والے مجاہدوں کو اللہ نے بیٹھنے والوں پر درجے میں فضیلت وہی ہے ‘ اور سب سے اللہ نے اچھی عاقبت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کی فضیلت دی ہے، اللہ کی طرف سے درجات ہیں اور بخشش اور رحمت ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

بلاعذر جہاد میں شریک نہ ہونے والے ‘ مجاہدین کے برابر نہیں ہیں۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرتے ہیں سفر میں سختیاں اور بھوک اور پیاس کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ میں زخم کھاتے ہیں ان کے برابر وہ لوگ نہیں ہوسکتے جو بغیر کسی جسمانی عذر کے جہاد کے لیے نہیں جاتے اور اپنی جان اور مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لا یستوی القاعدون من المؤمنین “۔ الایہ تو حضرت عبداللہ بن عمرو ابن ام مکتوم (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے وہ نابینا تھے ‘ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نابینا ہوں۔ آپ مجھے جہاد کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” غیر اولی الضرر “۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (چوڑی) ہڈی اور دوات لاؤ‘ یا فرمایا لوح اور دوات لاؤ۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٤٢‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٩٨) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ (آیت) ” غیر اولی الضرر “۔ سے مراد وہ مسلمان ہیں جو بغیر کسی ضرر یا عذر کے جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے اور جہاد کرنے والوں سے مراد وہ مسلمان ہیں جو جنگ بدر میں جہاد کے لیے گئے تھے۔ جب غزوہ بدر میں شریک ہونے کا حکم آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت عبداللہ بن جحش اور حضرت ابن ام مکتوم (رض) آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نابینا ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے تو پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٤٣‘ سنن کبری للنسائی ج ٦‘ رقم الحدیث : ١١١١٧) 

عذر کی وجہ سے جہاد نہ کرنے والے ‘ مجاہدین کے برابر ہیں۔ 

اس آیت سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو مسلمان جہاد میں شامل ہونے کی نیت رکھتے ہوں لیکن جسمانی عذر کی وجہ سے شریک نہ ہوسکیں وہ اجر وثواب میں مجاہدین کے برابر ہیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بلاعذر جہاد میں شرکت نہ کرنے والوں کے متعلق فرمایا ہے وہ مجاہدوں کے برابر نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عذر والے ‘ مجاہدین کے برابر ہیں ‘ اس کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ میں فرمایا ہم مدینہ میں کچھ مسلمانوں کو چھوڑ آئے ہیں اور ہم نے جب بھی کسی گھاٹی یا وادی کو عبور کیا تو مدینہ کے کچھ مسلمان تمہارے ساتھ ہوتے تھے ‘ صحابہ (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ تو مدینہ میں ہیں ‘ آپ نے فرمایا : وہ مدینہ میں ہیں ‘ آپ نے فرمایا : وہ مدینہ میں ہیں لیکن عذر کی وجہ سے نہیں جاسکے۔ (امام مسلم نے یہ حدیث اختصار کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کی ہے) (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٦٥‘ ٢٧٦٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٤٩٠٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ٣٠٠‘ ١٨٢) 

غنی شاکر افضل ہے یا فقیر صابر :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بھی فضیلت بیان کی ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ جو مال دار لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیگر فرائض اور واجبات کو بجا لاتے ہیں اور جن کاموں سے شریعت میں منع کیا گیا ہے ان سے باز رہتے ہیں ان کو نفلی عبادت کرنے والوں پر فضیلت حاصل ہے ‘ کیونکہ وہ اپنے مال کو جہاد ‘ اسلام کی ترویج و اشاعت اور دیگر نیکی کے کاموں میں صرف کرتے ہیں۔ 

اس مسئلہ میں بحث کی گئی ہے کہ غنی شاکر افضل ہوتا ہے یا فقیر صابر افضل ہوتا ہے ‘ بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ غنی شاکر افضل ہوتا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ان کو فضیلت اور درجہ حاصل ہے ‘ نیز غنی کو قدرت حاصل ہوتی ہے اور فقیر عاجز ہوتا ہے اور قدرت عجز سے افضل ہے ‘ اور بعض نے کہا فقیر صابر افضل ہوتا ہے ‘ کیونکہ غنی شاکر کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے جو اجر ملتا ہے وہ دس گنا ہے ‘ سات سو گنا ہے یا چودہ سو گنا ہے اور بہرحال حد اور حساب سے ہے اور صبر کرنے والوں کو اللہ بےحساب اجر عطا فرماتا ہے۔ 

قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب “۔ (الزمر : ١٠) 

ترجمہ : صرف صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ غنی شاکر سے صابر افضل ہے ‘ نیز غنی دنیا کی طلب میں رہتا ہے جب کہ فقیر دنیا کو ترک کرتا ہے اور دنیا کو طلب کرنے سے دنیا کو ترک کرنا افضل ہے ‘ اس سے بھی معلوم ہوا کہ فقیر صبر غنی شاکر سے افضل ہے۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں بھی یہ بھی یہ بحث رہتی تھی کہ فقیر صابر افضل ہے یا غنی شاکر افضل ہے اور ہر ایک اجر وثواب میں دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتا تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ فقراء مہاجرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا مالدار لوگ تو بڑے بڑے درجات اور جنت کی نعمتیں لے گئے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ کیسے ؟ انہوں نے عرض کیا جس طرح ہم نماز پڑتے ہیں وہ نماز پڑھتے ہیں اور جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں وہ روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے ‘ وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم آزاد نہیں کرسکتے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں جس سے تم ان سے بڑھ جاؤ گے جو تم پر سبقت کرتے ہیں اور تم اپنے بعد والوں سے بھی بڑھ جاؤ گے ؟ اور تم سے کوئی شخص افضل نہیں ہو سکے گا مگر وہ جو تمہاری طرح اس کام کو کرے ‘ فقراء مہاجرین نے کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ ‘ اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو ‘ (دوسری روایت میں ہے سبحان اللہ ‘ الحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھو) فقراء مہاجرین دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی اس کام کو سن لیا اور وہ بھی اس طرح کرنے لگے ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے، (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٩٥)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فقیر صابر سے غنی شاکر افضل ہے کیونکہ اس کو اپنی عبادات انجام دینے کا موقع ملتا ہے جو فقراء کی پہنچ میں نہیں ہوتیں ‘ یہ بھی واضح رہے کہ فقیر صابر سے مراد آج کل کے گداگر نہیں ہیں اور نہ غنی شاکر سے مراد آج کل کے سرمایہ دار ہیں بلکہ فقراء سے مراد ایسے فقراء ہیں جیسے فقراء مہاجرین تھے مثلا حضرت بلال ‘ حضرت سلمان فارسی اور حضرت صہیب رومی وغیرہ ‘ اور اغنیاء سے مراد ایسے اغنیاء ہیں جیسے حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف وغیرہ تھے ‘ اور فقیر صابر سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ شاکر نہ ہو ‘ اور غنی شاکر سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ صابر نہ ہو ‘ بلکہ ہر دو کو جب کوئی نعمت ملے تو وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور جب کوئی مصیبت آئے تو وہ اس پر صبر کریں لیکن غنی کا غالب حال یہ ہے کہ اس شکر کرنے کے مواقع زیادہ ملتے ہیں اس لیے اس کو غنی شاکر سے تعبیر کرتے ہیں اور فقیر کا غالب اور شکر کرنا بھی عبادت ہے تاہم اگر اغنیاء کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ ان کو ایسی عبادت کرنے کے زیادہ مواقع ملتے ہی جو فقراء کی دسترس میں نہیں ہیں تو فقراء کے لیے یہ فضیلت کچھ نہیں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو زندگی گزاری ہے وہ عیش ‘ نعمت اور اغنیاء کی زندگی نہیں ہے وہ فقراء کی زندگی ہے اگر اغنیاء کو عبادت میں سبقت کی فضیلت حاصل ہے تو فقراء کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات اپنانے کی فضیلت حاصل ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا ‘ اے ابن آدم میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی ! وہ کہے گا اے میرے رب میں تیری کیسے عیادت کرتا تو رب العلمین ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھ کو علم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بندہ بیمار تھا تو نے اس کی عیادت نہیں کی اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ‘ پھر فرمائے گا اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں دیا ‘ وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تجھے کیسے کھلاتا تو رب العلمین ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ‘ پھر فرمائے گا اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ! وہ کہے گا اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا تو تو رب العالمین ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو پانی نہیں پلایا اگر تو اس کو پانی پلاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٦٩) 

فقراء کے لیے یہ کچھ کم اعزاز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بیماری کو اپنی بیماری اور ان کی بھوک اور پیاس کو اپنی بھوک اور پیاس فرماتا ہے ‘ اگر اغنیاء کو کثرت عبادت کی فضیلت حاصل ہے تو فقراء کے لیے یہ کم فضیلت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے حال کو اپنا حال فرماتا ہے، ان کی بیماری کو اپنی بیماری اور ان کی بھوک اور پیاس کو اپنی بھوک اور پیاس فرماتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 95